Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 193

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ عَنْ مَطَرٍ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّهُ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ قَالَ قَاسَ إِبْلِيسُ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ قَاسَ

ابن سیرین ارشاد فرماتے ہیں سب سے پہلے ابلیس نے قیاس کیا تھا اور سورج اور چاند کی پرستش بھی قیاس کی وجہ سے کی گئی ہے۔

قَاسَ إِبْلِيسُ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ قَاسَ ← الْحَسَنِ أَنَّهُ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ ← مَطَرٍ، ← ابْنِ شَوْذَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 193

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 194

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي أَخَافُ أَوْ أَخْشَى أَنْ أَقِيسَ فَتَزِلَّ قَدَمِي

حضرت حسن بصری نے یہ آیت( خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ) تلاوت کی" تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے " ۔

إِنِّي أَخَافُ أَوْ أَخْشَى أَنْ أَقِيسَ فَتَزِلَّ قَدَمِي ← مَسْرُوقٍ أَنَّهُ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 194

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 195

أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ وَاللَّهِ لَئِنْ أَخَذْتُمْ بِالْمَقَايِيسِ لَتُحَرِّمُنَّ الْحَلَالَ وَلَتُحِلُّنَّ الْحَرَامَ

مسروق ارشاد فرماتے ہیں مجھے اس بات کا خوف ہے مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ اگر میں قیاس سے کام لوں تو میرے پاؤں پھسل جائیں گے۔

وَاللَّهِ لَئِنْ أَخَذْتُمْ بِالْمَقَايِيسِ لَتُحَرِّمُنَّ الْحَلَالَ وَلَتُحِلُّنَّ الْحَرَامَ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَعِيلُ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 195

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 196

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ كَانَ يَقُولُ مَا أَبْغَضَ إِلَيَّ أَرَأَيْتَ أَرَأَيْتَ يَسْأَلُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ فَيَقُولُ أَرَأَيْتَ وَكَانَ لَا يُقَايِسُ

شعبی بیان کرتے ہیں اللہ کی قسم قیاس کرنا شروع کردو تو تم حلال کو حرام قرار دو گے اور حرام کو حلال قرار دو گے۔

أَرَأَيْتَ وَكَانَ لَا يُقَايِسُ ← مَا أَبْغَضَ إِلَيَّ أَرَأَيْتَ أَرَأَيْتَ يَسْأَلُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ ← كان ← عَامِرٍ أَنَّهُ ← إِسْمَعِيلُ ← أَبِي ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 196

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 197

أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ الزِّبْرِقَانِ قَالَ نَهَانِي أَبُو وَائِلٍ أَنْ أُجَالِسَ أَصْحَابَ أَرَأَيْتَ

عامر بیان کرتے ہیں کہ میرے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات یہ سوال ہے کہ آپ کی رائے اس بارے میں کیا ہے تم نے غور کیا ایک شخص اپنے ساتھیوں سے سوال کرتا ہے اور یہ کہتا ہے آپ کی رائے کیا ہے ۔ (راوی بیان کرتے ہیں) عامر قیاس سے کام نہیں لیتے تھے۔

نَهَانِي أَبُو وَائِلٍ أَنْ أُجَالِسَ أَصْحَابَ أَرَأَيْتَ ← الزِّبْرِقَانِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 197

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 198

أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ لَوْ أَنَّ هَؤُلَاءِ كَانُوا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَزَلَتْ عَامَّةُ الْقُرْآنِ يَسْأَلُونَكَ يَسْأَلُونَكَ

زبرقان بیان کرتے ہیں حضرت ابووائل نے مجھے اس بات سے منع کیا تھا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے بچوں جو یہ کہتے ہیں (اس مسئلہ میں) آپ کی کیا رائے ہے۔

لَوْ أَنَّ هَؤُلَاءِ كَانُوا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ لَنَزَلَتْ عَامَّةُ الْقُرْآنِ يَسْأَلُونَكَ يَسْأَلُونَكَ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَعِيلُ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 198

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 199

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ طَلْحَةَ عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ يَا أَبَا حَمْزَةَ وَاللَّهِ لَقَدْ تَكَلَّمْتُ وَلَوْ وَجَدْتُ بُدًّا مَا تَكَلَّمْتُ وَإِنَّ زَمَانًا أَكُونُ فِيهِ فَقِيهَ أَهْلِ الْكُوفَةِ زَمَانُ سُوءٍ

شعبی ارشاد فرماتے ہیں اگر یہ لوگ جو قیاس سے کام لیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود ہوتے تو قرآن کی آیات عام طور پر ان الفاظ میں نازل ہوتیں لوگ تم سے یہ سوال کرتے ہیں، لوگ تم سے یہ سوال کرتے ہیں۔

مَيْمُونِ أَبِي حَمْزَةَ ← مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ طَلْحَةَ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 199

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 200

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ إِيَّاكَ وَالْمُكَايَلَةَ يَعْنِي فِي الْكَلَامِ

ابوحمزہ میمون ارشاد فرماتے ہیں ابراہیم نے مجھ سے کہا اے ابوحمزہ اللہ کی قسم میں بات کرلیتاہوں اگر میرے پاس کوئی چارہ ہوتا تو میں کبھی بھی (کسی شرعی مسئلے کے بارے میں بات نہ کرتا) اور وہ زمانہ بہت ہی برا ہے جس میں مجھے اہل کوفہ کا فقیہ (یامفتی) سمجھاجائے۔

عُمَرُ إِيَّاكَ وَالْمُكَايَلَةَ يَعْنِي فِي الْكَلَامِ ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 200

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 201

أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ شَهِدْتُ شُرَيْحًا وَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ مُرَادٍ فَقَالَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ مَا دِيَةُ الْأَصَابِعِ قَالَ عَشْرٌ عَشْرٌ قَالَ يَا سُبْحَانَ اللَّهِ أَسَوَاءٌ هَاتَانِ جَمَعَ بَيْنَ الْخِنْصِرِ وَالْإِبْهَامِ فَقَالَ شُرَيْحٌ يَا سُبْحَانَ اللَّهِ أَسَوَاءٌ أُذُنُكَ وَيَدُكَ فَإِنَّ الْأُذُنَ يُوَارِيهَا الشَّعْرُ وَالْكُمَّةُ وَالْعِمَامَةُ فِيهَا نِصْفُ الدِّيَةِ وَفِي الْيَدِ نِصْفُ الدِّيَةِ وَيْحَكَ إِنَّ السُّنَّةَ سَبَقَتْ قِيَاسَكُمْ فَاتَّبِعْ وَلَا تَبْتَدِعْ فَإِنَّكَ لَنْ تَضِلَّ مَا أَخَذْتَ بِالْأَثَرِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لِي الشَّعْبِيُّ يَا هُذَلِيُّ لَوْ أَنَّ أَحْنَفَكُمْ قُتِلَ وَهَذَا الصَّبِيُّ فِي مَهْدِهِ أَكَانَ دِيَتُهُمَا سَوَاءً قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَأَيْنَ الْقِيَاسُ

مجاہد ارشاد فرماتے ہیں حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں ناپ تول سے بچو (راوی بیان کرتے ہیں) یعنی گفتگو کے دوران (قیاس کرنے سے بچو) ۔

عَشْرٌ عَشْرٌ ← يَا أَبَا أُمَيَّةَ مَا دِيَةُ الْأَصَابِعِ ← شَهِدْتُ شُرَيْحًا وَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ مُرَادٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، ← حَجَّاجٌ الْبَصْرِيُّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 201

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 202

أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُفْتَحُ الْقُرْآنُ عَلَى النَّاسِ حَتَّى يَقْرَأَهُ الْمَرْأَةُ وَالصَّبِيُّ وَالرَّجُلُ فَيَقُولُ الرَّجُلُ قَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فَلَمْ أُتَّبَعُ وَاللَّهِ لَأَقُومَنَّ بِهِ فِيهِمْ لَعَلِّي أُتَّبَعُ فَيَقُومُ بِهِ فِيهِمْ فَلَا يُتَّبَعُ فَيَقُولُ قَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فَلَمْ أُتَّبَعْ وَقَدْ قُمْتُ بِهِ فِيهِمْ فَلَمْ أُتَّبَعْ لَأَخْتَصِرَنَّ فِي بَيْتِي مَسْجِدًا لَعَلِّي أُتَّبَعْ فَيَخْتَصِرُ فِي بَيْتِهِ مَسْجِدًا فَلَا يُتَّبَعُ فَيَقُولُ قَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فَلَمْ أُتَّبَعْ وَقُمْتُ بِهِ فِيهِمْ فَلَمْ أُتَّبَعْ وَقَدْ اخْتَصَرْتُ فِي بَيْتِي مَسْجِدًا فَلَمْ أُتَّبَعْ وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ بِحَدِيثٍ لَا يَجِدُونَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَسْمَعُوهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ لَعَلِّي أُتَّبَعُ قَالَ مُعَاذٌ فَإِيَّاكُمْ وَمَا جَاءَ بِهِ فَإِنَّ مَا جَاءَ بِهِ ضَلَالَةٌ

شعبی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں قاضی شریح کے پاس موجود تھا قبیلہ مراد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا اے ابوامیہ (یہ قاضی شریح کی کنیت ہے) انگلیوں کی دیت کیا ہے ۔ قاضی صاحب نے جواب دیا دس اونٹ وہ شخص بولا سبحان اللہ کیا یہ دونوں برابر ہیں۔ اس نے انگھوٹے اور سب سے چھوٹی انگلی کے ذریعے اشارہ کرکے کہا قاضی شریح نے جواب دیا سبحان اللہ کیا تمہارا کان اور تمہارے ہاتھ برابر کی حثیت رکھتے ہیں کیونکہ کان کو تو بال،ٹوپی یا عمامہ ڈھانپ لیتے اور ان میں نصف دیت ہوتی ہے جبکہ ہاتھ کی دیت بھی نصف دیت ہوتی ہے تمہارا ستیاناس ہو تمہارے قیاس سے پہلے سنت کا حکم آچکا ہے اس لئے تم اس کی پیروی کرو اور بدعت اختیار کرنے کی کوشش نہ کرو۔ تم اس وقت تک گمراہی کا شکار نہیں ہو گے جب تک تم سنت پر عمل کرتے رہو گے۔ ابوبکر نامی راوی کہتے ہیں امام شعبی نے مجھ سے کہا اے ھذلی اگر تمہارے ایک بڑے سمجھ دار آدمی کو اور جھولے میں موجود ایک بچے کو قتل کر دیا جائے تو کیا ان کی دیت برابر نہیں ہوگی؟ میں نے جواب دیا جی ہاں توشعبی نے دریافت کیا پھر قیاس کہاں گیا۔

رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← سَعِيدٌ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 202

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 203

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ هُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ قَالَ قَالَ لِيَ الشَّعْبِيُّ مَا حَدَّثُوكَ هَؤُلَاءِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخُذْ بِهِ وَمَا قَالُوهُ بِرَأْيِهِمْ فَأَلْقِهِ فِي الْحُشِّ

حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں قرآن لوگوں کے لئے کھول دیا جائے گا یہاں تک کہ ایک عام عورت بچہ اور مرد اسے پڑھیں گے مرد یہ کہے گا میں نے قرآن پڑھا اور میری پیروی نہیں کی گئی اللہ کی قسم میں لوگوں کے درمیان اس کو پڑھوں گا تاکہ میری پیروی کی جائے پھر وہ اسے لوگوں کے درمیان پڑھے گا لیکن اس کی پیروی نہیں کی جائے گی پھر وہ یہ کہے گا میں نے قرآن پڑھا لیکن میری پیروی نہیں کی گئی۔ پھر میں نے اسے لوگوں کے درمیان پڑھا پھر بھی میری پیروی نہیں کی گئی۔ اب میں اپنے گھر کے اندر ایک مسجد بناؤں گا تاکہ میری پیروی کی جائے پھر وہ شخص اپنے گھر کے اندر ایک مسجد بنائے گا پھر بھی اس کی پیروی نہیں کی جائے گی تو وہ یہ کہے گا میں نے قرآن کا علم حاصل کیا لیکن میری پیروی نہیں کی گئی میں نے اسے لوگوں کے درمیان پڑھا پھر بھی میری پیروی نہیں ۔ پھر میں نے اسے اپنے گھر کے اندر مسجد میں پڑھا پھر بھی میری پیروی نہیں کی گئی اللہ کی قسم میں ان لوگوں کے پاس ایک ایسی بات لے کر آؤں گا جس کے بارے میں وہ اللہ کی کتاب میں کوئی حکم نہیں پائیں گے اور اس بارے میں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث نہیں سنی ہوگی اس طرح وہ لوگ میری پیروی کریں گے۔ حضرت معاذ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس شخص سے وہ چیز جو لے کر آئے اس سے تم بچنے کی کوشش کرنا اس لئے کہ جو وہ لے کے آئے گا وہ گمراہی ہوگی۔

رَسُولِ اللَّهِ فَخُذْ بِهِ وَمَا قَالُوهُ بِرَأْيِهِمْ فَأَلْقِهِ فِي الْحُشِّ ← لِيَ الشَّعْبِيُّ مَا حَدَّثُوكَ هَؤُلَاءِ ← مَالِکٌ هُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 203

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 204

أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يَقُولُ قَدْ رَضِيتُ مِنْ أَهْلِ زَمَانِي هَؤُلَاءِ أَنْ لَا يَسْأَلُونِي وَلَا أَسْأَلُهُمْ إِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَرَأَيْتَ أَرَأَيْتَ

ابن مغول بیان کرتے ہیں شعبی نے مجھے یہ کہا علماء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو حدیث تمہارے سامنے بیان کریں تم اس پر عمل کرو اور جو چیز وہ اپنی رائے سے بیان کریں اسے کوڑے میں ڈال دو۔

أَحَدُهُمْ أَرَأَيْتَ أَرَأَيْتَ ← قَدْ رَضِيتُ مِنْ أَهْلِ زَمَانِي هَؤُلَاءِ أَنْ لَا يَسْأَلُونِي وَلَا أَسْأَلُهُمْ إِنَّمَا ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 204

chevron_left Previous
1…161718…56
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door