Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1601

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يُجْعَلَ الْمِنْبَرُ فَلَمَّا جُعِلَ الْمِنْبَرُ حَنَّ ذَلِكَ الْجِذْعُ حَتَّى سَمِعْنَا حَنِينَهُ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَيْهِ فَسَكَنَ

حضرت جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے اس تنے کے پاس کھڑے ہوا کرتے تھے یہ منبر بنائے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ جب منبر بنایا گیا تو وہ کھجور کا تنا رونے لگ پڑا یہاں تک کہ ہم نے اس کے رونے کی آواز سنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو اسے سکون آگیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Hadith 1601

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1602

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ تَحَوَّلَ إِلَيْهِ حَنَّ الْجِذْعُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ وَقَالَ لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ منبر استعمال کرنے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے پھر جب آپ نے منبر کی طرف جانے لگے تو کھجور کا تنا رونے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لپٹا لیا تو اسے سکون آیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اگر میں اسے نہ لپٹاتا تو یہ قیامت تک روتار ہتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Hadith 1602

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1603

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

انسؓ نے نبیﷺ سے اسی طرح نقل کیا۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج،

Hadith 1603

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1604

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ بِالْمَدِينَةِ جَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ وَالْقَوْمُ يَجِيئُونَ فَلَا يَكَادُونَ أَنْ يَسْمَعُوا كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَرْجِعُوا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالَ لَهُ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ كَثُرُوا وَإِنَّ الْجَائِيَ يَجِيءُ فَلَا يَكَادُ يَسْمَعُ كَلَامَكَ قَالَ فَمَا شِئْتُمْ فَأَرْسِلْ إِلَى غُلَامٍ لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ نَجَّارٍ وَإِلَى طَرْفَاءِ الْغَابَةِ فَجَعَلُوا لَهُ مِرْقَاتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ وَيَخْطُبُ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ حَنَّتْ الْخَشَبَةُ الَّتِي كَانَ يَقُومُ عِنْدَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَسَكَنَتْ

حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں جب مدینہ منورہ میں لوگوں کی کثرت ہوگئی تو کبھی کوئی شخص آتا تو کبھی کچھ لوگ آجاتے وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سن سکتے تھے یہاں تک کہ وہ آپ کی بارگاہ سے واپس جاتے تو لوگ نے آپ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ آپ کی خدمت میں بکثرت لوگ آتے ہیں کوئی شخص آتا ہے اسے آپ کی آواز سنائی نہیں دیتی اس کا کوئی حل ہونا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم کیا چاہتے ہو تم انصار کی ایک خاتون کے غلام کے پاس پیغام بھیجو جو بڑھئی کا کام کرتا ہے جو جنگل میں جائے ان لوگوں نے اس شخص کے لئے دو یا تین تختیاں بنا دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر تشریف فرما ہونے لگے اور اس پر بیٹھ کر خطبہ دینے لگے جب آپ نے پہلی مرتبہ ایسا کیا تو پہلے آپ جس لکڑی کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے وہ رونے لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے آپ نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو اسے سکون آگیا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Hadith 1604

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1605

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ

ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر انصاری سے سوال کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورت جمعہ کے بعد کون سی سورت تلاوت کرتے تھے انہوں نے جواب دیا سورت غاشیہ کی۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ، ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 1605

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1606

حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ الْفِهْرِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَأَلْنَاهُ مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ السُّورَةِ الَّتِي ذُكِرَتْ فِيهَا الْجُمُعَةُ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ مَعَهَا هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ

عبیداللہ بیان کرتے ہیں ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر انصاری سے سوال کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورت جمعہ کے علاوہ کون سی سورت پڑھتے تھے انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہمراہ سورت غاشیہ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔

النعمان بن بشير الأنصاري ← الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ الْفِهْرِيِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ، ← أَبُو أُوَيْسٍ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ

Hadith 1606

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1607

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فَقَرَأَ بِهِمَا

حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں اور جمعہ کی نماز میں سورت اعلی اور سورت غاشیہ کی تلاوت کیا کرتے تھے کبھی کبھار آپ ان دونوں کو ایک ساتھ بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1607

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1608

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ مَخْلَدِ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ الْتَقَيْتُ أَنَا وَكَعْبٌ فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ التَّوْرَاةِ حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ذِكْرِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِيهَا لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میری اور حضرت کعب کی ملاقات ہوئی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث سنائی انہوں نے تورات کے حوالے سے باتیں بیان کی جب ہم جمعہ کے دن کے تذکرے پر آئے تو میں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس وقت جو مسلمان نماز پڑھ رہاہو اور اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ اسے وہ چیز عطا کردیتا ہے۔

يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ ← التَّوْرَاةِ حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ← رَسُولِ اللَّهِ وَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي ← وَكَعْبٌ فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُ ← الْتَقَيْتُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Hadith 1608

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1609

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مِينَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ وَأَبَا هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدَعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنْ الْغَافِلِينَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے یا تو لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں گے یا پھر اللہ ان کے دلوں پر ایسی مہر لگادے گا کہ وہ لوگ غافل لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔

وَدَعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنْ الْغَافِلِينَ ← وَهُوَ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ ← وَأَبَا هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ ← الْحَكَمُ بْنُ مِينَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ← أَبَا سَلَّامٍ، ← زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Hadith 1609

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1610

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ

حضرت ابوالجعد روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص جمعہ کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے اسے ترک کردے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

اَبِیْ الْجَعْدِ الضَّمْرِیِّ ← عُبَیْدَۃَ بْنِ سفْیَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يعلى

Hadith 1610

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1611

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَفْضَلَ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنْ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ يَعْنِي بَلِيتَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ

حضرت اوس بن اوس روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تمہارا سب سے زیادہ فضیلت کا دن جمعہ کا دن ہے اسی دن میں حضرت آدم کو پیدا کیا گیا اور اسی دن میں صور میں پھونکا جائے گا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی تم اس دن مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود میری خدمت میں پیش کیا جاتا ہے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا درود آپ کی خدمت میں کیسے پیش کیا جائے گا۔ جبکہ آپ تو قبر میں تشریف لے جائیں گے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ نے زمین کے لے یہ بات حرام کردی ہے کہ وہ انبیاء کے اجسام کو خراب کرے۔

اَوسِ بْنِ اَوْسٍ ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 1611

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1612

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں ادا کیا کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 1612

chevron_left Previous
1…3233343536
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door