Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1505

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَرَأَ ص فَلَمَّا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ وَقَرَأَهَا مَرَّةً أُخْرَى فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَيَسَّرْنَا لِلسُّجُودِ فَلَمَّا رَآنَا قَالَ إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَدْ اسْتَعْدَدْتُمْ لِلسُّجُودِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدْنَا

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے سورت ص کی تلاوت کی اور جب آپ آیت سجدہ تک پہنچے تو آپ منبر سے نیچے اترے اور آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ہمراہ ہم نے بھی سجدہ کیا پھر جب دوبارہ آپ نے اس سورت کو پڑھا اور آیت سجدہ تک پہنچے تو ہم سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوئے جب آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا یہ تو ایک نبی کا توبہ کا واقعہ ہے لیکن میں دیکھ رہاہوں تم لوگ سجدہ کرنے کے لئے تیار ہو۔ آپ منبر سے نیچے اترے اور سجدہ کیا اور ہم نے بھی سجدہ کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1505

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1506

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ فِي السُّجُودِ فِي ص لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سورت ص میں سجدہ تلاوت ضروری نہیں ہے البتہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1506

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1507

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَقِيلَ لَهُ تَسْجُدُ فِي سُورَةٍ مَا يُسْجَدُ فِيهَا فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ان سے کہا گیا آپ اس سورت میں سجدہ کر رہے ہیں جن میں سجدہ نہیں ہے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1507

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1508

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَرَاكَ تَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَقَالَ لَوْ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا لَمْ أَسْجُدْ

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سورت انشقاق میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا توبولا اے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں آپ کو سورت انشقاق میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ (اس کی کیا وجہ ہے)۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اگر میں نبی اکرم کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے نہ دیکھتا تو میں بھی سجدہ نہ کرتا۔

اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1508

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1509

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1509

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1510

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سورت انشقاق اور سورت علق میں سجدہ تلاوت کیا۔

سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ مِينَا ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1510

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1511

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَرَأْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا

حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورت نجم کی تلاوت کی لیکن آپ نے سجدہ نہیں کیا۔

عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1511

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1512

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ الْأَذَانِ الْأَوَّلِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَخْرُجَ مَعَهُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے لے کر فجر کی نماز تک کے درمیانی عرصہ میں ١١ رکعات ادا کرتے تھے جن میں سے ہر ایک دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر ادا کرتے تھے آپ ان نوافل کے دوران اتنا طویل سجدہ کرتے تھے کہ تم میں سے کوئی اس عرصہ کے درمیان پچاس آیات پڑھ سکتا تھا۔ پھر جب مؤذن فجر کی اذان دے کر فارغ ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو مختصر رکعات سنت ادا کرلیتے۔ پھر آپ لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ اس کے ساتھ تشریف لے جاتے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1512

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1513

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُوتِرُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے نوافل کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ١٣ رکعات پڑھا کرتے تھے جن میں آٹھ رکعات ادا کرنے کے بعد وتر ایک رکعات پڑھ لیتے تھے پھر آپ دو رکعات بیٹھ کر ادا کرتے تھے پھر جب رکوع میں جانے لگتے تو کھڑے ہو کر رکوع میں جاتے پھر آپ فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعت سنت ادا کرتے تھے۔

صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ بِاللَّيْلِ، ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1513

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1514

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَأَتَى الْمَدِينَةَ لِبَيْعِ عَقَارِهِ فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا أَرَادَ ذَلِكَ سِتَّةٌ مِنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُمْ وَقَالَ أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ ثُمَّ إِنَّهُ قَدِمَ الْبَصْرَةَ فَحَدَّثَنَا أَنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ الْوِتْرِ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِأَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَحَدِّثْنِي بِمَا تُحَدِّثُكَ فَأَتَيْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ فَقُلْتُ لَهُ انْطَلِقْ مَعِي إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ إِنِّي لَا آتِيهَا إِنِّي نَهَيْتُ عَنْ هَذِهِ الشِّيعَتَيْنِ فَأَبَتْ إِلَّا مُضِيًّا قُلْتُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا انْطَلَقْتَ فَانْطَلَقْنَا فَسَلَّمْنَا فَعَرَفَتْ صَوْتَ حَكِيمٍ فَقَالَتْ مَنْ هَذَا قُلْتُ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ قُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّهُ خُلُقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ فَعَرَضَ لِي الْقِيَامُ فَقُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّهَا كَانَتْ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ أُنْزِلَ أَوَّلُ السُّورَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَحُبِسَ آخِرُهَا فِي السَّمَاءِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أُنْزِلَ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ أَنْ كَانَ فَرِيضَةً فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ فَعَرَضَ لِي الْوِتْرُ فَقُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ وَضَعَ سِوَاكَهُ عِنْدِي فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ فَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي التَّاسِعَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي السَّابِعَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ خُلُقًا أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ وَمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً حَتَّى يُصْبِحَ وَلَا قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ صَدَقَتْكَ أَمَا إِنِّي لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَشَافَهْتُهَا مُشَافَهَةً قَالَ فَقُلْتُ أَمَا إِنِّي لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُكَ

زرارہ بن اوفی بیان کرتے ہیں سعد بن ہشام نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی اور اپنی جائیداد فروخت کرنے کے لئے مدینہ منورہ آئے تاکہ اسے فروخت کر کے ہتھیار خرید سکیں ان کی ملاقات چند انصاری حضرات سے ہوئی تو ان حضرات نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چھ حضرات نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات سے منع کردیا تھا اور دریافت کیا تھا کہ کیا تم لوگوں کے لئے میرا اسوہ کافی نہیں ہے۔ زرارہ بیان کرتے ہیں یعنی سعد بن ہشام بصرہ آ گئے اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کی ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وتر کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز کے بارے میں جسے سب سے زیادہ علم ہے میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں میں نے جواب دیا ہاں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو۔ تم ان کی خدمت میں جاؤ ان سے یہ سوال کرنا اور پھر وہ جو جواب دیں واپس آ کر مجھے بھی بتا دینا۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا آپ میرے ساتھ ام المومنین کی خدمت میں چلیں حکیم نے جواب دیا میں ان کی خدمت میں نہیں جاؤں گا کیونکہ میں نے انہیں ان دونوں گروہوں (یعنی حضرت علی کے موافقین اور مخالفین) کے معاملے میں دخل دینے سے منع کیا تھا تو انہوں نے میری بات نہیں مانی سعد کہتے ہیں میں بولا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ چلیں پھر ہم دونوں چل پڑے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر ہم نے سلام کیا انہوں نے حکیم کی آواز کو پہچان لیا اور دریافت کیا یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا میں سعد بن ہشام ہوں انہوں نے دریافت کیا کون ہشام۔ میں نے جواب دیا ہشام بن عامر انہوں نے جواب دیا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے جواب دیا جی ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا وہی نبی اکرم کا اخلاق۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے یہ ارادہ کرلیا اب میں اٹھ جاتا ہوں اور مرتے دم تک کبھی کسی سے کوئی سوال نہیں کروں گا۔ لیکن پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کا خیال آگیا تو میں نے سوال کیا کیا آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔ کیا تم نے سورت مزمل نہیں پڑھی میں نے جواب دیا جی ہاں پڑھی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اس سورت کے آغاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رات کے نوافل کا حکم نازل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نوافل ادا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں سوج گئے ۔ چھ ماہ تک اس سورت کا آخری حصہ نازل نہیں ہوا پھر وہ حصہ نازل ہو تو رات کے نوافل کو نفل قرار دیا گیا۔ حالانکہ یہ پہلے فرض تھے۔ سعد بن ہشام نے کہا میں نے ارادہ کیا اب میں اٹھ جاتاہوں اور مرتے دم تک سوال نہیں کروں گا۔ لیکن مجھے وتر کا خیال آ گیا تو میں نے عرض کیا آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی نماز کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تھے تو اپنی مسواک میرے پاس رکھ دیتے تھے پھر اللہ تعالیٰ کسی وقت انہیں بیدار کردیتا تھا تو آپ ٩ رکعات ادا کرتے تھے جن میں سے آپ ٨ رکعات کے بعد بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے۔ اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے ۔ پھر نویں رکعات پڑھنے کے بعد بیٹھتے اور اللہ کی حمد بیان کرتے اور اپنے پروردگار سے دعا کرتے اور پھر بلند آواز سے سلام پھیر دیتے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعت نماز ادا کرتے یہ گیارہ رکعات ہوتی تھیں۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اے بیٹے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی تو آپ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ ٧ رکعت ادا کیا کرتے تھے جن میں سے آپ ٦ رکعت نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھ جاتے تھے اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے رب سے دعا مانگتے تھے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے تھے اور ساتویں رکعت ادا کرنے کے بعد پھر بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیر دیتے تھے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے یہ نو رکعات ہوتی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اے بیٹے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند کا غلبہ ہوتا یا آپ بیمار ہوتے تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی معمول اختیار کرتے تھے تو آپ کو یہ پسند تھا آپ اسے باقاعدگی کے ساتھ سر انجام دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رات بھر نوافل ادا نہیں کئے ۔ اور نہ ہی آپ نے کبھی ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہے اور رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینے میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ٹھیک بیان کیا ہے اگر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوسکتا تو ان سے براہ راست یہ حدیث سن لیتا سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے کہا اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ آپ ان کے ہاں نہیں آتے جاتے ہیں تو میں آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔

سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1514

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1515

أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز وہ ہے جونصف رات کے وقت ادا کی جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← زَيْدُ بْنُ عَوْفٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1515

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1516

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنْ اللَّيْلِ

حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی انسان رات کے وظائف یا ان کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سوجائے اور پھر انہیں اگلے دن فجر اور ظہر کے درمیان پڑھ لے تو انہیں اسی طرح نوٹ کیا جائے گا جیسے اس نے رات کے وقت پڑھے تھے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1516

chevron_left Previous
1…242526…36
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door