Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 662

أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَقُولُ يَقُومُ عَنْ يَسَارِهِ فَحَدَّثْتُهُ عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ فَأَخَذَ بِهِ

اعمش بیان کرتے ہیں ابراہیم نخعی یہ فتوی دیتے تھے کہ ایک مقتدی امام کے بائیں طرف کھڑا ہوگا میں نے سمیع الزیات کے حوالے سے انہیں یہ حدیث سنائی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے دائیں طرف کھڑا کیا تھا تو ابراہیم نخعی نے اس حدیث کو اختیار کرلیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ ← يَسَارِهِ فَحَدَّثْتُهُ ← يَقُومُ ← كَانَ إِبْرَاهِيمُ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 662

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 663

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ نَشَدَ عُمَرُ النَّاسَ أَسَمِعَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي الْجَنِينِ فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ قَضَى فِيهِ عَبْدًا أَوْ أَمَةً فَنَشَدَ النَّاسَ أَيْضًا فَقَامَ الْمَقْضِيُّ لَهُ فَقَالَ قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي بِهِ عَبْدًا أَوْ أَمَةً فَنَشَدَ النَّاسَ أَيْضًا فَقَامَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ فَقَالَ قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ غُرَّةً عَبْدًا أَوْ أَمَةً فَقُلْتُ أَتَقْضِي عَلَيَّ فِيهِ فِيمَا لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَلَا نَطَقَ أَنْ تُطِلَّهُ فَهُوَ أَحَقُّ مَا يُطَلُّ فَهَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ مَعَهُ فَقَالَ أَشِعْرٌ فَقَالَ عُمَرُ لَوْلَا مَا بَلَغَنِي مِنْ قَضَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَجَعَلْتُهُ دِيَةً بَيْنَ دِيَتَيْنِ

عقار بن مغیرہ اپنے والد حضرت مغیرہ بن شعبہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت عمر نے لوگوں کو قسم دے کر دریافت کیا کہ کیا کسی شخص نے یا کیا آپ میں سے کسی شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پیٹ کے بچے کے بارے میں کوئی حکم سنا ہے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ کھڑے ہوئے اور بولے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ایک غلام یا کنیز ادا کرنے کا فیصلہ دیا تھا ۔ حضرت عمر نے لوگوں کو یہ قسم دے کر دریافت کیا تو جس شخص کے حق میں یہ فیصلہ ہوا تھا اس نے یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں ایک غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تھا ۔ حضرت عمر نے پھر لوگوں کو قسم دی تو جس شخص کے خلاف فیصلہ ہوا تھا اس نے یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اوپر ادائیگی لازم کی تھی۔ جو ایک غلام یا ایک کنیز تھی تو میں نے عرض کی تھی کیا آپ میرے خلاف اس بچے کے بارے میں فیصلہ دے رہے ہیں جس نے نہ کچھ کھایا ہے نہ کچھ پیا ہے۔ نہ وہ چلا کر رویا نہ وہ کچھ بولا اس طرح کا خون تو اس بات کا حق دار ہے کہ وہ ضائع ہوجائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کیا تم شاعری کر رہے ہو تو حضرت عمر نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کا پتا نہ چلتا تو میں ایسے بچے کی دیت دو طرح کی دیت کے درمیان کی دیت مقرر کردیتا۔

أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ← خالد بن زيد الأَنصاري ← عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 663

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 664

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ كَانَ سَلَّامٌ يَذْكُرُ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَعْرِفَ خَطَأَ مُعَلِّمِكَ فَجَالِسْ غَيْرَهُ

ایوب بیان کرتے ہیں جب تمہیں کسی تعلیم دینے والے کی غلطی کا پتا چلے تواٹھ کر کسی اور کی محفل میں چلے جاؤ۔

إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَعْرِفَ خَطَأَ مُعَلِّمِكَ فَجَالِسْ غَيْرَهُ ← أَيُّوبَ، ← كَانَ سَلَّامٌ يَذْكُرُ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 664

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 665

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ تَذَاكَرْنَا بِمَكَّةَ الرَّجُلَ يَمُوتُ فَقُلْتُ عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ يَأْتِيهَا الْخَبَرُ لِقَوْلِ الْحَسَنِ وَقَتَادَةَ وَأَصْحَابِنَا قَالَ فَلَقِيَنِي طَلْقُ بْنُ حَبِيبٍ الْعَنَزِيُّ فَقَالَ إِنَّكَ عَلَيَّ كَرِيمٌ وَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِ بَلَدٍ الْعَيْنُ إِلَيْهِمْ سَرِيعَةٌ وَإِنِّي لَسْتُ آمَنُ عَلَيْكَ وَإِنَّكَ قُلْتَ قَوْلًا هَا هُنَا خِلَافَ قَوْلِ أَهْلِ الْبَلَدِ وَلَسْتُ آمَنُ فَقُلْتُ وَفِي ذَا اخْتِلَافٌ قَالَ نَعَمْ عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ يَمُوتُ فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ وَسَأَلْتُ مُجَاهِدًا فَقَالَ عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ وَسَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ فَقَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ وَسَأَلْتُ أَبَا قِلَابَةَ فَقَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ فَقَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ و سَمِعْت عِكْرِمَةَ يَقُولُ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ وَقَالَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ حَمَّادٌ وَسَمِعْتُ لَيْثًا حَدَّثَ عَنْ الْحَكَمِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ تُوُفِّيَ عَلِيٌّ مِنْ يَوْمِ يَأْتِيهَا الْخَبَرُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَقُولُ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ

ایوب بیان کرتے ہیں ہم مکہ میں ایک ایسے شخص کا ذکر کررہے تھے جو فوت ہوچکا تھا میں نے کہا اس کی بیوی کی عدت اس دن سے شروع ہوگی جب اس شخص کی وفات کی اطلاع ملے گی کیونکہ حسن بصری قتادہ اور ہمارے مشائخ کی یہی رائے ہے۔ ایوب بیان کرتے ہیں پھر میری ملاقات طلق بن حبیب عنزی سے ہوئی تو وہ بولے آپ مجھ پر بڑے مہربان ہیں آپ اس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی طرف لوگوں کی نظریں تیزی سے جاتی ہیں اور میں آپ کے بارے میں امن میں نہیں ہوں اس نے یہ بھی کہا کہ آپ نے یہاں ایک بات کی ہے جو اس شہر کے اہل علم کے قول کے خلاف ہے اس لئے میں مطمئن نہیں ہوں میں نے دریافت کیا اس کے بارے میں اختلاف ہے اس نے جواب دیا جی ہاں۔ اس عورت کی عدت اس دن سے شروع ہوگئی جب وہ شخص فوت ہوا تھا کیونکہ میری ملاقات حضرت سعید بن جبیر سے ہوئی تھی اور میں نے یہی سوال ان سے کیا تھا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ اس عورت کی عدت اس دن سے شروع ہوگی جب وہ مرد فوت ہوا تھا پھر میں نے مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ پھر میں نے عطاء بن ابی رباح سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا، پھر میں نے ابوقلابہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ وفات کے دن سے ہوگی پھر میں نے محمد بن سیرین سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ وفات کے دن سے ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نافع نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اس دن سے شروع ہوگی جس دن اس کے مرد کا انتقال ہوا ہے ۔ میں نے عکرمہ کو اور حضرت جابر بن زید کو اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو بھی یہی فتوی دیتے سنا ہے کہ وفات کے دن سے آغاز ہوگا۔ حماد بیان کرتے ہیں میں نے لیث کو حکم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ وفات کے دن سے آغاز ہوگا۔ وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ ارشاد فرمایا جس دن اس کی وفات کی خبر آئے گی اس دن سے آغاز ہوگا۔ عبداللہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں تو میں نے بھی یہی فتوی دیا کہ وفات کے دن سے حساب شمار ہوگا۔

أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 665

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 666

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَتَيْنَا عُمَرَ فِي الْمُشَرَّكَةِ فَلَمْ يُشَرِّكْ ثُمَّ أَتَيْنَاهُ الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَشَرَّكَ فَقُلْنَا لَهُ فَقَالَ تِلْكَ عَلَى مَا قَضَيْنَا وَهَذِهِ عَلَى مَا قَضَيْنَا

حکم بیان کرتے ہیں ہم ایک مشترکہ چیز کے بارے میں حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ہمیں اس کا شریک قرار نہیں دیا پھر ہم اگلے سال ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ہمیں حصہ قرار دیدیا ہم نے ان سے اس بارے میں کہا تو انہوں نے جواب دیا پہلے وہ حکم تھا جو ہمیں پہلے سمجھ میں آیا اور یہ وہ حکم ہے جو اب ہمارے نزدیک بہتر ہے۔

الْحَكَمِ بْنِ مَسْعُودٍ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← سِمَاکِ بْنِ الْفَضْلِ ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 666

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 667

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الْأَسْوَدُ قَالَ قَالَ ابْنُ مُنَبِّهٍ كَانَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِيمَا مَضَى يَضَنُّونَ بِعِلْمِهِمْ عَنْ أَهْلِ الدُّنْيَا فَيَرْغَبُ أَهْلُ الدُّنْيَا فِي عِلْمِهِمْ فَيَبْذُلُونَ لَهُمْ دُنْيَاهُمْ وَإِنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ الْيَوْمَ بَذَلُوا عِلْمَهُمْ لِأَهْلِ الدُّنْيَا فَزَهِدَ أَهْلُ الدُّنْيَا فِي عِلْمِهِمْ فَضَنُّوا عَلَيْهِمْ بِدُنْيَاهُمْ

ابن منبہ بیان کرتے ہیں گزشتہ زمانے میں اہل علم اپنے علم کی وجہ سے دنیا داروں کے معاملے میں بخیل ہوتے تھے تو اہل دنیا ان کے علم کی وجہ سے ان کی طرف راغب ہوتے تھے اور اپنا دنیاوی مال ودولت ان پر خرچ کرتے تھے آج کے اہل علم اپنا علم دنیا والوں پر خرچ کرتے ہیں لیکن اہل دنیا ان کے علم سے بے نیاز ہیں اور اپنی دنیاوی مال ودولت کے معاملے میں ان سے بخل کرتے ہیں۔

ابْنُ مُنَبِّهٍ كَانَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِيمَا مَضَى يَضَنُّونَ بِعِلْمِهِمْ ← حَجَّاجٌ الْأَسْوَدُ ← رَوْحٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 667

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 668

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْكُمَيْتِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُوسَى قَالَ مَرَّ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُرِيدُ مَكَّةَ فَأَقَامَ بِهَا أَيَّامًا فَقَالَ هَلْ بِالْمَدِينَةِ أَحَدٌ أَدْرَكَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَهُ أَبُو حَازِمٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ لَهُ يَا أَبَا حَازِمٍ مَا هَذَا الْجَفَاءُ قَالَ أَبُو حَازِمٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَيُّ جَفَاءٍ رَأَيْتَ مِنِّي قَالَ أَتَانِي وُجُوهُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَلَمْ تَأْتِنِي قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ أَنْ تَقُولَ مَا لَمْ يَكُنْ مَا عَرَفْتَنِي قَبْلَ هَذَا الْيَوْمِ وَلَا أَنَا رَأَيْتُكَ قَالَ فَالْتَفَتَ سُلَيْمَانُ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ أَصَابَ الشَّيْخُ وَأَخْطَأْتُ قَالَ سُلَيْمَانُ يَا أَبَا حَازِمٍ مَا لَنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ لِأَنَّكُمْ أَخْرَبْتُمْ الْآخِرَةَ وَعَمَّرْتُمْ الدُّنْيَا فَكَرِهْتُمْ أَنْ تُنْقَلُوا مِنْ الْعُمْرَانِ إِلَى الْخَرَابِ قَالَ أَصَبْتَ يَا أَبَا حَازِمٍ فَكَيْفَ الْقُدُومُ غَدًا عَلَى اللَّهِ قَالَ أَمَّا الْمُحْسِنُ فَكَالْغَائِبِ يَقْدُمُ عَلَى أَهْلِهِ وَأَمَّا الْمُسِيءُ فَكَالْآبِقِ يَقْدُمُ عَلَى مَوْلَاهُ فَبَكَى سُلَيْمَانُ وَقَالَ لَيْتَ شِعْرِي مَا لَنَا عِنْدَ اللَّهِ قَالَ اعْرِضْ عَمَلَكَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ قَالَ وَأَيُّ مَكَانٍ أَجِدُهُ قَالَ إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ قَالَ سُلَيْمَانُ فَأَيْنَ رَحْمَةُ اللَّهِ يَا أَبَا حَازِمٍ قَالَ أَبُو حَازِمٍ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنْ الْمُحْسِنِينَ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ يَا أَبَا حَازِمٍ فَأَيُّ عِبَادِ اللَّهِ أَكْرَمُ قَالَ أُولُو الْمُرُوءَةِ وَالنُّهَى قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ فَأَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ أَبُو حَازِمٍ أَدَاءُ الْفَرَائِضِ مَعَ اجْتِنَابِ الْمَحَارِمِ قَالَ سُلَيْمَانُ فَأَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ قَالَ أَبُو حَازِمٍ دُعَاءُ الْمُحْسَنِ إِلَيْهِ لِلْمُحْسِنِ قَالَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ لِلسَّائِلِ الْبَائِسِ وَجُهْدُ الْمُقِلِّ لَيْسَ فِيهَا مَنٌّ وَلَا أَذًى قَالَ فَأَيُّ الْقَوْلِ أَعْدَلُ قَالَ قَوْلُ الْحَقِّ عِنْدَ مَنْ تَخَافُهُ أَوْ تَرْجُوهُ قَالَ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ قَالَ رَجُلٌ عَمِلَ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَدَلَّ النَّاسَ عَلَيْهَا قَالَ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَحْمَقُ قَالَ رَجُلٌ انْحَطَّ فِي هَوَى أَخِيهِ وَهُوَ ظَالِمٌ فَبَاعَ آخِرَتَهُ بِدُنْيَا غَيْرِهِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ أَصَبْتَ فَمَا تَقُولُ فِيمَا نَحْنُ فِيهِ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوَ تُعْفِينِي قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ لَا وَلَكِنْ نَصِيحَةٌ تُلْقِيهَا إِلَيَّ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ آبَاءَكَ قَهَرُوا النَّاسَ بِالسَّيْفِ وَأَخَذُوا هَذَا الْمُلْكَ عَنْوَةً عَلَى غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَلَا رِضَاهُمْ حَتَّى قَتَلُوا مِنْهُمْ مَقْتَلَةً عَظِيمَةً فَقَدْ ارْتَحَلُوا عَنْهَا فَلَوْ أُشْعِرْتَ مَا قَالُوا وَمَا قِيلَ لَهُمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا أَبَا حَازِمٍ قَالَ أَبُو حَازِمٍ كَذَبْتَ إِنَّ اللَّهَ أَخَذَ مِيثَاقَ الْعُلَمَاءِ لَيُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا يَكْتُمُونَهُ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ فَكَيْفَ لَنَا أَنْ نُصْلِحَ قَالَ تَدَعُونَ الصَّلَفَ وَتَمَسَّكُونَ بِالْمُرُوءَةِ وَتَقْسِمُونَ بِالسَّوِيَّةِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ كَيْفَ لَنَا بِالْمَأْخَذِ بِهِ قَالَ أَبُو حَاَزِمٍ تَأْخُذُهُ مِنْ حِلِّهِ وَتَضَعُهُ فِي أَهْلِهِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ هَلْ لَكَ يَا أَبَا حَازِمٍ أَنْ تَصْحَبَنَا فَتُصِيبَ مِنَّا وَنُصِيبَ مِنْكَ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ وَلِمَ ذَاكَ قَالَ أَخْشَى أَنْ أَرْكَنَ إِلَيْكُمْ شَيْئًا قَلِيلًا فَيُذِيقَنِي اللَّهُ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ ارْفَعْ إِلَيْنَا حَوَائِجَكَ قَالَ تُنْجِينِي مِنْ النَّارِ وَتُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ سُلَيْمَانُ لَيْسَ ذَاكَ إِلَيَّ قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَمَا لِي إِلَيْكَ حَاجَةٌ غَيْرُهَا قَالَ فَادْعُ لِي قَالَ أَبُو حَازِمٍ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ سُلَيْمَانُ وَلِيَّكَ فَيَسِّرْهُ لِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَإِنْ كَانَ عَدُوَّكَ فَخُذْ بِنَاصِيَتِهِ إِلَى مَا تُحِبُّ وَتَرْضَى قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ قَطُّ قَالَ أَبُو حَازِمٍ قَدْ أَوْجَزْتُ وَأَكْثَرْتُ إِنْ كُنْتَ مِنْ أَهْلِهِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ مِنْ أَهْلِهِ فَمَا يَنْفَعُنِي أَنْ أَرْمِيَ عَنْ قَوْسٍ لَيْسَ لَهَا وَتَرٌ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ أَوْصِنِي قَالَ سَأُوصِيكَ وَأُوجِزُ عَظِّمْ رَبَّكَ وَنَزِّهْهُ أَنْ يَرَاكَ حَيْثُ نَهَاكَ أَوْ يَفْقِدَكَ حَيْثُ أَمَرَكَ فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ بَعَثَ إِلَيْهِ بِمِائَةِ دِينَارٍ وَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَنْفِقْهَا وَلَكَ عِنْدِي مِثْلُهَا كَثِيرٌ قَالَ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ وَكَتَبَ إِلَيْهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ أَنْ يَكُونَ سُؤَالُكَ إِيَّايَ هَزْلًا أَوْ رَدِّي عَلَيْكَ بَذْلًا وَمَا أَرْضَاهَا لَكَ فَكَيْفَ أَرْضَاهَا لِنَفْسِي وَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ لَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهَا رِعَاءً يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِنْ دُونِهِمْ جَارِيَتَيْنِ تَذُودَانِ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّى يُصْدِرَ الرِّعَاءُ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ فَسَقَى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّى إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ جَائِعًا خَائِفًا لَا يَأْمَنُ فَسَأَلَ رَبَّهُ وَلَمْ يَسْأَلْ النَّاسَ فَلَمْ يَفْطِنْ الرِّعَاءُ وَفَطِنَتْ الْجَارِيتَانِ فَلَمَّا رَجَعَتَا إِلَى أَبِيهِمَا أَخْبَرَتَاهُ بِالْقِصَّةِ وَبِقَوْلِهِ فَقَالَ أَبُوهُمَا وَهُوَ شُعَيْبٌ هَذَا رَجُلٌ جَائِعٌ فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا اذْهَبِي فَادْعِيهِ فَلَمَّا أَتَتْهُ عَظَّمَتْهُ وَغَطَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا فَشَقَّ عَلَى مُوسَى حِينَ ذَكَرَتْ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا وَلَمْ يَجِدْ بُدًّا مِنْ أَنْ يَتْبَعَهَا إِنَّهُ كَانَ بَيْنَ الْجِبَالِ جَائِعًا مُسْتَوْحِشًا فَلَمَّا تَبِعَهَا هَبَّتْ الرِّيحُ فَجَعَلَتْ تَصْفِقُ ثِيَابَهَا عَلَى ظَهْرِهَا فَتَصِفُ لَهُ عَجِيزَتَهَا وَكَانَتْ ذَاتَ عَجُزٍ وَجَعَلَ مُوسَى يُعْرِضُ مَرَّةً وَيَغُضُّ أُخْرَى فَلَمَّا عِيلَ صَبْرُهُ نَادَاهَا يَا أَمَةَ اللَّهِ كُونِي خَلْفِي وَأَرِينِي السَّمْتَ بِقَوْلِكِ ذَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى شُعَيْبٍ إِذَا هُوَ بِالْعَشَاءِ مُهَيَّأً فَقَالَ لَهُ شُعَيْبٌ اجْلِسْ يَا شَابُّ فَتَعَشَّ فَقَالَ لَهُ مُوسَى أَعُوذُ بِاللَّهِ فَقَالَ لَهُ شُعَيْبٌ لِمَ أَمَا أَنْتَ جَائِعٌ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا عِوَضًا لِمَا سَقَيْتُ لَهُمَا وَإِنَّا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ لَا نَبِيعُ شَيْئًا مِنْ دِينِنَا بِمِلْءِ الْأَرْضِ ذَهَبًا فَقَالَ لَهُ شُعَيْبٌ لَا يَا شَابُّ وَلَكِنَّهَا عَادَتِي وَعَادَةُ آبَائِي نُقْرِي الضَّيْفَ وَنُطْعِمُ الطَّعَامَ فَجَلَسَ مُوسَى فَأَكَلَ فَإِنْ كَانَتْ هَذِهِ الْمِائَةُ دِينَارٍ عِوَضًا لِمَا حَدَّثْتُ فَالْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ فِي حَالِ الِاضْطِرَارِ أَحَلُّ مِنْ هَذِهِ وَإِنْ كَانَ لِحَقٍّ لِي فِي بَيْتِ الْمَالِ فَلِي فِيهَا نُظَرَاءُ فَإِنْ سَاوَيْتَ بَيْنَنَا وَإِلَّا فَلَيْسَ لِي فِيهَا حَاجَةٌ

ضحاک بن موسی بیان کرتے ہیں سلیمان بن عبدالملک کا گزر مدینہ سے ہوا وہ مکہ جانا چاہتے تھے اس نے کچھ دن مدینہ میں قیام کیا اور دریافت کیا کہ کیا مدینہ میں کوئی ایسے صاحب موجود ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا زمانہ پایا ہو لوگوں نے انہیں بتایا کہ ابوحازم ہیں سلیمان نے انہیں پیغام بھجوایا۔ جب وہ ان کے پاس آئے تو سلیمان نے ان سے کہا اے ابوحازم یہ زیادتی ہے ابوحازم نے دریافت کیا اے امیرالمومنین آپ نے میری طرف سے کون سی زیادتی دیکھی ہے سلیمان نے کہا میرے پاس مدینے کئے تمام سر کردہ لوگ آئے ہیں لیکن آپ میرے پاس تشریف نہیں لائے۔ ابوحازم نے جواب دیا اے امیرالمومنین میں اس بارے میں آپ کو اللہ کی پناہ میں دیتاہوں کہ آپ وہ بات کریں جو نہیں ہوئی آج کے دن سے پہلے آپ مجھ سے واقف نہیں تھے اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا تھا تو میں کیوں آپ کے پاس آتا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر سلیمان، محمد بن شہاب زہری کی طرف متوجہ ہوا اور بولا یہ بزرگ ٹھیک کہہ رہے ہیں مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ سلیمان نے کہا اے ابوحازم ہم موت کو ناپسند کیوں کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی آخرت خراب کی ہوئی ہے اور دنیا کو آباد کیا ہوا ہے اس لئے آپ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کسی بسی ہوئی چیز سے کسی تباہ حال کی طرف جائیں۔ سلیمان نے کہا اے ابوحازم آپ نے ٹھیک کہا ہے کل ہم اللہ کی بارگاہ میں کیسے حاضر ہوں گے؟ ابوحازم نے جواب دیا نیک آدمی تو یوں آئے گا جیسا کہ گھر سے غیر موجود شخص اپنے گھر واپس آتا تھا۔ اور گناہ گار یوں آئے گا جیسے کوئی مفرور غلام اپنے آقا کے پاس آتا ہے۔ سلیمان رو پڑا اور بولا ہائے افسوس۔ اللہ کی بارگاہ میں جانے کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ ابوحازم نے کہا آپ اپنے عمل اللہ کی کتاب پر پیش کریں۔ سلیمان نے دریافت کیا کیا میں کسی جگہ انہیں پا سکتا ہوں؟ ابوحازم نے کہا بے شک نیک لوگ جنت میں ہوں گے اور گناہ گار لوگ جہنم میں ہوں گے۔ سلیمان نے دریافت کیا اے ابوحازم اللہ کی رحمت کہاں ہوگی۔ ابوحازم نے جواب دیا اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے پاس ہوگی۔ سلیمان نے ان سے کہا اے ابوحازم اللہ کے بندوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جو مروت اور سمجھ کا مالک ہو۔ سلیمان نے ان سے کہا سب سے افضل عمل کون سا ہے ۔ ابوحازم نے جواب دیا حرام چیزوں سے اجتناب کرنے کے ہمراہ فرائض ادا کرنا۔ سلیمان نے پوچھا کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے۔ ابوحازم نے جواب دیا جس شخص کے ساتھ احسان کیا گیا وہ اپنے محسن کے لئے جو دعا کرتا ہے۔ سلیمان نے دریافت کیا کون سا صدقہ افضل ہے؟ ابوحازم نے جواب دیا جو مصیبت زدہ شخص کو دیا جائے اور جو کوئی غریب شخص دے جس میں احسان نہ جتایا جائے اور تکلیف نہ دی جائے۔ سلیمان نے پوچھا کون سی بات عدل کے زیادہ قریب ہے۔ ابوحازم نے جواب دیا جس بات سے تم خوف زدہ ہو یا جب تمہیں کوئی امید ہو اس وقت حق بیان کرنا۔ سلیمان نے پوچھا سب سے زیادہ عقل مند کون سا مومن ہے؟ ابوحازم نے جواب دیا جو شخص اللہ کی کتاب پر عمل کرے اور لوگوں کی اس طرف رہنمائی کرے۔ سلیمان نے پوچھا کون سا مومن سب سے زیادہ احمق ہے۔ ابوحازم نے جواب دیا جو شخص اپنے بھائی کی نفسانی خواہش میں شریک ہو کر ظلم کا ارتکاب کرے یوں وہ دوسرے شخص کی دنیا کے عوض میں اپنی آخرت کو فروخت کردے۔ سلیمان نے ان سے کہا آپ نے ٹھیک کہا ہے ہم جس حال میں ہیں اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہو۔ ابوحازم نے جواب دیا اے امیرالمومنین کیا آپ مجھ سے درگزر کریں گے۔ سلیمان نے ان سے کہا نہیں یہ ایک نصیحت ہوگی جو آپ کی طرف سے مجھ تک آئے گی۔ ابوحازم نے کہا اے امیرالمومنین آپ کے آباء و اجداد نے تلواروں کے ذریعے لوگوں کو مغلوب کیا ہے انہوں نے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر زبردستی حکومت پر قبضہ کرلیا۔ مسلمانوں کی اس میں کوئی رضامندی نہیں تھی انہوں نے بہت سے مسلمانوں کو قتل کیا ہے اور بہت سے لوگ ان کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں کاش آپ جان سکتے کہ انہوں نے کیا کہا اور ان سے کیا کہا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا اے ابوحازم آپ نے بہت غلط بات کہی ہے۔ ابوحازم نے کہا تم جھوٹ بول رہے ہو بے شک اللہ نے علماء سے یہ پختہ عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق کو واضح طور پر بیان کریں گے اور ان سے چھپائیں گے نہیں۔ سلیمان نے کہا ہم اب اس چیز کو کیسے ٹھیک کرسکتے ہیں؟ ابوحازم نے کہا آپ لوگ تکبر کو چھوڑ دیں اور مروت کو اختیار کریں اور برابری کی بنیاد پر تقسیم کریں۔ سلیمان نے ان سے کہا ٹیکس وصول کرنے کے بارے میں ہمارے لئے کتنی گنجائش ہے؟ ابوحازم نے جواب دیا آپ اسے مناسب طور پر وصول کرسکتے ہیں اور اس کے مستحق لوگوں پر خرچ کرسکتے ہیں۔ سلیمان نے ان سے دریافت کیا اے ابوحازم کیا یہ ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے ساتھ رہیں یوں ہمیں آپ سے فائدہ ہوگا اور ہم بھی آپ کو کچھ فائدہ پہنچا دیں گے۔ ابوحازم نے جواب دیا میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ سلیمان نے ان سے کہا ایسا کیوں کہہ رہے ہو۔ ابوحازم نے جواب دیا مجھے یہ ڈرہے کہ آپ کی طرف میں تھوڑا سا جھکوں گا جس کے نتیجے میں اللہ مجھے زندگی میں اور مرنے کے بعد دگنا عذاب دے گا۔ سلیمان نے ان سے کہا اپنی ضروریات ہمارے سامنے پیش کریں۔ ابوحازم نے جواب دیا آپ مجھے جہنم سے نجات دلوا کر جنت میں داخل کروا دیں۔ سلیمان نے کہا یہ تو میں نہیں کرسکتا۔ ابوحازم نے کہا پھر آپ سے مجھے کوئی کام نہیں۔ سلیمان نے کہا آپ میرے لئے دعا کریں۔ ابوحازم نے دعاکی اے اللہ اگر سلیمان تیرا دوست ہے تو اسے دنیا اور آخرت میں بھلائی کے ذریعے خوش کردے اور اگر یہ تیرا دوست نہیں تو اس کی پیشانی پکڑ کر اسے اس طرف لے جا جس سے تو راضی ہوجائے اور جو تجھے پسند ہو۔ سلیمان نے ان سے کہا بس اتناہی؟ ابوحازم بولے میں نے مختصر الفاظ میں وسیع مفہوم رکھنے والی دعا کردی اگر تم اس کے اہل ہوئے اور اگر تم اس کے اہل نہ ہوئے تو مجھے کیا فائدہ ہوگا اگر میں کمان کے ذریعے کوئی ایسا تیر پھینکوں جس پر پھل ہی نہ لگا ہو؟سلیمان نے ان سے کہا آپ مجھے کوئی وصیت کریں۔ ابوحازم بولے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اور مختصر الفاظ میں کروں گا تم اپنے پروردگار کو عظیم سمجھو اور اسے اس بات سے پاک رکھو کہ وہ تمہیں کسی ایسے معاملے میں دیکھے جس سے اس نے تمہیں منع کیا ہے یا کسی ایسی جگہ پر تمہیں غیرموجود پائے جس کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے۔ جب سلیمان ان کے ہاں سے اٹھ کر گیا تو ان کی خدمت میں سو دینار بھیجے اور ساتھ ہی یہ تحریر بھیجی آپ انہیں خرچ کیجیے میری طرف سے آپ کو ان جیسے اور بہت ملیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں ابوحازم نے وہ انہیں واپس کردیئے اور جوابی خط میں لکھا اے امیر المومنین میں آپ کو اس بات سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں کہ آپ نے مذاق کے طور پر مجھ سے کچھ مانگیں یا آپ تذلیل کے طور پر کوئی چیز واپس لیں جس چیز پر میں آپ کے لئے راضی نہیں ہوں اس سے اپنے لئے کیسے راضی ہوسکتا ہوں۔ ابوحازم نے سلیمان کو خط میں لکھا حضرت موسی جب مدین کے چشمے پر آئے تو وہاں انہوں نے کچھ لوگوں کو بکریوں کو پانی پلاتے ہوئے دیکھا دو لڑکیاں ان سے کچھ ہٹ کر کھڑی ہوئی تھیں حضرت موسی نے ان دونوں سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا ہم اس وقت تک پانی حاصل نہیں کرسکتے جب تک یہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا لیتے۔ کیونکہ ہمارے والد عمر رسیدہ آدمی ہیں حضرت موسی نے ان دونوں کو پانی لا کردیا اور پھر سائے میں آکر بیٹھ گئے اور بولے اے میرے رب تو میری طرف جو بھلائی نازل کرے گا میں اس کا محتاج ہوں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھوک کے عالم میں تھے اور خوف زدہ بھی۔ کیونکہ وہ امن کی حالت میں نہیں تھے لیکن انہوں نے اپنے پروردگار سے مانگا۔ انہوں نے لوگوں سے سوال نہیں کیا۔ بکریوں کے چرواہوں کو اس بات کا پتہ نہیں چل سکا لیکن وہ دونوں لڑکیاں یہ بات سمجھ گئیں جب وہ دونوں اپنے والد کے پاس واپس گئیں اور انہیں یہ ماجرا سنایا اور ان کی بات کے بارے میں بتایا تو ان کے والد نے جو حضرت شعیب تھے یہ کہا وہ شخص بھوکا ہوگا پھر انہوں نے ایک لڑکی سے کہا تم جاؤ اور اسے بلا کر لاؤ جب وہ لڑکی ان کے پاس آئی تو انہیں تعظیم پیش کی اور اپنا چہرہ چھپا لیا۔ اور یہ بولی کہ میرے والد نے آپ کو بلایا ہے تاکہ آپ نے ہمیں جو پانی لا کردیا ہے اس کا بدلہ آپ کو دیں۔ جب اس لڑکی نے یہ بات کہ جو آپ نے پانی پلایا ہے اس کا بدلہ آپ کو دیں تو حضرت موسی کو اس سے بہت تکلیف ہوئی لیکن اس وقت ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ اس لڑکی کے پیچھے چلے جائیں کیونکہ وہ اس وقت پہاڑی سلسلے کے درمیان تھے بھوکے تھے وحشت کا شکار تھے اس لئے وہ اس کے پیچھے چل پڑے جب وہ اس کے پیچھے چلے تو ہوا چل پڑی جس کے نتیجے میں اس کی پشت کی جانب سے کپڑے ہلنے لگے جس کی وجہ سے بے پردگی کے آثار پیداہوئے وہ صحت مند جسم کی مالک لڑکی تھی حضرت موسی کبھی نگاہ دوسری طرف پھیر لیتے تھے اور کبھی نگاہ جھکا دیتے تھے جب ان سے برداشت نہیں ہوا تو اس نے بلند آواز سے کہا اے لڑکی اللہ کی کنیز تم میرے پیچھے آجاؤ اور مجھے زبانی طور پر راستے کے بارے میں بتاؤ۔ جب حضرت موسی حضرت شعیب کے پاس حاضر ہوئے تو اس وقت رات کا کھانا تیار تھا حضرت شعیب نے ان سے کہا اے نوجوان بیٹھ جاؤ اور کھانا کھاؤ حضرت موسی نے ان سے کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں حضرت شعیب نے ان سے کہا وہ کیوں کیا تم بھوکے نہیں ہو۔ حضرت موسی نے جواب دیا جی ہاں۔ لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ اس چیز کا معاوضہ ہے جو میں نے ان دولڑکیوں کو پانی لا کردیا تھا۔ میں اسے گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں جس کے لوگ تمام روئے زمین کے برابر سونے کے عوض میں بھی اپنی نیکی فروخت نہیں کرتے۔ حضرت شعیب نے ان سے کہا نہیں اے نوجوان لیکن میری اور میرے آباء و اجداد کی یہ عادت ہے کہ ہم مہمان نوازی کرتے ہیں۔ لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں تو حضرت موسی بیٹھ گئے اور انہوں نے کھانا کھا لیا۔ ابوحازم نے سلیمان کو لکھا کہ آپ نے جو سو دینار بھیجے ہیں اگر تو یہ اس چیز کا معاوضہ ہے جو میں نے آپ سے باتیں کی تھیں تو مردار، خون اور گوشت سور کا، اضطرار کی حالت میں اس سے زیادہ حلال ہے اور اگر یہ بیت المال کے حق کی وجہ سے ہے تو اس کے بہت سے مستحق ہیں اگر تو آپ ہم سب میں برابر تقسیم کرتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

أَبُو حَازِمٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَيُّ جَفَاءٍ رَأَيْتَ مِنِّي ← لَهُ يَا أَبَا حَازِمٍ مَا هَذَا الْجَفَاءُ ← لَهُ أَبُو حَازِمٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ ← هَلْ بِالْمَدِينَةِ أَحَدٌ أَدْرَكَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← مَرَّ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُرِيدُ مَكَّةَ فَأَقَامَ بِهَا أَيَّامًا ← الضَّحَّاكُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْكُمَيْتِ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 668

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 669

أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيِّ أَخْبَرَنَا زَيْدٌ الْعَمِّيُّ عَنْ بَعْضِ الْفُقَهَاءِ أَنَّهُ قَالَ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ اعْمَلْ بِعِلْمِكَ وَأَعْطِ فَضْلَ مَالِكَ وَاحْبِسْ الْفَضْلَ مِنْ قَوْلِكَ إِلَّا بِشَيْءٍ مِنْ الْحَدِيثِ يَنْفَعُكَ عِنْدَ رَبِّكَ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ إِنَّ الَّذِي عَلِمْتَ ثُمَّ لَمْ تَعْمَلْ بِهِ قَاطِعٌ حُجَّتَكَ وَمَعْذِرَتَكَ عِنْدِ رَبِّكَ إِذَا لَقِيتَهُ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ إِنَّ الَّذِي أُمِرْتَ بِهِ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ لَيَشْغَلُكَ عَمَّا نُهِيتَ عَنْهُ مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ لَا تَكُونَنَّ قَوِيًّا فِي عَمَلِ غَيْرِكَ ضَعِيفًا فِي عَمَلِ نَفْسِكَ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ لَا يَشْغَلَنَّكَ الَّذِي لِغَيْرِكَ عَنْ الَّذِي لَكَ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ جَالِسْ الْعُلَمَاءَ وَزَاحِمْهُمْ وَاسْتَمِعْ مِنْهُمْ وَدَعْ مُنَازَعَتَهُمْ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ عَظِّمْ الْعُلَمَاءَ لِعِلْمِهِمْ وَصَغِّرْ الْجُهَّالَ لِجَهْلِهِمْ وَلَا تُبَاعِدْهُمْ وَقَرِّبْهُمْ وَعَلِّمْهُمْ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ لَا تُحَدِّثْ بِحَدِيثٍ فِي مَجْلِسٍ حَتَّى تَفْهَمَهُ وَلَا تُجِبْ امْرَأً فِي قَوْلِهِ حَتَّى تَعْلَمَ مَا قَالَ لَكَ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ لَا تَغْتَرَّ بِاللَّهِ وَلَا تَغْتَرَّ بِالنَّاسِ فَإِنَّ الْغِرَّةَ بِاللَّهِ تَرْكُ أَمْرِهِ وَالْغِرَّةَ بِالنَّاسِ اتِّبَاعُ أَهْوَائِهِمْ وَاحْذَرْ مِنْ اللَّهِ مَا حَذَّرَكَ مِنْ نَفْسِهِ وَاحْذَرْ مِنْ النَّاسِ فِتْنَتَهُمْ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ إِنَّهُ لَا يَكْمُلُ ضَوْءُ النَّهَارِ إِلَّا بِالشَّمْسِ كَذَلِكَ لَا تَكْمُلُ الْحِكْمَةُ إِلَّا بِطَاعَةِ اللَّهِ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ الزَّرْعُ إِلَّا بِالْمَاءِ وَالتُّرَابِ كَذَلِكَ لَا يَصْلُحُ الْإِيمَانُ إِلَّا بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ كُلُّ مُسَافِرٍ مُتَزَوِّدٌ وَسَيَجِدُ إِذَا احْتَاجَ إِلَى زَادِهِ مَا تَزَوَّدَ وَكَذَلِكَ سَيَجِدُ كُلُّ عَامِلٍ إِذَا احْتَاجَ إِلَى عَمَلِهِ فِي الْآخِرَةِ مَا عَمِلَ فِي الدُّنْيَا يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَحُضَّكَ عَلَى عِبَادَتِهِ فَاعْلَمْ أَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يُبَيِّنَ لَكَ كَرَامَتَكَ عَلَيْهِ فَلَا تَحَوَّلَنَّ إِلَى غَيْرِهِ فَتَرْجِعَ مِنْ كَرَامَتِهِ إِلَى هَوَانِهِ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِنْ تَنْقُلْ الْحِجَارَةَ وَالْحَدِيدَ أَهْوَنُ عَلَيْكَ مِنْ أَنْ تُحَدِّثَ مَنْ لَا يَعْقِلُ حَدِيثَكَ وَمَثَلُ الَّذِي يُحَدِّثُ مَنْ لَا يَعْقِلُ حَدِيثَهُ كَمَثَلِ الَّذِي يُنَادِي الْمَيِّتَ وَيَضَعُ الْمَائِدَةَ لِأَهْلِ الْقُبُورِ

زید بیان کرتے ہین ایک عالم نے یہ بات بیان کی ۔ اے صاحب علم اپنے علم پر عمل کرو اور اپنا اضافی مال مستحق لوگوں کو دے دو اور فضول گفتگو نہ کرو۔ صرف وہی بات کرو جو تمہارے پروردگار کی بارگاہ میں تمہیں فائدہ پہنچائے۔ اے صاحب علم جس چیز کا تم نے علم حاصل کیا ہے پھر اس پر عمل نہیں کیا جب تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوگے تو وہ چیز تمہاری حجت کو توڑ دے گی اور تمہاری معذرت کو ختم کردے گی۔ اے صاحب علم۔ تمہیں اللہ کی جب عبادت کا حکم دیا گیا ہے وہ تمہیں اس کی اس نافرمانی سے روکے گی جس سے تمہیں منع کیا گیا ہے اے صاحب علم تم دوسروں کی طرف سے عمل کرنے میں طاقت ور ہو اور اپنی ذات کے طرف سے عمل کرنے میں کمزور نہ ہوجانا۔ اے صاحب علم تم علماء کی تعظیم کرو ان کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ ان کی باتیں غور سے سنو اور ان سے بحث نہ کرو۔ اے صاحب علم! علماء کو ان کے علم کی وجہ سے عظیم سمجھو اور جہلاء کو ان کی جہالت کی وجہ سے کم سمجھو لیکن ان سے دوری اختیار نہ کرو۔ بلکہ ان کے قریب رہو اور ان کو تعلیم دو۔ اے صاحب علم کسی محفل میں اس وقت تک کوئی بات نہ کرو جب تک تمہیں اس بات کی سمجھ نہ آجائے اور کسی بھی شخص کی بات کا اس وقت تک جواب نہ دوجب تک یہ جان نہ لو کہ اس نے تم سے کیا کہا۔ اے صاحب علم۔ اللہ کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہ ہونا اور لوگوں کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہ ہونا۔ اللہ کے بارے میں غلط فہمی یہ ہے کہ اس کے حکم کو چھوڑ دیا جائے اور لوگوں کے بارے میں یہ غلط فہمی ہے کہ ان کی نفسانی خواہشات کی پیروی کی جائے اور اللہ کے بارے میں ہر اس چیز سے بچو جس کے بارے میں بچنے کی اس نے تلقین کی ہے اور لوگوں کے حوالے سے فتنے سے بچو۔ اے صاحب علم ہر مسافر کے پاس زاد راہ موجود ہوتا ہے کیونکہ بہت جلد اسے اس سامان کی ضرورت پیش آجاتی ہے اسی طرح ہر عمل کرنے والا شخص آخرت میں اپنے عمل کی ضرورت محسوس کرے گا جو عمل اس نے دنیا میں کیا ہوگا۔ اے صاحب علم جب اللہ اس بات کا ارادہ کرے کہ وہ اپنی عبادت کی تمہیں ترغیب دے تو یہ بات جان لو کہ اس نے اس بات کا ارادہ کیا ہے کہ اپنی بارگاہ میں تمہاری بزرگی کو تمہارے سامنے ظاہر کردے۔ اس لئے تم اس کے علاوہ کسی اور کی طرف نہ جانا ورنہ بزرگی بے عزتی میں تبدیل ہوجائے گی۔ اے اہل علم تمہارا پتھر اور لوہا منتقل کرنا تمہارے نزدیک اس بات سے زیادہ آسان ہونا چاہیے کہ تم کوئی ایسی بات بیان کرو جس کی تمہیں خود بھی سمجھ نہ ہو۔ جو شخص کوئی ایسی بات بیان کرتا ہے جس کی اسے خود سمجھ نہ ہو۔ اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو مردے کو مخاطب کرتا ہے اور قبرستان والوں کے سامنے دسترخوان رکھ دیتا ہے۔

بَعْضِ الْفُقَهَاءِ، ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِیُّ ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 669

