Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 25

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَطَلَبَ بِلَالٌ الْمَاءَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ الْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلْ مِنْ شَنٍّ فَأَتَاهُ بِشَنٍّ فَبَسَطَ كَفَّيْهِ فِيهِ فَانْبَعَثَتْ تَحْتَ يَدَيْهِ عَيْنٌ قَالَ فَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَشْرَبُ وَغَيْرُهُ يَتَوَضَّأُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا حضرت بلال پانی ڈھونڈنے کے لئے گئے پھر آکر عرض کیا اللہ کے رسول مجھے پانی کہیں نہیں ملا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا کوئی مشکیزہ ہے؟ حضرت بلال ایک مشکیزہ لے کر آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھلیاں اس میں پھیلائیں تو آپ کے دونوں ہاتھوں سے ایک چشمہ جاری ہوگیا راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس پانی کو پیا اور باقی صحابہ نے وضو کیا۔

فَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَشْرَبُ وَغَيْرُهُ يَتَوَضَّأُ ← لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ الْمَاءَ ← دَعَا النَّبِيُّ بِلَالًا فَطَلَبَ بِلَالٌ الْمَاءَ ثُمَّ جَاءَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الضُّحَى، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، ← إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 25

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 26

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ قَالَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ غَزَوْنَا أَوْ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ بِضْعَةَ عَشَرَ وَمِائَتَانِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ فِي الْقَوْمِ مِنْ طَهُورٍ فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى بِإِدَاوَةٍ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ لَيْسَ فِي الْقَوْمِ مَاءٌ غَيْرُهُ فَصَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَرَكَ الْقَدَحَ فَرَكِبَ النَّاسُ ذَلِكَ الْقَدَحَ وَقَالُوا تَمَسَّحُوا تَمَسَّحُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكُمْ حِينَ سَمِعَهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ وَالْقَدَحِ وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَسْبِغُوا الطُّهُورَ فَوَالَّذِي هُوَ ابْتَلَانِي بِبَصَرِي لَقَدْ رَأَيْتُ الْعُيُونَ عُيُونَ الْمَاءِ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَلَمْ يَرْفَعْهَا حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں یا ایک سفر میں شریک تھے ہماری تعداد دو سو دس سے زیادہ تھی نماز کا وقت ہوگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا لوگوں میں سے کسی کے پاس وضو کا پانی ہے۔ ایک شخص ایک برتن کے ہمراہ دوڑتا ہوا آیا جس میں تھوڑا سا پانی موجود تھا تمام حاضرین میں سے اس کے علاوہ کوئی اور پانی موجود نہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈالا پھر آپ نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا پھر آپ مڑے اور پیالے کو چھوڑ دیا لوگوں نے اس پیالے کے پاس آخر یہ کہنا شروع کردیا۔ مسح کرلو مسح کرلو (یعنی وضو کرتے ہوئے زیادہ پانی استعمال نہ کرنا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اطمینان سے ۔ یہ بات آپ نے اس وقت کہی جب آپ نے لوگوں کی وہ بات سنی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس پانی اور پیالے میں رکھا اور فرمایا اللہ کے نام (سے برکت حاصل کرتا ہوں) پھر آپ نے ارشاد فرمایا اچھی طرح سے وضو کرلو۔ حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں اس ذات کی قسم جس نے مجھے آنکھوں کی بینائی کی رخصتی میں مبتلا کیا میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمے جاری ہوگئے آپ نے اس وقت تک اپنا دست مبارک نہیں اٹھایا جب تک سب لوگوں نے وضو نہیں کرلیا۔

نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 26

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 27

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ وَحُصَيْنٍ سَمِعَا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَصَابَنَا عَطَشٌ فَجَهَشْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي تَوْرٍ فَجَعَلَ يَفُورُ كَأَنَّهُ عُيُونٌ مِنْ خَلَلِ أَصَابِعِهِ وَقَالَ اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فَشَرِبْنَا حَتَّى وَسِعَنَا وَكَفَانَا وَفِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ فَقُلْنَا لِجَابِرٍ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ وَلَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ہمیں پیاس لاحق ہوئی ہم گھبرا گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ایک برتن میں رکھا تو وہ پانی یوں جوش مارنے لگا جیسے وہ چشمہ ہو جو آپ کی انگلیوں میں سے نکل رہا تھا آپ نے ارشاد فرمایا (اللہ کانام لے کر اس پانی کو استعمال کرو) ہم نے وہ پانی پیا یہاں تک کہ وہ ہم سب کے لئے کافی ہوگیا۔ ایک روایت میں راوی یہ کہتے ہیں ہم نے حضرت جابر سے دریافت کیا آپ کی تعداد اس وقت کتنی تھی انہوں نے جواب دیا ہماری تعداد پندرہ سو تھی اگر ہم اس وقت ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمارے لئے کافی ہوتا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← حُصَيْنٍ سَمِعَا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 27

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 28

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَكَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشَ فَدَعَا بِعُسٍّ فَصُبَّ فِيهِ مَاءٌ وَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِيهِ قَالَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ عُيُونًا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَسْتَقُونَ حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ كُلُّهُمْ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیاس کی شکایت کی تو آپ نے ایک بڑا پیالہ منگوایا اس میں کچھ پانی انڈیلا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس میں ڈال دیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے دیکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے۔ لوگوں نے اس پانی کو پیا یہاں تک کہ سب لوگوں نے اسے پی لیا۔ (وہ سب ان کے لئے کافی ہوگیا) ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 28

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 29

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ بِخَسْفٍ فَقَالَ كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُدُّ الْآيَاتِ بَرَكَةً وَأَنْتُمْ تَعُدُّونَهَا تَخْوِيفًا إِنَّا بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطْلُبُوا مَنْ مَعَهُ فَضْلُ مَاءٍ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ فِيهِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ثُمَّ قَالَ حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ الْمُبَارَكِ وَالْبَرَكَةُ مِنْ اللَّهِ تَعَالَى فَشَرِبْنَا و قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ

حضرت علقمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے کہیں زمین دھنسنے کے بارے میں سنا تو ارشاد فرمایا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ظاہر ہونی والی نشانیوں کو برکت شمار کرتے تھے جبکہ تم انہیں خوف زدہ کرنے والی چیز سمجھتے ہو ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے پمارے پاس پانی موجود نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اس شخص کو ڈھونڈو جس کے پاس پانی موجود ہو وہ پانی لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برتن میں انڈیل دیا پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس میں رکھا آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی نکلنے لگا پھر آپ نے ارشاد فرمایا برکت والے طہارت دینے والے پانی کی طرف آؤ اور برکت اللہ کی طرف سے ہے (راوی بیان کرتے ہیں) ہم نے وہ پانی پی بھی لیا۔

عَبْدُ اللَّهِ بِخَسْفٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 29

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 30

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ عَلَى عَهْدِ عَبْدِ اللَّهِ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ فَقَالَ إِنَّا كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ نَرَى الْآيَاتِ بَرَكَاتٍ وَأَنْتُمْ تَرَوْنَهَا تَخْوِيفًا بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ إِلَّا يَسِيرٌ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فِي صَحْفَةٍ وَوَضَعَ كَفَّهُ فِيهِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبَجِسُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ثُمَّ نَادَى حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ وَالْبَرَكَةُ مِنْ اللَّهِ فَأَقْبَلَ النَّاسُ فَتَوَضَّئُوا وَجَعَلْتُ لَا هَمَّ لِي إِلَّا مَا أُدْخِلُهُ بَطْنِي لِقَوْلِهِ وَالْبَرَكَةُ مِنْ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ بِهِ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ فَقَالَ كَانُوا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةٍ

حضرت علقمہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ کے زمانے میں زمین میں زلزلہ آگیا انہیں اس کی اطلاع ملی توبولے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ظاہر ہونے والی نشانیوں کو برکت کی علامت سمجھتے تھے جبکہ تم انہیں خوفزدہ کرنے والی چیز سمجھتے ہو ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے نماز کا وقت ہوگیا ہمارے پاس پانی موجود نہیں تھا۔ صرف تھوڑا ساپانی تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں پانی منگوایا آپ نے اپنا ہاتھ اس میں رکھا تو آپ کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی پھوٹ پڑا پھر آپ نے بلند آواز میں کہا وضو کرنے والی چیز کی طرف آؤ برکت اللہ کی طرف سے ہے۔ حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں لوگ آئے اور انہوں نے وضو کرنا شروع کردیا میرا یہ ارادہ ہوا کہ میں اس پانی کو اپنے پیٹ میں ڈال لوں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا یہ اللہ کی طرف سے برکت ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے سالم کو یہ حدیث سنائی تو وہ بولے اس وقت صحابہ کی تعداد پندرہ سو تھی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 30

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 31

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ الْعَلَاءِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ حَنَّ الْجِذْعُ حَتَّى أَتَاهُ فَمَسَحَهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کےساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے جب آپ نے منبر بنالیا تو وہ تنا رونے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور آپ نے اس پر ہاتھ پھیرا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُعَاذِ بْنِ الْعَلَاءِ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 31

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 32

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ فَكَانَ يَشُقُّ عَلَيْهِ قِيَامُهُ فَأُتِيَ بِجِذْعِ نَخْلَةٍ فَحُفِرَ لَهُ وَأُقِيمَ إِلَى جَنْبِهِ قَائِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ فَطَالَ الْقِيَامُ عَلَيْهِ اسْتَنَدَ إِلَيْهِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِ فَبَصُرَ بِهِ رَجُلٌ كَانَ وَرَدَ الْمَدِينَةَ فَرَآهُ قَائِمًا إِلَى جَنْبِ ذَلِكَ الْجِذْعِ فَقَالَ لِمَنْ يَلِيهِ مِنْ النَّاسِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَحْمَدُنِي فِي شَيْءٍ يَرْفُقُ بِهِ لَصَنَعْتُ لَهُ مَجْلِسًا يَقُومُ عَلَيْهِ فَإِنْ شَاءَ جَلَسَ مَا شَاءَ وَإِنْ شَاءَ قَامَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْتُونِي بِهِ فَأَتَوْهُ بِهِ فَأُمِرَ أَنْ يَصْنَعَ لَهُ هَذِهِ الْمَرَاقِيَ الثَّلَاثَ أَوْ الْأَرْبَعَ هِيَ الْآنَ فِي مِنْبَرِ الْمَدِينَةِ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ رَاحَةً فَلَمَّا فَارَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِذْعَ وَعَمَدَ إِلَى هَذِهِ الَّتِي صُنِعَتْ لَهُ جَزِعَ الْجِذْعُ فَحَنَّ كَمَا تَحِنُّ النَّاقَةُ حِينَ فَارَقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَعَمَ ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ حَنِينَ الْجِذْعِ رَجَعَ إِلَيْهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ وَقَالَ اخْتَرْ أَنْ أَغْرِسَكَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ فَتَكُونَ كَمَا كُنْتَ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَغْرِسَكَ فِي الْجَنَّةِ فَتَشْرَبَ مِنْ أَنْهَارِهَا وَعُيُونِهَا فَيَحْسُنُ نَبْتُكَ وَتُثْمِرُ فَيَأْكُلَ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ مِنْ ثَمَرَتِكَ وَنَخْلِكَ فَعَلْتُ فَزَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لَهُ نَعَمْ قَدْ فَعَلْتُ مَرَّتَيْنِ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اخْتَارَ أَنْ أَغْرِسَهُ فِي الْجَنَّةِ

ابن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو آپ طویل قیام کرتے تھے یہ کھڑا ہونا آپ کے لئے مشقت کا باعث ہوتا تھا کھجور کا ایک تنا لایا گیا اور اسے گاڑھ دیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پہلو میں کھڑے ہوتے تھے جب آپ خطبہ دیتے اور طویل قیام کرتے تو اس کے ساتھ ٹیک لگالیا کرتے تھے ایک شخص نے یہ بات دیکھی وہ شخص نیا مدینہ میں آیا تھا جب اس نے آپ کو اس تنے کے پہلو میں کھڑے ہوئے دیکھا تو اپنے ساتھ موجود شخص سے کہا اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری اس بات کی تعریف کریں گے جس کی وجہ سے انہیں آسانی مل جائے گی تو ان کے لئے ایک بیٹھنے کی چیز بنا دیتا ہوں جس پر وہ کھڑے بھی ہوسکیں گے۔ اگر وہ چاہیں توبیٹھ جائیں اور جب تک چاہیں بیٹھے رہیں اور اگر وہ چاہیں تو کھڑے ہوجائیں اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا اس شخص کو میرے پاس لے کر آؤ لوگ اس شخص کو آپ کے پاس لے کر آئے آپ نے اسے ہدایت کی کہ وہ آپ کے لئے یہ تین یا چار سیڑھیاں بنادے جو اب مدینہ منورہ میں منبر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بہت راحت محسوس کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تنے کو چھوڑ دیا اور اس منبر کی طرف آنے لگے جو آپ کے لئے بنایا تھا تو وہ تنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے وقت یوں رویا جیسے کوئی اونٹنی روتی ہے۔ روای بیان کرتے ہیں کہ ابن بریدہ نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تنے کے رونے کی آواز سنی تو آپ اس کے پاس تشریف لے گئے آپ نے اپنا ہاتھ اس کے اوپر رکھ دیا اور فرمایا تمہیں اختیار ہے میں تمہیں اس جگہ گاڑھ دیتا ہوں جہاں تم ہو اور تم یونہی رہوگے جیسے تم ہو اگر تم چاہو تو میں تمہیں جنت میں لگوا دوں گا۔ تم اس کی نہروں اور چشموں سے پانی حاصل کرنا یوں تمہاری نشوونما بہتر ہوجائے گی اور پھر تم پھل دوگے اور تمہارے پھل اور کھجوروں کو اللہ کے نیک بندے کھائیں گے اگر تم چاہو تو میں ایسا کردیتا ہوں۔ ابن بریدہ بیان کرتے ہیں ان کے والد نے یہ بات بیان کی انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا آپ اس کھجور کے تنے سے یہ کہہ رہے تھے ٹھیک ہے میں نے ایساہی کیا آپ نے یہ بات دو دفعہ ارشاد فرمائی (ابن بریدہ کے والد یا کسی اور شخص نے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے جواب دیا اس نے یہ بات اختیار کی کہ میں اسے جنت میں لگوادوں۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ ← تميم بن عبد المؤمن ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 32

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 33

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يُجْعَلَ الْمِنْبَرُ فَلَمَّا جُعِلَ الْمِنْبَرُ حَنَّ ذَلِكَ الْجِذْعُ حَتَّى سَمِعْنَا حَنِينَهُ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَيْهِ فَسَكَنَ

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے کے ساتھ کھڑے ہوا کرتے تھے یہ منبر بنائے جانے سے پہلے کی بات ہے جب منبر بنادیا گیا تو وہ تنا رونے لگا یہاں تک کہ ہم نے بھی اس کے رونے کی آواز سنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست اقدس اس پر رکھا تو اسے سکون آیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 33

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 34

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى خَشَبَةٍ فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ فَجَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّتْ حَنِينَ الْعِشَارِ حَتَّى وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَسَكَنَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے جب منبر بنادیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے تو وہ لکڑی یوں رونے لگی جیسے کوئی اونٹنی روتی ہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو اس کوسکون آیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 34

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 35

أَخْبَرَنَا فَرْوَةُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرِبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَنَّتْ الْخَشَبَةُ حَنِينَ النَّاقَةِ الْخَلُوجِ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں وہ لکڑی اس طرح روئی جس طرح کوئی اونٹنی بچہ جنم دیتے وقت روتی ہے۔

حَنَّتْ الْخَشَبَةُ حَنِينَ النَّاقَةِ الْخَلُوجِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرِبٍ ← أَبِي إِسْحَقَ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← فَرْوَۃُ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 35

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 36

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ وَيَخْطُبُ إِلَيْهِ إِذْ كَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ أَلَا نَجْعَلُ لَكَ عَرِيشًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَرَاكَ النَّاسُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَتُسْمِعُ مِنْ خُطْبَتِكَ قَالَ نَعَمْ فَصَنَعَ لَهُ الثَّلَاثَ دَرَجَاتٍ هُنَّ اللَّوَاتِي عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ وَوُضِعَ فِي مَوْضِعِهِ الَّذِي وَضَعَهُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الْمِنْبَرَ مَرَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا جَاوَزَهُ خَارَ الْجِذْعُ حَتَّى تَصَدَّعَ وَانْشَقَّ فَرَجَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ حَتَّى سَكَنَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ قَالَ فَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَّى إِلَيْهِ فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ أَخَذَ ذَلِكَ الْجِذْعَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى بَلِيَ وَأَكَلَتْهُ الْأَرَضَةُ وَعَادَ رُفَاتًا

حضرت طفیل اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے تنے کی طرف منہ کرکے نماز ادا کیا کرتے تھے اور اسی سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب مسجد میں سائے کے لئے کچھ تھا (باقاعدہ چھت نہیں تھی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب نے کہا کیا ہم آپ کے لئے کوئی ایسا تخت نہ بنالیں جس پر آپ کھڑے ہوجایا کریں اور جمعہ کے دن لوگ آپ کو دیکھ سکیں گے اور آپ انہیں اپنا خطبہ سنا سکیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تین سیڑھیاں بنالی گئیں۔ یہ وہی ہیں جو منبر ہے۔ جب منبر رکھا گیا اور اسے اس جگہ رکھا گیا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ راوی کا بیان ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کا ارادہ منبر پر بیٹھنے کا تھا جب آپ اس لکڑی کے پاس سے گزرے اور آپ آگے بڑھ گئے تو وہ تنا رونے لگا اور بلند آواز نکالنے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے آپ نے اپنا دست مبارک اس پر پھیرا تو اسے سکون آیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے پاس آئے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرتے تواسی کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے جب مسجد کو منہدم کردیا گیا تو حضرت ابی بن کعب نے اس تنے کو حاصل کرلیا وہ ان کے پاس رہا۔ یہاں تک کہ وہ بوسیدہ ہوگیا اور اسے دیمک نے چاٹ لیا اور ریزہ ریزہ ہوگیا۔

أَبِيهِ ← الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 36

chevron_left Previous
1234…56
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door