Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 278

أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا تَوْبَةُ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ أَرَأَيْتَ فُلَانًا الَّذِي يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَعَدْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةً وَنِصْفًا فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ

توبہ عنبری ارشاد فرماتے ہیں امام شعبی نے مجھ سے کہا کیا تم نے غور کیا ہے وہ فلاں شخص یہ کہہ دیتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں دو برس یا شاید ڈیڑھ برس تک رہاہوں لیکن میں نے انہیں کبھی نہیں سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کی ماسوائے ان چند احادیث کہ جو میں تمہارے سامنے بیان کرچکا ہوں۔

لِي الشَّعْبِيُّ أَرَأَيْتَ فُلَانًا الَّذِي ← تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ← شُعْبَةُ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 278

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 279

أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ جَالَسْتُ ابْنَ عُمَرَ سَنَةً فَلَمْ أَسْمَعْهُ يَذْكُرُ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن ابوسفر بیان کرتے ہیں شعبی ارشاد فرماتے ہیں میں ایک سال تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں رہا ہوں میں نے انہیں کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← جَالَسْتُ ابْنَ عُمَرَ سَنَةً فَلَمْ أَسْمَعْهُ يَذْكُرُ حَدِيثًا ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ← شُعْبَةُ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 279

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 280

أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ ثَابِتِ بْنِ قُطْبَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُنَا فِي الشَّهْرِ بِالْحَدِيثَيْنِ أَوْ الثَّلَاثَةِ

حضرت ثابت بن قطبہ انصاری بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ مہینے بھر میں ہمارے سامنے دو یا شاید تین حدیثیں بیان کیا کرتے تھے۔

كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُنَا فِي الشَّهْرِ بِالْحَدِيثَيْنِ أَوْ الثَّلَاثَةِ ← ثَابِتِ بْنِ قُطْبَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 280

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 281

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ مَرَّ بِنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا بِبَعْضِ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَأَتَحَلَّلُ

عبدالملک بن عبید بیان کرتے ہیں حضرت انس بن مالک ہمارے پاس سے گزرے تو ہم نے درخواست کی آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو انہوں نے جواب دیا کیا میں اپنے لئے جہنم کو حلال کرلوں۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ وَأَتَحَلَّلُ ← بِبَعْضِ مَا ← مَرَّ بِنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقُلْنَا ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 281

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 282

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ أَنَسٌ قَلِيلَ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ إِذَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

امام محمد بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بہت کم احادیث بیان کرتے تھے اور جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتے تھے تو ساتھ یہ ضرور کہتے تھے کہ اسی کی مانند نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

أَوْ كَمَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← رَسُولِ اللَّهِ وَكَانَ إِذَا حَدَّثَ ← كَانَ أَنَسٌ قَلِيلَ الْحَدِيثِ ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 282

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 283

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ أَنَسٌ إِذَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا قَالَ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

امام محمد بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو حدیث بیان کرتے تھے تو ساتھ یہ کہہ دیتے تھے کہ یا اسی کی مانند نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

أَوْ كَمَا ← رَسُولِ اللَّهِ حَدِيثًا ← كَانَ أَنَسٌ إِذَا حَدَّثَ ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَعِيلُ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 283

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 284

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ سَعْدٍ إِلَى مَكَّةَ فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ

سائب بن یزید بیان کرتے ہیں میں حضرت سعد کے ہمراہ مکہ گیا میں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا یہاں تک کہ ہم لوگ مدینہ منورہ واپس آگئے۔

رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ← حَدِيثًا ← خَرَجْتُ مَعَ سَعْدٍ إِلَى مَكَّةَ فَمَا ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 284

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 285

أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا بَيَانٌ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ عُمَرَ شَيَّعَ الْأَنْصَارَ حِينَ خَرَجُوا مِنْ الْمَدِينَةِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ لِمَ شَيَّعْتُكُمْ قُلْنَا لِحَقِّ الْأَنْصَارِ قَالَ إِنَّكُمْ تَأْتُونَ قَوْمًا تَهْتَزُّ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ اهْتِزَازَ النَّخْلِ فَلَا تَصُدُّوهُمْ بِالْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا شَرِيكُكُمْ قَالَ فَمَا حَدَّثْتُ بِشَيْءٍ وَقَدْ سَمِعْتُ كَمَا سَمِعَ أَصْحَابِي

قرظہ بن کعب بیان کرتے ہیں جب بعض انصار مدینہ سے نکل کر جانے لگے تو حضرت عمر ان کے ساتھ چلتے ہوئے آئے اور بولے کیا تم جانتے ہو میں تمہارے ساتھ کیوں آیاہوں ہم نے جواب دیا انصار کے حق کی وجہ سے۔ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا تم ایسے لوگوں کے پاس جارہے ہو جو اتنی تیزی کے ساتھ قرآن پڑھتے ہیں جیسے کھجور کا درخت ہلتا ہے لہذا تم انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کے حوالے سے قرآن سے روکنے کی کوشش نہ کرنا میں تمہارے راوی بیان کرتے ہیں اس کے بعد میں نے کوءی ایسی حدیث بیان نہیں کی حالانکہ میں نے بھی اسی طرح احادیث سنی ہوئی ہیں جیسے میرے ساتھیوں نے سنی ہوئی ہیں۔

أَصْحَابِي ← كَمَا ← بِشَيْءٍ وَقَدْ ← فَمَا ← شَرِيكُكُمْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← إِنَّكُمْ تَأْتُونَ قَوْمًا تَهْتَزُّ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ اهْتِزَازَ النَّخْلِ فَلَا تَصُدُّوهُمْ بِالْحَدِيثِ ← أَتَدْرُونَ لِمَ شَيَّعْتُكُمْ قُلْنَا لِحَقِّ الْأَنْصَارِ ← قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ عُمَرَ شَيَّعَ الْأَنْصَارَ حِينَ خَرَجُوا مِنْ الْمَدِينَةِ ← الشَّعْبِيِّ، ← بَيَانٍ ← شُعْبَةُ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 285

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 286

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى الْكُوفَةِ فَبَعَثَنِي مَعَهُمْ فَجَعَلَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى أَتَى صِرَارَ وَصِرَارُ مَاءٌ فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَ يَنْفُضُ الْغُبَارَ عَنْ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ تَأْتُونَ الْكُوفَةَ فَتَأْتُونَ قَوْمًا لَهُمْ أَزِيزٌ بِالْقُرْآنِ فَيَأْتُونَكُمْ فَيَقُولُونَ قَدِمَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ قَدِمَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ فَيَأْتُونَكُمْ فَيَسْأَلُونَكُمْ عَنْ الْحَدِيثِ فَاعْلَمُوا أَنَّ أَسْبَغَ الْوُضُوءِ ثَلَاثٌ وَثِنْتَانِ تُجْزِيَانِ ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ تَأْتُونَ الْكُوفَةَ فَتَأْتُونَ قَوْمًا لَهُمْ أَزِيزٌ بِالْقُرْآنِ فَيَقُولُونَ قَدِمَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ قَدِمَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ فَيَأْتُونَكُمْ فَيَسْأَلُونَكُمْ عَنْ الْحَدِيثِ فَأَقِلُّوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا شَرِيكُكُمْ فِيهِ قَالَ قَرَظَةُ وَإِنْ كُنْتُ لَأَجْلِسُ فِي الْقَوْمِ فَيَذْكُرُونَ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمِنْ أَحْفَظِهِمْ لَهُ فَإِذَا ذَكَرْتُ وَصِيَّةَ عُمَرَ سَكَتُّ قَالَ أَبُو مُحَمَّد مَعْنَاهُ عِنْدِي الْحَدِيثُ عَنْ أَيَّامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ السُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ

قرظہ بن کعب بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب نے چند انصاری صحابہ کرام کو کوفہ بھیجا اور مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیا حضرت عمر ہمارے ساتھ چلتے ہوئے صرار تک آئے۔ صرار مدینے کے راستے میں ایک چشمہ ہے وہاں حضرت عمر نے اپنے پاؤں سے مٹی صاف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تم لوگ کوفہ جارہے ہو تم ایک ایسی قوم کے پاس جاؤ گے جو لوگ بڑے شوق سے قرآن پڑھتے ہیں وہ لوگ تمہارے پاس آئیںگے اور یہ کہیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تشریف لائے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تشریف لائے ہیں وہ تمہارے پاس آئیں گے اور حدیث کے بارے میں سوال کریں گے تم یہ بات یاد رکھنا کہ کامل وضو میں تین مرتبہ اعضاء کودھویا جاتا ہے ویسے دو مرتبہ دھونا بھی کافی ہے۔ پھر حضرت عمر نے ارشاد فرمایا تم لوگ کوفہ جارہے ہوتم ایسے لوگوں کے پاس جارہے ہو جو بڑے ذوق اور شوق سے قرآن پڑھتے ہیں وہ یہ کہیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تشریف لائے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تشریف لے کر آئے ہیں وہ تمہارے پاس آئیں گے اور تم سے احادیث کے بارے میں سوال کریں گے تو تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کم احادیث بیان کرنا میں اس بارے میں تمہارے ساتھ ہوں۔قرظہ فرماتے ہیں میں کچھ لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہوتا ہوں وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث ذکر کرتے ہیں حالانکہ مجھے ان سے زیادہ احادیث یاد ہیں لیکن جب مجھے حضرت عمر کی نصیحت یاد آتی ہے تو میں خاموشی اختیار کر لیتا ہوں۔ امام محمد عبداللہ دارمی ارشاد فرماتے ہیں اس حدیث کا مفہوم میرے نزدیک یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے احادیث بیان نہ کی جائیں سنن اور فرائض سے اس حدیث کا تعلق نہیں ہے۔

قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 286

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 287

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ارْتَعَدَ ثُمَّ قَالَ نَحْوَ ذَلِكَ أَوْ فَوْقَ ذَاكَ

علقمہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ نے ایک مرتبہ یہ کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے پھر ان پر کپکپی طاری ہوگئی اور پھر بولے اس کی مانند یا اس سے کچھ زیادہ ارشاد فرمایا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 287

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 288

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ فَقَالَ إِنَّ مِنْ الشَّجَرِ شَجَرًا مِثْلَ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتُّ قَالَ عُمَرُ وَدِدْتُ أَنَّكَ قُلْتَ وَعَلَيَّ كَذَا

مجاہد بیان کرتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ تک آیا میں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا البتہ انہوں نے یہ حدیث بیان کی ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ کی خدمت میں جمار نامی مخصوص کھاناپیش کیا گیا آپ نے ارشاد فرمایا ایک درخت ایسا ہے جسکی مثال مسلمان بندے کی طرح ہے (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں یہ جواب دوں کہ اس سے مراد کھجور کا درخت ہے لیکن جب میں نے جائزہ لیا تو میں حاضرین میں سب سے کم سن تھا اس لئے میں خاموش رہا بعد میں حضرت عمر (کو یہ بات بتائی گئی تو انہوں نے ارشاد فرمایا) میری یہ خواہش تھی کہ تم یہ جواب دے دیتے اگرچہ اس کے عوض میں مجھے یہ کچھ دینا پڑتا۔

كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ ← صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَی الْمَدِينَةِ فَلَمْ أَسْمَعْهُ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 288

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 289

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْهَدَادِيُّ حَدَّثَنَا صَالِحٌ الدَّهَّانُ قَالَ مَا سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ قَطُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِعْظَامًا وَاتِّقَاءً أَنْ يَكْذِبَ عَلَيْهِ

صالح بیان کرتے ہیں میں نے حضرت جابر بن زید کو کبھی بھی یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا ہے وہ اس چیز سے بچنے کی کوشش کرتے تھے اور اس کو بہت اہم سمجھتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی غلط بات بیان کر دیں۔

قَطُّ ← جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← مَا ← صَالِحٌ الدَّهَّانُ ← خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْهَدَادِيُّ ← بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 289

Sahih

chevron_left Previous
1…232425…56
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door