Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16935

قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ خَالَتُهُ فَقَدَّمَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ ضَبٍّ جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ أَلَا تُخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ فَأَخْبَرْنَهُ أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَتَرَكَهُ فَقَالَ خَالِدٌ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو ان کی خالہ تھیں کے گھر داخل ہوئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ کا گوشت لا کر رکھا جو نجد سے ام حفید بنت حارث لے کر آئی تھی، جس کا نکاح بنو جعفر کے ایک آدمی سے ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو اس وقت تک تناول نہیں فرماتے تھے جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ یہ کیا ہے؟چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے کہا کہ تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہیں بتاتیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا یہ حرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، لیکن یہ میری قوم کا کھانا نہیں ہے، اس لئے میں اس سے احتیاط کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں ، چنانچہ میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھانے لگا، دریں اثناء نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے رہے۔

أن خالد بن الوليد ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16935

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16936

قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَهُ الْأَصَمُّ يَعْنِي يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حَجْرِهَا

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش میں بھی رہے تھے۔

مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حَجْرِهَا ← ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَهُ الْأَصَمُّ يَعْنِي يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16936

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16937

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّهُمَا دَخَلَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ فَقَالُوا هُوَ ضَبٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَقُلْتُ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو ان کی خالہ تھیں کے گھر داخل ہوئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ کا گوشت لا کر رکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے کہا کہ تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہیں بتاتیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں ؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چھوڑ دیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا یہ حرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، لیکن یہ میری قوم کا کھانا نہیں ہے اس لئے میں اس سے احتیاط کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں ، چنانچہ میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھانے لگا، دریں اثناء نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے رہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16937

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16938

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ كَلَامٌ فَأَغْلَظْتُ لَهُ فِي الْقَوْلِ فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يَشْكُوهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَعَلَ يُغْلِظُ لَهُ وَلَا يَزِيدُ إِلَّا غِلْظَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ فَبَكَى عَمَّارٌ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرَاهُ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ قَالَ مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ قَالَ خَالِدٌ فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَا عَمَّارٍ فَلَقِيتُهُ فَرَضِيَ قَالَ عَبْد اللَّهِ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ حَدَّیثُ یَزِیدَ عَنْ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللہُ تَعَالَی عَنْہُ

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے اور عمار بن یاسر کے درمیان کسی بات پر تکرار ہو رہی تھی کہ میں نے انہیں کوئی تلخ جملہ کہہ دیا، حضرت عمار رضی اللہ عنہ وہاں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کے لئے چلے گئے، حضرت خالد رضی اللہ عنہ بھی وہاں پہنچ گئے، دیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شکایت کر رہے ہیں تو ان کے لہجے میں مزید تلخی پیدا ہوگئی، نبی صلی اللہ عیہ وسلم خاموش رہے، کچھ بھی نہ بولے تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ رونے لگے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا آپ انہیں دیکھ نہیں رہے؟ نبی صلی اللہ علیہ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا جو شخص عمار سے دشمنی کرتا ہے، اللہ اس سے دشمنی کرتا ہے اور جو عمار سے نفرت کرتا، اللہ بھی اس سے نفرت کرتا ہے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں وہاں سے نکلا تو مجھے عمار کو راضی کرنے سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہ تھی، چنانچہ میں ان سے ملا اور وہ راضی ہوگئے۔

خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ← عَلْقَمَةَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16938

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16939

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَيْفُ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ فَقَدَّمَتْ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدِّمُ يَدَهُ لِطَعَامٍ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدَّمْتُنَّ إِلَيْهِ قُلْنَ هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَنْ الضَّبِّ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيَّ فَلَمْ يَنْهَنِي

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو ان کی خالہ تھیں کے گھر داخل ہوئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ کا گوشت لا کر رکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے کہا کہ تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہیں بتاتیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں ؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا یہ حرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، لیکن یہ میری قوم کا کھانا نہیں ہے اس لئے میں اس سے احتیاط کرنا ہی بہتر سمجھتاہوں ، چنانچہ میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھانے لگا، دریں اثناء نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے رہے۔

أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ عَلَی مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ وَهِيَ خَالَتُهُ ← أن خالد بن الوليد الذي يقال له سيف الله ← أبو أمامة بن سهل بن حنيف الأنصاري أن ابن عباس ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← عتاب

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16939

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16940

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ يَعْنِي الْأَبْرَشَ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ الصَّائِفَةَ فَقَرِمَ أَصْحَابُنَا إِلَى اللَّحْمِ فَسَأَلُونِي فَقَالُوا أَتَأْذَنُ لَنَا أَنْ نَذْبَحَ رَمْكَةً لَهُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِمْ فَحَبَلُوهَا ثُمَّ قُلْتُ مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَ خَالِدًا فَأَسْأَلَهُ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ خَيْبَرَ فَأَسْرَعَ النَّاسُ فِي حَظَائِرِ يَهُودَ فَأَمَرَنِي أَنْ أُنَادِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُسْلِمٌ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَسْرَعْتُمْ فِي حَظَائِرِ يَهُودَ أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ لُحُومُ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَخَيْلِهَا وَبِغَالِهَا وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ گرمی کے موسم میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوے کے لئے روانہ ہوئے، راستے میں ہمارے ساتھیوں کو گوشت کھانے کا تقاضا ہوا تو انہوں نے مجھ سے میری گھوڑی (ذبح کرنے کے لئے) مانگی، میں نے انہیں وہ گھوڑی دے دی، انہوں نے اسے رسیوں سے باندھ دیا، پھر میں نے ان سے کہا کہ ذرا رکو، میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے پوچھ آؤں ، چنانچہ میں نے جا کر ان سے یہ مسئلہ پوچھا توا انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں حصہ لیا، لوگ جلدی سے یہودیوں کے ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ الصلاۃ جامعہ کی منادی کر دوں نیز یہ کہ جنت میں صرف مسلمان آدمی ہی داخل ہوگا، لوگو! تم بہت جلدی یہودیوں کے ممنوعات میں داخل ہوگئے ہو، یاد رکھو! ذمیوں کا مال ناحق لینا جائز نہیں ہے، اور تم پر پالتو گدھوں ، گھوڑوں اور خچروں کا گوشت حرام ہے اسی طرح کچلی سے شکار کرنے والا ہر درندہ اور پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ بھی تم پر حرام ہے۔

أَتَأْذَنُ لَنَا ← غَزَوْنَا مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ الصَّائِفَةَ فَقَرِمَ أَصْحَابُنَا إِلَى اللَّحْمِ فَسَأَلُونِي ← جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي کَرِبَ ← صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمِ أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ يَعْنِي الْأَبْرَشَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16940

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16941

حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ رَبَّہِ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنِی ثَوْرُبْنُ یَزِیدَ عَنْ صَالِحِ بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِی کَرِبَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدَّہِ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ قَالَ نَھَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْخَیْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِیرِ

حضرت خالد بن ولیدؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے گھوڑے خچر اور گدھے کے گوشت سے منع فرمایا ہے۔

أَکْلِ لُحُومِ الْخَیْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِیرِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← صَالِحِ بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِی کَرِبَ ← ثَوْرُبْنُ یَزِیدَ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16941

