Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1385

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَعْدَ الصَّلَاةِ إِلَّا قَدْرَ مَا يَقُولُ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے بعد صرف اتنی دیر بیٹھتے تھے جتنی دیر میں یہ دعا پڑھتے تھے۔ اے اللہ تو سلام ہے اور تجھ سے ہی سلامتی حاصل ہوسکتی ہے تو برکت والا ہے اے جلال اور اکرام والی ذات۔

اللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ← مَا كَانَ النَّبِيُّ يَجْلِسُ بَعْدَ الصَّلَاةِ إِلَّا قَدْرَ مَا ← عَائِشَةَ ← أَبِي الْوَلِيدِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ← عَاصِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1385

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1386

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو آپ تین مرتبہ استغفار پڑھتے تھے پھر یہ دعا مانگتے تھے۔ اے اللہ توسلام ہے اور تجھ سے ہی سلامتی حاصل ہوسکتی ہے تو برکت والا ہے اے جلال اور اکرام والی ذات۔

ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ← شَدَّادِ أَبِي عَمَّارٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1386

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1387

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ أَمْلَى عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فِي كِتَابٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ

وراد جو حضرت مغیرہ بن شعبہ کے سیکرٹری تھے وہ بیان کرتے ہیں، حضرت مغیرہ نے حضرت معاویہ کے نام خط میں انہیں یہ بات املاء کروائی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے کوئی اس کا شریک نہیں ہے اس کی بادشاہی ہے اور ہرطرح کی حمد اسی کے لئے ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ جسے تو عطا کردے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے روک دے اسے کوئی عطاکرنے والا نہیں ہے تیرے مقابلے میں کسی کی کوشش کوئی فائدہ نہیں دیتی۔

أَمْلَی عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فِي کِتَابٍ إِلَی مُعَاوِيَةَ ← وَرَّادٍ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1387

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1388

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کوئی بھی شخص اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ بنائے یعنی وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نماز پڑھنے کے بعد دائیں جانب سے اٹھے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بائیں طرف سے اٹھتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْأَسْوَدِ، ← عُمَارَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1388

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1389

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ السُّدِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں طرف سے اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔

یَّمِیْنِہٖ ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَنْصَرِفُ ← أَنَسًا ← السُّدِّيِّ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1389

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1390

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ السُّدِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف سے اٹھا کرتے تھے یعنی نماز پڑھنے کے بعد۔

يَمِينِهِ يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ ← انْصَرَفَ النَّبِيُّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← السُّدِّيِّ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1390

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1391

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا هِقْلٌ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا وَلَيْسَ لَنَا مَا نَتَصَدَّقُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُنَّ أَدْرَكْتَ مَنْ سَبَقَكَ وَلَمْ يَلْحَقْكَ مَنْ خَلَفَكَ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُسَبِّحُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَخْتِمُهَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ امیر لوگ تو اجرلے گئے کیونکہ وہ لوگ اسی طرح نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں اور اسی طرح روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس اضافی مال موجود ہے جسے وہ صدقہ کردیتے ہیں جبکہ ہمارے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جب تم انہیں پڑھ لو گے تو تم اس شخص تک پہنچ جاؤ گے جو تم سے آگے نکل چکا تھا لیکن تم تک وہ شخص نہیں پہنچ سکے گا جو تم سے پہلے ہیں ماسوائے اس شخص کے جو تمہارے عمل جیسا عمل کرے انہوں نے عرض کی جی ہاں یا رسول اللہ۔ آپ نے ارشاد فرمایا تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو اور اس کے آخر کے میں یہ دعا پڑھا کرو ۔" اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی کی بادشاہت ہے حمد اسی کے لئے ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔

أَبُو ذَرٍّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← هِقْلٌ ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1391

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1392

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَأُتِيَ رَجُلٌ أَوْ أُرِيَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْمَنَامِ فَقِيلَ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدُوا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَاجْعَلُوا مَعَهَا التَّهْلِيلَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلُوهَا

حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں ہمیں ہدایت کی گئی تھی کہ ہم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کریں پھر ایک شخص آیا انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو خواب میں یہ بات بتائی گئی کہ اللہ کے رسول نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو اس نے جواب دیا جی ہاں تو خواب میں آنے والے شخص نے کہا تم اسے پچیس پچیس مرتبہ کرو اس کے ساتھ لاالہ اللہ بھی پڑھا کرو اس بات کی اطلاع نبی اکرم کو دی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا تم ایسا کرلو۔

أُمِرْنَا ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1392

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1393

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ فَإِنْ وَجَدَ صَلَاتَهُ كَامِلَةً كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً وَإِنْ كَانَ فِيهَا نُقْصَانٌ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَأَكْمِلُوا لَهُ مَا نَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ ثُمَّ الزَّكَاةُ ثُمَّ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ حَمَّادٍ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ صَحَّ هَذَا قَالَ إِي

حضرت تمیم داری روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے انسان سے نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا اگر اس کی نماز مکمل ہوئی تو مکمل لکھی جائے گی اور اگر کوئی کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا کہ اس بات کا جائز لو کہ میرے بندے کے کوئی نوافل ہیں اگر ہیں تو انہیں مکمل کردو جو اس کے فرض میں کمی ہے پھر زکوۃ کا جائزہ لیا جائے گا اور دیگر اعمال کا اسی طرح حساب لیا جائے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں حماد کے علاوہ کوئی اور راوی سے یہ حدیث میرے علم کے مطابق منقول نہیں ہے۔ امام ابومحمد دارمی سے سوال کیا گیا کیا یہ حدیث صحیح ہے انہوں نے جواب دیا ہاں۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1393

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1394

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لِمَ فَمَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً قَالَ بَلَى قَالُوا فَاعْرِضْ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ حَتَّى يَقَرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ وَلَا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ يَظُنُّ أَبُو عَاصِمٍ أَنَّهُ قَالَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ثُمَّ يَسْجُدُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ ثُمَّ يَعُودُ فَيَسْجُدُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا مُعْتَدِلًا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَإِذَا قَامَ مِنْ السَّجْدَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا فَعَلَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ ثُمَّ يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتْ السَّجْدَةُ أَوْ الْقَعْدَةُ الَّتِي يَكُونُ فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ قَالَ قَالُوا صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوحمیدی ساعدی نے دس صحابہ کرام کی موجودگی میں جن میں سے ایک حضرت ابوقتادہ تھے یہ کہا کہ میں آپ سب کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے طریقے کے بارے میں جانتاہوں وہ حضرات بولے وہ کس طرح ؟ جبکہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے حوالے سے ہم سے آگے نہیں ہیں اور ہمارے مقابلے میں زیادہ پرانے صحابی بھی نہیں ہیں۔ حضرت ابوقتادہ نے فرمایا ایسا ہی ہے وہ حضرات بولے بیان کیجیے۔ حضرت ابوقتادہ نے فرمایا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز کرتے تو دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے۔ یہاں تک کہ ہر ایک ہڈی اپنی جگہ پر آجاتی پھر آپ قرأت کرتے پھر تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع میں چلے جاتے آپ اپنی دونوں ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھتے یہاں تک کہ ہرہڈی اپنی جگہ پر آجاتی آپ اپنے سر کو نہ اوپر کی طرف رکھتے اور نہ نیچے کی طرف رکھتے پھر آپ سر اٹھاتے اور سمع اللہ لمن حمدہ پڑھتے۔ پھر آپ دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے۔ ابوعاصم نامی راوی بیان کرتے ہیں میرے استاد نے شاید حدیث میں یہ الفاظ بھی بیان کئے تھے کہ ہر ایک ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر آجاتی تھی پھر آپ اللہ اکبر کہتے ہوئے زمین کی طرف جھک جاتے آپ اپنے دونوں بازو پہلو سے الگ رکھتے اور سجدہ کرتے پھر آپ سر اٹھاتے اور بایاں پاؤں بچھا کر اس کے سہارے بیٹھ جاتے۔ سجدے میں آپ اپنے پاؤں کی انگلیاں کشادہ رکھتے پھر آپ دوبارہ سجدہ کرتے پھر سر اٹھاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے اور بایاں پاؤں بچھا کر اس کے کھڑے ہوتے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کرتے جب آپ دو رکعات کے بعد تشہد پڑھ لینے کے بعد کھڑے ہوتے تواسی طرح کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے جیسے نماز کے آغاز میں اٹھاتے تھے۔ پھر آپ بقیہ نماز اسی طرح ادا کرتے یہاں تک کہ جب آخری قعدہ آتا جس میں سلام پھیرنا ہوتا تو آپ بائیں پاؤں کو ایک طرف نکال کر بائیں پہلو کے سہارے " تورک " کے طور پر بیٹھ جاتے۔

أعلمكم بصلاة رسول الله ← أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1394

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1395

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ قَالَ قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَامَ فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى قَالَ ثُمَّ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ قَبَضَ ثِنْتَيْنِ فَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا قَالَ ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ فَرَأَيْتُ عَلَى النَّاسِ جُلَّ الثِّيَابِ يُحَرِّكُونَ أَيْدِيَهُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ

حضرت وائل بن حجر بیان کرتے ہیں میں نے یہ سوچا کہ میں اچھی طرح اس بات کا جائزہ لوں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز پڑھنے کا طریقہ کیا ہے میں نے دیکھا آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانے کے بعد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھا۔ حضرت وائل بیان کرتے ہیں جب آپ رکوع میں جانے لگے تو اسی طرح رفع یدین کیا اور دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ دیئے پھر جب رکوع سے سر اٹھایا تواسی طرح رفع یدین کیا پھر آپ سجدے میں گئے اور دونوں ہتھیلیاں کانوں کے برابر رکھیں جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا دیا اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر کے بائیں زانو اور پنڈلی کے سہارے بیٹھے آپ نے اپنی دائیں کہنی دائیں زانو پر رکھی اور پھر انگلیوں کا حلقہ بنا کر ان میں سے ایک انگلی کو اٹھایا میں نے دیکھا کہ آپ اسے حرکت دے رہے تھے اور اس کے ہمراہ دعا مانگ رہے تھے۔ حضرت وائل بیان کرتے ہیں اس کے بعد ایک مرتبہ سردی کے موسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے چادریں لپیٹی ہوئی تھیں اور وہ چادروں کے نیچے سے ہی ہاتھوں کو حرکت دے رہے تھے۔

أَبِي ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1395

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1396

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أُقِرَّتْ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلَاةَ قَالَ أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا قَالَ مَا أَنَا قُلْتُهَا وَقَدْ خِفْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا قُلْتُهَا وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَوَ مَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا قَالَ أَحْسَبُهُ قَالَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمْ اللَّهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَوْ قَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ أَوْ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ أَوْ سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

حطان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوموسی اشعری نے ہمیں نماز پڑھائی یہ مغرب یا شاید عشاء کی نماز تھی نمازیوں میں سے ایک صاحب بولے کہ نماز اور زکوۃ بڑے نیکی کے کام ہیں جب حضرت ابوموسی نے نماز ختم کی تو دریافت کیا کہ یہ جملہ کس نے کہا ہے سب لوگ خاموش رہے حضرت ابوموسی بولے اے حطان شاید یہ جملہ تم نے کہا ہے حطان کہتے ہیں میں نے کہا یہ جملہ میں نے نہیں کہا مجھے اندیشہ ہے کہ شاید آپ مجھ سے ناراض نہ ہوجائیں حاضرین میں سے ایک صاحب بولے میں نے یہ جملہ کہا ہے اور میرا مقصد صرف نیک تھا۔ حضرت ابوموسی نے فرمایا کیا تم لوگوں کو پتا نہیں ہے کہ تم لوگوں کو اپنی نماز میں کیا پڑھنا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے نماز پڑھانے کا طریقہ سکھایا تھا اور اس کے آداب وضاحت کے ساتھ بیان کئے ہیں۔ آپنے فرمایا تھا کہ جب نماز پڑھی جانے لگے تو تم میں سے ایک شخص تم لوگوں کی امامت کرے گا جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ غیر المغضوب علیھم ولا لضالین کہے تو آمین کہو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول کرے گا۔ جب وہ تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے تو تم بھی تکبیر کہہ رکوع میں جاؤ۔ امام تم سے پہلے رکوع میں جائےگا اور تم سے پہلے رکوع سے اٹھے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہوگا جب امام سمع اللہ کہے تو تم اللہم ربناالک الحمد کہو کیونکہ اللہ نے اپنے نبی کی زبانی یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ جس شخص نے اللہ کی حمد بیان کی اللہ نے اس کی حمد کو سن لیا۔ پھر جب امام تکبیر کہہ کر سجدے میں جائے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدے میں چلے جاؤ امام تم سے پہلے سجدے میں جائے گا اور تم سے پہلے سجدے سے اٹھے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہوگا کہ پھر جب تم قعدہ میں بیٹھو تو یہ پڑھو۔ ہرطرح کی مالی اور جسمانی عبادت اللہ کے لئے مخصوص ہے اے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو اور آپ پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

قُلْتُهَا وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ ← رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: ← قُلْتُهَا وَقَدْ خِفْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا ← مَا ← لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا ← أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ← رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أُقِرَّتْ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلَاةَ ← صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1396

chevron_left Previous
1…141516…36
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door