Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1744

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ فَقَالَ لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع کیا تو بعض مسلمانوں نے عرض کی آپ خود صوم وصال رکھتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری مانند نہیں ہوں رات کے وقت میرا پروردگار مجھے کھلا پلا دیتا ہے بعض لوگوں نے آپ کی اس بات پر عمل نہیں کیا اور صوم وصال رکھنے سے باز نہیں آئے وہ لوگ لگاتار صوم وصال رکھتے رہے یہاں تک کہ جب انہوں نے (شوال کا) چاند دیکھ لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مزید موقع ہوتا تو میں اور صوم وصال رکھتا (راوی کہتے ہیں) گویا آپ ان کے طرز عمل پر ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے۔

الْوِصَالِ فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Hadith 1744

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1745

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ السَّفَرَ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں حضرت حمزہ بن عمرو سلمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ میں سفر پر جانا چاہتا ہوں آپ مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور اگر تم چاہو توروزہ نہ رکھو۔

عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ← عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1745

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1746

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَصَامَ وَصَامَ النَّاسُ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ثُمَّ أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ فَكَانُوا يَأْخُذُونَ بِالْأَحْدَثِ فَالْأَحْدَثِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو آپ نے روزہ رکھ لیا لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیاجب آپ " کدید" پہنچے تو آپ نے روزہ توڑ دیا لوگوں نے بھی روزہ توڑ دیا اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرز عمل کو اختیار کرتے تھے جو آپ نے سب سے بعد میں کیا ہو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 1746

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1747

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَأَبُو الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلٌ قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا هَذَا صَائِمٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر پر جا رہے تھے کہ آپ نے کچھ لوگوں کا ہجوم دیکھا اور ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا گیا تھا آپ نے دریافت کیا کیا مسئلہ ہے؟ لوگوں نے عرض کی یہ شخص روزہ دار ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر کے دوران روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ← شُعْبَةُ، ← هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَأَبُو الْوَلِيدِ

Hadith 1747

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1748

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ

حضرت کعب بن عاصم اشعری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفر کے دوران روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔

كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ؛ ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Hadith 1748

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1749

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ

حضرت کعب بن عاصم اشعری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفر کے دوران روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔

لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ← النَّبِيِّ ← كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ؛ ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← صَفْوَانَ بْنِ عَبْد اللَّه بْنِ صَفْوَانَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Hadith 1749

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1750

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبْتُ لِأَخْرُجَ قَالَ انْتَظِرْ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنْ الْمُسَافِرِ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ

حضرت ابوامیہ ضمری بیان کرتے ہیں میں ایک سفر سے واپسی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو سلام کیا جب میں اٹھ کر جانے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوامیہ کھانے کا انتظار کرو (وہ آجائے تو کھا کر جانا) ابوامیہ کہتے ہیں میں نے عرض کی اے اللہ کے نبی میں روزہ دار ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں مسافر کے بارے میں بتاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے اسے روزہ رکھنا معاف کیا ہے اور نصف نماز معاف کی ہے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں مسافر اگر چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چا ہے تو روزہ نہ رکھے۔

أَبُو مُحَمَّد إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ ← الْمُسَافِرِ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ ← فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ تَعَالَ أُخْبِرْكَ ← انْتَظِرْ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ ← قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ مِنْ سَفَرٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبْتُ لِأَخْرُجَ ← أَبِي أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ← أَبِي الْمُهَاجِرِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Hadith 1750

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1751

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ سَفِينَةً مِنْ الْفُسْطَاطِ فِي رَمَضَانَ فَدَفَعَ فَقَرَّبَ غَدَاءَهُ ثُمَّ قَالَ اقْتَرِبْ فَقُلْتُ أَلَسْتَ تَرَى الْبُيُوتَ فَقَالَ أَبُو بَصْرَةَ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبید بن جبیر بیان کرتے ہیں میں رمضان کے مہینے میں "فسطاط" کے مقام سے ایک کشتی میں حضرت ابوبصرہ غفاری کے ہمراہ سوار ہوا انہوں نے کھانا آگے رکھا اور بولے آگے آجاؤ میں نے کہا ابھی تو آپ کو اپنے گھر نظر آرہے ہیں تو حضرت ابوبصرہ نے فرمایا کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی روگردانی کرنا چاہتے ہو۔

يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ،

Hadith 1751

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1752

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ الْمُطَوِّسِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ وَلَا مَرَضٍ فَلَنْ يَقْضِيَهُ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ وَلَوْ صَامَ الدَّهْرَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص رمضان کے مہینے میں کسی دن کسی رخصت اور بیماری کے بغیر ایک روزہ نہ رکھے تو ساری زندگی رکھنا بھی اسکے برابر نہیں ہوسکتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ الْمُطَوِّسِ، ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1752

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1753

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهُ اللَّهُ لَهُ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص رمضان کے مہینے میں کسی دن اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کسی رخصت کے بغیر روزہ نہ رکھے تو اس کی قضا ساری زندگی کے روزے بھی نہیں ہوسکتے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← أَبِي الْمُطَوِّسِ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Hadith 1753

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1754

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ هَلَكْتُ فَقَالَ وَمَا أَهْلَكَكَ قَالَ وَاقَعْتُ امْرَأَتِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ فَأَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ لَيْسَ عِنْدِي قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ لَا أَجِدُ قَالَ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ تَصَدَّقْ بِهَذَا فَقَالَ أَعَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْتُمْ إِذًا وَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں حاضر ہوا اور عرض کی میں ہلاکت کا شکار ہوگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم کو کس چیز نے ہلاکت کا شکار کیا اس نے عرض کی میں نے رمضان کے مہینے میں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرلی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ایک غلام آزاد کردو اس نے عرض کی میرے پاس پیسے نہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لگاتار دو مہینے تک روزے رکھو اس نے عرض کی میں یہ بھی نہیں کرسکتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اس نے عرض کی میرے پاس اس کی بھی گنجائش نہیں (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی کی خدمت میں ایک تھیلا لایا گیا جس میں کھجوریں موجود تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ سوال کرنے والا شخص کہاں ہے پھر اس سے فرمایا تم اسے صدقہ کرو اس نے عرض کی یا رسول اللہ کیا میں اپنے گھر والوں سے زیادہ مستحق شخص کو صدقہ کروں اللہ کی قسم مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان ہمارے گھر سے زیادہ محتاج کوئی اور نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر تم ہی کھالو آپ مسکرا دیئے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں نظر آنی لگیں۔

أَعَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي ← أين السائل تصدق بهذا ← فأتي رسول الله بعرق فيه تمر ← لا أجد ← فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْکِينًا ← لَا أَسْتَطِيعُ ← فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ← لَيْسَ عِنْدِي ← فَأَعْتِقْ رَقَبَةً ← وَاقَعْتُ امْرَأَتِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ← «وَمَا أَهْلَكَكَ؟» ← هلكت ← أتى رسول الله رجل ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ

Hadith 1754

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1755

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے رمضان کے مہینے میں روزہ توڑ دیا (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Hadith 1755

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door