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 670

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْخَوَّاصِ الشَّامِيِّ أَبِي عُتْبَةَ قَالَ أَمَّا بَعْدُ اعْقِلُوا وَالْعَقْلُ نِعْمَةٌ فَرُبَّ ذِي عَقْلٍ قَدْ شُغِلَ قَلْبُهُ بِالتَّعَمُّقِ عَمَّا هُوَ عَلَيْهِ ضَرَرٌ عَنْ الِانْتِفَاعِ بِمَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ حَتَّى صَارَ عَنْ ذَلِكَ سَاهِيًا وَمِنْ فَضْلِ عَقْلِ الْمَرْءِ تَرْكُ النَّظَرِ فِيمَا لَا نَظَرَ فِيهِ حَتَّى لَا يَكُونَ فَضْلُ عَقْلِهِ وَبَالًا عَلَيْهِ فِي تَرْكِ مُنَافَسَةِ مَنْ هُوَ دُونَهُ فِي الْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ أَوْ رَجُلٍ شُغِلَ قَلْبُهُ بِبِدْعَةٍ قَلَّدَ فِيهَا دِينَهُ رِجَالًا دُونَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ اكْتَفَى بِرَأْيِهِ فِيمَا لَا يَرَى الْهُدَى إِلَّا فِيهَا وَلَا يَرَى الضَّلَالَةَ إِلَّا بِتَرْكِهَا يَزْعُمُ أَنَّهُ أَخَذَهَا مِنْ الْقُرْآنِ وَهُوَ يَدْعُو إِلَى فِرَاقِ الْقُرْآنِ أَفَمَا كَانَ لِلْقُرْآنِ حَمَلَةٌ قَبْلَهُ وَقَبْلَ أَصْحَابِهِ يَعْمَلُونَ بِمُحْكَمِهِ وَيُؤْمِنُونَ بِمُتَشَابِهِهِ وَكَانُوا مِنْهُ عَلَى مَنَارٍ كَوَضَحِ الطَّرِيقِ فَكَانَ الْقُرْآنُ إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِمَامًا لِأَصْحَابِهِ وَكَانَ أَصْحَابُهُ أَئِمَّةً لِمَنْ بَعْدَهُمْ رِجَالٌ مَعْرُوفُونَ مَنْسُوبُونَ فِي الْبُلْدَانِ مُتَّفِقُونَ فِي الرَّدِّ عَلَى أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ مَعَ مَا كَانَ بَيْنَهُمْ مِنْ الِاخْتِلَافِ وَتَسَكَّعَ أَصْحَابُ الْأَهْوَاءِ بِرَأْيِهِمْ فِي سُبُلٍ مُخْتَلِفَةٍ جَائِرَةٍ عَنْ الْقَصْدِ مُفَارِقَةٍ لِلصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ فَتَوَّهَتْ بِهِمْ أَدِلَّاؤُهُمْ فِي مَهَامِهَ مُضِلَّةٍ فَأَمْعَنُوا فِيهَا مُتَعَسِّفِينَ فِي تِيهِهِمْ كُلَّمَا أَحْدَثَ لَهُمْ الشَّيْطَانُ بِدْعَةً فِي ضَلَالَتِهِمْ انْتَقَلُوا مِنْهَا إِلَى غَيْرِهَا لِأَنَّهُمْ لَمْ يَطْلُبُوا أَثَرَ السَّالِفِينَ وَلَمْ يَقْتَدُوا بِالْمُهَاجِرِينَ وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ لِزِيَادٍ هَلْ تَدْرِي مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ زَلَّةُ عَالِمٍ وَجِدَالُ مُنَافِقٍ بِالْقُرْآنِ وَأَئِمَّةٌ مُضِلُّونَ اتَّقُوا اللَّهَ وَمَا حَدَثَ فِي قُرَّائِكُمْ وَأَهْلِ مَسَاجِدِكُمْ مِنْ الْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ وَالْمَشْيِ بَيْنَ النَّاسِ بِوَجْهَيْنِ وَلِسَانَيْنِ وَقَدْ ذُكِرَ أَنَّ مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي النَّارِ يَلْقَاكَ صَاحِبُ الْغِيبَةِ فَيَغْتَابُ عِنْدَكَ مَنْ يَرَى أَنَّكَ تُحِبُّ غِيبَتَهُ وَيُخَالِفُكَ إِلَى صَاحِبِكَ فَيَأْتِيهِ عَنْكَ بِمِثْلِهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ أَصَابَ عِنْدَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا حَاجَتَهُ وَخَفِيَ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا مَا أُتِيَ بِهِ عِنْدَ صَاحِبِهِ حُضُورُهُ عِنْدَ مَنْ حَضَرَهُ حُضُورُ الْإِخْوَانِ وَغَيْبَتُهُ عَلَى مَنْ غَابَ عَنْهُ غَيْبَةُ الْأَعْدَاءِ مَنْ حَضَرَ مِنْهُمْ كَانَتْ لَهُ الْأَثَرَةُ وَمَنْ غَابَ مِنْهُمْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حُرْمَةٌ يَفْتِنُ مَنْ حَضَرَهُ بِالتَّزْكِيَةِ وَيَغْتَابُ مَنْ غَابَ عَنْهُ بِالْغِيبَةِ فَيَا لَعِبَادَ اللَّهِ أَمَا فِي الْقَوْمِ مِنْ رَشِيدٍ وَلَا مُصْلِحٍ يَقْمَعُ هَذَا عَنْ مَكِيدَتِهِ وَيَرُدُّهُ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بَلْ عَرَفَ هَوَاهُمْ فِيمَا مَشَى بِهِ إِلَيْهِمْ فَاسْتَمْكَنَ مِنْهُمْ وَأَمْكَنُوهُ مِنْ حَاجَتِهِ فَأَكَلَ بِدِينِهِ مَعَ أَدْيَانِهِمْ فَاللَّهَ اللَّهَ ذُبُّوا عَنْ حُرَمِ أَغْيَابِكُمْ وَكُفُّوا أَلْسِنَتَكُمْ عَنْهُمْ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ وَنَاصِحُوا اللَّهَ فِي أُمَّتِكُمْ إِذْ كُنْتُمْ حَمَلَةَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ فَإِنَّ الْكِتَابَ لَا يَنْطِقُ حَتَّى يُنْطَقَ بِهِ وَإِنَّ السُّنَّةَ لَا تَعْمَلُ حَتَّى يُعْمَلَ بِهَا فَمَتَى يَتَعَلَّمُ الْجَاهِلُ إِذَا سَكَتَ الْعَالِمُ فَلَمْ يُنْكِرْ مَا ظَهَرَ وَلَمْ يَأْمُرْ بِمَا تُرِكَ وَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ اتَّقُوا اللَّهَ فَإِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ رَقَّ فِيهِ الْوَرَعُ وَقَلَّ فِيهِ الْخُشُوعُ وَحَمَلَ الْعِلْمَ مُفْسِدُوهُ فَأَحَبُّوا أَنْ يُعْرَفُوا بِحَمْلِهِ وَكَرِهُوا أَنْ يُعْرَفُوا بِإِضَاعَتِهِ فَنَطَقُوا فِيهِ بِالْهَوَى لَمَّا أَدْخَلُوا فِيهِ مِنْ الْخَطَإِ وَحَرَّفُوا الْكَلِمَ عَمَّا تَرَكُوا مِنْ الْحَقِّ إِلَى مَا عَمِلُوا بِهِ مِنْ بَاطِلٍ فَذُنُوبُهُمْ ذُنُوبٌ لَا يُسْتَغْفَرُ مِنْهَا وَتَقْصِيرُهُمْ تَقْصِيرٌ لَا يُعْتَرَفُ بِهِ كَيْفَ يَهْتَدِي الْمُسْتَدِلُّ الْمُسْتَرْشِدُ إِذَا كَانَ الدَّلِيلُ حَائِرًا أَحَبُّوا الدُّنْيَا وَكَرِهُوا مَنْزِلَةَ أَهْلِهَا فَشَارَكُوهُمْ فِي الْعَيْشِ وَزَايَلُوهُمْ بِالْقَوْلِ وَدَافَعُوا بِالْقَوْلِ عَنْ أَنْفُسِهِمْ أَنْ يُنْسَبُوا إِلَى عَمَلِهِمْ فَلَمْ يَتَبَرَّءُوا مِمَّا انْتَفَوْا مِنْهُ وَلَمْ يَدْخُلُوا فِيمَا نَسَبُوا إِلَيْهِ أَنْفُسَهُمْ لِأَنَّ الْعَامِلَ بِالْحَقِّ مُتَكَلِّمٌ وَإِنْ سَكَتَ وَقَدْ ذُكِرَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ إِنِّي لَسْتُ كُلَّ كَلَامِ الْحَكِيمِ أَتَقَبَّلُ وَلَكِنِّي أَنْظُرُ إِلَى هَمِّهِ وَهَوَاهُ فَإِنْ كَانَ هَمُّهُ وَهَوَاهُ لِي جَعَلْتُ صَمْتَهُ حَمْدًا وَوَقَارًا لِي وَإِنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا لَمْ يَعْمَلُوا بِهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا كُتُبًا وَقَالَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ قَالَ الْعَمَلُ بِمَا فِيهِ وَلَا تَكْتَفُوا مِنْ السُّنَّةِ بِانْتِحَالِهَا بِالْقَوْلِ دُونَ الْعَمَلِ بِهَا فَإِنَّ انْتِحَالَ السُّنَّةِ دُونَ الْعَمَلِ بِهَا كَذِبٌ بِالْقَوْلِ مَعَ إِضَاعَةِ الْعَمَلِ وَلَا تَعِيبُوا بِالْبِدَعِ تَزَيُّنًا بِعَيْبِهَا فَإِنَّ فَسَادَ أَهْلِ الْبِدَعِ لَيْسَ بِزَائِدٍ فِي صَلَاحِكُمْ وَلَا تَعِيبُوهَا بَغْيًا عَلَى أَهْلِهَا فَإِنَّ الْبَغْيَ مِنْ فَسَادِ أَنْفُسِكُمْ وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِلطَّبِيبِ أَنْ يُدَاوِيَ الْمَرْضَى بِمَا يُبَرِّئُهُمْ وَيُمْرِضُهُ فَإِنَّهُ إِذَا مَرِضَ اشْتَغَلَ بِمَرَضِهِ عَنْ مُدَاوَاتِهِمْ وَلَكِنْ يَنْبَغِي أَنْ يَلْتَمِسَ لِنَفْسِهِ الصِّحَّةَ لِيَقْوَى بِهِ عَلَى عِلَاجِ الْمَرْضَى فَلْيَكُنْ أَمْرُكُمْ فِيمَا تُنْكِرُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ نَظَرًا مِنْكُمْ لِأَنْفُسِكُمْ وَنَصِيحَةً مِنْكُمْ لِرَبِّكُمْ وَشَفَقَةً مِنْكُمْ عَلَى إِخْوَانِكُمْ وَأَنْ تَكُونُوا مَعَ ذَلِكَ بِعُيُوبِ أَنْفُسِكُمْ أَعْنَى مِنْكُمْ بِعُيُوبِ غَيْرِكُمْ وَأَنْ يَسْتَطْعِمَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا النَّصِيحَةَ وَأَنْ يَحْظَى عِنْدَكُمْ مَنْ بَذَلَهَا لَكُمْ وَقَبِلَهَا مِنْكُمْ وَقَدْ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَحِمَ اللَّهُ مَنْ أَهْدَى إِلَيَّ عُيُوبِي تُحِبُّونَ أَنْ تَقُولُوا فَيُحْتَمَلَ لَكُمْ وَإِنْ قِيلَ لَكُمْ مِثْلُ الَّذِي قُلْتُمْ غَضِبْتُمْ تَجِدُونَ عَلَى النَّاسِ فِيمَا تُنْكِرُونَ مِنْ أُمُورِهِمْ وَتَأْتُونَ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يُوجَدَ عَلَيْكُمْ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ وَرَأْيَ أَهْلِ زَمَانِكُمْ وَتَثَبَّتُوا قَبْلَ أَنْ تَكَلَّمُوا وَتَعَلَّمُوا قَبْلَ أَنْ تَعْمَلُوا فَإِنَّهُ يَأْتِي زَمَانٌ يَشْتَبِهُ فِيهِ الْحَقُّ وَالْبَاطِلُ وَيَكُونُ الْمَعْرُوفُ فِيهِ مُنْكَرًا وَالْمُنْكَرُ فِيهِ مَعْرُوفًا فَكَمْ مِنْ مُتَقَرِّبٍ إِلَى اللَّهِ بِمَا يُبَاعِدُهُ وَمُتَحَبِّبٍ إِلَيْهِ بِمَا يُغْضِبُهُ عَلَيْهِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا الْآيَةَ فَعَلَيْكُمْ بِالْوُقُوفِ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ حَتَّى يَبْرُزَ لَكُمْ وَاضِحُ الْحَقِّ بِالْبَيِّنَةِ فَإِنَّ الدَّاخِلَ فِيمَا لَا يَعْلَمُ بِغَيْرِ عِلْمٍ آثِمٌ وَمَنْ نَظَرَ لِلَّهِ نَظَرَ اللَّهُ لَهُ عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ فَأْتَمُّوا بِهِ وَأُمُّوا بِهِ وَعَلَيْكُمْ بِطَلَبِ أَثَرِ الْمَاضِينَ فِيهِ وَلَوْ أَنَّ الْأَحْبَارَ وَالرُّهْبَانَ لَمْ يَتَّقُوا زَوَالَ مَرَاتِبِهِمْ وَفَسَادَ مَنْزِلَتِهِمْ بِإِقَامَةِ الْكِتَابِ وَتِبْيَانِهِ مَا حَرَّفُوهُ وَلَا كَتَمُوهُ وَلَكِنَّهُمْ لَمَّا خَالَفُوا الْكِتَابَ بِأَعْمَالِهِمْ الْتَمَسُوا أَنْ يَخْدَعُوا قَوْمَهُمْ عَمَّا صَنَعُوا مَخَافَةَ أَنْ تَفْسُدَ مَنَازِلُهُمْ وَأَنْ يَتَبَيَّنَ لِلنَّاسِ فَسَادُهُمْ فَحَرَّفُوا الْكِتَابَ بِالتَّفْسِيرِ وَمَا لَمْ يَسْتَطِيعُوا تَحْرِيفَهُ كَتَمُوهُ فَسَكَتُوا عَنْ صَنِيعِ أَنْفُسِهِمْ إِبْقَاءً عَلَى مَنَازِلِهِمْ وَسَكَتُوا عَمَّا صَنَعَ قَوْمُهُمْ مُصَانَعَةً لَهُمْ وَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ بَلْ مَالَئُوا عَلَيْهِ وَرَقَّقُوا لَهُمْ فِيهِ

ابو عتبہ عباد بن عباد خواص شامی تحریر کرتے ہیں امابعد۔ یہ بات جان لو کہ عقل بڑی نعمت ہے کچھ عقل مند ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان چیزوں میں غور کرتے ہیں جو ان کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کا ذہن غافل ہوجاتا ہے اور جس چیز کی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ اس سے نفع حاصل نہیں کرسکتے یہاں تک کہ وہ اس چیز سے غافل ہوجاتے ہیں آدمی کی عقل کی فضیلت یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ اس کے بارے میں غور و فکر نہ کرے تاکہ اس کی عقل کی فضیلت اس کے لئے وبال کا باعث نہ بن جائے۔ کہ اس نے ان لوگوں پر گرفت نہیں کی جو اعمال میں ان سے کم تھے یا وہ شخص جس کا دل بدعت میں مبتلا ہوجائے اور وہ اپنے گلے میں اس دین کا ہار پہنا لے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا نہیں تھایا وہ اپنی رائے پراکتفا کرتے ہوئے یہی سمجھے کہ صرف وہی ہدایت ہے اور اس کے اپنے نظریے کو ترک کرنا ہی گمراہی ہے وہ یہ سمجھے کہ اس نے یہ نظریہ قرآن سے حاصل کیا ہے حالانکہ وہ قرآن سے الگ کرنے والا ہوگیا اس شخص سے اور اس کے ساتھیوں سے پہلے قرآن کے ماہر نہیں تھے۔ جو قرآن کے محکم پر عمل کرتے تھے اور اس کے متشابہ پر ایمان رکھتے تھے اور وہ لوگ اس واضح طریقے پر گامزن تھے قرآن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے پیشوا تھے اور ان کے ساتھی بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے پیشوا تھے جن سے ہر شخص واقف تھا اور وہ ہر شہر میں موجود تھے۔ یہ لوگ آپس میں فقہی مسائل میں اختلاف رکھتے تھے لیکن بدمذہب لوگوں کی تردید کے بارے میں ان کے درمیان اتفاق پایا جاتا تھا ان بدمذہب لوگوں کو ان کی رائے نے مختلف راستوں پر ڈال دیا ہے جو میانہ روی سے دوور ہے اور صراط مستقیم سے الگ ہے ان کے پیشواؤں نے ان لوگوں کو گمراہی کے میدان میں تھکا دیا ہے یہ لوگ انہیں میدانوں میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں جب بھی ان کی گمراہی کے لئے شیطان کوئی نئی بدعت ایجاد کرتا ہے یہ ایک سے دوسری طرف منتقل ہوجاتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ سابقہ زمانے کے لوگوں کے نشانات کی تلاش نہیں کرتے اور ہجرت کرنے والے صحابہ کی پیروی نہیں کرتے۔ حضرت عمر کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے زیاد سے یہ کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز اسلام کو منہدم کردیتی ہے عالم شخص کی پھسلن، منافق شخص کا قرآن کے بارے میں بحث کرنا اور گمراہ کرنے والے پیشوا، لہذا اللہ سے ڈرو، اس چیز کے بارے میں جو تمہارے علماء اور تمہارے مساجد والوں کے درمیان غیبت اور چغل خوری اور لوگوں کے ساتھ دوغلے چہرے اور دوغلی زبانوں کے ساتھ ملنا آچکا ہے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جو شخص دنیا میں دوغلے چہرے کا مالک ہوگا وہ جہنم میں دوغلے چہرے کا مالک ہوگا۔ غیبت کرنے والا شخص تم سے ملاقات کرتا ہے اور تمہارے سامنے اس شخص کی غیبت کرتا ہے جس کی غیبت کو تم پسند کرتے ہو پھر وہ تمہارے مخالف کے پاس آجاتا ہے اور اس کے سامنے تمہارے بارے میں وہی حرکت کرتا ہے جو تمہارے ساتھ کی تھی اس طرح وہ دونوں میں سے ہر ایک کے پاس سے اپنا مقصد حاصل کرلیتا ہے اور دونوں میں سے ہر ایک سے وہ بات پوشیدہ رکھتا ہے جو اس نے دوسرے فریق کے سامنے پیش کی تھی وہ جس شخص کے پاس موجود ہوتا ہے اس کے پاس بھائیوں کی طرح موجود ہوتا ہے اور جس شخص کے پاس موجود نہیں ہوتا اس کے بارے میں دشمنوں کا سا رویہ رکھتا ہے، جس کے پاس اس کے زیر اثر ہوتا ہے اور جس شخص کے پاس موجود نہیں ہوتا اس کا اس کے نزدیک کوئی احترام نہیں ہوتا۔ وہ جس شخص کے پاس موجود ہوتا ہے اسے تزکیہ کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے اور جس شخص کے پاس موجود نہیں ہوتا اسے غیبت کے حوالے سے برا بنا دیتا ہے۔ اور اے اللہ کے بندو کیا تمہارے اندر کوئی بھی سمجھدار نہیں ہے اور کوئی بھی ایسا اصلاح پسند نہیں ہے جو ان لوگوں کے فریب کا قلع قمع کردے اور اپنے مسلمان بھائی کی عزت کو واپس لوٹا دے بلکہ ان لوگوں کی خواہش کو سمجھ کر وہ لوگ جس طرف لے کے جا رہے ہیں انہیں وہیں رہنے دے اور ان سے ان کی ضرورت پوری کرلے یوں وہ اپنے دین کے ہمراہ ان کے دین کو بھی محفوظ کرلے گا۔ اے اللہ کے بندو! کیا تمہارے درمیان کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو سمجھ دار ہو اور ان لوگوں کی اصلاح کرے اور ان کے فریب کو ختم کرے اور اسے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کی خلاف ورزی کرنے سے باز رکھے بلکہ وہ یہ جان لے کہ ان کی خواہش کیا ہے اس چیز کے بارے میں جسے وہ ساتھ لے کر ان کی طرف گیا ہے پھر اس نے ان لوگوں سے اپنی ضرورت نکالی تو انہوں نے اس کی ضرورت پوری کردی یوں اس شخص نے ان لوگوں کے دین کے ہمراہ اپنے دین کو بھی خراب کرلیا ہے۔ اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو۔ اپنے غیر موجود لوگوں کے احترام کے حوالے سے بچو اور ان کے بارے میں اپنی زبان سے صرف اچھی بات استعمال کرو اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں اللہ کی خیرخواہی اختیار کرو اگر تم کتاب وسنت کے عالم ہو بے شک کتاب خود بات نہیں کرتی جب تک اس کی بات بیان نہ کی جائے اور سنت خود عمل نہیں کرتی جب تک اس پر عمل نہ کیا جائے جب عالم خاموش رہے گا تو ناواقف شخص کیسے علم حاصل کرے گا اگر وہ ظاہر ہونے والی چیز کا انکار نہ کرے اور جس چیز کو ترک کیا گیا ہے اس کا حکم نہ دے تو پھر کیا ہوگا جبکہ اللہ نے ان لوگوں کو جنہیں کتاب دی گئی ان سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اسے واضح طور پر بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ تم ایک ایسے زمانے میں ہو جس میں پرہیزگاری کمزور ہوگئی ہے اور عاجزی کم ہوگئی ہے علم کے حاصل کرنے والے لوگ وہ ہیں جو اس میں فساد پیدا کرتے ہیں اور یہ بات پسند کرتے ہیں کہ عالم کے طور پر ان کی پہچان ہو اور وہ یہ بات ناپسند کرتے ہیں علم کے ضائع کرنے کے حوالے سے ان کی شناخت ہوجائے وہ علم کے بارے میں اپنی خواہش نفس کے مطابق وہ بات بیان کرتے ہیں جو اس میں انہوں نے غلط شامل کردی ہے اور وہ کلمات میں تحریف کے حق کو چھوڑ کر اس باطل کی طرف لے جاتے ہین جس پر وہ عمل کرتے ہیں ان کے گناہ ایسے ہیں کہ ان کی مغفرت نہیں کی جاسکتی اور ان کی غلطیاں ایسی ہیں جن کا اعتراف نہیں کیا جاسکتا۔ دلیل حاصل کرنے والا اور ہدایت حاصل کرنے والا کیسے ہدایت حاصل کرسکتا ہے جبکہ دلیل ہی بھٹکانے والی ہو۔ یہ لوگ دنیا کو پسند کرتے ہیں اور یہ بات ناپسند کرتے ہیں اہل دنیا کی تعظیم کریں۔ یہ لوگ زندگی میں ان کے ساتھ شریک ہوتے ہیں لیکن باتوں کے حوالے سے ان سے الگ رہتے ہیں اور اپنی طرف سے اس بات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے عمل کی طرف انہیں منسوب کیا جائے۔ لہذا جس چیز کی نفی کرنا چاہتے ہیں اس سے بری نہیں ہوتے اور جس چیز کی طرف منسوب یہ خود کو کرتے ہیں اس میں یہ داخل نہیں ہوتے اس لئے کہ حق کے اوپر عمل کرنے والا شخص بول رہا ہو یا خاموش ہو اس کی ایک ہی حثثیت ہوتی ہے یہ بات مذکور ہے کہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے میں ہر دانا شخص کی ہربات کو قبول نہیں کرتا بلکہ میں اس کی خواہش اور ارادے کی طرف دیکھتا ہوں اگر اس کی خواہش اور ارادہ میرے لئے ہو تو میں اس کی خاموشی کو بھی اپنے لئے حمد و ثناء سمجھتاہوں اگرچہ اس نے کوئی بات کہی ہو یا نہ۔ "وہ لوگ جنہیں تورات کا علم دیا گیا اور پھر انہوں نے اس کا علم حاصل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جو کتابوں کا بنڈل لاد لیتا ہے۔ اور اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے ہم نے جو تمہیں دیا ہے اسے قوت سے حاصل کرلو۔ یعنی جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرو لہذا کسی بھی حدیث پر صرف زبانی طور پر عمل کئے بغیر اکتفا نہ کرو کیونکہ حدیث پر عمل کئے بغیر صرف زبانی طور پر اسے بیان کرنا جھوٹ بولنے کے مترادف ہے اور علم کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، اہل بدعت کی برائی اس لئے بیان نہ کرو کہ ان کی برائی بیان کرنے سے تمہیں شہرت ملے گی اس لئے کہ اہل بدعت کا فاسد ہونا تمہاری بہتری میں کوئی اضافہ نہیں کرے گا اور ان کی برائی بیان کرتے ہوئے زیادتی نہ کرو چونکہ یہ زیادتی تمہارے نفس کا فساد ہوگی۔ کسی طبیب کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ بیمار کا علاج کسی ایسی دوائی کے ذریعے کرے جو اسے ٹھیک نہ کرے بلکہ اور بیمار کردے کیونکہ جب وہ شخص بیمار ہوگا تو وہ اپنی بیماری میں مشغول ہونے کی وجہ سے دوسروں کو دوا دینے سے دینے سے باز آجائے گا، اسلۓ اس کے لئے مناسب ہے کہ وہ پہلے اپنی ذات کے لئے صحت کا خیال رکھے تاکہ اس کی بدولت بیمار لوگوں کے علاج کے قابل ہوسکے۔ اس لئے تمہارا معاملہ یہ ہونا چاہیے کہ تم اپنے بھائیوں کی جس بات کا انکار کرتے ہو اس میں تم اپنے آپ کا بھی جائزہ لو اور اپنی طرف سے اپنے رب کے لئے خیر خواہی اختیار کرو یہ تمہاری طرف سے تمہارے بھائیوں کے لئے شفقت ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ یہ بات بھی سامنے رکھو کہ دوسروں کے عیوب کے مقابلے میں تمہیں اپنے عیوب کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے، ایک شخص دوسرے کے لئے خیرخواہی چاہتا ہے اور اس شخص کا تمہارے نزدیک حصہ ہونا چاہیے جو تمہارے لئے خیر خواہی کرتا ہے یا تمہاری طرف سے خیر خواہی کو قبول کرتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ارشاد فرماتے ہیں اللہ اس شخص پر رحم کرے جو میری خامیوں سے مجھے آگاہ کرتا ہے کہ کیا تم لوگ یہ بات پسند کرتے ہو کہ تم لوگ کوئی بات بیان کرو تو اسے برداشت کیا جائے اور تم نے جو بات بیان کی ہے اگر اسی جیسی تم سے کہی جائے تو تم ناراض ہوجاؤ تم ان لوگوں کو اس حال میں پاتے ہو جس کا تم انکار کرتے ہو اور خود وہی کام سر انجام دیتے ہو کیا تم لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اس بارے میں تم سے مواخذہ کیا جائے۔ تم اپنی رائے اور اپنے زمانے کے لوگوں کی رائے پر الزام لگاؤ اور بات کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرو اور عمل کرنے سے پہلے علم حاصل کرو کیونک عنقریب وہ زمانہ آجائے گا جس میں حق و باطل مشتبہ ہوجائیں گے اس زمانے میں نیکی گناہ بن جائے گی اور گناہ نیکی بن جائے گا اللہ کے قرب کے طلب گار کتنے ہی لوگ ہوں جو درحقیقت اللہ سے دور ہو رہے ہوں گے اور اللہ کی محبت کے کتنے ہی طلب گار ہیں جو اپنے بارے میں اللہ کی ناراضگی میں اضافہ کر رہے ہوں گے اللہ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جس کے لئے اس کے عمل کی برائی کو سجادیا گیا ہے وہ شخص اسے نیکی سمجھتا ہے۔ شبہات سے بچنا تم پر لازم ہے یہاں تک کہ شہادت کے ذریعے واضح حق تمہارے سامنے نمودار ہوجائے گا اس لئے کہ جو شخص علم کے بغیر اس چیز میں داخل ہوتا ہے جس کا اسے علم نہیں ہے وہ شخص گناہ گار ہوتا ہے اور جو شخص اللہ کے لئے کسی بات کا جائزہ لیتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کا جائز لیتا ہے تم پر قرآن پڑھنالازم ہے تم اسے اپنا پیشوا بناؤ اور اس سے ہدایت حاصل کرو اور گزرے ہوئے لوگوں کے آثار کی تلاش کرو اس لئے کہ اگر مذہی پیشوا اور رہنما اپنے مراتب کے زوال سے نہ ڈریں اور اپنے اعمال میں کتاب قائم کرنے کے ذریعے اپنی قدر و منزلت کے فساد سے نہ ڈریں اور انہوں نے جو تحریف کی ہے اسے واضح نہ کریں اور اسے نہ چھپائیں لیکن وہ لوگ جب وہ اپنے اعمال کے ذریعے کتاب کے خلاف عمل کرتے ہیں تو وہ ایسی چیز تلاش کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ قوم کو دھوکہ دے سکیں اس چیز کے بارے میں جو انہوں نے کیا ہے انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ وہ اپنی حثییت خراب کر جائیں گے وہ لوگوں کے سامنے اس کے فساد کو بیان کرتے ہیں اور کتاب کے مفہوم میں تحریف کردیتے ہیں اور جہاں وہ تحریف نہیں کرسکتے وہاں اسے چھپا لیتے ہیں اور اپنی حثییت کو برقرار رکھنے کے لئے خود جو حرکت کی ہوتی ہے اس پر خاموش رہتے ہیں اور اس بات پر بھی خاموش رہتے ہیں جو لوگوں نے انہیں بچانے کے لۓ کیا ہوتا ہے تحقیق اللہ نے جن لوگوں کو کتاب دی ان سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے واضح طور پر اسے بتائیں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں بلکہ وہ لوگ تو خود اس کی طرف جھک گئے ہیں اور اس بارے میں انہوں نے لوگوں کے ساتھ نرمی کی ہے۔

عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْخَوَّاصِ الشَّامِيِّ أَبِي عُتْبَةَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 670

chevron_left Previous
1…53545556
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door