Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 205

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَطًّا ثُمَّ قَالَ هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ هَذِهِ سُبُلٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ ثُمَّ تَلَا وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ

رجاء بن ابوسلمہ بیان کرتے ہیں میں نے عبدہ بن ابولبابہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے میں اپنے زمانے سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اس بات سے راضی ہوں کہ وہ نہ مجھ سے کوئی سوال کریں اور نہ میں ان سے کوئی سوال کروں کیونکہ ان میں سے ہر شخص یہی کہتا ہے آپ کی کیا رائے ہے اور آپ کی کیا رائے ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 205

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 206

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ قَالَ الْبِدَعَ وَالشُّبُهَاتِ

حضرت عبداللہ بن مسعود ارشاد فرماتے ہیں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور ارشاد فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے اور پھر آپ نے اس لکیر کے دائیں طرف اور بائیں طرف دوسری لکیریں کھینچیں اور ارشاد فرمایا یہ چند لکیریں ہیں جن میں سے ہر ایک پر ایک مخصوص شیطان موجود ہوتا ہے جو اس کی طرف دعوت دیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت(وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ) تلاوت کی۔ بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے تم اس کی پیروی کرو (شیطان) کے راستوں کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے الگ کردے گا۔

الْبِدَعَ وَالشُّبُهَاتِ ← مُجَاهِدٍ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 206

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 207

202. أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا نَجْلِسُ عَلَى بَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَإِذَا خَرَجَ مَشَيْنَا مَعَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَجَاءَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَقَالَ أَخَرَجَ إِلَيْكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَعْدُ قُلْنَا لَا فَجَلَسَ مَعَنَا حَتَّى خَرَجَ فَلَمَّا خَرَجَ قُمْنَا إِلَيْهِ جَمِيعًا فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ آنِفًا أَمْرًا أَنْكَرْتُهُ وَلَمْ أَرَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ إِلَّا خَيْرًا قَالَ فَمَا هُوَ فَقَالَ إِنْ عِشْتَ فَسَتَرَاهُ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ قَوْمًا حِلَقًا جُلُوسًا يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ فِي كُلِّ حَلْقَةٍ رَجُلٌ وَفِي أَيْدِيهِمْ حَصًى فَيَقُولُ كَبِّرُوا مِائَةً فَيُكَبِّرُونَ مِائَةً فَيَقُولُ هَلِّلُوا مِائَةً فَيُهَلِّلُونَ مِائَةً وَيَقُولُ سَبِّحُوا مِائَةً فَيُسَبِّحُونَ مِائَةً قَالَ فَمَاذَا قُلْتَ لَهُمْ قَالَ مَا قُلْتُ لَهُمْ شَيْئًا انْتِظَارَ رَأْيِكَ وَانْتِظَارَ أَمْرِكَ قَالَ أَفَلَا أَمَرْتَهُمْ أَنْ يَعُدُّوا سَيِّئَاتِهِمْ وَضَمِنْتَ لَهُمْ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِهِمْ ثُمَّ مَضَى وَمَضَيْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَى حَلْقَةً مِنْ تِلْكَ الْحِلَقِ فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ مَا هَذَا الَّذِي أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَ قَالُوا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَصًى نَعُدُّ بِهِ التَّكْبِيرَ وَالتَّهْلِيلَ وَالتَّسْبِيحَ قَالَ فَعُدُّوا سَيِّئَاتِكُمْ فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِكُمْ شَيْءٌ وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ هَؤُلَاءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِيَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ أَوْ مُفْتَتِحُو بَابِ ضَلَالَةٍ قَالُوا وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا أَرَدْنَا إِلَّا الْخَيْرَ قَالَ وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَايْمُ اللَّهِ مَا أَدْرِي لَعَلَّ أَكْثَرَهُمْ مِنْكُمْ ثُمَّ تَوَلَّى عَنْهُمْ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ رَأَيْنَا عَامَّةَ أُولَئِكَ الْحِلَقِ يُطَاعِنُونَا يَوْمَ النَّهْرَوَانِ مَعَ الْخَوَارِجِ

ارشاد باری تعالی " اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو۔ مجاہد ارشاد فرماتے ہیں اس سے مراد بدعت اور شبہات ہیں۔

أَبِيهِ ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 207

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 208

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ اتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ

عمرو بن یحیی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا بیان نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم صبح کی نماز سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب عبداللہ باہر تشریف لاتے تو ہم ان کے ساتھ چلتے ہوئے مسجد تک آیا کرتے تھے اسی دوران حضرت ابوموسی اشعری وہاں تشریف لے آئے اور دریافت کیا کیا حضرت ابوعبدالرحمن (حضرت عبداللہ بن مسعود) باہر تشریف لائے۔ ہم نے جواب دیا نہیں تو حضرت ابوموسی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن مسعود باہر تشریف لائے جب وہ آئے تو ہم سب اٹھ کران کے پاس آگئے حضرت ابوموسی نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن آج میں نے مسجد میں ایک ایسی جماعت دیکھی ہے جو مجھے پسند نہیں آئی اور میرا مقصد ہر طرح کی حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے صرف نیکی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے دریافت کیا وہ کیا بات ہے حضرت ابوموسی نے جواب دیاشام تک آپ خود ہی دیکھ لیں گے۔ حضرت ابوموسی بیان کرتے ہیں میں نے مسجد میں کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور نماز کا انتظار کر رہے ہیں ان میں سے ہر ایک حلقے میں ایک شخص ہے جس کے سامنے کنکریاں موجود ہیں اور وہ شخص یہ کہتا ہے سو مرتبہ اللہ اکبر پڑھو۔ تو لوگ سو مرتبہ اللہ اکبر پڑھتے ہیں۔ پھر وہ شخص کہتا ہے سو مرتبہ لاالہ الا اللہ پڑھو تو لوگ سو مرتبہ یہ پڑھتے ہیں پھر وہ شخص کہتا ہے سومرتبہ سبحان اللہ پڑھو تو لوگ سبحان اللہ پڑھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ان سے دریافت کیا آپ نے ان سے کیا کہا۔ حضرت ابوموسی اشعری نے جواب دیا میں نے آپ کی رائے کا انتظار کرتے ہوئے ان سے کچھ نہیں کہا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا آپ نے انہیں یہ کیوں نہیں کہا کہ وہ اپنے گناہ شمار کریں اور آپ نے انہیں ضمانت کیوں نہیں دی کہ ان کی نیکیاں ضائع نہیں ہوں گی۔ (راوی کا بیان کرتے ہیں) پھر حضرت عبداللہ بن مسعود چل پڑے ان کے ہمراہ ہم بھی چل پڑے یہاں تک کہ حضرت عبداللہ ان حلقوں میں سے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا یہ میں تمہیں کیا کرتے ہوئے دیکھ رہاہوں انہوں نے جواب دیا اے ابوعبدالرحمن یہ کنکریان ہیں جن پر ہم لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ گن کر پڑھ رہے ہیں حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا تم اپنے گناہوں کو گنو میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوگی۔ اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تمہارا ستیاناس ہو تم کتنی تیزی سے ہلاکت کی طرف جا رہے ہو یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تمہارے درمیان بکثرت تعداد میں موجود ہیں اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے ہیں جو ابھی پرانے نہیں ہوئے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن ہیں جو ابھی ٹوٹے نہیں ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم ایسے طریقے پر ہو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟ یا پھر تم گمراہی کا دروازہ کھولنا چاہتے ہو۔ لوگوں نے عرض کی اللہ کی قسم اے ابوعبدالرحمن ہمارا ارادہ صرف نیک ہے ۔ حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا کتنے نیکی کے خواہش مند ایسے ہیں جو نیکی نہیں کرتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا اور اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم ہوسکتا ہے ان میں سے اکثریت تم لوگوں کی ہو۔ پھر حضرت عبداللہ ان کے پاس سے اٹھ کر آگئے۔ عمرو بن سلمہ بیان کرتے ہیں ہم نے اس بات کا جائزہ لیا ان حلقوں سے تعلق رکھنے والے عام افراد وہ تھے جنہوں نے نہروان کی جنت میں خوارج کے ساتھ مل کر ہمارے ساتھ مقابلہ کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ اتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← حَبِيبٍ ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 208

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 209

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

ابوعبدالرحمن روایت کرتے ہیں حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا سنت کی پیروی کرو اور بدعت اختیار نہ کرو یہی بات تمہارے لئے کافی ہے۔

إِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ← خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 209

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 210

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الْفَزَارِيِّ عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ عَنْ بِلَادِ بْنِ عِصْمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ وَكَانَ إِذَا كَانَ عَشِيَّةَ الْخَمِيسِ لِلَيْلَةِ الْجُمُعَةِ قَامَ فَقَالَ إِنَّ أَصْدَقَ الْقَوْلِ قَوْلُ اللَّهِ وَإِنَّ أَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَإِنَّ شَرَّ الرَّوَايَا رَوَايَا الْكَذِبِ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ

امام جعفر صادق اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں حضرت جابر بن عبداللہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا بے شک سب سے افضل ہدایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت ہے اور سب سے برا کام نیا پیدا شدہ کام ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

وَكَانَ إِذَا كَانَ عَشِيَّةَ الْخَمِيسِ لِلَيْلَةِ الْجُمُعَةِ قَامَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← بِلَادِ بْنِ عِصْمَةَ ← أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ ← أَبِي إِسْحَقَ الْفَزَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 210

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 211

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الْفَزَارِيِّ عَنْ لَيْثٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ مَا أَخَذَ رَجُلٌ بِبِدْعَةٍ فَرَاجَعَ سُنَّةً

بلاز بن عصمہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے یہ شب جمعہ اور جمعرات کی شام کی بات ہے ۔ حضرت عبداللہ کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا بے شک سب سے سچی بات اللہ کا فرمان ہے اور سب سے بہترین ہدایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت ہے اور بدبخت شخص وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں ہی بدبخت ہو اور سب سے بری جھوٹی بات ہے اور سب سے برا فعل نیا پیدا شدہ فعل ہے اور ہر وہ چیز جو آنے والی ہو وہ قریب ہے۔

مَا أَخَذَ رَجُلٌ بِبِدْعَةٍ فَرَاجَعَ سُنَّةً ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← لَيْثٌ، ← أَبِي إِسْحَقَ الْفَزَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 211

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 212

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ

ابن سیرین بیان کرتے ہیں جو شخص بدعت کو اختیار کرلیتا ہے وہ سنت کی طرف واپس نہیں آتا ۔

إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 212

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 213

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو الْوَلِيدِ الْهَرَوِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ حَيَّةَ بِنْتِ أَبِي حَيَّةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ بِالظَّهِيرَةِ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فِي بُغَاءٍ لَنَا فَانْطَلَقَ صَاحِبِي يَبْغِي وَدَخَلْتُ أَنَا أَسْتَظِلُّ بِالظِّلِّ وَأَشْرَبُ مِنْ الشَّرَابِ فَقُمْتُ إِلَى لُبَيْنَةٍ حَامِضَةٍ رُبَّمَا قَالَتْ فَقُمْتُ إِلَى ضَيْحَةٍ حَامِضَةٍ فَسَقَيْتُهُ مِنْهَا فَشَرِبَ وَشَرِبْتُ قَالَتْ وَتَوَسَّمْتُهُ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ مَنْ أَنْتَ فَقَالَ أَنَا أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ أَنْتَ أَبُو بَكْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي سَمِعْتُ بِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَتْ فَذَكَرْتُ غَزْوَنَا خَثْعَمًا وَغَزْوَةَ بَعْضِنَا بَعْضًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنْ الْأُلْفَةِ وَأَطْنَابِ الْفَسَاطِيطِ وَشَبَّكَ ابْنُ عَوْنٍ أَصَابِعَهُ وَوَصَفَهُ لَنَا مُعَاذٌ وَشَبَّكَ أَحْمَدُ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ حَتَّى مَتَى تَرَى أَمْرَ النَّاسِ هَذَا قَالَ مَا اسْتَقَامَتْ الْأَئِمَّةُ قُلْتُ مَا الْأَئِمَّةُ قَالَ أَمَا رَأَيْتِ السَّيِّدَ يَكُونُ فِي الْحِوَاءِ فَيَتَّبِعُونَهُ وَيُطِيعُونَهُ فَمَا اسْتَقَامَ أُولَئِكَ

حضرت ثوبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں مجھے اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے پیشواؤں کی طرف سے خوف ہے۔

حَيَّةَ بِنْتِ أَبِي حَيَّةَ ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو الْوَلِيدِ الْهَرَوِيُّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 213

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 214

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَخٍ لِعَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ

حیہ بنت ابوحیہ بیان کرتی ہیں دوپہر کے وقت ہمارے ہاں ایک شخص آیا میں نے کہا اے اللہ کے بندے توکہاں سے آیا ہے اس نے جواب دیا میں اور میرا ایک ساتھی اپنی ایک چیز کو ڈھونڈنے کے لئے آرہے تھے میرا ساتھی تو اس کی تلاش میں نکل گیا اور میں یہاں اس لئے آیا ہوں کہ تھوڑی دیر سائے میں رہوں اور کچھ چیز پی لوں حیہ بیان کرتی ہیں میں اٹھی اور لسی لا کر اس کے سامنے رکھی اس نے وہ پی لی۔ میں نے بھی پی لی۔ حیہ بیان کرتی ہیں مجھے اس کی پہچان حاصل کرنا تھی۔ میں نے دریافت کیا اے اللہ کے بندے تم کون ہو ؟ اس نے جواب دیا میں ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں حیہ بیان کرتی ہیں میں نے کہا آپ وہ ابوبکر ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں جن کے بارے میں میں نے سن رکھا ہے انہوں نے جواب دیا ہاں۔ حیہ بیان کرتی ہیں میں نے ان کے سامنے جثعم قبیلے سے ہونیوالی جنگ کا تذکرہ کیا اور زمانہ جاہلیت کی بعض دیگر جنگوں کا تذکرہ کیا اور پھر اللہ نے جو الفت اور آسائشیں عطا کی ہیں ان کا تذکرہ کیا (راوی بیان کرتے ہیں ابن عون نامی راوی نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈالیں اور معاذ نامی راوی نے بھی اسی طرح کرکے دکھایا اور احمد نامی نے بھی اپنی انگلیاں ڈالیں) حیہ بیان کرتی ہیں میں نے کہا اے اللہ کے بندے آپ کے خیال میں لوگوں کا معاملہ ایسے کب تک رہے گا اس شخص نے جواب دیا جب تک حکمران ٹھیک نہیں ہوں گے میں نے دریافت کیا حکمرانوں سے مراد کیا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا کیا تم نے غور نہیں کیا محلے میں ایک سردار ہوتا ہے اور لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں تو وہ سب لوگ کیسے ٹھیک رہتے ہیں۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَخٍ لِعَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 214

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 215

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ قَالَ فَرَآهَا لَا تَتَكَلَّمُ فَقَالَ مَا لَهَا لَا تَتَكَلَّمُ قَالُوا نَوَتْ حَجَّةً مُصْمِتَةً فَقَالَ لَهَا تَكَلَّمِي فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ فَتَكَلَّمَتْ فَقَالَتْ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا امْرُؤٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ قَالَتْ مِنْ أَيِّ الْمُهَاجِرِينَ قَالَ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَتْ فَمِنْ أَيِّ قُرَيْشٍ أَنْتَ قَالَ إِنَّكِ لَسَئُولٌ أَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَتْ مَا بَقَاؤُنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِي جَاءَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ بَقَاؤُكُمْ عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ بِكُمْ أَئِمَّتُكُمْ قَالَتْ وَمَا الْأَئِمَّةُ قَالَ أَمَا كَانَ لِقَوْمِكِ رُؤَسَاءُ وَأَشْرَافٌ يَأْمُرُونَهُمْ فَيُطِيعُونَهُمْ قَالَتْ بَلَى قَالَ فَهُمْ مِثْلُ أُولَئِكَ عَلَى النَّاسِ

حضرت ابودرداء روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگوں کے بارے میں مجھے سب سے زیادہ خوف گمراہ کرنے والے پیشواؤں کا ہے ۔

فَهُمْ مِثْلُ أُولَئِكَ عَلَى النَّاسِ ← بَلٰی ← أَمَا كَانَ لِقَوْمِكِ رُؤَسَاءُ وَأَشْرَافٌ يَأْمُرُونَهُمْ فَيُطِيعُونَهُمْ ← وَمَا الْأَئِمَّةُ ← بَقَاؤُكُمْ عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ بِكُمْ أَئِمَّتُكُمْ ← مَا بَقَاؤُنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِي جَاءَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْجَاهِلِيَّةِ ← أَبُو بَکْرٍ ← إِنَّكِ لَسَئُولٌ ← فَمِنْ أَيِّ قُرَيْشٍ أَنْتَ ← من قريش. ← مِنْ أَيِّ الْمُهَاجِرِينَ ← امْرُؤٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ ← مَنْ أَنْتَ ← فَتَكَلَّمْتُ ← لَهَا تَكَلَّمِي فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ ← نَوَتْ حَجَّةً مُصْمِتَةً ← مَا لَهَا لَا تَتَكَلَّمُ ← فَرَآهَا لَا تَتَكَلَّمُ ← دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 215

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 216

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ وَاصِلٍ عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا عَائِذَةُ قَالَتْ رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يُوصِي الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ وَيَقُولُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُنَّ مِنْ امْرَأَةٍ أَوْ رَجُلٍ فَالسَّمْتَ الْأَوَّلَ فَإِنَّكُمْ عَلَى الْفِطْرَةِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ السَّمْتُ الطَّرِيقُ

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر حمس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک خاتون نے جس کا نام زینب تھا کے ہاں تشریف لائے۔ راوی بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا کہ وہ عورت بات نہیں کرتی۔ حضرت ابوبکر نے دریافت کیا یہ عورت بات کیوں نہیں کرتی لوگوں نے جواب دیا اس نے خاموشی کے حج کی نیت کی ہوئی ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے کہا تم بات کرو کیونکہ یہ بات جائز نہیں ہے یہ زمانہ جاہلیت کا عمل ہے راوی بیان کرتے ہیں اس عورت نے بات کی اور دریافت کیا آپ کون ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا قریش سے تعلق رکھتا ہوں اس عورت نے دریافت کیا قریش کے کون سے قبیلے سے ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تم سوال بہت زیادہ کرتی ہو۔ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں وہ عورت بولی یہ جو خوشحال زمانہ ہے جو جاہلیت کے بعد اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے یہ کب تک جاری رہے گا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تم لوگ اس حالت میں اس وقت تک باقی رہو گے جب تک تمہارے پیشوا ٹھیک رہیں گے۔ اس عورت نے دریافت کیا پیشو اسے کیا مراد ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کیا تمہاری قوم میں رؤسا اور اشراف نہیں ہیں جو لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں اس عورت نے جواب دیا جی ہاں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا بس اسی کی مثال وہ لوگ ہوں گے جو لوگوں پر حکمران ہوں گے۔

عَبْدُ اللَّهِ السَّمْتُ الطَّرِيقُ ← مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُنَّ مِنْ امْرَأَةٍ أَوْ رَجُلٍ فَالسَّمْتَ الْأَوَّلَ فَإِنَّكُمْ عَلَى الْفِطْرَةِ ← رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يُوصِي الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ ← امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا عَائِذَةُ ← وَاصِلٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 216

chevron_left Previous
1…171819…56
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door