Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 73

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ وَيُقِلُّ اللَّغْوَ وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ وَيُقْصِرُ الْخُطْبَةَ وَلَا يَأْنَفُ وَلَا يَسْتَنْكِفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُمَا حَاجَتَهُمَا

زہری بیان کرتے ہیں جبرائیل نے یہ بات بیان کی روئے زمین میں دس گھروں پر مشتمل جو بھی بستی ہے میں اس کا جائزہ لیا ہے۔ میں نے ان میں سے کسی ایک شخص کو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مال خرچ کرنے والا نہیں پایا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Hadith 73

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 74

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَأَعْلَمَنَّ مَا بَقَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُهُمْ قَدْ آذَوْكَ وَآذَاكَ غُبَارُهُمْ فَلَوْ اتَّخَذْتَ عَرِيشًا تُكَلِّمُهُمْ مِنْهُ فَقَالَ لَا أَزَالُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ يَطَئُونَ عَقِبِي وَيُنَازِعُونِي رِدَائِي حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي يُرِيحُنِي مِنْهُمْ قَالَ فَعَلِمْتُ أَنَّ بَقَاءَهُ فِينَا قَلِيلٌ

حضرت عبداللہ بن اوفٰی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت ذکر کیا کرتے تھے اور دنیاوی باتیں نہیں کرتے تھے آپ نماز طویل پڑھتے تھے اور خطبہ مختصر دیتے تھے اور آپ اس بات میں کوئی الجھن محسوس نہیں کرتے تھے کہ آپ کسی بیوہ عورت کے یا غریب آدمی کے ساتھ چل کر جائیں اور ان کی کوئی ضرورت پوری کردیں۔

الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَأَعْلَمَنَّ مَا بَقَاءُ رَسُولِ اللَّهِ فِينَا فَقَالَ ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 74

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 75

75. أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَحْجُبُكَ فَقَالَ لَا دَعُوهُمْ يَطَئُونَ عَقِبِي وَأَطَأُ أَعْقَابَهُمْ حَتَّى يُرِيحَنِي اللَّهُ مِنْهُمْ

حضرت عباس بیان کرتے ہیں میں اچھی طرح جانتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کتنا عرصہ رہیں گے۔ انہوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول!میں نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں ان کا غبار آپ کو اذیت پہنچاتا ہے اگر آپ کوئی تخت بنالیں تو بیٹھ کر ان کے ساتھ بات چیت کیا کریں؟ (یہ مناسب ہوگا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : میں تو اسی طرح رہوں گا یہ لوگ میرے پیچھے آتے رہیں میری چادر کھینچتے رہیں۔ یہاں تک کہ اللہ مجھے ان سے نجات عطا کردے۔ حضرت عباس بیان کرتے ہیں میں اس سے جان لیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اب ہمارے درمیان کچھ عرصہ رہیں گے۔

قِيلَ ← دَاوُدَ بْنِ عَلِي، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Hadith 75

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 76

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ عَاصِبًا رَأْسَهُ بِخِرْقَةٍ حَتَّى أَهْوَى نَحْوَ الْمِنْبَرِ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ وَاتَّبَعْنَاهُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى الْحَوْضِ مِنْ مَقَامِي هَذَا ثُمَّ قَالَ إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ قَالَ فَلَمْ يَفْطِنْ لَهَا أَحَدٌ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَبَكَى ثُمَّ قَالَ بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَمْوَالِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ هَبَطَ فَمَا قَامَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ

داؤد بن علی بیان کرتے ہیں عرض کی گئی یا رسول اللہ کیا ہم آپ کے لئے دربان مقرر نہ کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں لوگوں کو ایسے ہی رہنے دو وہ میرے پیچھے آتے رہیں اور میں ان کے پیچھے رہوں۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ مجھے ان سے سکون عطا کردے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Hadith 76

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 77

أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ فَانْطَلِقْ مَعِي فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِمْ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ لِيُهْنِكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ مِمَّا أَصْبَحَ فِيهِ النَّاسُ أَقْبَلَتْ الْفِتَنُ كَقِطْعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يَتْبَعُ آخِرُهَا أَوَّلَهَا الْآخِرَةُ أَشَدُّ مِنْ الْأُولَى ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدِ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةُ فَخُيِّرْتُ بَيْنَ ذَلِكَ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي قُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي خُذْ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةَ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ لَقَدْ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَبُدِئَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ

حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے یہ آپ کے اس مرض کا واقعہ ہے جس میں آپ کا انتقال ہوا۔ ہم لوگ اس وقت مسجد میں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر ایک پٹی باندھی ہوئی تھی ۔ آپ نے منبر کی طرف رخ کیا اور اس پر تشریف فرما ہوئے ہم آپ کے پیچھے آئے آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں یہاں سے حوض کی طرف دیکھ رہا ہوں پھر آپ نے ارشاد فرمایا ایک بندے کے سامنے دنیا اور اس کی آرائش و زبیائش پیش کی گئی تو اس بندے نے آخرت کو اختیار ۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اس بات کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی نے نہیں سمجھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے ان کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے پھر وہ بولے یا رسول اللہ ہم فدیئے کے طور پر اپنے باپ مائیں اپنی جانیں اپنے اموال پیش کرتے ہیں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اس کے بعد پھر کبھی آپ منبر پر تشریف فرما نہ ہوئے۔

أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عُبَيْدٍ مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، ← ابْنِ إِسْحَقَ ← بَكْرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ

Hadith 77

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 78

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فَقَالَ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي فَبَكَتْ فَقَالَ لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لِحَاقًا بِي فَضَحِكَتْ فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ يَا فَاطِمَةُ رَأَيْنَاكِ بَكَيْتِ ثُمَّ ضَحِكْتِ قَالَتْ إِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ فَبَكَيْتُ فَقَالَ لِي لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي فَضَحِكْتُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ

ابومویہبہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اہل بقیع کے لئے دعائے مغفرت کروں تم میرے ساتھ چلو ابومویبہ بیان کرتے ہیں میں نصف رات کے وقت آپ کے ساتھ چل دیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو آپ نے یہ دعا پڑھی۔ اے قبرستان والو تم پر سلامتی نازل ہو۔ لوگ جس حالت میں ہیں اس کے بجائے تم جس حالت میں ہو اس پر تمہیں مبارک باد ہو۔ تاریک رات کے ٹکڑوں جیسے فتنے آرہے ہیں جن میں سے ایک کے پیچھے دوسرا ہوگا اور بعد والا پہلے والے سے زیادہ خطرناک ہوگا (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے ابومویہبہ مجھے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں اور وہاں ہمیشہ رہنا دیا گیا اور پھر جنت کی پیش کش کی گئی مجھے اس کے درمیان اور اپنے پروردگار سے ملاقات کے درمیان اختیار دیا گیا (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ دنیا کے خزانوں کی چابیاں اس میں ہمشہ رہنا، جنت کو حاصل کرلیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا نہیں ۔ اللہ کی قسم اے ابومویہبہ میں نے پروردگار سے ملاقات کو اختیار کیا ہے ۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بقیع کے لئے دعائے مغفرت کی اور پھر آپ تشریف لے آئے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کا آغاز ہوا جس میں آپ کا انتقال ہوا تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Hadith 78

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 79

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَجَعَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جَنَازَةٍ مِنْ الْبَقِيعِ فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا وَأَنَا أَقُولُ وَا رَأْسَاهُ قَالَ بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ قَالَ وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مُتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ فَقُلْتُ لَكَأَنِّي بِكَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَرَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي فَعَرَّسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ قَالَتْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بُدِئَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ کو بلوایا اور ارشاد فرمایا (اس آیت إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ کے نزول میں) میری وفات کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے۔ سیدہ فاطمہ رونے لگی آپ نے ارشاد فرمایا نہ رو!کیونکہ میرے گھر والوں میں سب سے پہلے تم مجھ سے آکر ملو گی تو وہ ہنسنے لگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ نے انہیں دیکھا اور ازواج مطہرات نے کہا اے فاطمہ ہم نے دیکھا کہ پہلے آپ رونے لگی اور پھر ہنسنے لگی ۔ سیدہ فاطمہ نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی کہ ان کی وفات کی اطلاع آگئی ہے اس بات پر میں رو پڑی آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ نہ رو۔ میرے گھر والوں میں سب سے پہلے تم مجھ سے ملو گی میں ہنس پڑی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی فتح اور مدد آگئی ہے اور اہل یمن بھی آگئے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ اہل یمن سے مراد کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا وہ لوگ نرم دل کے مالک ہیں اور ایمان یمن ہی ہے اور حکمت یمن ہی ہے۔

عَائِشَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← ابْنِ إِسْحَقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Hadith 79

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 80

أَخْبَرَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُخْتَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ صُبُّوا عَلَيَّ سَبْعَ قِرَبٍ مِنْ سَبْعِ آبَارٍ شَتَّى حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى النَّاسِ فَأَعْهَدَ إِلَيْهِمْ قَالَتْ فَأَقْعَدْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ فَصَبَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ صَبًّا أَوْ شَنَنَّا عَلَيْهِ شَنًّا الشَّكُّ مِنْ قِبَلِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ فَوَجَدَ رَاحَةً فَخَرَجَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ مِنْ أَصْحَابِ أُحُدٍ وَدَعَا لَهُمْ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ إِلَّا فِي حَدٍّ أَلَا إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ قَدْ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَ اللَّهِ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَظَنَّ أَنَّهُ يَعْنِي نَفْسَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ الشَّوَارِعَ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ امْرَأً أَفْضَلَ عِنْدِي يَدًا فِي الصُّحْبَةِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں ایک دن رسول اللہ جنت البقیع میں جنازے میں شرکت کرنے کے بعد میرے ہاں تشریف لائے تو مجھے اس حالت میں پایا کہ مجھے درد تھا اور میں یہ کہہ رہی تھی ہائے میرا سر آپ نے ارشاد فرمایا نہیں بلکہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجھے یہ کہنا چاہیے کہ ہائے میرا سر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں کیا نقصان ہے اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہوجاؤ تو میں تمہیں غسل دوں گا تمہیں کفن دوں گا تمہاری نماز جنازہ پڑھوں گا تمہیں دفن کروں گا۔ میں نے عرض کی ایسا ہی ہوگا اللہ کی قسم اگر میں مرجاتی ہوں تو آپ واپس میرے اس گھر میں آئیں گے اور یہاں اپنی کسی دوسری اہلیہ محترمہ کے ساتھ رہیں گے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادئیے اس کے بعد آپ کو اس تکلیف کا آغاز ہوا جس میں آپ کا وصال ہوا تھا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُخْتَارٍ ← فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ،

Hadith 80

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 81

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُوذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ هَلْ أَمَرْتُنَّ أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ أَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَرُبَّ قَائِلٍ مُتَمَنٍّ وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران یہ بات ارشاد فرمائی میرے اوپر سات مشکیزوں کے ذریعے سات مختلف کنوؤں کا پانی بہاؤ تاکہ میں لوگوں کے پاس جا کر ان سے عہد لے سکوں۔ راوی بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بڑے ٹب میں جو سیدہ حفصہ کا تھا اس میں بٹھایا اور آپ پر پانی بہایا۔ (یہاں حدیث کے ان الفاظ میں محمد بن اسحق نامی راوی کو شک ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ محسوس ہوا آپ باہر تشریف فرما ہوئے منبر پر تشریف لائے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے شہدائے احد کے لئے دعائے مغفرت کی اور ان کے لئے دعا کی پھر ارشاد فرمایا۔ اما بعد!انصار میرے قریبی ساتھی ہیں جن کی طرف میں نے پناہ حاصل کی تم ان میں سے معزز لوگوں کا احترام کرو اگر کوئی غلطی کرے تو اس سے درگزر کرو۔ البتہ حد کا معاملہ مختلف ہے یہ بات یاد رکھو اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو دنیا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں موجود نعمتوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو بندے نے اللہ کے پاس موجود نعمتوں کو اختیار کیا راوی بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور وہ یہ سمجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں یہ بات کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابوبکر رضی اللہ عنہ اطمینان رکھو۔ پھر آپ نے حکم دیا مسجد کی طرف آنے والے تمام دروازوں کو بند کردیا جائے صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رہنے دیا جائے کیونکہ میرے نزدیک ساتھ کے اعتبار سے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے افضل کوئی اور نہیں۔

مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ← أُوذِنَ رَسُولُ اللَّهِ بِالصَّلَاةِ فِي مَرَضِهِ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،

Hadith 81

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 82

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ فَحُبِسَ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَلَيْلَتَهُ وَالْغَدَ حَتَّى دُفِنَ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ وَقَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ وَلَكِنْ عُرِجَ بِرُوحِهِ كَمَا عُرِجَ بِرُوحِ مُوسَى فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ وَلَكِنْ عُرِجَ بِرُوحِهِ كَمَا عُرِجَ بِرُوحِ مُوسَى وَاللَّهِ لَا يَمُوتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ أَقْوَامٍ وَأَلْسِنَتَهُمْ فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يَتَكَلَّمُ حَتَّى أَزْبَدَ شِدْقَاهُ مِمَّا يُوعِدُ وَيَقُولُ فَقَامَ الْعَبَّاسُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ وَإِنَّهُ لَبَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْسُنُ كَمَا يَأْسُنُ الْبَشَرُ أَيْ قَوْمِ فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ فَإِنَّهُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُمِيتَهُ إِمَاتَتَيْنِ أَيُمِيتُ أَحَدَكُمْ إِمَاتَةً وَيُمِيتُهُ إِمَاتَتَيْنِ وَهُوَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ أَيْ قَوْمِ فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ فَإِنْ يَكُ كَمَا تَقُولُونَ فَلَيْسَ بِعَزِيزٍ عَلَى اللَّهِ أَنْ يَبْحَثَ عَنْهُ التُّرَابَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا مَاتَ حَتَّى تَرَكَ السَّبِيلَ نَهْجًا وَاضِحًا فَأَحَلَّ الْحَلَالَ وَحَرَّمَ الْحَرَامَ وَنَكَحَ وَطَلَّقَ وَحَارَبَ وَسَالَمَ مَا كَانَ رَاعِي غَنَمٍ يَتَّبِعُ بِهَا صَاحِبُهَا رُءُوسَ الْجِبَالِ يَخْبِطُ عَلَيْهَا الْعِضَاهَ بِمِخْبَطِهِ وَيَمْدُرُ حَوْضَهَا بِيَدِهِ بِأَنْصَبَ وَلَا أَدْأَبَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِيكُمْ أَيْ قَوْمِ فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ قَالَ وَجَعَلَتْ أُمُّ أَيْمَنَ تَبْكِي فَقِيلَ لَهَا يَا أُمَّ أَيْمَنَ تَبْكِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَبْكِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَّا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ ذَهَبَ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ الدُّنْيَا وَلَكِنِّي أَبْكِي عَلَى خَبَرِ السَّمَاءِ انْقَطَعَ قَالَ حَمَّادٌ خَنَقَتْ الْعَبْرَةُ أَيُّوبَ حِينَ بَلَغَ هَا هُنَا

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران آپ کو نماز کے لئے بلوایا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ پھر آپ پر مدہوشی طاری ہوگئی جب افاقہ ہوا تو آپ نے پھر ارشاد فرمایا کیا تم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہہ دیا ہے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا) ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل کے آدمی ہیں ۔ حضرت عمر کو ہدایت کریں( تو یہ مناسب ہوگا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم بھی یوسف کے زمانے کے عورتوں کی طرح ہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ بہت سے لوگ یہ تمنا رکھتے ہوں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہی راضی ہیں۔

عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 82

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 83

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَعِيشُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَذْكُرْ مُصِيبَتَهُ بِي فَإِنَّهَا مِنْ أَعْظَمِ الْمَصَائِبِ

عکرمہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وصال پیر کے دن ہوا آپ کو اس دن کے بقیہ حصے میں رات تک اور اگلے دن تک رکھا گیا یہاں تک کہ بدھ کی شام کو آپ کودفن کیا گیا ۔ بعض لوگوں نے یہ بات کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا بلکہ ان کی روح کو اوپر لے جایا گیا جیسے حضرت موسی کی روح کو اوپر لے جایا گیا تھا حضرت عمر اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے بے شک اللہ کے رسول کا انتقال نہیں ہوا بلکہ ان کی روح کو اسی طرح سے اوپر لے جایا گیا جیسے حضرت موسی کی روح کو اوپر لے جایا گیا اللہ کی قسم اللہ کے رسول انتقال نہیں کریں گے۔ جب تک کفار کی اقوام کے ہاتھ اور زبانیں کاٹ نہ دیئے جائیں۔ حضرت عمر یہی بات کہتے رہے یہاں تکہ ان کے دھمکانے اور بولنے کی وجہ سے ان کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی اس وقت حضرت عباس کھڑے ہوئے اور بولے بے شک اللہ کے رسول انتقال کرچکے ہیں وہ ایک انسان تھے اور اسی طرح بوڑھے ہوئے جیسے انسان بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ اے لوگو اپنے آقا کودفن کر دو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس بات سے زیادہ برگزیدہ ہیں کہ اللہ انہیں دو مرتبہ موت میں مبتلا کرے کیا اللہ تم میں سے کسی کو ایک موت میں مبتلا کرے گا اور انہیں دو مرتبہ موت میں مبتلا کرے گا۔ جب کہ اللہ کے نزدیک وہ زیادہ برگزیدہ بندے ہیں۔ اے لوگو اپنے آقا کو دفن کردو۔ اگر وہ ایسے ہیں جیسے تم کہہ رہے ہو تو اللہ کے لئے یہ بات مشکل نہیں ہے کہ ان سے مٹی کو ہٹادے بے شک اللہ کے رسول نے اللہ کی قسم اس وقت تک انتقال نہیں کیا جب تک انہوں نے راستے کو واضح کردیا آپ نے حلال کو بھی واضح نہیں کردیا۔ حرام کو حرام قرار دیا آپ نے نکاح بھی کیاطلاق بھی دی جنگ بھی کی اور امن کی حالت میں بھی رہے بکریوں کا کوئی بھی چرواہا جس کے پیچھے بکریاں جاتی ہیں اور جو پہاڑوں کے سروں پر جاتا ہے اور درختوں سے اپنی لاٹھی کے ذریعے پتے جھاڑتا ہے اور ان بکریوں کے لئے اپنے ہاتھ سے حوض درست کرتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محنتی اور کوشش کرنے والا نہیں تھا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان رہے اے لوگو اپنے آقاکو دفن کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں سیدہ ام ایمن رونے لگی ان سے کہا گیا اے ام ایمن کیا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے رو رہی ہیں انہوں نے جواب دیا اللہ کی قسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے نہیں رو رہی کیونکہ مجھے اس بات کا پتہ ہے کہ آپ ایسی جگہ تشریف لے گئے ہیں جو آپ کے لئے دنیا سے بہتر ہے مجھے اس بات پر رونا آرہا ہے کہ اب آسمان سے وحی کے نزول کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ حماد بیان کرتے ہیں جب ایوب نامی راوی نے یہ بات بیان کی تو ان کی آواز یوں پھنس کررہ گئی جیسے ان کا گلا گھونٹ دیا گیا ہو۔

مَكْحُولٌ ← يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← شُعَيْبٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ الدِّمَشْقِيُّ

Hadith 83

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 84

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَذْكُرْ مُصَابَهُ بِي فَإِنَّهَا مِنْ أَعْظَمِ الْمَصَائِبِ

مکحول بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کسی ایک شخص کو مصیبت لاحق ہو تو میری مصیبت کو یاد کرلے کیونکہ وہی سب سے عظیم مصیبت ہے۔

عَطَاءٍ، ← فِطْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 84

chevron_left Previous
1…678…56
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door