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16942

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ عَنِ ابْنِ الْمِقْدَامِ عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ الصَّائِفَةَ فَقَرِمَ أَصْحَابِي إِلَى اللَّحْمِ فَقَالُوا أَتَأْذَنُ لَنَا أَنْ نَذْبَحَ رَمْكَةً لَهُ قَالَ فَحَبَلُوهَا فَقُلْتُ مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَأَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَ أَصْحَابِي فَقَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ خَيْبَرَ فَأَسْرَعَ النَّاسُ فِي حَظَائِرِ يَهُودَ فَقَالَ يَا خَالِدُ نَادِ فِي النَّاسِ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُسْلِمٌ فَفَعَلْتُ فَقَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا بَالُكُمْ أَسْرَعْتُمْ فِي حَظَائِرِ يَهُودَ أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ حُمُرُ الْأَهْلِيَّةِ وَالْإِنْسِيَّةِ وَخَيْلُهَا وَبِغَالُهَا وَكُلُّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلُّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ گرمی کے موسم میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوے کے لئے روانہ ہوئے، راستے میں ہمارے ساتھیوں کو گوشت کھانے کا تقاضا ہوا تو انہوں نے مجھ سے میری گھوڑی (ذبح کرنے کے لئے) مانگی، میں نے انہیں وہ گھوڑی دے دی، انہوں نے اسے رسیوں سے باندھ دیا، پھر میں نے ان سے کہا کہ ذرا رکو، میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے پوچھ آؤں ، چنانچہ میں نے جا کر ان سے یہ مسئلہ پوچھا توا انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں حصہ لیا، لوگ جلدی سے یہودیوں کے ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ الصلاۃ جامعہ کی منادی کردوں نیز یہ کہ جنت میں صرف مسلمان آدمی ہی داخل ہوگا، لوگو! تم بہت جلدی یہودیوں کے ممنوعات میں داخل ہوگئے ہو، یاد رکھو! ذمیوں کا مال ناحق لینا جائز نہیں ہے، اور تم پر پالتو گدھوں ، گھوڑوں اور خچروں کا گوشت حرام ہے اسی طرح کچلی سے شکار کرنے والا ہر درندہ اور پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ بھی تم پر حرام ہے۔

فحبلوها فقلت مكانكم حتى آتى خالد بن الوليد فأسأله ← أتأذن لنا أن نذبح رمكة له ← غزوت مع خالد بن الوليد الصائفة فقرم أصحابي إلى اللحم ← جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي کَرِبَ ← ابن المقدام ← صَالِحِ بْنِ يَحْيَی بْنِ الْمِقْدَامِ ← أبو سلمة الحمصي، ← مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16942

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16943

حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِوبْنِ دِینَارٍ عَنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ خَالِدٍ بْنِ حَکِیمِ بْنِ حَزَامٍ قَالَ تَنَاوَلَ أَبُو عُبَیْدَۃَ رَجُلًا بَشِیْءٍ فَنَھَاہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَقَالَ أَغْضَبْتَ الْاَمِیرَ فَاَتَاہُ فَقَالَ إِنَّی لَمْ اُرِدْ أَنْ اُغْضِبَکَ وَلَکِنَّی سَمِعْتُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِی الدُّنْیَا

خالد بن حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کسی شخص کو ایک چیز دی، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے روکا، وہ کہنے لگے تم نے امیر المومنین کو ناراض کر دیا، پھر وہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے آپ کو ناراض کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا ، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس شخص کو ہوگا جس نے دنیا میں لوگوں کو سب سے زیادہ سخت سزا دی ہوگی۔

رَسُولِ اللَّهِ ← إِنَّی لَمْ اُرِدْ أَنْ اُغْضِبَکَ وَلَکِنَّی ← أَغْضَبْتَ الْاَمِیرَ فَاَتَاہُ ← تَنَاوَلَ أَبُو عُبَیْدَۃَ رَجُلًا بَشِیْءٍ فَنَھَاہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ ← خَالِدٍ بْنِ حَکِیمِ بْنِ حَزَامٍ ← أَبِي نَجِيحٍ ← عَمْرُوبْنُ دِینَارٍ، ← سُفْيَان عُيَيْنَة

