Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18258

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ قُلْتُ ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ قَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ وَرَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

زر بن حبیش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس مسح الخفین کا حکم پوچھنے کے لئے حاضر ہوا تو انہوں نے پوچھا کیسے آنا ہوا ؟ میں نے کہا حصول عمل کے سلسلے میں حاضر ہوا ہوں انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے فرشتے طالب علم کے لئے " طلب علم پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے " اپنے پر بچھا دیتے ہیں پھر پوری حدیث ذکر کی۔

إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← أَلَا أُبَشِّرُكَ وَرَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ قُلْتُ ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ ← غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ أَسْأَلُهُ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18258

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18259

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ حَدَّثَنِي زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ قَالَ وَفَدْتُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى الْوِفَادَةِ لُقِيُّ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَغَزَوْتُ مَعَهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً

زر بن حبیش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا سفر کا مقصد حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملاقات تھی میری ملاقات حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (12) بارہ غزوات میں بھی حصہ لیا ہے۔

إِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى الْوِفَادَةِ لُقِيُّ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← وَفَدْتُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18259

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18260

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ كُنَّا نَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْمُرُنَا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ

زر بن حبیش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے موزوں پر مسح کرنے کا حکم پوچھا انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ تین دن تک اپنے موزے نہ اتاریں الاّ یہ کہ کسی کو جنابت لاحق ہو جائے لیکن پیشاب پائخانے اور نیند کی حالت میں اس کے اتارنے کا حکم نہیں تھا۔

الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ← أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَسَأَلْتُهُ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18260

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18261

وَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَهْوَرِيُّ الصَّوْتِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ

اور ایک بلند آواز والا دیہاتی آیا اور کہنے لگا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم اگر ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہو لیکن ان میں شامل نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان (قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

رَسُولُ اللَّهِ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ← يَا مُحَمَّدُ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ← وَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَهْوَرِيُّ الصَّوْتِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18261

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18262

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَدَّثَنَاهُ يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ يَزِيدُ الْمُرَادِيِّ قَالَ قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ اذْهَبْ بِنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَزِيدُ إِلَى هَذَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ فَقَالَ لَا تَقُلْ لَهُ نَبِيٌّ فَإِنَّهُ إِنْ سَمِعَكَ لَصَارَتْ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ فَسَأَلَاهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَسْحَرُوا وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ وَلَا تَقْذِفُوا مُحْصَنَةً أَوْ قَالَ تَفِرُّوا مِنْ الزَّحْفِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ وَأَنْتُمْ يَا يَهُودُ عَلَيْكُمْ خَاصَّةً أَنْ لَا تَعْتَدُوا قَالَ يَزِيدُ تَعْدُوا فِي السَّبْتِ فَقَبَّلَا يَدَهُ وَرِجْلَهُ قَالَ يَزِيدُ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ وَقَالَا نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكُمَا أَنْ تَتَّبِعَانِي قَالَا إِنَّ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام دَعَا أَنْ لَا يَزَالَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخْشَى قَالَ يَزِيدُ إِنْ أَسْلَمْنَا أَنْ تَقْتُلَنَا يَهُودُ

حضرت صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ! اس نبی کے پاس چل کر اس آیت کے متعلق ان سے پوچھتے ہیں کہ " ہم نے موسیٰ کو نو واضح نشانیاں دی تھیں " اس نے کہا کہ انہیں نبی مت کہو کیونکہ اگر انہوں نے یہ بات سن لی ان کی چار آنکھیں ہوجائیں گی ، بہرحال ! انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ چوری مت کرو، زنا مت کرو، کسی ایسے شخص کو ناحق قتل مت کرو جسے قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہو، جادو مت کرو، سود مت کھاؤ کسی بے گناہ کو کسی طاقتور کے پاس مت لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کردے کسی پاکدامن پر بدکاری کی تہمت نہ لگاؤ (یا یہ فرمایا کہ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہ کرو) اور اے یہودیو! تمہیں خصوصیت کے ساتھ حکم ہے کہ ہفتہ کے دن کے معاملے میں حد سے تجاوز نہ کرو۔یہ سن کر ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک چومے اور پاؤں کو بھی بوسہ دیا اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے نبی ہونے کی گواہی دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم میری پیروی کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے یہ دعاء فرمائی تھی کہ ہمیشہ ان کی اولاد میں نبی آتے رہیں ، ہمیں اندیشہ ہے کہ اگر ہم نے اسلام قبول کر لیا تو یہودی ہمیں قتل کر دیں گے۔

يَزِيدُ إِلَى هَذَا النَّبِيِّ حَتَّى نَسْأَلَهُ ← يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ اذْهَبْ بِنَا إِلَى النَّبِيِّ ← يزِيد الْمرَادِي ← صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ: ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18262

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18263

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ قَالَ فَقُلْتُ جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتٍ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ

زر بن حبیش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس مسح علی الخفین کا حکم پوچھنے کے لئے حاضر ہوا تو انہوں نے پوچھا کیسے آنا ہوا ؟ میں نے کہا حصول عمل کے سلسلے میں حاضر ہوا ہوں انہوں فرمایا کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے فرشتے طالب علم کے لئے " طلب علم پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے " اپنے پر بچھا دیتے ہیں پھر پوری حدیث ذکر کی۔

رَسُولِ اللَّهِ ← فَإِنِّي ← فَقُلْتُ جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ ← ما جاء بك ← أتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18263

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18264

قَالَ جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ الْمَسْحِ بِالْخُفَّيْنِ قَالَ نَعَمْ لَقَدْ كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهْرٍ ثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا وَيَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا وَلَا نَخْلَعَهُمَا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ

زربن حبیش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے عرض کیا کہ میں آپ سے مسح علی الخفین کے متعلق پوچھنے کے لئے آیا ہوں انہوں نے فرمایا اچھا میں اس لشکر میں تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم نے طہارت کی حالت میں موزے پہنے ہوں اور ہم مسافر ہوں تو تین دن تک اور اگر مقیم ہوں تو ایک دن رات تک ان پر مسح کر سکتے ہیں الاّ یہ کہ کسی کو جنابت لاحق ہوجائے لیکن پیشاب پائخانے اور نیند کی حالت میں اس کے اتارنے کا حکم نہیں تھا۔

الْمَسْحِ بِالْخُفَّيْنِ ← جِئْتُ أَسْأَلُكَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18264

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18265

قَالَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ

اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کے لئے کھلا ہوا ہے اس کی مسافت ستر سال پر محیط ہے وہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18265

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18266

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي رَوْقٍ الْهَمْدَانِيِّ أَنَّ أَبَا الْغَرِيفِ حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ صَفْوَانُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ قَالَ سِيرُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُقَاتِلُونَ أَعْدَاءَ اللَّهِ لَا تَغُلُّوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا

حضرت صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دستے کے ساتھ روانہ کرتے ہوئے فرمایا اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں روانہ ہوجاؤ اللہ کے دشمنوں سے قتال کرو خیانت کرو اور نہ ہی کسی بچے کو قتل کرو۔

صَفْوَانُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ فِي سَرِيَّةٍ ← أَبِي رَوْقٍ الْهَمْدَانِيِّ أَنَّ أَبَا الْغَرِيفِ ← زُهَيْرٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18266

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18267

وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ عَلَى طُهُورٍ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ

اور مسافر کے لئے اجازت ہے کہ وہ تین دن رات تک اپنے موزوں پر مسح کرسکتا ہے جب کہ اس نے وضو کی حالت میں موزے پہنے ہوں اور مقیم کے لئے ایک دن رات کی اجازت ہے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18267

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18268

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ قَالَ أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ فَقُلْتُ ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ قَالَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ

زربن حبیش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کی پاس حاضر ہوا تو انہوں نے پوچھا کیسے آنا ہوا ؟ میں نے کہا حصول عمل کے سلسلے میں حاضر ہوا ہوں انہوں فرمایا اللہ کے فرشتے طالب علم کے لئے " طلب علم پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے " اپنے پر بچھا دیتے ہیں.

فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ ← أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ فَقُلْتُ ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18268

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18269

قُلْتُ حَكَّ فِي نَفْسِي مَسْحٌ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أَوْ فِي صَدْرِي بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَكُنْتَ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ

زربن حبیش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ میرے دل میں پیشاب پائخانے کے بعد موزوں پر مسح کرنے کے حوالے سے کھٹک پیداہوئی ہے آپ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اس لئے میں آپ سے یہ پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ آپ نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ تین دن تک اپنے موزے نہ اتاریں الاّیہ کہ کسی کو جنابت لاحق ہوجائے لیکن پیشاب 'پائخانے اور نیند کی حالت میں اس کے اتارنے کا حکم نہیں تھا۔

مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18269

chevron_left Previous
1234…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter