Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
جزء القراءة خلف الإمام للبخاري

Juzz Al Qurah Khlaf Imam Bukhari

by Imam Bukhari

306 Hadith10 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ باب وجوب قراءة فاتحة الكتاب في كل ركعة · حديث 19

19 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: ثَنَا زيد، قَالَ: ثَنَا مُعَاوِيَةُ، قَالَ: ثَنَا [7/أ] أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ، قَالَ: ثَنَا كَثِيرِ بْنُ مُرَّةَ، سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ سأل النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ: "نَعَمْ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں علی ( بن عبداللہ بن جعفر المدینی ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں زید ( بن حباب ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں معاویہ ( بن صالح الحضرمی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ابو الزاہریہ ( حدیر بن کریب الحمصی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں کثیر بن مرہ نے حدیث بیان کی ،انہوں نے ابوالدرداء ( عویمر بن عجلان رضی اللہ عنہ) کو (فرماتے ہوئے ) سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا :”کیا ہر نماز میں قراءت (فرض ) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جی ہاں !‘‘

نَعَمْ ← أَبَا الدَّرْدَاءِ سأل النَّبِيُّ أَفِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ؟ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← [7/أ] أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ، ← مُعَاوِيَةَ، ← زيد1 ← عَلِيٍّ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 19

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 20

وَأَدْنَى مَا يُجْزِىء مِنَ القرآن قَالَ الْبُخَارِيُّ رحمه الله: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ} قَالَ الله تعالى: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنْ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا}. قَالَ الله تعالى: {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا}. - قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذِهِ فِي الْمَكْتُوبَةِ وَالْخُطْبَةِ.

بخاری نے کہا: اللہ عزوجل نے فرمایا: پس جو اس میں سے میسر ( آسان( ہو پڑھو، ( اور فرمایا( : اور صبح کا قرآن ، بے شک صبح کے قرآن کا مشاہدہ کیا جاتا ہے (یعنی فرشتے یہ قرآن سننے کے لیے حاضر ہوتے ہیں، (اور فرمایا) اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سنو اور خاموش ہو جاؤ، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ (آیت) فرض (نماز) اور (جمعہ کے( خطبے (کے بارے( میں ہے اور ابو الدرداء (عویمر بن عجلان رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا ہر نماز میں قراءت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! انصار میں سے ایک آدمی بولا ، ( قراءت ) واجب (یعنی فرض( ہوگئی۔

ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذِهِ فِي الْمَكْتُوبَةِ وَالْخُطْبَةِ. ← الله تعالى: {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا}. ← الله تعالى: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنْ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا}. ← اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ} ← الْبُخَارِيِّ ← وَأَدْنَى مَا يُجْزِىء مِنَ القرآن

Hadith 20

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 21

21 - وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ: "نَعَمْ". قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: وَجَبَتْ. - قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَتَوَاتُرُ الْخَبَرِ عَنْ النبي اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بأُمِّ الْقُرْآنِ" (1). - وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: تجْزِيهِ آيَةً آيَةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِالْفَارِسِيَّةِ، وَلاَ يَقْرَأُ فِي الأُخْرَيَيْنِ.

بخاری نے کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر حدیث آئی ہے کہ سورۂ فاتحہ کی قراءت کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ پہلی دو رکعتوں میں ایک ایک آیت ، فارسی زبان میں ( پڑھ دینا ) جائز ہے اور آخری دو رکعتوں میں نہ پڑھنا جائز ہے اور ابو قتادہ (الانصاری رضی اللہ عنہ) نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاروں رکعتوں میں قراءت کرتے تھے اور بعض کہتے ہیں اگر چاروں ( رکعتوں) میں نہ پڑھے تو اس کی نماز جائز ہے اور ( حالانکہ اس کی) یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ ’’سورۂ فاتحہ کے بغیر نما زنہیں ہوتی“ کے خلاف ہے۔

النبي اللَّهِ "لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بأُمِّ الْقُرْآنِ" ← الْبُخَارِيُّ: وَتَوَاتُرُ الْخَبَرِ ← رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: وَجَبَتْ. ← نَعَمْ ← أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ؟

Hadith 21

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 22

22 - وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [7/ب] "يَقْرَأُ فِي الأَرْبَعِ". - وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنْ لَمْ يَقْرَأْ فِي الأَرْبَعِ جَازَتْ صَلاَتُهُ. وَهَذَا خِلاَفُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ". فَإِنِ احْتَجَّ وَقَالَ: قَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لاَ صَلاَةَ"، وَلَمْ يَقُلْ: "لاَ تجْزِىء"، قِيلَ لَهُ: إِنَّ الْخَبَرَ إِذَا جَاءَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُكْمُهُ عَلَى اسْمِهِ، وَعَلَى الْجُمْلَةِ، حَتَّى يَجِيء ثُنْيَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (1).

اگر وہ حجتیں کرے اور کہے : ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لاصلوٰۃ (نماز نہیں) کہا ہے ’’لا يجزئ‘‘ ( جائز نہیں) نہیں کیا‘‘ تو اسے کہا جائے، بے شک جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (صحیح سند کے ساتھ ) حدیث آ جائے تو اس کا حکم اس کے ( عام ) نام پر اور فی الجملہ ( عموم پر) رہے گا ، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ( خاص ) بیان آ جائے (تو تخصیص کر لی جائے گی) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہے۔

أَبُو قَتَادَةَ: كَانَ النَّبِيُّ "يَقْرَأُ فِي الأَرْبَعِ".

Hadith 22

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 23

23 - وقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: "لاَ يُجْزِيهِ إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ". - فَإِنِ احْتَجَّ، فَقَالَ: إِذَا أَدْرَكَ الرُّكُوعَ جَازَتْ، فَكَمَا أَجْزَأَتْهُ فِي الرَّكْعَةِ كَذَلِكَ تُجْزِيهِ فِي الرَّكَعَاتِ. قِيلَ لَهُ: إِنَّمَا أَجَازَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَابْنُ عُمَرَ، وَالَّذِينَ لَمْ يَرَوُا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الإِمَامِ. - فَأَمَّا مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ، فَقَدْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: "لاَ يُجْزِيهِ حَتَّى يُدْرِكَ الإِمَامَ قَائِمًا".

پس اگر وہ حجت پکڑے اور کہے کہ اگر (کوئی) رکوع پالے تو (اس کی نماز ) جائز ہے۔ پس جس طرح ایک رکعت میں ( قراءت نہ کرنا) جائز ہے۔ اسی طرح دوسری رکعات میں ( بھی ) جائز ہے، تو اسے کہا جائے گا کہ (رکوع کی رکعت) جائز قرار دی ہے زید بن ثابت (رضی اللہ عنہ) اور ابن عمر (رضی اللہ عنہ) اور ان لوگوں نے جو قراءت خلف الامام کے قائل نہیں ہیں اور جو قراءت (کی فرضیت ) کے قائل ہیں ( تو وہ اسے جائز نہیں سمجھتے ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ( نماز کی رکعت ) اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک امام کو حالت قیام میں ( قبل از رکوع ) پا نہ لے اور ابوسعید ( الخدری رضی اللہ عنہ) اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی رکوع نہ کرے جب تک وہ سورۂ فاتحہ نہ پڑھ لے اور اگر یہ اجماع (والا مسئلہ) ہوتا تو مدرکِ رکوع ( فاتحہ کے عمومی حکم سے) مستثنیٰ فی الجملہ ہوتا ، باوجود اس کے کہ اس ( مسئلے ) میں کوئی اجماع نہیں ہے۔ (یعنی مدرک رکوع کا مسئلہ اختلافی و اجتہادی ہے) ان میں سے بعض نے حجت پکڑتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قول: پس کان لگا کر سنو اور خاموش ہو جاؤ۔ کی وجہ سے امام کے پیچھے نہیں پڑھنا چاہیے ۔ اسے کہا جاتا ہے کہ جب امام قراءت کر رہا ہو تو کیا اللہ کی ثنا( سبحـانـك الـلـهـم ) الخ پڑھتی چاہیے؟ وہ کہتا ہے جی ہاں! اسے کہا جائے تو (حالت جہر میں )سبحانك اللهم الخ کا کیوں قائل ہے؟ حالانکہ تیرے نزدیک ثنا نفل ہے اس کے بغیر نماز ہو جاتی ہے!؟ (جبکہ) اصل میں (تیرے نزدیک بھی) قراءت واجب ہے۔تو نے حالتِ امامت میں اللہ تعالیٰ کے قول : پس کان لگا کر سنو، کی وجہ سے واجب کو ساقط کر دیا ہے اور (ساتھ ساتھ) تو نے اسے یہ ( نرالا) حکم دے رکھا ہے کہ ثنا کے وقت کان لگا کر نہ سنے۔ تو نے اس سے ثنا کو ساقط نہیں کیا ( جبکہ فرض ساقط کر دیا ہے ) تو نے تو فرض کو نفل سے بھی کم تر قرار دیا اور تو اس کا بھی دعویدار ہے کہ جب آدمی آئے اور امام نماز فجر پڑھا رہا ہو تو اسے دو رکعتیں پڑھنی چاہئیں ،امام کی قراءت کے باوجود وہ نہ سنتا ہے اور نہ خاموش رہتا ہے۔ (حالانکہ) یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ”جب نماز کی اقامت ہو جائے تو فرض کے علاوہ دوسری (کوئی) نماز نہیں ہوتی‘‘ کے(سراسر) خلاف ہے۔

Hadith 23

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 26

26 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: وقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَوَّابِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ يَزِيدَ (1) بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ: أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَرَأْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينِ؟ (قَالَ): وَإِنْ قَرَأْتُ.

ہمیں محمود ( بن اسحاق الخزاعی ) نے حدیث بیان کی ،ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں محمد بن یوسف ( البخاری البیکندی ) نے بتایا ،ہمیں سفیان (بن عیینہ ) نے حدیث بیان کی ، وہ سلیمان بن ابی سلیمان فیروز الشیبانی سے، وہ جواب التیمی سے، وہ یزید بن شریک سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ) سے پوچھا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں ، میں نے کہا : اے امیر المومنین ! اگر آپ قراءت کر رہے ہوں تو؟ آپ نے فرمایا اگر میں قراءت کر رہا ہوں تو (بھی پڑھ)۔

وَإِنْ ← يَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، ← «نَعَمْ» قُلْتُ: وَإِنْ ← سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ: أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ؟ ← يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، ← جَوَّابِ التَّمِيمِيِّ، ← سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ← سُفْيَانَ، ← وقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 26

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 27

27 - حدثنا محمود، قال: حدثنا البخاري، قال: ثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: ثَنَا زِيَادٌ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ.

ہمیں محمود ( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں مالک بن اسماعیل (النہدی ابوغسان ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں زیاد( بن عبداللہ) البکائی نے حدیث بیان کی، وہ ابوفروہ (الکونی مسلم بن سالم النہدی الجہنی) سے ، وہ ابوالمغیرہ (عبدالله بن ابی الہذیل الکوفی الغزی) سے ، وہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ امام کے پیچھے (سورۂ فاتحہ) پڑھتے تھے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ. ← أَبِي الْمُغِيرَةِ ← أَبِي فَرْوَةَ ← زِيَادٌ الْبَکَّائِيُّ ← مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 27

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 28

28 - قَالَ الْبُخَارِيُّ: وقَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ [14/أ]، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عن عبد اللَّهِ بْنِ أبي الْهُذَيْلِ (1) قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ؟ قَالَ: "نَعَمْ". _حاشية_________ (1) تحرف في الطبعة الهندية إلى: "عن أبي سنان عبد الله بن الهذيل". وتحرف في طبعة دار الصميعي إلى: "عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عن عبد اللَّهِ بْنِ الْهُذَيْلِ". والمثبت من النسخة الخطية التركية، وطبعتي مكتبة المنار، ومكتبة الإمام البخاري.

ہمیں محمود( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ،کہا: بخاری نے کہا: مجھے عبیداللہ (بن موسیٰ) نے بتایا: ہمیں اسحٰق بن سلیمان (الرازی ) نے حدیث بیان کی ، وہ ابوسنان سے ، وہ عبداللہ بن (ابی) الہذیل سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب سے کہا: میں امام کے پیچھے پڑھوں، انہوں نے فرمایا: جی ہاں!

