Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1677

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ وَأَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي قَوِيٍّ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہروایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے خوشحال اور طاقت ور شخص کے لئے (صدقہ وصول کرنا جائز نہیں۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں (اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ ذی مرہ سوی سے مراد قوی طاقت ور ہے)

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ وَأَبُو نُعَيْمٍ

Hadith 1677

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1678

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي وَجْهِهِ خُمُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ أَوْ خُدُوشٌ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْغِنَى قَالَ خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنْ الذَّهَبِ

حضرت عبداللہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود مانگے گا وہ جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کے چہرے میں داغ ہوںگے عرض کی گئی یا رسول اللہ خوشحالی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا پچاس درہم یا ان کی قیمت جتنا سونا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، ← حكيم بن جبير ← شَرِيکٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 1678

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1679

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

محمد بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ نے نبیﷺ سے اسی طرح نقل کیا۔

النَّبِيِّ بِنَحْوِهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← حكيم بن جبير ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1679

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1680

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَخَذَ الْحَسَنُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِخْ كِخْ أَلْقِهَا أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضرت امام حسن نے صدقے کی کھجور پکڑی اور اسے اپنے منہ میں ڈالنے لگے تو آپ نے فرمایا ارے ارے اسے رکھ دو کیا تمہیں پتا نہیں ہے ہم صدقہ نہیں کھاتے۔

لَا نَأْکُلُ الصَّدَقَةَ ← النَّبِيُّ كِخْ كِخْ أَلْقِهَا أَمَا شَعَرْتَ ← أَخَذَ الْحَسَنُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Hadith 1680

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1681

أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ وَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ

حضرت ابویعلی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حسن بھی آپ کے پاس موجود تھے انہوں نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور پکڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ان سے چھین لی اور فرمایا تمہیں پتہ نہیں ہے ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔

أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ ← عِنْدَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ ← كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ ← أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عِيسَى؛ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← زُهَيْرٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ،

Hadith 1681

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1682

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَخِيهِ عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُلْحِفُوا بِي فِي الْمَسْأَلَةِ فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ شَيْئًا فَأُعْطِيَهُ وَأَنَا كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهِ

حضرت معاویہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مجھ سے کوئی چیز مانگتے ہوئے اصرار نہ کیا کرو اللہ کی قسم جو مجھ سے کوئی چیز مانگے گا اور میں ناپسندیدگی کی حالت میں اسے دے دوں گا تو اس شخص کو اس میں کوئی برکت نصیب نہ ہوگی۔

مُعَاوِيَةَ، ← أَخِيهِ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،

Hadith 1682

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1683

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ مَسْأَلَةً وَهُوَ عَنْهَا غَنِيٌّ كَانَتْ شَيْنًا فِي وَجْهِهِ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص لوگوں سے کوئی چیز مانگے حالانکہ وہ اس کا محتاج نہ ہو تو وہ چیز اس کے چہرے میں ایک داغ ہوگی۔

ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Hadith 1683

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1684

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنْ الصَّبْرِ

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انصار سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا آپ نے انہیں عطا کردیا انہوں نے اور مانگا آپ نے انہیں عطا کردیا یہاں تک کہ آپ کے پاس سارا مال ختم ہوگیا تو آپ نے ارشاد فرمایا میرے پاس جو بہترین چیز موجود ہوگی وہ میں تم سے چھپا کر نہیں رکھوں گا اور جو شخص مانگنے سے بچے گا اللہ اسے بچا کر رکھے گا اور جو شخص بے نیازی اختیار کرے گا اللہ اسے بے نیاز کردے گا اور جو شخص صبر اختیار کرے اللہ اسے صبر عطا کرے گا اور کسی بھی شخص کو ایسی چیز نہیں دی گئی جو صبر سے زیادہ بہتر اور وسعت والی ہو۔

عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Hadith 1684

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1685

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ وَمَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی چیز عطا کی تو میں نے عرض کیا آپ یہ اسے عطا کردیں جس کو مجھ سے زیادہ ضرورت ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اسے لو اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح سے جو مال عطا کرے اگر تم اسراف نہیں کرتے اور تم مانگتے نہیں اور اسے وصول کرلو اور جو تمیں نہیں ملتا اس کی وجہ سے خود کو پریشان نہ کرو۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← سَالِمٍ أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Hadith 1685

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1686

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ عَنْ عُمَرَ بِنَحْوِهِ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ عبداللہ بن سعدی بیان کرتے ہیں

عُمَرَ بِنَحْوِهِ ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ ← السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Hadith 1686

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1687

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ السَّعْدِيِّ قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْهُ

ابن سعدی کہتے ہیں حضرت عمر نے مجھے عامل مقرر کیا (اس کے بعد انہوں نے اسی طرح روایت نقل کی ہے )

اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْهُ ← ابْنِ السَّعْدِيِّ ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرٍ، ← اللَّيْثُ ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Hadith 1687

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1688

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَقَالَ يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ

حضرت حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز مانگی آپ نے مجھے عطا کردی میں نے پھر مانگی آپ نے پھر عطا کردی آپ سے پھر مانگی پھر آپ نے عطا کردی میں نے پھر مانگی تو آپ نے ارشاد فرمایا یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے جو شخص نفس کی سخاوت کے ہمراہ اسے وصول کرے گا اس کے لئے اس میں برکت رکھ دی گئی اور جو شخص نفس کی حرص کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا اس کے لئے اس میں برکت نہیں رکھی گئی اور اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کھا کر بھی سیر نہیں ہوتا۔

سَأَلْتُ النَّبِيَّ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1688

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door