Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6670

6670 - حدثنا الأستاذ أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك رحمه الله أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي بكرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من ذنب أجدر أن يجعل لصاحبه العقوبة في الدنيا مع ما يدخر له في الآخرة من البغي وقطيعة الرحم

ہمیں حدیث بیان کی استاذ ابو بکر بن حسن بن فورک رحمتہ اللہ علیہ نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو عیینہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو بکرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے۔ کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جو اس بات کو مقتضی ہو کہ اس کے ارتکاب کرنے والے کوفوری طور پر دنیا میں سزا دی جائے اور اس کے لئے آخرت کی سزا بھی جمع رکھی جائے آخرت میں مگر وہ یہ گناہ ہیں ایک قطع رحمی کرنا دوسرے ظلم اور زیادتی کرنا یا زنا کرنا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فَوْرَكَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6670

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6671

6671 - أخبرنا : أبو عبد الله الحافظ عن زكريا العنبري نا محمد بن عبد السلام نا إسحاق بن إبراهيم نا النضر بن شميل نا عيينة بن عبد الرحمن الغطفاني قال سمعت أبي يحدث عن أبي بكرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تبغ ولا تكن باغيا فإن الله عز و جل يقول : { إنما بغيكم على أنفسكم }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو زکریا عنبری نے ان کو محمد بن عبد السلام نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو نصر بن شمیل نے ان کو عیینہ بن عبدالرحمٰن غطفانی نے انہوں نے سنا اپنے والد سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ابو بکرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاتبغ ولاتکن باغباً تم بغاوت شہر ظلم وزیادتی نہ کرو۔ یا یوں پڑ ھا جائے لاتبغ کہ نہ بغاوت کیا جا تو (یعنی ایسا کام نہ کر کہ تم پر زیادتی کی جائے) اور نہ ہو تو بغاوت کرنے والا یعنی ظلم و تعدی کرنے والا۔ بے شک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔انما بغیکم علیٰ انفسکم یعنی بات یہ ہے کہ تمہارے ظلم وزیادتی کا وبال خود تمہارے اوپر ہو گا۔

أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِي ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْغَطَفَانِيِّ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← زكريا العنبري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6671

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6672

6672 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا أحمد بن حفص حدثني أبي حدثني إبراهيم بن طهمان عن الحجاج عن قتادة عن يزيد بن عبد الله عن عياض بن حماد أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل أوحى إلى أن تواضعوا حتى لا يبغى أحد على أحد ولا يفخر على أحد

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو احمد بن حفص نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو حجاج نے ان کو قتادہ نے ان کو یزید بن عبداللہ نے ان کو عیاض بن حماد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ تم لوگ عاجزی کرو یہاں تک کہ کوئی کسی پرظلم وزیادتی نہ کرے، اور نہ ہی کوئی کسی پر فخر کرے۔

عياض بن حماد أنه ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← قَتَادَةَ ← الْحَجَّاجِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6672

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6673

6673 - أخبرنا : أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن عبد الله نا محمد بن عبيد ح قال وأخبرني أبو النصر الفقيه نا محمد بن أيوب أنا ابن نمير نا أبي و محمد بن عبيد نا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثنتان هما في الناس كفر نياحة على ميت وطعن في النسب لفظ حديث إبراهيم رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن عبد الله بن نمير

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو محمد بن عبید نے ’’ح‘‘ وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو نصر فقیہ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو ابن نمیر نے ان کو ان کے والد نے اور محمد بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو کام ہیں جو کہ لوگوں میں وہ دونوں کفر ہیں۔ ایک تو میت کے اوپر بین کر کے رونا دوسرے کسی کے نسب میں طعن کرنا (یعنی اعراض کرنا۔) یہ الفاظ حدیث ابراہیم کے ہیں۔ کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن عبداللہ بن نمیر سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أبي و محمد بن عبيد ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← وأخبرني أبو النصر الفقيه ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6673

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6674

6674 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا فرج بن فضالة حدثني ربيعة بن يزيد عن رجاء بن حيوة أنه سمع قاصا في مسجد منى يقول : ثلاث خلال هن على من عمل بهن البغي والمكر والنكث قال الله عز و جل : { إنما بغيكم على أنفسكم } { ولا يحيق المكر السيئ إلا بأهله } { فمن نكث فإنما ينكث على نفسه }

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضرومی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کوفرج بن فضالہ نے ان کو ربیعہ بن یزید نے ان ورجاء بن حیوۃ نے کہ انہوں نے سنا ایک واعظ کرنے والے سے منی کی مسجد میں وہ کہتے ہیں کہ تین کام ایسے ہیں وہ وبال ہیں ان کے عمل کرنے والوں پر ظلم، بکر وفریب اور عہد شکنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انما بغیکم علیٰ انفسکم یعنی بات ہے کہ تمہاری زیادتی کا وبال تمہارے اوپر ہے۔ اور برائی کی تدبیر میں الٹے کی مگر وہی تدبیر کرنے والوں پر۔ ومن نکث فانما ینکث علیٰ نفسہ جو شخص عہد شکنی کرے یقینی بات ہے کہ عہد شکنی کا وبال اسی پر ہو گا۔

ثلاث خلال هن على من عمل بهن البغي والمكر والنكث ← قاصا في مسجد منى ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ أَنَّهُ ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6674

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6675

6675 - أخبرنا أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني نا أبو أحمد بن فارس نا محمد بن إسماعيل قال : قال لي محمد بن المثنى نا مرحوم سمع سهل الأعرابي عن أبي الوليد مولى لقريش سمع بلال بن أبي بردة عن أبيه عن جده : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يبغي على الناس إلا ولد بغي أو فيه عرق منه

ہمیں خبر دی ابو بکر فارسی نے ان کو ابو اسحٰق اصفہانی نے ان کو ابو احمد بن فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے کہا محمد بن مثنٰی نے ان کو خبر دی مرحوم نے انہوں نے سنا سہل اعرابی سے ان کو ابو الولید مولیٰ القریش نے اس نے سنا بلال بن ابو بردہ سے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہوں نے فرمایا: لوگوں پر ظلم وزیادتی نہیں کرتا مگر زنا کی اولاد یا وہ جس میں اس میں سے کوئی رگ ہو۔

لا يبغي على الناس إلا ولد بغي أو فيه عرق منه ← النبي صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بلال بن أبي بردة ← أبي الوليد مولى لقريش ← سهل الأعرابي ← مرحوم ← لي محمد بن المثنى ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6675

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6676

6676 - و أخبرنا أبو الحسن محمد بن يعقوب الفقيه بالطابران نا أبو محمد عبد الله بن محمد بن عثمان الواسطي بها نا الساجي زكريا نا إسماعيل بن حفص الأيلي نا معتمر بن سليمان حدثني أبي عن مغيرة عن الشعبي عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ليس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذيء

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن یعقوب فقیہ نے مقام طاہران میں ان کو خبر دی ابو محمد عبداللہ بن محمد عثمان واسطی نے واسط میں ، ان کو ساجی زکریا نے ان کو اسماعیل بن حفص ایلی نے ان کو معتمر بن سلیمان نے ان کو ان کے والد نے ان کو مغیرہ نے ان کو شعبی نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذی مؤمن طعنے دینے والا نہیں ہوتا لعنتیں کرنے والانہیں ہوتا۔ بیہودہ کاری کرنے والا نہیں ہوتا۔ بیہودہ گوئی اور بکواس نہیں کرتا۔

ليس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذيء ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الشَّعْبِيِّ، ← مُغِيرَةَ، ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إسماعيل بن حفص الأيلي ← الساجي زكريا ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن عثمان الواسطي بها ← أبو الحسن محمد بن يعقوب الفقيه بالطابران ← و،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6676

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6677

6677 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا موسى بن هارون الطوسي نا يحيى بن إسحاق السيلحيني نا ابن لهيعة عن الحارث بن يزيد عن علي بن رباح عن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنسابكم هذه ليست بحسب على أحد كلكم بنو آدم ليس لأحد فضل إلا بدين أو بتقوى وكفى بالرجل أن يكون بذيئا فاحشا بخيلا

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے۔ ان کو احمد بن عبید نے ان کو موسیٰ بن ہارون طوسیٰ نے ان کو یحییٰ بن اسحٰق سیلیحنی نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو حارث بن یزید نے ان کو علی بن رباح نے ان کو عقبہ بن عامر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے یہ نسب تم میں سے کسی کے لئے کافی نہیں ہیں تم میں سے ہر کوئی آدم کی اولاد ہے۔ کسی کے لئے کوئی فضیات نہیں ہے مگر دین کی وجہ سے یا تقویٰ کی وجہ سے کسی آدمی کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ بکواس کرتا ہو۔ فحش کام کرتا ہو بخیل ہو۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← موسى بن هارون الطوسي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6677

