Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1930

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ قَالَ عَبْد اللَّهِ الْإِيضَاعُ لِلْإِبِلِ وَالْإِيجَافُ لِلْخَيْلِ

لیثؓ ، ابو زبیرؓ سے اپنی سند سے پہلی حدیث کی طرح نقل کرتے ہیں۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں اونٹ کو تیز چلانے کے لئے لفظ ایضاع استعمال ہوتا ہے جبکہ گھوڑے کو دوڑانے کیلئے لفظ ایجاف استعمال ہوتا ہے۔

عَبْد اللَّهِ الْإِيضَاعُ لِلْإِبِلِ وَالْإِيجَافُ لِلْخَيْلِ ← أَبِي الزُّبَيْرِ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ← لَيْثٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 1930

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1931

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمًا كَلَّمَا ابْنَ عُمَرَ لَيَالِيَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ فَقَالَا لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَقَالَ قَدْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِرِينَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا كَانَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ سَارَ فَقَالَ إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي قَالَ نَافِعٌ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعَى لَهُمَا سَعْيًا وَاحِدًا ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى جَاءَ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَهْدَى وَكَانَ يَقُولُ مَنْ جَمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ فَأَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا فَلَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا يَوْمَ النَّحْرِ

نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ اور سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا اگر آپ اس سال حج نہ کریں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ آپ کو بیت اللہ تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا یہ اس زمانے کی بات ہے جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر پر حملہ کیا تھا اور ابھی انہیں شہید نہیں کیا تھا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ہم لوگ عمرہ کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے تو بیت اللہ سے پہلے ہی کفار قریش ہمارے راستے میں رکاوٹ بن گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں اپنی قربانی کا جانور ذبح کیا اور اپنا سر منڈوا لیا اور واپس تشریف لائے میں تمہیں گواہ بنا رہا ہوں میں نے عمرہ کی نیت کرلی ہے اگر مجھے بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کرلوں گا اگر راستے میں رکاوٹ ڈال دی گئی تو میں وہی کروں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور میں بھی اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا راوی کہتے ہیں پھر حضرت عبداللہ نے ذوالحلیفہ سے عمرہ کی نیت کی اور روانہ ہوئے اور بولے ان دونوں کی حیثیت ایک ہی ہے میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں میں نے عمرہ کے ہمراہ حج کی نیت بھی کرلی ہے نافع بیان کرتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حج اور عمرہ کے لئے ایک طواف کیا اور ان دونوں کی ایک ہی مرتبہ سعی کی۔ اور پھر اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک قربانی کے دن انہوں نے قربانی نہیں کی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص حج اور عمرہ ایک ساتھ ادا کرے وہ ان دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک قربانی کے دن ان دونوں سے مکمل طور پر فارغ نہ ہوجائے۔

سَالِمًا كَلَّمَا ابْنَ عُمَرَ لَيَالِيَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ ← نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 1931

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1932

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كُسِرَ أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى قَالَ أَبُو مُحَمَّد رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ وَمَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حجاج بن عمرو انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہوجائے تو وہ احرام کھول دے اس پر بعد میں حج کرنا لازم ہوگا۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں یہی روایت ایک سند کے ہمراہ منقول ہے۔

النَّبِيِّ ← الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبُو مُحَمَّد رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ وَمَعْمَرٌ ← مَنْ كُسِرَ أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى ← النَّبِيِّ ← الحجاج بن عمرو الانصاري ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 1932

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1934

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ الضُّحَى وَبَعْدَ ذَلِكَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت یا اس کے بعد سورج ڈھلنے سے پہلے جمرہ کی رمی کی تھی۔

رَمَى رَسُولُ اللَّهِ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ الضُّحَى وَبَعْدَ ذَلِكَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Hadith 1934

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1935

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْمُوا الْغَدَ أَوْ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ ثُمَّ يَرْمُوا يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ

عاصم بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو یہ رخصت دی تھی کہ وہ قربانی کے دن رمی کرلیں پھر اس سے اگلے دن بھی کرسکتے ہیں اور پھر اس کے بعد دو دن تک کرسکتے ہیں پھر وہ روانگی کے دن بھی کرسکتے ہیں۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ،

Hadith 1935

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1936

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُرَّةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ

حضرت ابوعبدالرحمن بن عثمان بیان کرتے ہیں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم چٹکی میں آنے والی کنکری کے ذریعے رمی کریں۔

أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُثْمَانُ بْنُ مُرَّةَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Hadith 1936

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1937

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَمَوْا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَقَالَ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے تحت لوگوں نے چٹکی میں آنے والی کنکری کے ذریعے رمی کی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی محسر سے تیزی سے گزر رہے تھے (بقیہ سفر کے دوران آپ نے لوگوں کو) ہدایت کی تھی آرام سے چلو۔

عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ ← أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ فَرَمَوْا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Hadith 1937

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1938

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَرْمِيَ الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاذٍ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ نَعَمْ

عبدالرحمن بن معاذ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی ہم چٹکی میں آنے والی کنکری کے ذریعے رمی جمار کریں۔ امام ابومحمد دارمی سے یہ سوال کیا گیا حضرت عبدالرحمن بن معاذ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← خَالِدٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Hadith 1938

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1939

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ وَالْمُؤَمَّلُ وَأَبُو نُعَيْمٍ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْكِلَابِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجِمَارَ عَلَى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ لَيْسَ ثَمَّ ضَرْبٌ وَلَا طَرْدٌ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ

حضرت قدامہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے آپ اپنی سرخ اونٹنی پر سوار تھے اور رمی جمار کر رہے تھے وہاں کوئی مار پیٹ اور دھکم پیل نہیں تھی اور ہٹو بچو کی آوازیں نہیں تھیں۔

قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ الْكِلَابِيِّ ← أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ← أَبُو عَاصِمٍ وَالْمُؤَمَّلُ وَأَبُو نُعَيْمٍ

Hadith 1939

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1940

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ هُوَ الْجَزَرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت فضل بن عباس کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سواری پر سوار تھا رمی جمرہ کرنے کے تک آپ تلبیہ پڑھتے رہے۔

كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ ← الْفَضْلُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ الْكَرِيمِ هُوَ الْجَزَرِيُّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Hadith 1940

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1941

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ مِنًى يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَنْحَدِرُ مِنْ ذَاتِ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِي رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا قَالَ الزُّهْرِيُّ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ

زہری بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جمرہ کی رمی کی جو مسجد میناء کے ساتھ ہے تو آپ نے سات سات کنکریاں لیں اور ہر کنکری کو پھینکتے ہوئے تکبیر کہی پھر آپ آگے بڑھے اور قبلہ کی طرف دونوں ہاتھ اٹھا کر ٹھہر گئے وہاں آپ خاصی دیر کھڑے رہے پھر آپ دوسرے جمرہ کے پاس آئے آپ نے اسے بھی سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہی پھر آپ واپس آئے اور وادی کے بائیں طرف ہوگئے اور دونوں ہاتھ بلند کرکے دعاکرنے لگے پھر آپ اس جمرہ کے پاس آئے جو عقبہ کے پاس آئے آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پھینکتے وقت تکبیر کہی پھر آپ تشریف لے آئے اور ان کے پاس نہیں ٹھہرے زہری بیان کرتے ہیں یہ حدیث میں نے سالم بن عبداللہ سے سنی ہے۔ انہوں نے یہ حدیث اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کی ہے ۔ سالم کہتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔

الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Hadith 1941

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1942

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا جِئْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهُرْتُ فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَضْتُ فَأُتِيَ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہمارا ارادہ حج کرنے کا تھا جب ہم سرف کے مقام تک پہنچے تو جب قربانی کا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا میں نے طواف افاضہ کیا میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے دریافت کیا یہ کہاں سے لایا گیا ہے لوگوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے قربان کی ہے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ الْمَاجِشُونُ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 1942

chevron_left Previous
1…91011…14
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door