أَبِي سِنَانٍ ← أبي سنان عبد الله بن الهذيل". وتحرف في طبعة دار الصميعي إلى: ← "نَعَمْ". _حاشية_________ تحرف في الطبعة الهندية إلى: ← قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ؟ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، ← أَبِي سِنَانٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ [14/أ]، ← لي عبيد الله ← الْبُخَارِيِّ

Hadith 28

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 29

29 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: وقَالَ لَنَا آدَمُ: ثَنَا شُعْبَةُ، قال: ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ ويحث (1) أَنْ يُقْرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ سُورَةٍ وَفِي الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ. _حاشية_________ (1) قوله: "ويحث"، من طبعة دار الصميعي، وطبعة مكتبة الإمام البخاري. وأما في الطبعة الهندية، وطبعة مكتبة المنار: "وَيُحِبُّ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا :ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا :ہمیں آدم ( بن ابی ایاس) نے بتایا، ہمیں شعبہ ( بن الحجاج ) نے حدیث بیان کی ،ہمیں سفیان بن حسین نے حدیث بیان کی ،میں نے (محمد بن مسلم بن عبیداللہ ) الزہری کو (عبیداللہ ) بن ابی رافع سے روایت کرتے ہوئے سنا ، وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ: بے شک وہ ظہر و عصر (کی نمازوں ) میں امام کے پیچھے( پہلی دو رکعتوں میں) فاتحۃ الکتاب اور ایک ایک سورت پڑھنے کا حکم دیتے تھے اور آخری رکعتوں میں (صرف) فاتحۃ الکتاب کا حکم دیتے اور اسے پسند کرتے تھے۔

ابْنِ اَبِیْ رَافِعٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← شُعْبَةُ، ← لنا آدم ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 29

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 30

30 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: وقَالَ لَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا (1) شَرِيكٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يقول: "يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ". _حاشية_________ (1) قوله: "حَدَّثَنَا"، من طبعتي مكتبة الإمام البخاري، ومكتبة المنار. وأما في طبعة دار الصميعي: "عن".

ہمیں محمود ( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا :ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے اسماعیل بن ابان (الوراق الأزدی الکوفی ) نے بتایا: ہمیں شریک ( بن عبدالله القاضی) نے حدیث بیان کی ، وہ اشعث بن ابی الشعثاء سے، وہ ابومریم ( عبداللہ بن زیاد الاسدی الکوفی ) سے بیان کرتے ہیں ( انہوں نے کہا: ) میں نے ( عبداللہ) بن مسعود رضی اللہ عنہ کو امام کے پیچھے پڑھتے ہوئے سنا ہے۔

من طبعتي مكتبة الإمام البخاري، ومكتبة المنار. وأما في طبعة دار الصميعي: ← "يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ". _حاشية_________ قوله: ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي مَرْيَمَ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← شَرِيکٍ ← وقَالَ لَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 30

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 31

31 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: وقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عن أسامة بن زيد، عن القاسم بن محمد: كان رجال أئمة يقرؤون خلف الإمام. - وَقَالَ، حُذَيْفَةُ: يَقْرَأُ.

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا :ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا : اور مجھے محمد بن یوسف ( البیکندی) نے سفیان (بن عیینہ ) سے ( روایت کر کے ) بتایا اور حذیفہ (بن الیمان ) نے کہا:پڑھنا چاہیے۔

القاسم بن محمد: كان رجال أئمة يقرؤون خلف الإمام. وَقَالَ، حُذَيْفَةُ: يَقْرَأُ. ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← سُفْيَانَ، ← وقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 31

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 32

32 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: وقَالَ لَنَا مُسَدَّدٌ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَمْزَةَ الْمَازِنِيِّ، [14/ب] ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ، عَنِ الْقِرَاءَةِ، خَلْفَ الإِمَامِ؟ فَقَالَ: "فَاتِحَةَ الْكِتَابِ". - وَقَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: إِذَا نَسِيَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ "لاَ يعتد بتِلْكَ الرَّكْعَةُ".

ہمیں محمود( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا :ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: اور ہمیں مسدد ( بن مسرہد) نے بتایا :ہمیں یحییٰ بن سعید (القطان ) نے عوام بن حمزه المازنی سے حدیث بیان کی ( اس نے کہا ) ہمیں ابونضرة (مندر بن مالک) نے حدیث بیان کی ، کہا: میں نے ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے قراءت خلف الامام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : ( امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھ)۔

مُجَاهِدٍ: إِذَا نَسِيَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ "لاَ يعتد بتِلْكَ الرَّكْعَةُ". ← لَيْثٌ، ← الْقِرَاءَةِ، خَلْفَ الإِمَامِ؟ فَقَالَ: "فَاتِحَةَ الْكِتَابِ". وَقَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ ← سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ ← أَبُو نَضْرَةَ، ← الْعَوَّامِ بْنِ حَمْزَةَ الْمَازِنِيِّ، [14/ب] ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← وقال لنا مسدد ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 32

chevron_left Previous
1…789…26
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter