Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 482

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ يُونُسَ قَالَ كَانَ الْحَسَنُ يَكْتُبُ وَيُكْتِبُ وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ لَا يَكْتُبُ وَلَا يُكْتِبُ

یونس بیان کرتے ہیں حضرت حسن حدیث نوٹ کرلیا کرتے تھے اور نوٹ کروا بھی دیا کرتے تھے جبکہ ابن سیرین نہ خود نوٹ کرتے تھے اور نہ نوٹ کروایا کرتے تھے۔

كَانَ الْحَسَنُ يَكْتُبُ وَيُكْتِبُ وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ لَا يَكْتُبُ وَلَا يُكْتِبُ ← يُونُسَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 482

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 483

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ بَلَغَ ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّ عِنْدَ نَاسٍ كِتَابًا يُعْجَبُونَ بِهِ فَلَمْ يَزَلْ بِهِمْ حَتَّى أَتَوْهُ بِهِ فَمَحَاهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ أَقْبَلُوا عَلَى كُتُبِ عُلَمَائِهِمْ وَتَرَكُوا كِتَابَ رَبِّهِمْ

ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ پتا چلا کہ کچھ لوگوں کے پاس ایک تحریر ہے جسے وہ بہت پسند کرتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ان کے پاس تشریف لائے اور اسے مٹادیا اور ارشاد فرمایا تم سے پہلے اہل کتاب اسی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنے علماء کی کتابوں کو پڑھنا شروع کردیا تھا اور اپنے پروردگار کی کتاب کو چھوڑ دیا تھا۔

بَلَغَ ابْنَ مَسْعُودٍ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← العوام ← يَزِيدُ:

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 483

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 484

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبِيدَةَ أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْكَ قَالَ لَا قُلْتُ فَإِنْ وَجَدْتُ كِتَابًا أَقْرَؤُهُ قَالَ لَا

امام محمد بیان کرتے ہیں میں نے عبیدہ سے کہا آپ سے میں جو بات سنتا ہوں اسے نوٹ کرلیا کرتا ہوں انہوں نے جواب دیا نہیں میں نے کہا اگر مجھے کوئی تحریر مل جائے تو میں اسے پڑھ لیا کروں انہوں نے جواب دیا نہیں۔

لَا۔ ← لَا قُلْتُ فَإِنْ وَجَدْتُ كِتَابًا أَقْرَؤُهُ ← قُلْتُ لِعَبِيدَةَ أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْكَ ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 484

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 485

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَلَا تُكْتِبُنَا فَإِنَّا لَا نَحْفَظُ فَقَالَ لَا إِنَّا لَنْ نُكْتِبَكُمْ وَلَنْ نَجْعَلَهُ قُرْآنًا وَلَكِنْ احْفَظُوا عَنَّا كَمَا حَفِظْنَا نَحْنُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابونضرہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے کہا کیا ہم آپ کے حوالے سے احادیث نوٹ نہ کرلیا کریں کیونکہ ہمیں بات یاد نہیں رہتی انہوں نے جواب دیا نہیں ہم تمہیں ہرگز نوٹ نہیں کروائیں گے اور ہم ان تحریرات کو قرآن جیسا نہیں بنائیں گے بلکہ تم ہمارے حوالے سے احادیث اسی طرح یاد کرلیا کرو جیسے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر یاد رکھتے تھے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← لَنْ نُكْتِبَكُمْ وَلَنْ نَجْعَلَهُ قُرْآنًا وَلَكِنْ احْفَظُوا عَنَّا كَمَا حَفِظْنَا نَحْنُ ← قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَلَا تُكْتِبُنَا فَإِنَّا لَا نَحْفَظُ فَقَالَ لَا ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 485

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 486

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا كَثِيرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَا يَكْتُبُ وَلَا يُكْتِبُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نہ خود نوٹ کرتا ہے اور نہ کسی کو نوٹ کرواتا ہے۔

إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَا يَكْتُبُ وَلَا يُكْتِبُ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا كَثِيرٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 486

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 487

أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ حَدِيثَ أَبِيهِ فَرَآهُ أَبُو مُوسَى فَمَحَاهُ

حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں وہ پہلے اپنے والد کے حوالے سے احادیث نوٹ کرلیا کرتے تھے ایک مرتبہ حضرت ابوموسی نے اسے دیکھ لیا تو اسے مٹا دیا۔

أَبِي بُرْدَةَ أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ حَدِيثَ أَبِيهِ فَرَآهُ أَبُو مُوسَى فَمَحَاهُ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← شُعْبَةُ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 487

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 488

أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَوْنٍ وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ حَدِيثًا قَطّ

قریش بن انس بیان کرتے ہیں ابن عون نے مجھ سے کہا اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی حدیث نوٹ نہیں کی۔ ابن سیرین بیان کرتے ہیں اللہ کی قسم میں نے بھی کبھی کوئی حدیث نوٹ نہیں کی۔

لِي ابْنُ عَوْنٍ وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ حَدِيثًا قَطّ ← قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 488

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 489

ُقَالَ ابْنُ عَوْنٍ قَالَ ابْنُ سِيرِينَ لَا وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ حَدِيثًا قَطُّ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ قَالَ لِي ابْنُ سِيرِينَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَرَادَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنْ أُكْتِبَهُ شَيْئًا قَالَ فَلَمْ أَفْعَلْ قَالَ فَجَعَلَ سِتْرًا بَيْنَ مَجْلِسِهِ وَبَيْنَ بَقِيَّةِ دَارِهِ قَالَ فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ وَيَتَحَدَّثُونَ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ فَأَقْبَلَ مَرْوَانُ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ خُنَّاهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ قَالَ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ قَالَ مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ خُنَّاكَ قَالَ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ قَالَ إِنَّا أَمَرْنَا رَجُلًا يَقْعُدُ خَلْفَ هَذَا السِّتْرِ فَيَكْتُبُ مَا تُفْتِي هَؤُلَاءِ وَمَا تَقُولُ

ابن عون بیان کرتے ہیں ابن سیرین نے مجھ سے کہا حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں مروان بن حکم مدینے کا گورنر تھا اس نے یہ چاہا کہ میں اسے کوئی چیز نوٹ کروا دوں۔ حضرت زید فرماتے ہیں میں نے ایسا نہیں کیا حضرت زید فرماتے ہیں پھر اس نے اپنی محفل اور گھر کے بقیہ حصے کے درمیان ایک پردہ ڈلوا دیا۔ حضرت زید فرماتے ہیں لوگ اس کے پاس آیا کرتے تھے اور اس جگہ پر بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے ایک دن مروان نے اپنے ساتھیوں سے کہا میرا یہ خیال ہے کہ ہم نے آپ کے ساتھ بے ایمانی کی ہے میں نے دریافت کیا وہ کیا اس نے کہا میں نے ایک شخص کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ اس پردے کے دوسری طرف بیٹھ جایا کرے اور آپ جو فتوی دیتے ہیں اور جو بیان کرتے ہیں اسے نوٹ کرلیا کرے۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَرَادَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ ← لِي ابْنُ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← ابْنُ سِيرِينَ لَا وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ حَدِيثًا قَطُّ ← ابْنِ عَوْنٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 489

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 490

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ إِنَّ سَالِمًا أَتَمُّ مِنْكَ حَدِيثًا قَالَ إِنَّ سَالِمًا كَانَ يَكْتُبُ

منصور بیان کرتے ہیں میں نے ابراہیم سے کہا سالم آپ کے مقابلے میں زیادہ مکمل حدیث بیان کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا سالم حدیث کو نوٹ کرلیا کرتے تھے۔

إِنَّ سَالِمًا كَانَ يَكْتُبُ ← قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ إِنَّ سَالِمًا أَتَمُّ مِنْكَ حَدِيثًا ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَفَّانُ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 490

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 491

أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْحِمْصِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ قَالَ وَفَدْتُ مَعَ أَبِي إِلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بِحُوَّارَيْنَ حِينَ تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ نُعَزِّيهِ وَنُهَنِّيهِ بِالْخِلَافَةِ فَإِذَا رَجُلٌ فِي مَسْجِدِهَا يَقُولُ أَلَا إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُرْفَعَ الْأَشْرَارُ وَتُوضَعَ الْأَخْيَارُ أَلَا إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَظْهَرَ الْقَوْلُ وَيُخْزَنَ الْعَمَلُ أَلَا إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُتْلَى الْمَثْنَاةُ فَلَا يُوجَدُ مَنْ يُغَيِّرُهَا قِيلَ لَهُ وَمَا الْمَثْنَاةُ قَالَ مَا اسْتُكْتِبَ مِنْ كِتَابٍ غَيْرِ الْقُرْآنِ فَعَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ فَبِهِ هُدِيتُمْ وَبِهِ تُجْزَوْنَ وَعَنْهُ تُسْأَلُونَ فَلَمْ أَدْرِ مَنْ الرَّجُلُ فَحَدَّثْتُ بِذَا الْحَدِيثِ بَعْدَ ذَلِكَ بِحِمْصَ فَقَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَوَ مَا تَعْرِفُهُ قُلْتُ لَا قَالَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو

عمرو بن قیس بیان کرتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ وفد کی شکل میں یزید بن معاویہ کی خدمت میں حوارین میں حاضر ہوا یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت معاویہ کا انتقال ہوا تھا ہم نے یزید سے تعزیت کرنی تھی اور اسے خلافت کی مبارک باد دینی تھی ہم نے دیکھا ایک شخص مسجد میں یہ کہہ رہا ہے خبردار قیامت کی نشانیوں میں ایک یہ بات بھی ہے کہ برے لوگوں کو چڑھا دیا جائے گا اور نیک لوگوں کو اٹھالیا جائے گا۔ خبردار قیامت کی نشانیوں میں ایک یہ بات بھی ہے کہ باتیں کی جائیں گی اور عمل ترک کردیا جائے گا۔ خبردار قیامت کی نشانیوں میں ایک یہ بات بھی کہ مثنات کو پڑھا جائے گا اور کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو اسے مٹادے۔ ان سے دریافت کیا گیا مثنات کیا ہے انہوں نے جواب دیا وہ چیز جو قرآن کے علاوہ ہو اسے نوٹ کیا جائے تمہارے اوپر لازم ہے کہ تم قرآن کو اختیار کرو اور اس کے ذریعے ہی تمہیں ہدایت ملے گی۔ اسی کے ذریعے تمہیں بدلہ ملے گا اور اسی کے حوالے سے تم سے حساب لیا جائے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں مجھے نہیں پتہ چلا کہ وہ کون صاحب ہیں میں نے حمص میں یہ حدیث بیان کی تو حاضرین میں سے ایک شخص نے مجھ سے دریافت کیا کیا تم نے انہیں پہچانا نہیں میں نے جواب دیا نہیں اس شخص نے بتایا وہ حضرت عبداللہ بن عمر تھے۔

عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْحِمْصِيُّ ← الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 491

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 492

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ جَاءَ أَبُو قُرَّةَ الْكِنْدِيُّ بِكِتَابٍ مِنْ الشَّامِ فَحَمَلَهُ فَدَفَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَنَظَرَ فِيهِ فَدَعَا بِطَسْتٍ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَرَسَهُ فِيهِ وَقَالَ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاتِّبَاعِهِمْ الْكُتُبَ وَتَرْكِهِمْ كِتَابَهُمْ قَالَ حُصَيْنٌ فَقَالَ مُرَّةُ أَمَا إِنَّهُ لَوْ كَانَ مِنْ الْقُرْآنِ أَوْ السُّنَّةِ لَمْ يَمْحُهُ وَلَكِنْ كَانَ مِنْ كُتُبِ أَهْلِ الْكِتَابِ

مرہ ہمدانی بیان کرتے ہیں ابوقرہ کندی شام سے ایک تحریر لے کر آئے اور اسے حضرت عبداللہ بن مسعود کے سامنے پیش کیا حضرت عبداللہ نے اس کا جائزہ لے کر ایک طشت منگوایا پھر آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پانی میں دھو دیا اور ارشاد فرمایا تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوگئے کہ انہوں نے اس طرح کی کتابوں کی پیروی شروع کردی تھی اور اللہ کی طرف سے ان کے اوپر جو کتاب نازل ہوئی اسے چھوڑ دیا تھا۔ حسین نامی راوی بیان کرتے ہیں مرہ فرماتے ہیں اگر اس میں قرآن یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے متعلق کوئی چیز نہ ہوتی تو حضرت عبداللہ اسے ہرگز نہ مٹاتے۔ اس میں اہل کتاب سے متعلق کوئی چیز ہوگی۔

مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← حُصَيْنٍ ← أَبُو زُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 492

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 493

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَتِفٍ فِيهِ كِتَابٌ فَقَالَ كَفَى بِقَوْمٍ ضَلَالًا أَنْ يَرْغَبُوا عَمَّا جَاءَ بِهِ نَبِيُّهُمْ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ نَبِيٌّ غَيْرُ نَبِيِّهِمْ أَوْ كِتَابٌ غَيْرُ كِتَابِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوَ لَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ الْآيَةَ

یحیی بن جعدہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی جانور کے کندھے کی ہڈی پیش کی گئی جس میں کوئی بات تحریر تھی تو آپ نے ارشاد فرمایا کسی بھی قوم کے گمراہ ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کا نبی ان کے پاس جو چیز لایا ہو وہ اسے چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوجائیں جو کوئی دوسرا نبی لایا تھا یا وہ اپنی کتاب کے بجائے کسی دوسری کتاب کی طرف متوجہ ہوجائیں راوی بیان کرتے ہیں تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ " کیا ان لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر کتاب نازل کی ہے جس کی ان لوگوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے بے شک اس میں رحمت ہے اور نصیحت ہے اس قوم کے لئے جو ایمان رکھتی ہو۔

كَفَى بِقَوْمٍ ضَلَالًا ← أتي النبي بكتف فيه كتاب، ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 493

chevron_left Previous
1…404142…56
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door