Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 374

أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ الْعِلْمُ عِلْمَانِ فَعِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَلِكَ الْعِلْمُ النَّافِعُ وَعِلْمٌ عَلَى اللِّسَانِ فَذَلِكَ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى ابْنِ آدَمَ

حضرت حسن فرماتے ہیں علم کی دو قسمیں ہیں ایک وہ علم جو دل میں ہو اور یہ نفع بخش علم ہے اور دوسرا وہ علم جو زبان پر ہو یہ آدمی کے خلاف اللہ کی حجت ہے۔

الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 374

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 375

أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے طور پر نقل کی ہے۔

النَّبِيِّ مِثْلَ ذَلِكَ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 375

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 376

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَعَلَّمُوا تَعَلَّمُوا فَإِذَا عَلِمْتُمْ فَاعْمَلُوا

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں علم حاصل کرو جب تم علم حاصل کرلو تو اس پر عمل کرو۔

تَعَلَّمُوا تَعَلَّمُوا فَإِذَا عَلِمْتُمْ فَاعْمَلُوا ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 376

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 377

أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَعِيلَ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَدِّبُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِأَرْبَعٍ دَخَلَ النَّارَ أَوْ نَحْوَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ أَوْ لِيَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ أَوْ لِيَأْخُذَ بِهِ مِنْ الْأُمَرَاءِ

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں جو شخص چار مقاصد کے لئے علم حاصل کرے گا وہ جہنم میں جائے گا یا اسی طرح کا کوئی کلمہ انہوں نے ارشاد فرمایا تاکہ اس علم کے ذریعے علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرے تاکہ اس علم کے ذریعے جہلاء کے ساتھ بحث کرے یا اس علم کے ذریعے لوگوں کو توجہ اپنی طرف مبذول کرے یا اس علم کے ذریعے امراء کا قرب حاصل کرے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← أَبُو إِسْمَعِيلَ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَدِّبُ ← أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 377

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 378

أَخْبَرَنَا سَعدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ قَالَ قَرَأْتُ فِي كِتَابٍ بَلَغَنِي أَنَّهُ مِنْ كَلَامِ عِيسَى تَعْمَلُونَ لِلدُّنْيَا وَأَنْتُمْ تُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ عَمَلٍ وَلَا تَعْمَلُونَ لِلْآخِرَةِ وَأَنْتُمْ لَا تُرْزَقُونَ فِيهَا إِلَّا بِالْعَمَلِ وَإِنَّكُمْ عُلَمَاءَ السَّوْءِ الْأَجْرَ تَأْخُذُونَ وَالْعَمَلَ تُضَيِّعُونَ يُوشِكُ رَبُّ الْعَمَلِ أَنْ يَطْلُبَ عَمَلَهُ وَتُوشِكُونَ أَنْ تَخْرُجُوا مِنْ الدُّنْيَا الْعَرِيضَةِ إِلَى ظُلْمَةِ الْقَبْرِ وَضِيقِهِ اللَّهُ نَهَاكُمْ عَنْ الْخَطَايَا كَمَا أَمَرَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ سَخِطَ رِزْقَهُ وَاحْتَقَرَ مَنْزِلَتَهُ وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ اتَّهَمَ اللَّهَ فِيمَا قَضَى لَهُ فَلَيْسَ يَرْضَى شَيْئًا أَصَابَهُ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ دُنْيَاهُ آثَرُ عِنْدَهُ مِنْ آخِرَتِهِ وَهُوَ فِي الدُّنْيَا أَفْضَلُ رَغْبَةً كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ مَصِيرُهُ إِلَى آخِرَتِهِ وَهُوَ مُقْبِلٌ عَلَى دُنْيَاهُ وَمَا يَضُرُّهُ أَشْهَى إِلَيْهِ أَوْ قَالَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِمَّا يَنْفَعُهُ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ يَطْلُبُ الْكَلَامَ لِيُخْبِرَ بِهِ وَلَا يَطْلُبُهُ لِيَعْمَلَ بِهِ

ہشام بن جو دستوائی کے ساتھی ہیں بیان کرتے ہیں میں نے اپنی کتاب میں یہ بات پڑھی ہے حضرت عیسی کے فرامین میں یہ بات شامل ہے تم لوگ دنیا کے لئے عمل کرتے ہو حالانکہ تمہیں دنیا میں کسی عمل کے بغیر رزق دیا جاتا ہے۔ تم لوگ آخرت کے لئے عمل نہیں کرتے حالانکہ تمہیں آخرت میں عمل کے بغیر رزق نہیں ملے گا اے برے علماء تمہارے لئے بربادی ہے تم معاوضہ وصول کرلیتے ہو اور عمل کو ضائع کردیتے ہو عنقریب عمل کا پروردگار ان سے عمل کے بارے میں مطالبہ کرے گا اور عنقریب تم لوگ دنیا سے نکل کر قبر کی تاریکی اور تنگی میں چلے جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں گناہوں سے منع کیا ہے جیساکہ انہوں نے نماز اور روزوں کا حکم دیا ہے ایسا شخص کیسے عالم ہوسکتا ہے جو اپنے رزق سے ناراض ہو اور اپنی حثییت کو کم تر سمجھتا ہوں جبکہ وہ یہ بات جانتا ہو کہ یہ دونوں چیزیں اللہ کے علم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر کے مطابق ہیں۔ ایسا شخص کیسے عالم ہوسکتا ہے جو اللہ کے مقرر کردہ فیصلے پر الزام لگائے اور اس چیز سے راضی نہ ہو جو اسے نصیب ہوئی ہے۔ ایسا شخص کیسے عالم ہو سکتا ہے جس کے نزدیک دنیا آخرت کے مقابلے میں زیادہ قابل ترجیح ہو حالانکہ دنیا میں سب سے زیادہ توجہ آخرت کی طرف مبذول ہونی چاہیے۔ ایسا شخص کیسے عالم ہو سکتا ہے جس کا انجام آخرت ہو لیکن وہ دنیا کی طرف متوجہ ہو اور جس چیز کے مقابلے میں جو اسے نقصان دینے والی ہے اس کی اسے زیادہ خواہش ہو وہ اسے زیادہ محبوب ہو اس چیز کے مقابلے میں جو اسے نفع دے سکی ہے۔ ایسا شخص کیسے عالم ہوسکتا ہے جو علم اس لئے حاصل کرتا ہے لوگوں کو بتائے وہ اس لئے حاصل نہیں کرتا تاکہ اس پر عمل کرے۔

هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، ← سعد بن عامر

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 378

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 379

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ كَانَ يُقَالُ تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَانْتَفِعُوا بِهِ وَلَا تَعَلَّمُوهُ لِتَتَجَمَّلُوا بِهِ فَإِنَّهُ يُوشِكُ إِنْ طَالَ بِكُمْ عُمُرٌ أَنْ يَتَجَمَّلَ ذُو الْعِلْمِ بِعِلْمِهِ كَمَا يَتَجَمَّلُ ذُو الْبِزَّةِ بِبِزَّتِهِ

حبیب بن عبید ارشاد فرماتے ہیں یہ کہا جاتا ہے علم حاصل کرو اس سے نفع حاصل کرو اسے اس لئے حاصل نہ کرو تاکہ اس کے لئے آرائش و زبیائش اختیار کرو کیونکہ عنقریب تمہاری زندگی طویل ہوگی اور وہ وقت آئے گا جب اہل علم علم کے ذریعے اسی طرح آرائش و زیبائش اختیار کریں گے جیسے کوئی شخص اپنے لباس کے ذریعے آرائش کرتا ہے۔

حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← حَرِيزٌ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 379

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 380

أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشَّرِّ فَقَالَ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ الشَّرِّ وَاسْأَلُونِي عَنْ الْخَيْرِ يَقُولُهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ وَإِنَّ خَيْرَ الْخَيْرِ خِيَارُ الْعُلَمَاءِ

احوص بن حکیم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے برائی کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا مجھ سے برائی کے بارے میں سوال نہ کرو مجھ سے بھلائی کے بارے میں سوال کرو یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اس کے بعد آپ نے فرمایا برے لوگوں میں سب سے زیادہ برے برے علماء ہیں اور بہتر لوگوں میں سب سے بہتر بہتر علماء ہیں۔

أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ وَإِنَّ خَيْرَ الْخَيْرِ خِيَارُ الْعُلَمَاءِ ← الْخَيْرِ يَقُولُهَا ثَلَاثًا ثُمَّ ← الشَّرِّ وَاسْأَلُونِي ← الشَّرِّ فَقَالَ لَا تَسْأَلُونِي ← سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ ← أَبِيهِ ← الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ ← بَقِيَّةُ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 380

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 381

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا بِهِ حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ عَنْ عِيسَى قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ إِنَّمَا كَانَ يَطْلُبُ هَذَا الْعِلْمَ مَنْ اجْتَمَعَتْ فِيهِ خَصْلَتَانِ الْعَقْلُ وَالنُّسُكُ فَإِنْ كَانَ نَاسِكًا وَلَمْ يَكُنْ عَاقِلًا قَالَ هَذَا أَمْرٌ لَا يَنَالُهُ إِلَّا الْعُقَلَاءُ فَلَمْ يَطْلُبْهُ وَإِنْ كَانَ عَاقِلًا وَلَمْ يَكُنْ نَاسِكًا قَالَ هَذَا أَمْرٌ لَا يَنَالُهُ إِلَّا النُّسَّاكُ فَلَمْ يَطْلُبْهُ فَقَالَ الشَّعْبِيُّ وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ يَكُونَ يَطْلُبُهُ الْيَوْمَ مَنْ لَيْسَتْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا لَا عَقْلٌ وَلَا نُسُكٌ

شعبی ارشاد فرماتے ہیں وہ شخص طلب کرے جس میں دو خصوصیات پائی جاتی ہوں عقلمندی اور عبادت گزاری۔ جو شخص عبادت گزار ہو اور عقل مند نہ ہو وہ یہ کہے گا یہ وہ کام ہے جسے عقل مند حاصل نہیں کرسکتے اس لئے وہ اسے طلب نہیں کرے گا اور اگر وہ شخص جو عقلمند ہو اور عبادت گزار نہ ہو تو یہ کہے گا کہ یہ وہ معاملہ ہے جسے عبادت گزار حاصل نہیں کرسکتے اس لئے وہ اس کی طلب بھی نہیں کرے گا۔ شعبی ارشاد فرماتے ہیں اب تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ آج کل وہ لوگ علم حاصل کرنا شروع نہ کر چکے ہوں جن میں ان دونوں میں سے کوئی بھی خصوصیات نہیں پائی جاتی نہ عقل پائی جاتی ہے اور نہ عبادت گزاری پائی جاتی ہے۔

الشَّعْبِيِّ، ← عِيسَى؛ ← بِهِ حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 381

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 382

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ زَعَمَ لِي سُفْيَانُ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ لَا يَطْلُبُ الْعِلْمَ حَتَّى يَتَعَبَّدَ قَبْلَ ذَلِكَ أَرْبَعِينَ سَنَةً

ابوعاصم بیان کرتے ہیں سفیان نے مجھ سے بات بیان کی کوئی بھی شخص اس وقت علم حاصل کرنا شروع نہ کرے جب تک اس سے پہلے چالیس برس تک عبادت نہ کر لے۔

كَانَ الرَّجُلُ لَا يَطْلُبُ الْعِلْمَ حَتَّى يَتَعَبَّدَ قَبْلَ ذَلِكَ أَرْبَعِينَ سَنَةً ← زَعَمَ لِي سُفْيَانُ ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 382

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 383

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ وَلِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ لِيَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ

مکحول ارشاد فرماتے ہیں جو شخص علم اس لئے حاصل کرے تاکہ اس کے ذریعے بیوقوف لوگوں سے بحث کرے اور علماء کے سامنے فخر کرسکے یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر سکے تو وہ شخص جہنم میں جائے گا۔

مَكْحُولٌ ← بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ أَبِي الْعَلَاءِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 383

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 384

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ أَوْ يُرِيدُ أَنْ يُقْبِلَ بِوُجُوهِ النَّاسِ إِلَيْهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ

مکحول روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص علم اس لئے حاصل کرے تاکہ اس ذریعے علماء کے سامنے فخر کرسکے یا بیوقوف لوگوں کے ساتھ بحث کر سکے یا اس کا ارادہ یہ ہو کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم میں داخل کرے گا۔

مَكْحُولٌ ← النُّعْمَانِ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 384

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 385

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا يُحْفَظُ حَدِيثُ الرَّجُلِ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ

حضرت ابن مسعود ارشاد فرماتے ہیں آدمی کی اس بات کی نیت کے حساب سے یاد رکھی جاتی ہے۔

إِنَّمَا يُحْفَظُ حَدِيثُ الرَّجُلِ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 385

chevron_left Previous
1…313233…56
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door