Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24279

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنَا حُمُیْدٌ قَالَ قَالَ أَبُو رِفَاعَۃَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَدِیَّ أَتَیْتَ رَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ یَخْطُبُ فَذَکَرَ الحَدِیثَ

حضرت ابو رفاعہؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبیﷺ خطبہ دے رہے تھے ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ایک مسافر آپ کے پاس اپنے دین کے متعلق پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہے جو اپنے دین کے متعلق کچھ نہیں جانتا ، نبیﷺ میری طرف متوجہ ہو گئے ، ایک کرسی لائی گئی اور نبیﷺ اس پر بیٹھ گئے ، اور مجھے وہ باتیں سکھانے لگے جو اللہ نے انہیں سکھائی تھیں ، پھر اپنے خطبے کی طرف آئے اور اسے مکمل کیا۔

الْحَدِيثَ. ← أَبُو رِفَاعَۃَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَدِیَّ أَتَیْتَ رَسُولَ اللہ وَھُوَ یَخْطُبُ ← حُمَيْدٍ ← سُلَیْمَانَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24279

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24280

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ بِالنَّبَاوَةِ ، أَوْ بِالْبَنَاوَةِ ، مِنَ الطَّائِفِ : يُوشِكُ أَنْ تَعَلَمُوا أَهْلَ الْجَنَّةِِ مِنْ أَهْلْ النَّارِ ، أَوْ خِيَارُكُمْ مِنْ شِرَارُكُمْ وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ قَالَ : أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارْ . فَقَالَ قَائِلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : بِمَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ ، وَالثَّنَاءِ السَّيِّئِ ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ بَعْضِكُمْ عَلَى بَعْضٍ.

ابو بکر بن ابی زہیرؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو زمانۂ نبوت میں طائف میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لوگو! عنقریب تم اہل جنت اور اہل جہنم یا اچھو ں اور بروں میں امتیاز کر سکو گے ، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کیسے ؟ نبیﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کی اچھی اور بری تعریف کے ذریعے کیونکہ تم لوگ ایک دوسرے کے متعلق زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

أَبِيهِ ← أبي بكر بن أبي زهير ← أمية بن صفوان ← نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24280

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24281

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدْ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ : أَنَّ كَعْبَ بْنَ الأَشْرَفِ كَانَ يَهْجُو النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهِ خَمْسَةَ نَفَرٍ ، فَأَتَوْهُ وَهُوَ فِي مَجْلِسِ قَوْمِهِ فِي الْعَوَالِي ، فَلَمَّا رَآهُمْ ذُعِرَ مِنْهُمْ وَقَالَ : مَا جَاءَ بِكُمْ ؟ قَالُوا : جِئْنَا إِلَيْكَ لِحَاجَةٍ . قَالَ : فَلْيَدْنُ إِلَيًّ بَعْضُكُمْ فَلْيُحَدِّثْنِي بِحَاجَتِهِ . فَدَنَا مِنْهُ بَعْضُهُمْ ، فَقَالُوا : جِئْنَاكَ لِنَبِيعَكَ أَدْرُعًا لَنَا . قَالَ : وَاللَّهِ إِنْ فَعَلْتُمْ ، لَقَدْ جُهِدْتُمْ مُنْذُ نَزَلَ هَذَا الرَّجُلُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، أَوْ قَالَ : بِكُمْ ، فَوَاعَدُوهُ أَنْ يَأْتُوهُ بَعْدَ هَدْأَةٍ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ فَجَاؤُوهُ ، فَقَامَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : مَا جَاءَكَ هَؤُلاَءِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ لِشَيْءٍ مِمَّا تُحِبُّ . قَالَ : إِنَّهُمْ قَدْ حَدَّثُونِي بِحَاجَتِهِمْ . فَلَمَّا دَنَا مِنْهُمْ ، اعْتَنَقَهُ أَبُو عَبْسٍ ، وَعَلاَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بِالسَّيْفِ ، وَطَعَنَهُ فِي خَاصِرَتِهِ ، فَقَتَلُوهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتِ الْيَهُودُ ، غَدَوْا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَوا : قُتِلَ سَيِّدُنَا غِيلَةً . فَذَكَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَهْجُوهُ فِي أَشْعَارِهِ ، وَمَا كَانَ يُؤْذِيهِ ، ثُمَّ دَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ كِتَابًا . قَالَ : فَكَانَ ذَلِكَ الْكِتَابُ مَعَ عَلِيٍّ.

