Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 494

أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَشْعَثِ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ مَعَ رَجُلٍ صَحِيفَةً فِيهَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَقُلْتُ أَنْسِخْنِيهَا فَكَأَنَّهُ بَخِلَ بِهَا ثُمَّ وَعَدَنِي أَنْ يُعْطِيَنِيهَا فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ فَإِذَا هِيَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ إِنَّ مَا فِي هَذَا الْكِتَابِ بِدْعَةٌ وَفِتْنَةٌ وَضَلَالَةٌ وَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ هَذَا وَأَشْبَاهُ هَذَا إِنَّهُمْ كَتَبُوهَا فَاسْتَلَذَّتْهَا أَلْسِنَتُهُمْ وَأُشْرِبَتْهَا قُلُوبُهُمْ فَأَعْزِمُ عَلَى كُلِّ امْرِئٍ يَعْلَمُ بِمَكَانِ كِتَابٍ إِلَّا دَلَّ عَلَيْهِ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ قَالَ شُعْبَةُ فَأَقْسَمَ بِاللَّهِ قَالَ أَحْسَبُهُ أَقْسَمَ لَوْ أَنَّهَا ذُكِرَتْ لَهُ بِدَارِ الْهِنْدِ أُرَاهُ يَعْنِي مَكَانًا بِالْكُوفَةِ بَعِيدًا إِلَّا أَتَيْتُهُ وَلَوْ مَشْيًا

اشعث اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جو حضرت عبداللہ کے ساتھیوں میں سے ایک تھے وہ بیان کرتے ہیں میں نے ایک شخص کے پاس ایک صحیفہ دیکھا جس میں سبحان اللہ، الحمدللہ، لاالہ الااللہ، اللہ اکبر تحریر تھا میں نے اس سے کہا تم مجھے اس کا ایک نسخہ تیار کردو۔ اس نے اس بارے میں کنجوسی کا مظاہرہ کیا اور مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ پھر کسی وقت کردے گا۔ میں حضرت عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ تحریر ان کے سامنے موجود تھی حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا اس کتاب میں جو کچھ بھی موجود ہے یہ بدعت ہے آزمائش ہے اور گمراہی ہے تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے کہ وہ اس طرح کی باتیں لکھ لیا کرتے تھے ان کی زبانیں ان سے مانوس ہوجاتی تھیں ان کے دل ان کی طرف مائل ہوجاتے تھے۔ میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ہر وہ شخص جس کو ایسی تحریر کا علم ہو وہ اس کی طرف رہنمائی کرے اور میں اللہ کی قسم دیتاہوں۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں میں نے دریافت کیا کیا انہوں نے اللہ کی قسم دی تھی۔ انہوں نے جواب دیا میرا خیال ہے کہ انہوں نے قسم دی تھی اگر ان کے سامنے یہ بات بیان کی جاتی کہ دار ہند میں وہ تحریر موجود ہے جو کوفہ کا ایک دور دراز مقام ہے تو حضرت عبداللہ بن مسعود وہاں بھی پہنچ جاتے خواہ انہیں پیدل چل کے جانا پڑے۔

الْأَشْعَثِ ← شُعْبَةُ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 494

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 495

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَتَبُوا كِتَابًا فَتَبِعُوهُ وَتَرَكُوا التَّوْرَاةَ

حضرت ابوموسی ارشاد فرماتے ہیں بنی اسرائیل نے خود ایک کتاب لکھی اور اس کی پیروی کرنی شروع کردی اور پھر تورات کو ترک کردیا۔

أَبِي مُوسَى أَنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَتَبُوا كِتَابًا فَتَبِعُوهُ وَتَرَكُوا التَّوْرَاةَ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 495

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 496

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عُثْمَانَ أَبِي الْمُغِيرَةِ عَنْ عَفَّاقٍ الْمُحَارِبِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ إِنَّ نَاسًا يَسْمَعُونَ كَلَامِي ثُمَّ يَنْطَلِقُونَ فَيَكْتُبُونَهُ وَإِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَكْتُبَ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں لوگ مجھ سے کوئی بات سن کر چلے جاتے ہیں اور پھر اسے نوٹ کرلیتے ہیں میں کسی شخص کے لئے یہ بات جائز قرار نہیں دیتا کہ وہ اللہ کی کتاب کے علاوہ کسی اور بات کو نوٹ کرے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← عفاق المحاربي ← عُثْمَانَ أَبِي الْمُغِيرَةِ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 496

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 497

أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ مَا كَتَبْتُ سَوْدَاءَ فِي بَيْضَاءَ وَلَا اسْتَعَدْتُ حَدِيثًا مِنْ إِنْسَانٍ

امام شعبی ارشاد فرماتے ہیں میں سفید کاغذ پر سیاہی کےساتھ کچھ نہیں نوٹ کرتا اور نہ ہی کسی شخص کے سامنے کوئی حدیث دوبارہ بیان کرتا ہوں۔

مَا كَتَبْتُ سَوْدَاءَ فِي بَيْضَاءَ وَلَا اسْتَعَدْتُ حَدِيثًا مِنْ إِنْسَانٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← ابْنِ شُبْرُمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← مَالِکُ بْنُ إِسْمَعِيلَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 497

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 498

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَخِيهِ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَلَا أَكْتُبُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں مجھ سے زیادہ حدیث صرف حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نوٹ کرلیا کرتے تھے اور میں نوٹ نہیں کرتا تھا۔

لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ أَكْثَرَ حَدِيثًا ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَخِيهِ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 498

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 499

أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ وَقَالُوا تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَأَمْسَكْتُ عَنْ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَوْمَأَ بِإِصْبَعِهِ إِلَى فِيهِ وَقَالَ اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ

حضرت عبداللہ بن عمرو ارشاد فرماتے ہیں پہلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو بھی بات سنتا تھا اسے نوٹ کرلیتا تھا میرا ارادہ یہ ہوتا تھا کہ میں اسے یاد کروں گا قریش نے مجھے اس بات سے منع کیا اور یہ بات کہی تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی ہر بات نوٹ کرلیتے ہو جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک انسان ہیں آپ کسی وقت غصے کے عالم میں اور کسی وقت خوشی کے عالم میں کوئی بات ارشاد فرما سکتے ہیں تو میں نوٹ کرنے سے رک گیا پھر میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم سے کیا تو آپ نے اپنی مبارک انگلی کے ذریعے اپنے مبارک منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تم نوٹ کرسکتے ہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس (یعنی منہ سے) حق کے علاوہ کوئی چیز نہیں نکلتی۔

الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ فَأَوْمَأَ بِإِصْبَعِهِ إِلَى فِيهِ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَأَمْسَكْتُ ← تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ ← كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 499

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 500

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَرْوِيَ مِنْ حَدِيثِكَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَعِينَ بِكِتَابِ يَدِي مَعَ قَلْبِي إِنْ رَأَيْتَ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ قَالَهُ عِ حَدِيثِي ثُمَّ اسْتَعِنْ بِيَدِكَ مَعَ قَلْبِكَ

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ میں یہ چاہتا ہوں کہ میں آپ کے حوالے سے حدیث روایت کروں میں نے یہ ارادہ کیا ہے میں اس بارے میں اپنی یاد داشت کے ہمراہ اپنی تحریرات سے بھی مدد حاصل کروں اگر آپ مناسب سمجھیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میری حدیث کو محفوظ کرو اور اس بارے میں اپنے ذہن کے ہمراہ اپنے ہاتھ سے بھی مدد حاصل کرو۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ← مُخْبِرٌ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 500

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 501

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكْتُبُ إِذْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا قُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا بَلْ مَدِينَةُ هِرَقْلَ أَوَّلًا

حضرت عبداللہ بن عمرو ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ نوٹ کررہے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کون سا شہر پہلے فتح ہوگا۔ قسطنطینہ یا رومیہ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہرقل کا شہر پہلے فتح ہوگا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي قَبِيلٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← يَحْيَی بْنُ إِسْحَقَ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 501

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 502

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي ضَمْرَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنْ اكْتُبْ إِلَيَّ بِمَا ثَبَتَ عِنْدَكَ مِنْ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِحَدِيثِ عَمْرَةَ فَإِنِّي قَدْ خَشِيتُ دُرُوسَ الْعِلْمِ وَذَهَابَهُ

حضرت عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن محمد کو خط لکھا آپ کے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو مستند احادیث ہیں آپ وہ لکھ کر میرے پاس بھیجوائیں اور عمرہ کی احادیث بھی بھجوائیں کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ علم رخصت ہوجائے گا۔

عبد الله بن دينار ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ضَمْرَةَ، ← إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 502

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 503

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ انْظُرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاكْتُبُوهُ فَإِنِّي قَدْ خِفْتُ دُرُوسَ الْعِلْمِ وَذَهَابَ أَهْلِهِ

حضرت عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اہل مدینہ کو خط لکھا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث تلاش کرکے انہیں نوٹ کرلو کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ علم رخصت ہوجائے گا اور اہل علم بھی رخصت ہوجائیں گے۔

عبد الله بن دينار ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 503

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 504

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ يَعِيبُونَ عَلَيْنَا الْكِتَابَ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي فِي كِتَابٍ

ابوملیح بیان کرتے ہیں لوگ ہمارے اوپر تحریری طور پر محفوظ کرنے کی وجہ سے عیب لگاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے"اس کا علم میرے پروردگار کے ہاں تحریر میں محفوظ ہے"۔

اللَّهُ تَعَالَى عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي فِي كِتَابٍ ← يَعِيبُونَ عَلَيْنَا الْكِتَابَ وَقَدْ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 504

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 505

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا سَوَادَةُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ أَبَا إِيَاسٍ يَقُولُ كَانَ يُقَالُ مَنْ لَمْ يَكْتُبْ عِلْمَهُ لَمْ يُعَدَّ عِلْمُهُ عِلْمًا

سوادہ بن حیان بیان کرتے ہیں میں نے معاویہ بن قرہ کو ابوایاس سے یہ کہتے ہوئے سنا جو شخص اپنے علم کو نوٹ نہیں کرتا اس کے علم کو علم شمار نہیں کیا جاتا۔

كَانَ يُقَالُ مَنْ لَمْ يَكْتُبْ عِلْمَهُ لَمْ يُعَدَّ عِلْمُهُ عِلْمًا ← مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ أَبَا إِيَاسٍ ← سَوَادَةُ بْنُ حَيَّانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 505

chevron_left Previous
1…414243…56
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door