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16943

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16944

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَزْرَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ خَالِدِ بنِ الْوَلِيدِ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ حِينَ أَلْقَى الشَّامَ بَوَانِيَةً بَثْنِيَةً وَعَسَلًا وَشَكَّ عَفَّانُ مَرَّةً قَالَ حِينَ أَلْقَى الشَّامَ كَذَا وَكَذَا فَأَمَرَنِي أَنْ أَسِيرَ إِلَى الْهِنْدِ وَالْهِنْدُ فِي أَنْفُسِنَا يَوْمَئِذٍ الْبَصْرَةُ قَالَ وَأَنَا لِذَلِكَ كَارِهٌ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي يَا أَبَا سُلَيْمَانَ اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ الْفِتَنَ قَدْ ظَهَرَتْ قَالَ فَقَالَ وَابْنُ الْخَطَّابِ حَيٌّ إِنَّمَا تَكُونُ بَعْدَهُ وَالنَّاسُ بِذِي بِلِّيَانَ وَذِي بِلِّيَانَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَيَنْظُرُ الرَّجُلُ فَيَتَفَكَّرُ هَلْ يَجِدُ مَكَانًا لَمْ يَنْزِلْ بِهِ مِثْلُ مَا نَزَلَ بِمَكَانِهِ الَّذِي هُوَ فِيهِ مِنْ الْفِتْنَةِ وَالشَّرِّ فَلَا يَجِدُهُ قَالَ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ الَّتِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامُ الْهَرْجِ فَنَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكَنَا وَإِيَّاكُمْ تِلْكَ الْأَيَّامُ

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں نے شام کے ٹیلے اور شہد چکھ لئے تو امیر المومنین نے مجھے خط لکھا جس میں مجھے ہندوستان کی طرف جانے کا حکم تھا، اس زمانے میں ہم لوگ ہندوستان کا اطلاق بصرہ پر کرتے تھے میں اس کی طرف پیش قدمی کو اس وقت مناسب نہیں سمجھتا تھا، ایک آدمی کھڑا ہو کر لمجھ سے کہنے لگا اے ابوسلیمان! اللہ سے ڈرو، فتنوں کا ظہور ہوچکا ہے، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابن خطاب کے زندہ ہونے کے باوجود؟ فتنوں کاظہور تو ان ،ے بعد ہوگا جبکہ لوگ ذی بلیان میں ہوں گے جو ایک جگہ کا نام ہے، اس وقت آدمی دیکھے گا کہ اسے کوئی جگہ ایسی مل جائے کہ فتنوں اور شرور کا شکار آدمی جس طرح ان میں مبتلا ہے، وہ نہ ہو، لیکن اسے کوئی ایسی جگہ نہیں مل سکے گی، اور وہ ایام جن کا قیامت سے پہلے آنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے، ایام ہرج (قتل وغارت کے ایام) ہوں گے، اس لئے ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں کہ وہ زمانہ ہمیں یا تمہیں آ لے۔

حِينَ أَلْقَى الشَّامَ كَذَا وَكَذَا فَأَمَرَنِي ← إِلَيَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ حِينَ أَلْقَى الشَّامَ بَوَانِيَةً بَثْنِيَةً وَعَسَلًا وَشَكَّ عَفَّانُ مَرَّةً ← خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ← عزرة بن قيس ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16944

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16945

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْأَشْتَرِ قَالَ كَانَ بَيْنَ عَمَّارٍ وَبَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ كَلَامٌ فَشَكَاهُ عَمَّارٌ إِلَى رَسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ مَنْ يُعَادِ عَمَّارًا يُعَادِهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ يُبْغِضْهُ يُبْغِضْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ يَسُبَّهُ يَسُبَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ سَلَمَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے اور عمار بن یاسر کے درمیان کسی بات پر تکرار ہو رہی تھی حضرت عمار رضی اللہ عنہ وہاں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کے لئے چلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص عمار سے دشمنی کرتا ہے، اللہ اس سے دشمنی کرتا ہے اور جو عمار سے نفرت کرتا ہے، اللہ بھی اس سے نفرت کرتا ہے، اور جو انہیں برا بھلا کہے وہ اللہ کو برا بھلا کہتا ہے۔

سَلَمَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ ← كَانَ بَيْنَ عَمَّارٍ وَبَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ كَلَامٌ فَشَكَاهُ عَمَّارٌ إِلَى رَسُولِ ← الأَشْتَرِ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16945

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16946

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُخَمِّسْ السَّلَبَ

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقتول کے سازوسامان میں خمس وصول نہیں فرمایا۔

عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16946

chevron_left Previous
1234…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter