Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1943

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ حَلْقٌ إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خواتین کے لئے سر منڈوانا درست نہیں ہے۔ وہ صرف بال کٹوا سکتی ہیں۔

أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ

Hadith 1943

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1944

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قِيلَ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ وَالْمُقَصِّرِينَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا نقل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحم کرے جن لوگوں نے بال منڈوا لئے ہیں عرض کی گئی بال کٹوانے والوں کے لئے دعائے خیر فرمائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحم کرے جن لوگوں نے سرمنڈوالیے ہیں راوی کہتے ہیں پھر آپ نے چوتھی مرتبہ فرمایا بال کٹوانے والوں پر اللہ رحم کرے۔

فِي الرَّابِعَةِ وَالْمُقَصِّرِينَ ← رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ ← رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قِيلَ وَالْمُقَصِّرِينَ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1944

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1945

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ وَهُوَ يُسْأَلُ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ آخَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ قَالَ انْحَرْ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ کے قریب دیکھا آپ سے سوال کئے جا رہے تھے ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی قربانی کرلی ہے آپ نے فرمایا تم رمی کرلواب کوئی حرج نہیں ہے ایک اور شخص نے عرض کی یا رسول اللہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لیا آپ نے فرمایا تم اب قربانی کرلو اب کوئی حرج نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس بھی چیز کے پہلے یا بعد میں ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا آپ نے یہی فرمایا اب کرلو کوئی حرج نہیں ہے۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عِنْدَ الْجَمْرَةِ وَهُوَ يُسْأَلُ فَقَالَ رَجُلٌ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 1945

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1946

أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ لِلنَّاسِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ لَمْ أَشْعُرْ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ لَا حَرَجَ فَلَمْ يُسْأَلْ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ أَوْ أُخِّرَ إِلَّا قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ عَبْد اللَّهِ أَنَا أَقُولُ بِهَذَا وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يُشَدِّدُونَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس ٹھہر گئے ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لیا ہے آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے ایک شخص نے عرض کی مجھے پتہ نہیں تھا میں نے رمی سے پہلے ہی قربانی کرلی ہے آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے (راوی کہتے ہیں) اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس بھی چیز کے پہلے یا بعد میں ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کوئی حرج نہیں ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں میں اس حدیث کے مطابق فتوی دیتا ہوں اہل کوفہ اس بارے میں تشدد سے کام لیتے ہیں۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ

Hadith 1946

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1947

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَاجِيَةَ الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ الْهَدْيِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ بَدَنَةٍ عَطِبَتْ فَانْحَرْهَا ثُمَّ أَلْقِ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ فَلْيَأْكُلُوهَا

حضرت ناجیہ اسلمی جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانور لا رہے تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اگر قربانی کا کوئی جانور تھک کر (مرنے کے قریب ہوجائے) تو میں کیا کروں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قربانی کا جو بھی جانور تھک کر مرنے کے قریب ہوجائے تو تم اسے قربان کردو اور پھر اس کی ٹانگ خون میں ڈبو کر اسے وہیں چھوڑ دو۔ اسے لوگوں کے لئے رہنے دو وہ خود ہی اسے کھا لیں گے۔

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ الْهَدْيِ ← نَاجِيَةَ الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ

Hadith 1947

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1948

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَاجِيَةَ نَحْوَهُ

ہشام بن عروۃ اپنے والد سے اور وہ ناجیہؓ سے اسی طرح بیان کرتے ہیں ۔

نَاجِيَةَ نَحْوَهُ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ

Hadith 1948

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1949

أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً غَنَمًا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کے طور پر بکری بھجوائی تھی ۔

أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ مَرَّةً غَنَمًا ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ

Hadith 1949

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1950

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَةٍ فَأَشْعَرَهَا مِنْ صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ نے اپنی قربانی کا جانور منگوایا اور اس کو کوہان کے دائیں طرف داغ لگایا پھر اس کا کچھ خون بہایا اور اس کے گلے میں جوتوں کا ہار ڈال دیا۔ پھر آپ کی سواری لائی گئی آپ اس پر تشریف فرما ہوئے جب وہ کھڑی ہوئی تو آپ نے حج کا تلبیہ پڑھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبَا حَسَّانَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Hadith 1950

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1951

أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَتَهُ قَالَ ارْكَبْهَا فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا جانور لے کر چل رہا تھا آپ نے فرمایا تم اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کی یہ قربانی کا جانور آپ نے فرمایا تم اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کی یہ قربانی کا جانور ہے آپ نے فرمایا تمہارا ستیا ناس ہو تم اس پر سوار ہوجاؤ۔

ارْكَبْهَا وَيْحَكَ ← إِنَّهَا بَدَنَةٌ ← «ارْكَبْهَا»، ← ارْكَبْهَا فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَتَهُ ← أَنَسًا ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ

Hadith 1951

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1952

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا قَدْ أَنَاخَ بَدَنَةً فَقَالَ ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے قربانی کا جانور (اونٹ) کو قربان کرنے کے لئے لٹا لیا تھا تو فرمایا تم اسے کھڑا کر کے باند ھ کے ذبح کرو یہ حضرت محمد کی سنت ہے۔

«ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً، سُنَّةُ مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا قَدْ أَنَاخَ بَدَنَةً ← زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1952

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1953

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ هُوَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَجَعَ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى الْحَجِّ فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثُوِّبَ بِالصُّبْحِ فَلَمَّا اسْتَوَى لِيُكَبِّرَ سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَوَقَفَ عَنْ التَّكْبِيرِ فَقَالَ هَذِهِ رَغْوَةُ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَاءِ لَقَدْ بَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصَلِّيَ مَعَهُ فَإِذَا عَلِيٌّ عَلَيْهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمِيرٌ أَمْ رَسُولٌ قَالَ لَا بَلْ رَسُولٌ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةٌ أَقْرَؤُهَا عَلَى النَّاسِ فِي مَوَاقِفِ الْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ خَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ إِفَاضَتِهِمْ وَعَنْ نَحْرِهِمْ وَعَنْ مَنَاسِكِهِمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلُ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ وَكَيْفَ يَرْمُونَ فَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بَرَاءَةٌ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے عمرہ کرنے کے بعد واپس تشریف لے گئے تو آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا ہم لوگ ان کے ہمراہ مکہ روانہ ہوگئے ہم جب عرج کے مقام پر پہنچے اور فجر کی نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے کے لئے کھڑے ہوگئے تو انہوں نے پیچھے سے اونٹنی کی آواز سنی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے سے رک گئے اور بولے یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جدعا ہے ہوسکتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کرلیا ہو اگر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوئے تو ہم آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرلیں گے راوی کہتے ہیں اس اونٹنی پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سوار تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ آپ امیر کی حثییت سے آئے ہیں یا پیغام رساں کی حیثیت سے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں پیغام رساں کی حیثیت سے۔ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت توبہ کے ہمراہ بھیجا ہے اور یہ ہدایت کی ہے کہ حج کے مختلف مقامات پر لوگوں کے سامنے اس کی تلاوت کروں۔ (حضرت جابر بیان کرتے ہیں) ہم لوگ مکہ آگئے ترویہ سے ایک دن پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دینا شروع کردیا۔ اور لوگوں کو حج کے مختلف ارکان سے آگاہ کیا جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے پوری سورت کی تلاوت کی۔جب قربانی کا دن آیا تو ہم نے طواف افاضہ کرنا تھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آئے اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں طواف افاضہ کے بارے میں اور قربانی کے بارے میں اور اس کے دیگر ارکان کے بارے میں بتایا جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے سورت توبہ پڑھی اور مکمل سورت پڑھی اور جب روانگی کا وقت آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں روانگی کا طریقہ سکھایا اور رمی کرنے کا طریقہ سکھایا اور انہیں حج کے مناسک کی تعلیم دی اور جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے سورت توبہ کی تلاوت کی اور مکمل سورت پڑھی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَلَى أَبِي قُرَّةَ هُوَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Hadith 1953

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1954

أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ قَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ لَا أَدْرِي جَمَلٌ أَوْ نَاقَةٌ وَأَخَذَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ أَوْ قَالَ بِزِمَامِهِ فَقَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قَالَ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا قَالَ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا قَالَ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَى مِنْهُ

حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر سوار تھے مجھے نہیں پتا چلا کہ وہ اونٹ تھا یا اونٹنی، ایک صاحب نے اس کی لگام پکڑی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آج کون سا دن ہے۔ راوی کہتے ہیں ہم خاموش رہے ہم نے یہ خیال کیا کہ آپ شاید اس کے نام کی بجائے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے آپ نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن ہے ہم نے عرض کی جی ہاں آپ نے دریافت کیا یہ کون سا مہینہ ہے ہم خاموش رہے ہم یہ سمجھے شاید آپ اس مہینے کے نام کے علاوہ کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے آپ نے دریافت کیا یہ ذوالحج کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کی جی ہاں۔ پھر آپ نے دریافت کی یہ کون سا شہر ہے ہم خاموش رہے ہم یہ سمجھے کہ آپ اس کے اصل نام کے بجائے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے آپ نے دریافت کیا یہ البلدہ مکہ مکرمہ نہیں ہے ہم نے عرض کی جی ہاں آپ نے فرمایا تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزت آپس میں اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح یہ دن قابل احترام ہے یہ مہینہ قابل احترام ہے اور یہ شہر قابل احترام ہے ہر موجود شخص غیر موجود شخص کو یہ پیغام پہنچا دے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ موجود شخص اس شخص کو یہ پیغام پہنچائے جو موجود شخص سے زیادہ طریقے سے اس حکم کو محفوظ رکھے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبُو حَاتِمٍ أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ

Hadith 1954

chevron_left Previous
1…1011121314
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door