Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1870

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ هُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ لَا يَسْتَوِي عَلَى الْبَعِيرِ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجِّي عَنْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت فضل بن عباس کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا میرے والد بوڑھے ہوچکے ہیں وہ اونٹ پر صحیح بیٹھ نہیں سکتے لیکن اللہ کا فرض (یعنی حج) ان پر فرض ہوچکا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تم ان کی طرف سے حج کر لو۔

رَسُولُ اللَّهِ حُجِّي عَنْهُ ← إِنَّ أَبِي شَيْخٌ لَا يَسْتَوِي عَلَى الْبَعِيرِ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ ← الْفَضْلِ هُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ النَّبِيَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 1870

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1871

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ مسئلہ دریافت کیا اس وقت حضرت فضل بن عباس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سواری پر سوار تھے اس خاتون نے عرض کی یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے میرے والد بوڑھے ہوچکے ہیں وہ سواری پر صحیح بیٹھ نہیں سکتے اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں کیا ان کا فرض ادا ہوجائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جی ہاں!

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1871

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1872

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے اوزاعی کی حدیث کی طرح قریباً نقل کرتے ہیں ۔

النَّبِيِّ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1872

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1873

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ أَوْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَوْ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرٌ إِنْ أَنَا حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ أَوْ أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ أَوْ أُمِّكَ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ الْحَجُّ عَنْ الْحَيِّ قَالَ إِذَا لَزِمَهُ قِيلَ لَهُ تَقُولُ بِحَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ نَعَمْ

حضرت فضل بن عباس (راوی کو شک ہے یا شاید) حضرت عبیداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ میرے والد یا شاید میری والدہ بوڑھے ہوچکے ہیں اگر میں انہیں اونٹ پر سوار کرتا ہوں وہ سنبھل کر بیٹھ نہیں سکیں گے اگر میں انہیں باندھ دیتا ہوں تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ فوت ہوجائیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تمہارا کیا خیال ہے تمہارے والد یا شاید تمہاری والدہ کے ذمہ کوئی قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے اس نے جواب دیا جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو (راوی کو شک ہے یا شاید) یہ فرمایا اپنی والدہ کی طرف سے۔ امام دارمی سے سوال کیا گیا کیا زندہ آدمی کی طرف سے حج کیا جاسکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا اگر اس زندہ شخص پر فرض ہو جبکہ اس زندہ شخص پر حج فرض ہوچکا ہو ان سے پوچھا گیا آپ حضرت فضل بن عباس کی حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔

الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ أَوْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ أَنَّ رَجُلًا ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنِ أَبِي إِسْحَقَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ

Hadith 1873

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1874

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ مَوْلًى لِآلِ الْزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ رُكُوبَ الرَّحْلِ وَالْحَجُّ مَكْتُوبٌ عَلَيْهِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاحْجُجْ عَنْهُ

حضرت عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی میرے والد کو اسلام کا زمانہ نصیب ہوگیا وہ بوڑھے ہوچکے ہیں اور سواری پر سوار نہیں ہوسکتے ان پر حج فرض ہوچکا ہے کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا تم ان کی اولاد میں سب سے بڑے ہو اس نے جواب دیا جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے والد کے ذمہ کوئی قرض ہوتا تو تم ان کی طرف سے ادا کردیتے اور کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہوجاتا اس نے عرض کی جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم ان کی طرف سے حج کرلو۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← يوسف بن الزبير مولى لآل الزبير ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Hadith 1874

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1875

أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ يُقَالُ لَهُ يُوسُفُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَوْ الزُّبَيْرُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ قَالَتْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُجَّ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ قُبِلَ مِنْهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ اللَّهُ أَرْحَمُ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ

حضرت سودہ بنت زمعاء بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی میرے والد بوڑھے ہوچکے ہیں وہ حج نہیں کرسکتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارے والد کے ذمہ کوئی قرض ہوتا تو کیا تم ان کی طرف سے ادا کردیتے اور کیا وہ ان کی طرف سے قبول ہوجاتا اس نے عرض کی جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو۔

أَبِيكَ، ← اللَّهُ أَرْحَمُ حُجَّ ← نَعَمْ ← أرأيت لو كان على أبيك دين فقضيته عنه قبل منه ← إن أبي شيخ كبير لا يستطيع أن يحج ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، ← مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ يُقَالُ لَهُ يُوسُفُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَوْ الزُّبَيْرُ بْنُ يُوسُفَ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ← صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 1875

Sahih

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1876

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا قُلْتُ لِنَافِعٍ أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ قَالَ إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي لِيَكُونَ أَيْسَرَ لِاسْتِلَامِهِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں ارکان (حجراسود اور رکن یمانی) کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کے بعد تنگی اور آسانی کسی بھی زمانے میں کبھی میں نے ان دوارکان کا استلام ترک نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں میں نے نافع سے دریافت کیا کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ دونوں رکنوں کے درمیان چلا کرتے تھے انہوں نے جواب دیا وہ اس لئے چلتے تھے کہ اس طرح استلام میں آسانی رہتی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ

Hadith 1876

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1877

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ الْحَجَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلَى مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ قَالَ سُلَيْمَانُ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جب حجر اسود کو لائے گا تو اس کی دو آنکھیں ہوںگی جس کے ذریعے وہ دیکھ رہا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس کے ذریعے وہ بولے گا اور وہ ہر اس شخص کے بارے میں گواہی دے گا جس نے اس کا استلام کیا تھا۔ ایک روایت میں الفاظ کچھ مختلف تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 1877

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1878

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے رکن یمانی تک تین چکروں میں رمل کیا تھا۔

رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ ← جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← مالک بن أنس ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 1878

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1879

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ خَبَّ ثَلَاثَةً وَمَشَى أَرْبَعَةً وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقُلْتُ لِنَافِعٍ أَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَمْشِي إِذَا بَلَغَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ يُزَاحَمَ عَلَى الرُّكْنِ فَإِنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَلِمَهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بیت اللہ کا پہلی مرتبہ طواف کیا تو تین چکروں میں آپ دوڑ کر گزرے اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے جب آپ صفا اور مروہ کی سعی کرتے ہوئے درمیان میں پہنچے تو آپ دوڑ کر گزرے۔ راوی کہتے ہیں میں نے نافع سے دریافت کیا حضرت عبداللہ جب رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو کیا وہ چلنا شروع کردیتے تھے انہوں نے جواب دیا نہیں البتہ جب رکن کے پاس ہجوم زیادہ ہوتا تھا تو چلتے تھے۔ کیونکہ وہ رکن کے استلام کے بغیر آگے نہیں جاتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 1879

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1880

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے رکن یمانی تک تین چکروں تک رمل کیا ہے اور چار چکروں میں چل کر گزرے ہیں ۔

رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ الْحَجَرِ إِلَی الْحَجَرِ ثَلَاثًا وَمَشَی أَرْبَعًا ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Hadith 1880

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1881

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ هُوَ ابْنُ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ طَافَ مُضْطَبِعًا

ابن یعلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص طرز پر چادر لپیٹ کر طواف کیا تھا۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ طَافَ مُضْطَبِعًا ← أَبِيهِ ← ابْنِ يَعْلَی ← عَبْدِ الْحَمِيدِ هُوَ ابْنُ جُبَيْرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1881

chevron_left Previous
1…456…14
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door