عبداللہ بن کعب کی اپنے چچا سے روایت ہے کہ کعب بن اشرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے اشعار کہا کرتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کہ اس کی طرف پانچ آدمیوں کی ایک جماعت بھیجیں ، وہ لوگ کعب کے پاس پہنچے وہ مقام " عوالی " میں اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا انہیں دیکھ کر گھبرا گیا اور ان سے کہنے لگا کہ تم کیوں آئے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم تمہارے پاس ایک ضرورت سے آئے ہیں کعب نے کہا کہ پھر تم میں سے ایک آدمی میرے قریب آجائے اور اپنی ضرورت بیان کرے چنانچہ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اس سے کہا کہ ہم تمہیں اپنی زرہیں بیچنے کے لئے آئے ہیں اس نے کہا واقعی تم یہ کرنے پر مجبور ہوگئے جب سے یہ آدمی تمہارے پاس آیا ہے تم اس وقت سے مشقت میں پڑ گئے ہو بہر کیف انہوں نے اس سے یہ طے کر لیا کہ وہ رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد اس کے پاس آئیں گے۔ چنانچہ رات ہونے پر جب وہ لوگ کعب کے پاس پہنچے تو کعب ان سے ملنے کے لئے نکلا اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ یہ لوگ اس وقت کوئی اچھا ارادہ لے کر نہیں آئے کعب نے کہا کہ انہوں نے میرے سامنے اپنی ضرورت بیان کر دی تھی جب وہ ان کے قریب پہنچا تو ابو عبس رضی اللہ عنہ نے اس کو گردن سے پکڑا اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس پر تلوار لے کر چڑھ گئے اور اس کی کوکھ میں نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا صبح ہوئی تو یہودی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے سردار کو دھوکے سے کسی نے قتل کر دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ تمام اشعار یاد دلائے جن سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعوت دی کہ اپنے اور ان کے درمیان ایک معاہدہ لکھ لیں راوی کہتے ہیں کہ وہ دستاویز حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھی ۔

عَمِّہٖ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24281

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24282

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ بِخَيْبَرَ ، نَهَى عَن قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ.

ابن کعب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کی طرف ابن ابی الحقیق کے پاس ایک دستہ روانہ فرمایا تو اسے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

عَمِّہٖ ← الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24282

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24283

حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ الزُّھْرِیَّ عَنْ ابْنِ کَعْبٍ فَذَکَرَ نَحْوَہُ

ابن کعب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کی طرف ابن ابی الحقیق کے پاس ایک دستہ روانہ فرمایا تو اسے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

ابْنِ کَعْبٍ فَذَکَرَ نَحْوَہُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24283

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24284

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ ، عَنِ ابْنِ التَّلِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ رَجُلاً أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ ، فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ عَبْدُ اللهِ : قَالَ أَبِي : كَذَا قَالَ غُنْدَرٌ : ابْنِ الثَّلِبِّ ، وَإِنَّمَا هُوَ : ابْن التَّلِبِّ ، وَكَانَ شُعْبَةُ فِي لِسَانِهِ شَيْءٌ ، يَعْنِي لُثْغَةً ، وَلَعَلَّ غُنْدَرًا لَمْ يَفْهَمْ عَنْهُ.

حضرت تلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کسی غلام میں اپنی ملکیت کا حصہ آزاد کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسرا حصہ آزاد کرانے کا ضامن نہیں بنایا۔

أَبِي كَذَا، ← عَبْدُ اللَّهِ ← النَّبِيِّ أَنَّ رَجُلاً أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ ← أَبِيهِ ← ابْنِ التَّلِبِّ، ← أبي بشر العنبري ← خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24284

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24285

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ ؛ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ ، فَقَالَ : أُمَّةٌ مُسِخَتْ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

حضرت ثابتؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ کی خدمت میں ایک آدمی چند عدد گوہ شکار کر کے لایا ، نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک امت کی شکلیں مسخ کر دی گئی تھیں ، مجھے معلوم نہیں کہ شاید یہ وہی ہو۔

ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ بِضَبٍّ فَقَالَ أُمَّةٌ مُسِخَتْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ. ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24285

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24286

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ ، عَنْ عَبْدِِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ؛ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا أَرَدْتَ بِذَلِكَ ؟ قَالَ : وَاحِدَةً . قَالَ : آللَّهِ ؟ قَالَ : آللَّهِ . قَالَ : هُوَ مَا أَرَدْتُ.

حضرت رکانہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ''طلاق البتہ " دے دی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اس سے تمہارا کیا مقصد تھا؟ انہوں نے عرض کیا ایک طلاق دینے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم کھا کر کہو، انہوں نے قسم کھا کر کہا (کہ میرا یہی ارادہ تھا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری نیت کے مطابق طلاق ہوئی ۔

هُوَ مَا أَرَدْتُ. ← اللہُ ← اللہُ ← «وَاحِدَةً» ← جَدِّهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ فَقَالَ مَا أَرَدْتَ بِذَلِكَ ← أَبِيهِ ← عبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة، ← الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24286

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24287

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِیسی عَنْ جَرِیرٍ بِہِ

حضرت رکانہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ''طلاق البتہ " دے دی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اس سے تمہارا کیا مقصد تھا؟ انہوں نے عرض کیا ایک طلاق دینے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم کھا کر کہو، انہوں نے قسم کھا کر کہا (کہ میرا یہی ارادہ تھا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری نیت کے مطابق طلاق ہوئی ۔

جَرِیرٍ بِہِ ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24287

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24288

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ ، عَنِ الْجَارُودِ ، قَالَ : قُلْتُ ، أَوْ قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولًَ اللهِ ، اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا ؟ قَالَ : انْشُدْهَا ، وَلاَ تَكْتُمْ ، وَلاَ تُغِيِّبْ ، فَإِنْ وَجَدْتَ رَبِّهَا ، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ ، وَإِلاَّ فَمَالُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ.

حضرت جارود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے یا کسی اور آدمی نے بارگاہ نبوت میں اور گمشدہ گری پڑی چیز کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ تمہیں مل جائے تو اس کا اعلان کرو اسے چھپاؤ اور نہ غائب کرو اگر کوئی اس کی شناخت کر لے تو اسے دے دو ورنہ وہ اللہ کا مال ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے ۔

رَجُلٌ: ← قُلْتُ أَوَ ← الْجَارُودِ، ← أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ، ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24288

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24289

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنِ الْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ.

حضرت جارودؓ سے مروی ہے کہ مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کی لپٹ ہوتی ہے اس کے قریب بھی نہ جانا۔

الْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى ← اَبِیْ مُسْلِمٍ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24289

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24290

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ الْهَيْثَمِ حِينَ مَاتَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ : سَلاَمٌ عَلَيْكَ ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، وَفِتَنًا كَقِطَعِ الدُّخَانِ ، يَمُوتُ فِيهَا قَلْبُ الرَّجُلِ كَمَا يَمُوتُ بَدَنُهُ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا ، وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ، يُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ فِيهَا أَقْوَامٌ خَلاَقَهُمْ وَدِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ. وَإِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَدْ مَاتَ ، وَأَنْتُمْ إِخْوَتُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا ، فَلاَ تَسْبِقُونَا بِشَيْءٍ حَتَّى نَخْتَارُ لأَنْفُسِنَا.

حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب یزید کا انتقال ہوا تو حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے ہیثم کے نام خط میں لکھا سلام علیک، اما بعد! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے فتنے اس طرح آئیں جیسے اندھیری رات کے ٹکڑے ہوتے ہیں کچھ فتنے ایسے ہوں گے جو دھوئیں کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے ان فتنوں میں انسان کے جسم کی طرح اس کا دل بھی مر جائے گا انسان صبح کو مؤمن اور شام کو کافر ہوگا اسی طرح شام کو مؤمن اور صبح کو کافر ہوگا لوگ اپنے اخلاق اور دین کو دنیا کے تھوڑے سے سازوسامان کے بدلے بیچ دیا کریں گے ۔ اور یزید بن معاویہ فوت ہوگیا ہے تم لوگ ہمارے بھائی اور ہمارے سگے ہو اس لئے تم ہم پر سبقت لے جا کر کسی حکمران کو منتخب نہ کر لینا یہاں تک کہ ہم خود اپنے لئے کسی کو منتخب کر لیں ۔

الْحَسَنِ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24290

chevron_left Previous
1…2,3282,3292,330…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter