Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1858

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْيِ جَمَلٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت عبداللہ بن بحینہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لحی جمل کے مقام پر پچھنے لگوائے تھے آپ اس وقت حالت احرام میں تھے۔

احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ بِلَحْيِ جَمَلٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ ← عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 1858

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1859

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ إِسْحَقُ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ عَطَاءٍ وَمَرَّةً عَنْ طَاوُسٍ وَجَمَعَهُمَا مَرَّةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں بچھنے لگوائے تھے۔ اسحق بیان کرتے ہیں سفیان اس حدیث کو کبھی عطاء کے حوالے سے بیان کرتے ہیں اور کبھی طاؤس کے حوالے سے بیان کرتے ہیں اور کبھی ان دونوں کے حوالے سے ایک ساتھ ذکر کرتے ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَقُ

Hadith 1859

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1860

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں شادی کی تھی۔

تَزَوَّجَ النَّبِيُّ وَهُوَ مُحْرِمٌ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Hadith 1860

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1861

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ خَطَبَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَوْسِمِ فَقَالَ أَبَانُ لَا أُرَاهُ عِرَاقِيًّا جَافِيًا إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ عُثْمَانُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَبُو مُحَمَّد تَقُولُ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ

نبیہ بن وہب بیان کرتے ہیں قریش سے تعلق رکھنے ایک شخص نے ابان بن عثمان کو شادی کا پیغام بھیجا وہ امیر حج تھے ابان نے کہا میرا خیال ہے یہ کوئی بد مذہب عراقی ہے حالت احرام والا شخص نہ تو کوئی خود نکاح کرسکتا ہے اور نہ کسی کا کوئی نکاح کرواسکتا ہے ہمیں یہ بات حضرت عثمان غنی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بتائی ہے ۔ امام ابومحمد دارمی سے سوال کیا گیا آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔

نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 1861

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1862

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ أَنَّ مَيْمُونَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَلَالَانِ بَعْدَمَا رَجَعَ مِنْ مَكَّةَ بِسَرِفَ

یزید بن اصم بیان کرتے ہیں سیدہ میمونہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میرے ساتھ شادی کی تھی اس وقت ہم احرام کھول چکے تھے اور مکہ سے واپس آرہے تھے اور سرف کے مقام پر تھے۔

تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ وَنَحْنُ حَلَالَانِ بَعْدَمَا رَجَعَ مِنْ مَكَّةَ بِسَرِفَ ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ أَنَّ مَيْمُونَةَ ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ

Hadith 1862

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1863

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا

حضرت ابورافع بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ سے شادی کی تھی آپ اس وقت احرام کھول چکے تھے جب آپ نے ان کے ساتھ شب بسری کی اس وقت آپ احرام کھول چکے تھے میں نے ان دونوں کے درمیان قاصد کے فرائض سر انجام دیئے تھے۔

تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ مَيْمُونَةَ حَلَالًا وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا ← أَبِي رَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 1863

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1864

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ انْطَلَقَ أَبِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ أَبُو قَتَادَةَ فَأَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ فَطَعَنَهُ وَأَكَلَ مِنْ لَحْمِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَطَعَنْتُهُ فَقَالَ لِلْقَوْمِ كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ

حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ بیان کرتے ہیں میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ کے سال روانہ ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے احرام باندھا ہوا تھا جبکہ حضرت ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا انہوں نے ایک نیل گائے کو پکڑا اور اسے زخمی کردیا اور اس کا گوشت کھا لیا (حضرت ابوقتادہ بیان کرتے ہیں) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے ایک نیل گائے کو پکڑ کر اس کو شکار کیا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس کا حکم دیا اسے کھا لو وہ سب لوگ حالت احرام میں تھے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 1864

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1865

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَأَبُو قَتَادَةَ حَلَالٌ إِذْ رَأَيْتُ حِمَارًا فَرَكِبْتُ فَرَسًا فَأَصَبْتُهُ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَلَمْ آكُلْ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ أَشَرْتُمْ قَتَلْتُمْ أَوْ قَالَ ضَرَبْتُمْ قَالُوا لَا قَالَ فَكُلُوا

حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم سفر کر رہے تھے لوگ حالت احرام میں تھے جبکہ حضرت ابوقتادہ حالت احرام میں نہیں تھے (حضرت ابوقتادہ بیان کرتے ہیں ) میں نے ایک نیل گائے کو دیکھا میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اسے جا لیا لوگوں نے حالت احرام میں ہونے کے باوجود اس کا گوشت کھا لیا لیکن میں نے نہیں کھایا تھا جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے آپ سے دریافت کیا کیا تم لوگوں نے شکار کیا تھا یا تم نے اسے مارا تھا (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ضربتم (یعنی تم نے اسے مارا ہے) لوگوں نے عرض کی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم کھا لو۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Hadith 1865

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1866

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ وَقَالَ إِنَّا حُرُمٌ لَا نَأْكُلُ الصَّيْدَ

حضرت صعب بن جثامہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نیل گائے کا گوشت لایا گیا تو آپ نے اسے واپس کردیا اور فرمایا ہم حالت احرام میں ہیں اور ہم شکار کا گوشت نہیں کھا سکتے ۔

الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Hadith 1866

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1867

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَاسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ فَأَخْبَرُوهُ فَوَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ وَقَالَ أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

معاذ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں طلحہ بن عبیداللہ کے ساتھ ایک سفر میں تشریف تھا آپ کی خدمت میں ایک پرندہ تحفہ کے طور پر پیش کیا گیا وہ سب لوگ حالت احرام میں تھے حضرت طلحہ سو رہے تھے ہم میں سے بعض لوگوں نے پرندے کا گوشت کھا لیا اور بعض لوگوں نے پرہیز کیا جب حضرت طلحہ بیدار ہوئے تو لوگوں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو حضرت طلحہ نے ان لوگوں کی رائے کی تائید کی جن لوگوں نے گوشت کھا لیا تھا اور فرمایا اس شکار کا گوشت ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھایا تھا ۔

أَبِيهِ ← معاذ بن عبد الرحمن بن عثمان التيمي، ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 1867

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1868

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَأَهْدَيْتُ لَهُ لَحْمَ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِي الْكَرَاهِيَةَ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مجھے حضرت صعب بن جثامہ نے یہ بات بتائی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت ابواء (راوی کو شک ہے یا شاید) ودان کے مقام پر موجود تھا میں نے آپ کی خدمت میں ایک نیل گائے کا گوشت تحفے کے طور پر پیش کیا تو آپ نے وہ مجھے واپس کردیا جب آپ نے میرے چہرے پر ملال کے آثار دیکھے تو آپ نے فرمایا میں نے تمہیں واپس نہیں کرنا تھا لیکن ہم حالت احرام میں تھے۔

مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1868

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1869

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ فَقَالَتْ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَمْسِكُ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَلَمْ يَحُجَّ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ سُئِلَ أَبُو مُحَمَّد تَقُولُ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت فضل بن عباس کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت فضل حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے وہ بیان کرتے ہیں خثعم قبیلے والی ایک عورت آئی اور عرض کی اللہ تعالیٰ نے حج اپنے بندوں پر فرض کیا ہے اور میرے والد بہت بوڑھے ہوچکے ہیں وہ سواری پر سنبھل کر بیٹھ نہیں سکتے کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جی ہاں۔ امام دارمی سے سوال کیا گیا آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔

الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← وُهَيْبٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Hadith 1869

chevron_left Previous
12345…14
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door