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6678

6678 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الروذباري نا أبو بكر محمد بن أحمد بن محمويه العسكري نا جعفر بن محمد القلانسي نا آدم بن أبي إياس نا شعبة نا الأعمش عن مجاهد عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسبوا الأموات فإنهم قد أفضوا إلى ما قدموا رواه البخاري في الصحيح

ہمیں خبر دی ابو علی حسین بن محمد روذباری نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن محمویہ عسکری نے ان کو جعفر بن محمد قلانسی نے ان کو آدم بن ابو ایاس نے ان کو شعبہ نے ان کو اعمش نے ان کو مجاہد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ مر چکے ہیں ان کو گالیاں نہ دیا کرو بے شک وہ پہنچ گئے ہیں ان اعمال کی طرف جوانہوں نے آگے بھیج تھے۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں۔

عَائِشَةَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6678

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6679

6679 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن جعفر المزكي نا إبراهيم بن أبي طالب ح وأخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو بكر محمد بن المؤمل نا الفضل بن محمد قالا نا أبو كريب نا معاوية بن هشام عن عمر بن أبي أنس المكي عن عطاء عن ابن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : اذكروا محاسن موتاكم وكفوا عن مساوئهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفرمحمد بن جعفر مزکی نے ان کو ابراہیم بن ابو طالب نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو بکر بن ابی اسحاق نے ان کو ابو بکر محمد بن مؤمل نے ان کو فضل بن محمد نے ان کو ابو کریب نے ان کو معایہ بن ہشام نے ان کو عمر بن ابو انس مکی نے ان کو عطاء نے انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذکروا محاسن موتاکم وکفوا عن مساؤھم اپنے مر جانے والے لوگوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں کرنے سے باز رہو۔

مساوئهم ← اذكروا محاسِنَ موْتاكُمْ، وكُفُّوا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← عمر بن أبي أنس المكي ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو جعفر محمد بن جعفر المزكي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6679

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6680

6680 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن أحمد بن قرقوب النمار بهمدان نا إبراهيم بن الحسين نا أبو اليمان أخبرني شعيب بن أبي حمزة عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين حدثني نوفل بن مساحق عن سعيد بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تؤذوا مسلما بشتم كافر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن احمد بن قرقوب نمار نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ابو الیمان نے ان کو شعیب بن ابو حمزہ نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابو حسین نے ان کو نوفل بن مساحق نے ان کو سعید بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لانؤذو مسلمابشتم کافرمسلمان کو کافر کی گالی دے کر تکلیف نہ پہنچاؤ۔

سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← علي بن أحمد بن قرقوب النمار بهمدان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6680

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6681

6681 - أخبرنا محمد بن موسى بن الفضل نا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا الحسن بن يحيى نا الهيثم بن عبيد الصيدلاني لا أعلمه إلا سهيل أخو حزم قال سمع ابن سيرين رجلا يسب الحجاج : فقال مه أيها الرجل إنك لو وافيت الآخرة كان أصغر ذنب عملته قط أعظم عليك من أعظم ذنب عمله الحجاج واعلم أن الله عز و جل حكم عدل إن أخذ من الحجاج لمن ظلمه شيئا فشيئا أخذ للحجاج ممن ظلمه فلا تشغلن نفسك بسب أحد

ہمیں خبر دی محمد بن موسیٰ بن فضل نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو حسن بن یحییٰ نے ان کو ہثیم بن عبید صیدلانی نے میں اس کو نہیں جانتا مگر سہیل بھائی حزم کا وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ایک بندے کو گالیاں بکتے سنا جو حجاج بن یوسف کو گالیاں دے رہا تھا آپ نے فرمایا ٹھہر جا اے آدمی جب آپ آخرت میں جائیں گے تو تم دیکھو گے کہ تمہارا سب سے چھوٹا گناہ اتنابڑا ہو گا کہ حجاج نے جو بڑے سے بڑا گناہ کیا ہو گا اس سے بھی بڑا ہو گا۔ اور تم یقین جانو کہ بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والا ہے،اگر اس نے حجاج سے ان لوگوں کے لئے بدلہ لیا جن پر اس نے ظلم کیا ہے ایک ایک شے کا بدلہ بھی تو وہ حجاج کے لئے بھی ان لوگوں سے ضرور بدلہ لے گا جس نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہو گی لہٰذا تم اپنے آپ کو کسی کو گالی دینے میں مشغول نہ کرو۔

ابْنُ سِيرِينَ رَجُلاً يَسُبُّ الْحَجَّاجَ ← الهيثم بن عبيد الصيدلاني لا أعلمه إلا سهيل أخو حزم ← الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَی ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6681

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood