Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1689

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي هِشَامٌ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے۔ آدمی اس شخص سے کرنا چاہیے جو اس کے زیر کفالت ہو۔

ظَهْرِ غِنًى وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ ← خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا تُصُدِّقَ بِهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُرْوَةَ ← هِشَامٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Hadith 1689

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1690

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى قَالَ وَالْيَدُ الْعُلْيَا يَدُ الْمُعْطِي وَالْيَدُ السُّفْلَى يَدُ السَّائِلِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا اوپر والا ہاتھ لینے والا ہاتھ ہے۔

وَالْيَدُ الْعُلْيَا يَدُ الْمُعْطِي وَالْيَدُ السُّفْلَى يَدُ السَّائِلِ ← الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 1690

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1691

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يَذْكُرُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ

حضرت حکیم بن حزام روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے بہترین صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے تم آغاز ان لوگوں سے کرو جو تمہارے زیر کفالت ہوں۔

حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يَذْكُرُ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 1691

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1692

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سُلَيْمَانُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَوَافَقَتْ زَيْنَبَ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِبِلَالٍ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ أَضَعُ صَدَقَتِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَوْ فِي قَرَابَتِي فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ

حضرت عبداللہ کی اہلیہ سیدہ زینب بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے خواتین صدقہ دیا کرو خواہ وہ تمہارے زیور کیوں نہ ہو۔ حضرت زینب بیان کرتی ہیں حضرت عبداللہ ان دنوں تنگ دست تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دریافت کرنے کے لے گئے تو زینب نامی ایک انصاری خاتون مجھے ملی اس نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کرنا تھا جو میں نے کرنا تھا میں نے حضرت بلال سے کہا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر بتائیں کہ میں اپنا صدقہ کہاں خرچ کرو کیا عبداللہ پر یا اپنے رشتہ داروں پر حضرت بلال نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے دریافت کیا کون سی والی زینب ہے، حضرت بلال نے عرض کی حضرت عبداللہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو دو طرح کا اجر ملے گا ایک رشتہ داری کا دوسرا صدقہ کرنے کا۔

زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبَا وَائِلٍ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Hadith 1692

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1693

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا نَخْلًا وَكَانَتْ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءُ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا طَيِّبٌ فَقَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَالَ إِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ أَوْ رَائِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهِ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَّمَهُ أَبُو طَلْحَةَ فِي قَرَابَةِ بَنِي عَمِّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کھجوروں کے باغ کی ملکیت کے حوالے سے حضرت ابوطلحہ مدینہ منورہ میں سب سے امیر انصاری تھے انہیں اپنے باغات میں سب سے زیادہ بیرحاء نامی باغ محبوب تھا جو مسجد کے مقابل میں تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے جایا کرتے تھے وہاں پاکیزہ پانی پیتے تھے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی " تم لوگ اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ چیزیں خرچ نہ کرو جو تمہیں پسند ہیں اور جو چیز تم خرچ کروگے اس سے اللہ واقف ہے" حضرت ابوطلحہ بولے میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء ہے، یہ صدقہ ہے اور میں اللہ کی بارگاہ میں اس کے ثواب کے امیدوار ہوں یا رسول اللہ آپ اسے جہاں چاہیں خرچ کرسکتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہت عمدہ اور نفع بخش (راوی کو شک ہے یا شاید آپ نے فرمایا) فائدہ مند مال ہے تم نے جو کہا میں نے اسے سن لیا تاہم میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے قریبی عزیزوں میں خرچ کردو حضرت ابوطلحہ نے عرض کی یا رسول اللہ میں ایسا ہی کروں گا۔ (راوی کہتے ہیں) پھر حضرت ابوطلحہ نے وہ باغ اپنے چچازاد رشتے داروں میں تقسیم کردیا۔

أَنَسٍ، ← إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مَالِكٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Hadith 1693

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1694

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَمَرَنَا فِيهَا بِالصَّدَقَةِ وَنَهَانَا عَنْ الْمُثْلَةِ

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جب بھی خطبہ دیا تو آپ نے اس میں ہمیں صدقہ کرنے کی ہدایت کی اور مثلہ کرنے سے منع کیا۔

الْمُثْلَةِ ← مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا أَمَرَنَا فِيهَا بِالصَّدَقَةِ وَنَهَانَا ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 1694

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1695

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ

حضرت عدی بن حاتم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں آگ سے بچنے کی کوشش کرو خواہ ایک کھجور کے ٹکرے کے ذریعے ہی ہو اگر وہ بھی نہ ملے تو پاکیزہ بات کے ذریعے (آگ) سے بچو۔

"اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا، فَبِكَلِمَةٍ طَيْبَةٍ" ← النَّبِيِّ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← خيثمة ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Hadith 1695

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1696

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ دُحَيْمٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا رَضِيَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَأَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْزِي عَنْكَ الثُّلُثُ

