Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 362

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْمُجْتَهِدِ مِائَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ حُضْرُ الْفَرَسِ الْمُضَمَّرِ السَّرِيعِ

زہری ارشاد فرماتے ہیں عالم شخص کی عبادت گزار شخص پر ایک سو گنا فضیلت ہے جن میں ہر دو درجوں کے درمیان تیز رفتار سدھائے ہوئے گھوڑے کے پانچ سو برس کی مسافت کا فاصلہ ہے۔

الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 362

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 363

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي السَّكَنُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ قَالَ يَرْفَعُ اللَّهُ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا بِدَرَجَاتٍ

ارشاد باری تعالیٰ ہے "تممیں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہیں علم عطا کیا گیا اللہ ان کے درجات بلند کرے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں جو لوگ ایمان لائے ان کے مقابلے میں اللہ ان لوگوں کے درجات زیادہ بلند کرے گا جنہیں علم عطا کیا گیا۔

يَرْفَعُ اللَّهُ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا بِدَرَجَاتٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ← عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، ← السَّكَنُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 363

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 364

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَعِيلَ عَنْ عَمْرِو بْنِ كَثِيرٍ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الْإِسْلَامَ فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ

حضرت حسن بصری روایت کرتے یں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو اس حال میں موت آجائے کہ وہ علم کی طلب میں ہو تاکہ اس کے ذریعے اسلام کو زندہ کردے تو اس کے درمیان انبیاء کے درمیان جنت میں ایک درجہ ہوگا۔

الْحَسَنِ، ← عَمْرُو بْنُ كَثِيرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ ← نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ ← بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 364

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 365

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مِهْرَانُ حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ ذَهَبَ عُمَرُ بِثُلُثَيْ الْعِلْمِ فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ ذَهَبَ عُمَرُ بِتِسْعَةِ أَعْشَارِ الْعِلْمِ

عمرو بن میمون ارشاد فرماتے ہیں حضرت عمر دنیا سے رخصت ہوجانے پر دو تہائی علم اپنے ساتھ لے گئے۔ اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی سے کیا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا حضرت عمر علم کے دس حصوں میں سے نو اپنے ساتھ لے گئے۔

ذَهَبَ عُمَرُ بِثُلُثَيْ الْعِلْمِ فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ ذَهَبَ عُمَرُ بِتِسْعَةِ أَعْشَارِ الْعِلْمِ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَقَ ← أَبُو سِنَانٍ ← مِهْرَانُ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 365

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 366

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ هَارُونَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتَذَاكَرُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا أَظَلَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِي بِهِ الْعِلْمَ سَهَّلَ اللَّهُ طَرِيقَهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں جب کوئی قوم اللہ کے کسی گھر میں بیٹھ کر اللہ کی کتاب کی درس وتدریس کرتی ہے تو فرشتے اپنے پروں کے ذریعے ان پر سایہ کر دیتے یہں اور اس وقت تک رکھتے ہیں جب تک وہ کسی دوسری بات میں مشغول نہیں ہوجاتے۔ اور جو شخص علم کے حصول کے لئے کسی راستے پر چلتا ہے اللہ اس کے لئے جنت کے راستے آسان کر دیتا ہے اور جس شخص کا عمل کمزور ہو اس شخص کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← هَارُونُ: ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 366

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 367

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ قَالَ غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ قُلْتُ ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ قَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ قُلْتُ بَلَى فَقَالَ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ

حضرت ذر بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں صبح کے وقت حضرت صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرایہ ارادہ تھا کہ میں ان سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کروں۔ انہوں نے دریافت کیا تم کیوں آئے ہو۔ میں نے عرض کیا علم کی تلاش میں انہوں نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں کوئی خوش خبری سناؤں۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا اور اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طور پر بیان کیا آپ نے ارشاد فرمایا طالب علم کی طلب سے راضی ہو کر فرشتے اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔

رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ ← أَلَا أُبَشِّرُكَ قُلْتُ بَلَى ← مَا جَاءَ بِكَ قُلْتُ ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ ← الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ← أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ ← غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 367

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 368

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ مَا كَانَ طَلَبُ الْحَدِيثِ أَفْضَلَ مِنْهُ الْيَوْمَ قَالُوا لِسُفْيَانَ إِنَّهُمْ يَطْلُبُونَهُ بِغَيْرِ نِيَّةٍ قَالَ طَلَبُهُمْ إِيَّاهُ نِيَّةٌ

یحییٰ بن یمان ارشاد فرماتے ہیں میں چالیس برس سے سفیان کو یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں کہ علم حدیث طلب کرنا جتنا اب افضل ہے اتناپہلے نہیں تھا۔ لوگوں نے سفیان سے دریافت کیا لوگ کسی نیت کے بغیر اس علم کو حاصل کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا ان کاعلم کو حاصل کرنا ہی نیت ہے۔

طَلَبُهُمْ إِيَّاهُ نِيَّةٌ ← لِسُفْيَانَ إِنَّهُمْ يَطْلُبُونَهُ بِغَيْرِ نِيَّةٍ ← مَا كَانَ طَلَبُ الْحَدِيثِ أَفْضَلَ مِنْهُ الْيَوْمَ ← سُفْيَانَ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 368

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 369

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ طَلَبْنَا هَذَا الْعِلْمَ وَمَا لَنَا فِيهِ كَبِيرُ نِيَّةٍ ثُمَّ رَزَقَ اللَّهُ بَعْدُ فِيهِ النِّيَّةَ

