مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24291
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ قَيْسٍ الْبَلَوِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ رِمْثَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصٍ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ وَخَرَجْنَا مَعَهُ ، فَنَعَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ عمرًا قَالَ : فَتَذَاكَرْنَا كُلَّ مَنِ اسْمُهُ عَمْرٌو ، قَالَ : فَنَعَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ عَمْرًا قَالَ : ثُمَّ نَعَسَ الثَّالِثَةَ ، فَاسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ عَمْرًا فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ عَمْرٌو هَذَا ؟ قَالَ : عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قُلْنَا : وَمَا شَأْنُهُ ؟ قَالَ : كُنْتُ إِذَا نَدَبْتُ النَّاسَ إِلَى الصَّدَقَةِ ، جَاءَ فَأَجْزَلَ مِنْهَا ، فَأَقُولُ : يَا عَمْرُو ، أَنَّى لَكَ هَذَا ؟ قَالَ : مِنْ عِنْدِ اللهِ ، وَصَدَقَ عَمْرٌو ، إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللهِ خَيْرًا كَثِيرًا. قَالَ زُهَيْرُ بْنُ قَيْسٍ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْت لأًََلْزِمَنَّ هَذَا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللهِ خَيْرًا كَثِيرًا حَتَّى أَمُوتَ.
حضرت علقمہ بن رمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا پھر خود ایک دستہ کے ساتھ روانہ ہوئے ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے دوران سفر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی پھر ہوشیار ہو کر فرمایا عمرو پر اللہ کی رحمت نازل ہو یہ سن کر ہم لوگ عمرو نامی تمام افراد کو ذہن میں لانے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ اونگھ آئی پھر ہوشیار ہو کر فرمایا عمرو پر اللہ کی رحمت نازل ہو تین مرتبہ اسی طرح ہوا پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ عمرو کون ہے ؟ فرمایا عمرو بن عاص، ہم نے پوچھا کہ انہیں کیا ہوا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب بھی لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دیتا تھا وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ عمرو! یہ کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتے کہ اللہ کی طرف سے اور عمرو نے سچ کہا کیونکہ اللہ کے پاس خیر کثیر ہے۔ زہیر بن قیس کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا تو میں نے سوچ لیا کہ مرتے دم تک اس شخص کے ساتھ رہوں گا جس کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ کے پاس خیر کثیر ہے۔
عَلْقَمَةَ بْنِ رِمْثَةَ ← زُهَيْرِ بْنِ قَيْسٍ الْبَلَوِيِّ ← سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ
Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24291
