Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 683

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ الْحِمْيَرِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ مَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ مَنْ أَكَلَ فَلْيَتَخَلَّلْ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ مَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبَ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ يَتَلَاعَبُونَ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص سرمہ ڈالے اسے طاق عدد میں ڈالنا چاہیے جو ایسا کرے گا وہ اچھا کرے گا اور جو نہ کرے اس میں کوئی حرج نہیں جو شخص استنجا کرتے وقت پتھر استعمال کرے وہ طاق تعداد میں کرے جو ایسا کرے گا وہ اچھا کرے گا جو ایسا نہیں کرے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں جو شخص کچھ کھا لے اسے خلال کرنا چاہیے خلال کے ذریعے جو نکلے اسے تھوک دے جو زبان کے ذریعے باہر آئے اسے نگل لے۔ جو ایسا کرے گا وہ اچھا کرے گا لیکن جو نہیں کرتا اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جو شخص قضائے حاجت کے لئے آئے اسے پردہ کرلینا چاہیے اگر اسے صرف ریت کا ٹیلہ ہی میسر ہو تو اسی کی طرف پیٹھ کرلے کیونکہ شیاطین اولاد آدم کے مقاعد یعنی سیرین کے ساتھ کھیلتے ہیں جو شخص ایسا کرے گا تو وہ اچھا کرے گا اور جو ایسا نہیں کرے گا تو یہ بہتر ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْرُ ← حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 683

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 684

أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ كَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ

حضرت عبداللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے وقت ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ کی اوٹ میں ہونا پسند کرتے تھے۔

كَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ النَّبِيُّ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيٌّ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Hadith 684

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 685

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ مَالِكٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ مَوْلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَنْتَ رَسُولِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْكُمْ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكُمْ إِذَا خَرَجْتُمْ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا

حضرت سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اہل مکہ کی طرف میرے نمائندے ہو تم انہیں بتانا کہ اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو سلام بھیجا ہے اور یہ ہدایت کی ہے کہ جب تم قضائے حاجت کرنے لگو تو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ پھیر کر نہ کرو۔

سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ مَوْلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← الْوَلِيدِ بْنِ مَالِكٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 685

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 686

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَيْتُمْ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا قَالَ ثُمَّ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ عِنْدَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ وَعَبْدُ الْكَرِيمِ شِبْهُ الْمَتْرُوكِ

حضرت ابوایوب انصاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم قضائے حاجت کے لئے آؤ تو پاخانہ پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرو۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوایوب نے بتایا کہ ہم لوگ شام آئے تو وہاں ہم نے قبلہ کی سمت میں بیت الخلاء بنے دیکھے تو ہم قبلہ کی طرف منہ موڑ کر بیٹھتے تھے اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے تھے۔ امام دارمی فرماتے ہیں یہ حدیث عبدالکریم نامی راوی کی منقول حدیث سے زیادہ مستند ہے عبدالکریم نامی راوی تقریبا متروک راوی کی حثییت رکھتا ہے۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 686

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 687

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْفَعُ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنْ الْأَرْضِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد هُوَ أَدَبٌ وَهُوَ أَشْبَهُ مِنْ حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے وقت کپڑا اس وقت تک نہیں اٹھاتے تھے جب تک آپ زمین کے قریب نہ ہوجائیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں آداب کا حصہ ہے اور یہ روایت حضرت مغیرہ بن شعبہ سے منقول روایت سے مطابقت رکھتی ہے۔

أَنَسٍ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Hadith 687

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 688

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو اینٹوں پر بیٹھ کر بیت المقدس کی طرف منہ کر کے قضائے حاجت کرتے ہوئے دیکھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَنَّ عَمَّهُ: وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 688

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 689

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ وَهُوَ قَائِمٌ قَالَ أَبُو مُحَمَّد لَا أَعْلَمُ فِيهِ كَرَاهِيَةً

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محلے میں کچرے پر تشریف لائے اور وہاں آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ امام دارمی فرماتے ہیں ہمارے نزدیک اس میں کچھ کراہت نہیں ہے۔

أَبُو مُحَمَّد لَا أَعْلَمُ فِيهِ كَرَاهِيَةً ← جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ وَهُوَ قَائِمٌ ← حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Hadith 689

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 690

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ

حضرت مالک بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعا مانگتے۔ اے اللہ میں خبیث لوگوں اور خبیث چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Hadith 690

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 691

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لئے جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے جن کے ذریعے وہ صفائی حاصل کرے تو یہ اس کے لئے کافی ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،

Hadith 691

Sahih

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 692

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ مِنْهُنَّ رَجِيعٌ يَعْنِي الِاسْتِطَابَةَ

حضرت عمرو بن خزیمہ بن ثابت انصاری اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں تین پتھر ہونے چاہیے ان میں کوئی ہڈی نہیں ہونی چاہیے۔ راوی کہتے ہیں یعنی پاکیزگی کے حصول کے لیے۔

أَبِيهِ ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Hadith 692

Sahih

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 693

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ هُوَ ابْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ مَالِكٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ مَوْلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَنْتَ رَسُولِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْكُمْ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكُمْ أَنْ لَا تَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ وَلَا بِبَعْرَةٍ قَالَ أَبُو عَاصِمٍ مَرَّةً وَيَنْهَاكُمْ أَوْ يَأْمُرُكُمْ

حضرت سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اہل مکہ کی طرف سے میرے نمائندے ہو ان سے یہ کہہ دینا کہ اللہ کے رسول نے ان کی طرف سلام بھیجا ہے اور انہیں ہدایت کی ہے کہ تم ہڈی یا اونٹ کی مینگنی کے ساتھ استنجا نہ کرنا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث کے راوی ابوعاصم نے حدیث کے الفاظ میں کچھ اختلاف کیا ہے۔

سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ مَوْلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← الْوَلِيدِ بْنِ مَالِكٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ← عَبْدِ الْكَرِيمِ هُوَ ابْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Hadith 693

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 694

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَأَبُو نُعَيْمٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ

عبداللہ بن قتادہ وہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کوئی شخص دائیں ہاتھ سے اپنے عضو مخصوص کو نہ چھوئے اور نہ ہی دائیں ہاتھ سے اسے صاف کرے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَأَبُو نُعَيْمٍ

Hadith 694

chevron_left Previous
1234…46
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door