مجاہد ارشاد فرماتے ہیں ہم نے اس علم کو حاصل کیا اور ہماری نیتیں اس کے بارے میں کوئی بڑی نہیں تھیں اس کے بعد اللہ نے اس کے بارے میں ہمیں نیت عطا کی ۔

مُجَاهِدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الأَجْلَحِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 369

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 370

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ لَقَدْ طَلَبَ أَقْوَامٌ الْعِلْمَ مَا أَرَادُوا بِهِ اللَّهَ وَلَا مَا عِنْدَهُ قَالَ فَمَا زَالَ بِهِمْ الْعِلْمُ حَتَّى أَرَادُوا بِهِ اللَّهَ وَمَا عِنْدَهُ

حضرت حسن بصری ارشاد فرماتے ہیں کچھ لوگ علم حاصل کرتے ہیں اور ان کا ارادہ اللہ کی رضا یا اس کے پاس موجود اجر و ثواب نہیں ہوتا پھر وہ لوگ علم کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی نیت اللہ کی رضا اور اس کے پاس موجود اجر و ثواب ہو جاتی ہے۔

فَمَا زَالَ بِهِمْ الْعِلْمُ حَتَّى أَرَادُوا بِهِ اللَّهَ وَمَا عِنْدَهُ ← لَقَدْ طَلَبَ أَقْوَامٌ الْعِلْمَ مَا أَرَادُوا بِهِ اللَّهَ وَلَا مَا عِنْدَهُ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَسَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 370

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 371

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ قَالَ أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ الْعُلَمَاءُ ثَلَاثَةٌ فَرَجُلٌ عَاشَ فِي عِلْمِهِ وَعَاشَ مَعَهُ النَّاسُ فِيهِ وَرَجُلٌ عَاشَ فِي عِلْمِهِ وَلَمْ يَعِشْ مَعَهُ فِيهِ أَحَدٌ وَرَجُلٌ عَاشَ النَّاسُ فِي عِلْمِهِ وَكَانَ وَبَالًا عَلَيْهِ

ابومسلم خولانی ارشاد فرماتے ہیں علماء تین طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ شخص جو اپنے علم میں زندگی بسر کرے اور اس کے ساتھ لوگ بھی اس میں زندگی بسر کریں اور اس کا وبال اس شخص پر ہوگا۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 371

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 372

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ قَالَ مُوسَى يَا رَبِّ أَيُّ عِبَادِكَ أَحْكَمُ قَالَ الَّذِي يَحْكُمُ لِلنَّاسِ كَمَا يَحْكُمُ لِنَفْسِهِ قَالَ يَا رَبِّ أَيُّ عِبَادِكَ أَغْنَى قَالَ أَرْضَاهُمْ بِمَا قَسَمْتُ لَهُ قَالَ يَا رَبِّ أَيُّ عِبَادِكَ أَخْشَى لَكَ قَالَ أَعْلَمُهُمْ بِي

عطاء بیان کرتے ہیں حضرت موسی نے عرض کی اے میرے پروردگار تیرا کون سا بندہ سب سے بہتر فیصلہ کرتا ہے۔ اللہ نے ارشاد فرمایا جو لوگوں کے لئے وہی فیصلہ کرتا ہے جو اپنے لئے فیصلہ کرتا ہے۔ حضرت موسی نے دریافت کیا اے میرے پروردگار تیرا کون سا بندہ سب سے زیادہ غنی ہے اللہ نے جواب دیا میں نے اس کو عطاء کیا ہے وہ سب سے زیادہ اس سے راضی ہو حضرت موسی نے دریافت کیا اے میرے اللہ تیرا کون سابندہ تجھ سے زیادہ ڈرتا ہے تو اللہ نے جواب دیا جو میرے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے ۔

أَعْلَمُهُمْ بِي ← يَا رَبِّ أَيُّ عِبَادِكَ أَخْشَى لَكَ ← أَرْضَاهُمْ بِمَا قَسَمْتُ لَهُ ← يَا رَبِّ أَيُّ عِبَادِكَ أَغْنَى ← الَّذِي يَحْكُمُ لِلنَّاسِ كَمَا يَحْكُمُ لِنَفْسِهِ، ← مُوسَى يَا رَبِّ أَيُّ عِبَادِكَ أَحْكَمُ ← عَطَاءٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 372

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 373

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ كَانَ يُقَالُ الْعُلَمَاءُ ثَلَاثَةٌ عَالِمٌ بِاللَّهِ يَخْشَى اللَّهَ لَيْسَ بِعَالِمٍ بِأَمْرِ اللَّهِ وَعَالِمٌ بِاللَّهِ عَالِمٌ بِأَمْرِ اللَّهِ يَخْشَى اللَّهَ فَذَاكَ الْعَالِمُ الْكَامِلُ وَعَالِمٌ بِأَمْرِ اللَّهِ لَيْسَ بِعَالِمٍ بِاللَّهِ لَا يَخْشَى اللَّهَ فَذَلِكَ الْعَالِمُ الْفَاجِرُ

سفیان بیان کرتے ہیں یہ کہا جاتا ہے کہ علماء تین قسم کے ہیں وہ جو اللہ کا علم رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں لیکن اللہ کے حکم کا علم نہیں رکھتے ہوں اور وہ جو اللہ کا علم رکھتے ہوں اور اللہ کے حکم کا بھی علم رکھتے ہیوں اور اللہ سے ڈرتے بھی ہوں۔ یہ کامل عالم ہیں اور وہ جو اللہ کے حکم کا علم رکھتے ہیں لیکن اللہ کا علم نہیں رکھتے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے یہ گناہ گار عالم ہیں۔

سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 373

chevron_left Previous
1…303132…56
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door