حضرت عبدالرحمن بن ابولبابہ بیان کرتے ہیں حضرت ابولبابہ نے انہیں بتایا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی ہوگئے تو انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ میری توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میں اپنی قوم کے گھر سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں اور آپ کے پاس سکونت اختیار کرتا ہوں اور اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ کرتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے لئے ایک تہائی (مال صدقہ کرنا) ہی کافی ہوگا۔

أَنَّهُ لَمَّا رَضِيَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ دُحَيْمٌ

Hadith 1696

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1697

أَخْبَرَنَا يَعْلَى وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنْ ذَهَبٍ أَصَابَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي قَالَ أَحْمَدُ فِي بَعْضِ الْمَعَادِنِ وَهُوَ الصَّوَابُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا مِنِّي صَدَقَةً فَوَاللَّهِ مَا لِي مَالٌ غَيْرَهَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ عَنْ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ هَاتِهَا مُغْضَبًا فَحَذَفَهُ بِهَا حَذْفَةً لَوْ أَصَابَهُ لَأَوْجَعَهُ أَوْ عَقَرَهُ ثُمَّ قَالَ يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَالِهِ لَا يَمْلِكُ غَيْرَهُ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ ثُمَّ يَقْعُدُ يَتَكَفَّفُ النَّاسَ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى خُذْ الَّذِي لَكَ لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ فَأَخَذَ الرَّجُلُ مَالَهُ وَذَهَبَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَانَ مَالِكٌ يَقُولُ إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ مَالَهُ فِي الْمَسَاكِينِ يَتَصَدَّقُ بِثُلُثِ مَالِهِ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک شخص انڈے کی طرح کا سونا لے کر آپ کے پاس آیا جو اسے کسی جنگ میں ملا تھا (ایک روایت میں ہے) کسی کان میں سے ملا تھا اور یہی زیادہ صحیح ہے اس نے عرض کی یا رسول اللہ یہ میری طرف سے صدقہ کے طور پر قبول کیجئے اللہ کی قسم میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا پھر وہ دوسری جانب سے آپ کے پاس آیا اور وہی بات عرض کی پھر وہ آپ کے سامنے کی جانب سے آیا اور وہی بات عرض کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کے عالم میں فرمایا لاؤ پھر آپ نے وہ اس کی طرف پھینکا اگر وہ اسے لگ جاتا تو وہ زخمی ہوجاتا (یا شاید مر ہی جاتا) پھر آپ نے فرمایا کوئی شخص اپنے مال کو صدقہ کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں ہوتا پھر وہ اسے صدقہ کردیتا ہے اور خود لوگوں سے مانگنے کے لئے بیٹھ جاتا ہے صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں ہو (پھر آپ نے اس سے فرمایا) اپنا یہ پکڑو ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ (راوی کہتے ہیں) اس شخص نے وہ مال پکڑا اور چلا گیا۔ امام دارمی فرماتے ہیں امام مالک فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنا مال غریبوں میں بانٹنا چا ہے تو وہ ایک تہائی مال صدقہ کرے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَعْلَى وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ

Hadith 1697

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1698

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي فَقُلْتُ الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ قُلْتُ مِثْلَهُ قَالَ فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ فَقَالَ أَبْقَيْتُ لَهُمْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقُلْتُ لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا

زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کی ہدایت کی میرے پاس اس وقت مال موجود تھا میں نے سوچا آج میں ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جاؤں گا حضرت عمر کہتے ہیں میں اپنا نصف مال لے کر آگیا تو رسول اللہ نے فرمایا تم نے اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا ہے میں نے جواب دیا اتنا ہی۔ حضرت عمر نے بتایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنا سارا مال لے کر آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم نے اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا ہے تو انہوں نے جواب دیا میں نے ان کے لئے اللہ اور اس کا رسول چھوڑا ہے حضرت عمر کہتے ہیں میں آئندہ کبھی بھی کسی بھی معاملے میں آپ کا مقابلہ نہیں کروں گا۔

أمرنا رسول الله ← عُمَرَ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 1698

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1699

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ تَقُولُ بِهِ قَالَ مَالِكٌ كَانَ يَقُولُ بِهِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے صدقہ فطر میں کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع ہر آزاد یا غلام مرد یا عورت مسلمان پر لازم کیا ہے۔ امام دارمی سے سوال کیا گیا آپ اس کے مطابق فتوی دیتے ہیں انہوں نے جواب دیا امام مالک بھی اس کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Hadith 1699

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1700

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَعَدَلَهُ النَّاسُ بِمُدَّيْنِ مِنْ بُرٍّ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کے بارے میں یہ ہدایت کی ہے ہر چھوٹے اور بڑے اور آزاد اور غلام کی طرف سے ایک صاع کھجور صدقہ فطر کے طور پر ادا کیا جائے گا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں پھر لوگوں نے دو "مد" گندم کو اس کے برابر قرار دےدیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1700

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door