Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند عبد الرحمن بن عوف

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf

by أبو العباس أحمد بن محمد بن عيسى بن الأزهر البِرْتي البغدادي القاضي الحنفي

52 Hadith15 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 45

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، قال: حدثنا محمد بن ابي عبيدة، قال: حدثنا ابي، عن الاعمش، عن شقيق، قال: كان بين عثمان وعبد الرحمن بن عوف شيء، فارسل إليه عبد الرحمن إني والله ما فررت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين، ولا تخلفت عن بدر، ولا خالفت سنة عمر، قال: فارسل إليه عثمان اما قولك فررت يوم حنين فقد صدقت، فقد عفا عنى، واما سنة عمر فوالله ما اطيقها انا ولا انت.

شقیق نے بیان کیا، کہا: کہ سیدنا عثمان اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان کوئی رنجش ہو گئی، چنانچہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا: بلاشبہ اللہ کی قسم! میں حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑ کر بھاگا نہیں تھا، اور بدر سے پیچھے رہا اور نہ ہی امیر عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کی مخالفت کی۔ (راوی نے) کہا: تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ کا یہ کہنا کہ میں حنین کے دن بھاگ گیا تھا تو آپ نے یقیناًً سچ کہا، مگر (اللہ تعالیٰ نے) مجھے معاف کر دیا تھا اور جو امیر عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کا معاملہ ہے تو اللہ کی قسم! نہ آپ اس کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ میں۔

شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Hadith 45

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 46

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، قال: حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن ام سلمة، قالت: دخل عليها عبد الرحمن بن عوف، فقال: يا امه، إني يهلكني كثرة مالي انا اكثر قريش مالا، قالت: يا بني، تصدق، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن من اصحابي من لا يراني بعد ان افارقه» ، قال: فخرج عبد الرحمن فلقي عمر فاخبره بما قالت ام سلمة، فجاء عمر فدخل عليها فقال: بالله منهم انا؟ قالت: لا ولن اقول لاحد بعدك.

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور عرض کیا: اے اماں جان! میری کثرت مال نے مجھے ہلاک کر دیا ہے۔ میرے پاس اہل قریش میں سب سے زیادہ مال ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے بیٹے صدقہ کر دو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے، میرے صحابہ میں سے ایسا بھی ہو گا جو میرے ساتھ ملاقات کر کے جدا ہو گا تو پھر وہ مجھے کبھی نہیں دیکھے گا۔ (راوی نے) کہا: تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نکلے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان کو جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا وہ بتایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم! وہ تو میں ہوں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، اور میں تمہارے بعد ہرگز کسی کو یہ حدیث نہیں بتاؤں گی۔

لا ولن اقول لاحد بعدك. ← بالله منهم ← ام سلمة، فجاء عمر فدخل عليها ← بِمَا ← فخرج عبد الرحمن فلقي عمر ← «إن من اصحابي من لا يراني بعد ان افارقه» ← رَسُولِ اللَّهِ ← يا بني، تصدق، فإني ← اكثر قريش مالا، ← يا امه، إني يهلكني كثرة مالي ← دخل عليها عبد الرحمن بن عوف، ← أُمِّ سَلَمَةَ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Hadith 46

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 47

اخبرنا مسدد، قال: حدثنا حميد بن الاسود ابو الاسود صاحب الكرابيسي، قال: حدثنا إسماعيل بن امية، قال: حدثني الثقة، ان عبد الرحمن بن عوف، زار مريضا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فقال: اذكر كلاما، قال: لا تقولوا هكذا، ولكن قولوا كما قال النبي صلى الله عليه وسلم إذا عاد مريضا: «اللهم اذهب عنه ما يجد وآجره فيما ابتليته» .

ثقہ راوی نے بیان کیا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی مریض کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔ (راوی نے بیان کیا) تو انہوں نے کہا: میں ایک کلام ذکر کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا: اس طرح نہ کہو بلکہ اس طرح کہو جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مریض کی عیادت کرتے وقت دعائیہ کلمات کہتے تھے: «اَللّٰهُمّ اَذهِبْ عَنْهُ ماَ يَجِدُ وَاۤجِرْهُ فِيْماَ ابْتَلَيْتَهُ» ”اے اللہ! اسے جو (بیماری) ہے اسے دور کر دے اور جس آزمائش میں تو نے اسے ڈالا ہے اس سے نجات دے۔“

لا تقولوا هكذا، ولكن قولوا كما ← فقال: اذكر كلاما، ← الثقة، ان عبد الرحمن بن عوف، زار مريضا من اصحاب رسول الله ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← حميد بن الاسود ابو الاسود صاحب الكرابيسي، ← مُسَدَّدٌ

Hadith 47

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 48

حدثنا إسحاق بن إسماعيل الطالقاني، قال: حدثنا جرير، عن مطرف، عن القاسم بن كثير، عن رجل، قال: كان كعب يقص فقال عبد الرحمن بن عوف: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يقص إلا امير او مامور او مختال، قال: فاتى كعب، فقيل له: ثكلتك امك، هذا عبد الرحمن بن عوف يقول: كذا وكذا فترك القصص، ثم إن معاوية امره بالقصص فاستحل ذاك بذاك.

ایک آدمی نے روایت کیا، کہا کہ کعب رضی اللہ عنہ قصہ گوئی کرتے تھے، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: قصے امیر بیان کر سکتا ہے یا جسے حکم دیا جائے یا پھر فخر و تکبر کرنے والا۔ (راوی نے) کہا: تیری ماں تجھے گم پائے یہ عبدالرحمن بن عوف ایسا ایسا کہہ رہے ہیں۔ تو انہوں نے قصے بیان کرنے کا عمل ترک کر دیا۔ پھر معاویۃ رضی اللہ عنہ نے انہیں قصے بیان کرنے کا حکم دیا تو بایں وجہ انہوں نے قصے بیان کرنے کو حلال سمجھا۔

كذا وكذا فترك القصص، ثم إن معاوية امره بالقصص فاستحل ذاك بذاك. ← فاتى كعب، فقيل له: ثكلتك امك، هذا عبد الرحمن بن عوف ← لا يقص إلا امير او مامور او مختال، ← رَسُولِ اللَّهِ ← كان كعب يقص فقال عبد الرحمن بن عوف: ← رَجُلٌ: ← القاسم بن كثير، ← مُطَرِّفٍ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ،

Hadith 48

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 49

حدثنا عثمان بن ابي شيبة، قال: حدثنا جرير، عن مطرف، عن القاسم بن كثير، ان رجلا، من اصحابه قال: كان كعب الاحبار يقص فقال عبد الرحمن بن عوف: «لا يقص إلا مامور او مراء» ، قال: فاتى كعب، فقيل له: ثكلتك امك، هذا عبد الرحمن بن عوف، يقول: كذا وكذا فترك القصص، ثم إن معاوية امره بالقصص، فاستحل ذاك بذاك.

کعب الاحبار قصے بیان کرتے تھے، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: قصے یا تو جسے حکم دیا جائے وہ بیان کرتا ہے، یا جو دکھلاوا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: (یعنی راوی نے) کہا: کعب آئے اور انہیں کہا گیا، تیری ماں تجھے گم پائے یہ تو عبدالرحمن بن عوف ایسا ایسا کہہ رہے تھے، اس کے بعد انہوں نے قصے بیان کرنے کا عمل چھوڑ دیا، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا تو بایں وجہ انہوں نے (قصوں کو بیان کرنا) حلال سمجھا۔

فاتى كعب، فقيل له: ثكلتك امك، هذا عبد الرحمن بن عوف ← عبد الرحمن بن عوف: «لا يقص إلا مامور او مراء» ← كان كعب الاحبار يقص ← القاسم بن كثير، ان رجلا، من اصحابه ← مُطَرِّفٍ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

Hadith 49

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 50

حدثنا إسحاق بن إسماعيل، قال: حدثنا سفيان، قال: سمعت الزهري، قال: خرج عمر إلى الشام، فلما كان بسرغ استقبله الناس وقد اشتعلت الارض بالوباء، فاشاروا عليه بالرجوع، وكان عبد الرحمن غائبا، فجاء فقال: انا احدثكم، فحدث مثل اسامة، فرجع عمر رضي الله عنه.

زہری نے بیان کیا، کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلے، جب سرغ مقام پر پہنچے، لوگوں نے ان کا استقبال کیا اور زمین وباء سے بھڑک چکی تھی، لوگوں نے انہیں واپس جانے کے لیے اشارۃ کہا:، اس وقت سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ موجود نہیں تھے، پھر وہ آ گئے اور کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، پھر انہوں نے اسامہ کی طرح حدیث بیان کی تو امیر عمر رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔

الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إسحاق بن إسماعيل

Hadith 50

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 51

حدثنا مسلم بن إبراهيم، قال: حدثنا شعبة، عن إسماعيل بن ابي خالد، عن الشعبي، ان النبي صلى الله عليه وسلم قبره اربعة آخرهم عبد الرحمن بن عوف.

شعبی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار آدمیوں نے قبر مبارک میں اتارا تھا، ان میں سے آخری عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔

الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Hadith 51

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 52

حدثنا عبيد الله بن عمر، قال: حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، انه سمع بجالة، يحدث جابر بن زيد قال: لم يكن عمر اخذ من المجوس الجزية حتى شهد عبد الرحمن بن عوف ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذها من مجوس هجر".

جابر بن زید نے بیان کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجوس سے جزیہ نہیں لیا کرتے تھے حتیٰ کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شہادت دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔

جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← بَجَالَةَ ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Hadith 52

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. sporadic
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter