Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24219

حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا العَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ الَٔارْقَمِ عَنْ جَدَّہِ الَّارْقَمِ أَنَّہُ جَاءَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ الحَدِیثَ

حضرت ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ادھر کا ارادہ ہے اور بیت المقدس کی طرف اشارہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس مقصد کے لئے جا رہے ہو تجارت کے لئے ؟ میں نے عرض کیا نہیں بلکہ وہاں نماز پڑھنے کے ارادے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہاں ایک نماز پڑھنا وہاں ایک ہزار نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور بیت المقدس کی طرف اشارہ کیا۔

جَدَّہِ الَّارْقَمِ أَنَّہُ جَاءَ إِلَی رَسُولِ اللہِ فَذَکَرَ الحَدِیثَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ الأَرْقَمِ ← يَحْيَى بْنُ عِمْرَانَ، ← الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24219

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24220

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لآلِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ عِيسَى بْنِ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الزُّرَقِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ حَبِيبَةَ بِنْتِ شَرِيقٍ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ أَبِيهَا ، فَإِذَا بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاحِلَةِ رَسُول ِاللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَحِّلُهَا فَنَادَى إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُفْطِرْ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ.

حبیبہ بنت شریق کہتی ہیں کہ وہ اپنے والد کے ساتھ تھیں کہ اچانک حضرت بدیل بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عضباء نامی اونٹنی پر سوار آتے نظر آئے وہ منادی کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس شخص نے آج (دس ذی الحجہ کو) روزہ رکھا ہوا ہے اسے اپنا روزہ ختم کر لینا چاہئے کیونکہ یہ کھانے پینے کے ایام ہیں ۔

عِيسَى بْنِ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الزُّرَقِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مَوْلًى لآلِ عُمَرَ ← سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24220

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24221

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقََ ، عَنْ جَبَلَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا لَمْ يَغْزُ ، أَعْطَى سِلاَحَهُ عَلِيًّا ، أَوْ أُسَامَةَ.

حضرت جبلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جہاد میں شرکت نہ فرماتے تو اپنا اسلحہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو دیتے تھے۔

جَبَلَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24221

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24222

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ الأَزْدِيِّ ، عَنْ جُنَادَةَ الأَزْدِيِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ، فِي سَبْعَةٍ مِنَ الأَزْدِ ، أَنَا ثَامِنُهُمْ ، وَهُوَ يَتَغَدَّى ، فَقَالَ : هَلُمُّوا إِلَى الْغَدَاءِ . قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُول اللَّه ، إِنَّا صِيَام . قَالَ : أَصُمْتُم أَمْس ؟ قَالَ : قُلْنَا : لاَ . قَالَ : فَتَصُومُونَ غَدًا ؟ قَالَ : قُلْنَا : لاَ . قَالَ : فَأَفْطِرُوا . قَالَ : فَأَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فَلَمَّا خَرَجَ وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ ، فَشَرِبَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ ، يُرِيَهُمْ أَنَّهُ لاَ يَصُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

حضرت جنادہ ازدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قبیلہ ازد کے سات آدمیوں کے ساتھ " جن میں آٹھواں میں تھا " جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ناشتہ کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ آؤ ناشتہ کرو، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم روزے سے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا ؟ ہم نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا آئندہ کل روزہ رکھو گے ؟ ہم نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم اپنا روزہ ختم کردو چنانچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں شریک ہوگئے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور منبر پر رونق افروز ہوئے تو لوگوں کو یہ دکھانے کے لئے کہ وہ جمعہ کے دن روزہ نہیں رکھتے پانی کا برتن منگوایا اور برسر منبر لوگوں کے سامنے اسے نوش فرما لیا۔

فَقُلْنَا ← ثَامِنُهُمْ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ هَلُمُّوا إِلَى الْغَدَاءِ ← دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الأَزْدِ ← جُنَادَةَ الأَزْدِيِّ ← حذيفة الأزدي ← مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24222

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24223

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ جَبَلَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي . قَالَ : إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَقْرَأْ : {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} ، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ.

حضرت حارث بن جبلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے کوئی دعاء سکھا دیجئے جو میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت الکافرون پڑھ لیا کرو اور اس آخری آیت پڑھتے پڑھتے سوجایا کرو کہ یہ شرک سے براءت کا اعلان ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ البتہ میرے والد صاحب نے علی بن مدینی کے حوالے سے یہ حدیث مسئلہ خلق قرآن میں آزمائش سے پہلے بیان کی تھی ۔

قُلْتُ ← الْحَارِثِ بْنِ جَبَلَةَ ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24223

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24224

وَحَدَّثَنَاهُ أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، قَالَ : جَبَلَة وَلَم يَشُك.

حضرت حارث بن جبلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے کوئی دعاء سکھا دیجئے جو میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت الکافرون پڑھ لیا کرو اور اس آخری آیت پڑھتے پڑھتے سوجایا کرو کہ یہ شرک سے براءت کا اعلان ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ البتہ میرے والد صاحب نے علی بن مدینی کے حوالے سے یہ حدیث مسئلہ خلق قرآن میں آزمائش سے پہلے بیان کی تھی ۔

جَبَلَة وَلَم يَشُك. ← شَرِيکٍ ← وَحَدَّثَنَاهُ أَسْوَدُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24224

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24225

وَقَالَ عَلِيٌّ ، يَعْنِي ابْن الْمَدِينِي : جَبَلَة بْن الْحَارِث الْكَلْبِي . قَالَ عَلِيٌّ : سَمِعْتُه مِن ابْن أَبِي الْوَزِير . قَالَ عَبْد اللَّه بْن أَحْمَد : حَدَّثَنَاه أَبِي : عَن عَلِي قَبْل أَن يُمْتَحَن بِالْقُرْآن.

حضرت حارث بن جبلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے کوئی دعاء سکھا دیجئے جو میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت الکافرون پڑھ لیا کرو اور اس آخری آیت پڑھتے پڑھتے سوجایا کرو کہ یہ شرک سے براءت کا اعلان ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ البتہ میرے والد صاحب نے علی بن مدینی کے حوالے سے یہ حدیث مسئلہ خلق قرآن میں آزمائش سے پہلے بیان کی تھی ۔

عَلِي قَبْل أَن يُمْتَحَن بِالْقُرْآن. ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ← مِن ابْن أَبِي الْوَزِير ← عَلِيٍّ، ← وَقَالَ عَلِيٌّ يَعْنِي ابْن الْمَدِينِي جَبَلَة بْن الْحَارِث الْكَلْبِي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24225

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24226

حَدَّثَنَا يَزِيد بْن هَارُون ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّد بْن إِسْحَاق ، عَن يَزِيد بْن أَبِي حَبِيب ، عَن عَبْد اللَّه بْن رَاشِد الزَّوْفِي ، عَن عَبْد اللَّه بْن أَبِي مُرَّة الزَّوْفِي ، عَن خَارِجَة بْن حُذَافَة الْعَدَوِي ، قَالَ : خَرَج عَلَيْنَا رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَات غَدَاة ، فَقَالَ : لَقَد أَمَدَّكُم اللَّه بِصَلاَة هِي خَيْر لَكُم مِن حُمْر النَّعَم قُلْنَا : وَمَا هِي يَا رَسُول اللَّه ؟ قَالَ : الْوِتْر ، فِيمَا بَيْن صَلاَة الْعِشَاء إِلَى طُلُوع الْفَجْر.

حضرت خارجہ بن حذافہ عدویؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت نبیﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لئے ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے ‘ جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے ‘ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ کون سی نماز ہے ؟ نبیﷺ نے فرمایا نماز وتر جو نماز عشاء اور طلوع آفتاب کے درمیان کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔

خرج علينا رسول الله ذات غداة ← خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ الْعَدَوِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24226

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24227

حَدَّثَنَا هَاشِم ، حَدَّثَنَا لَيْث ، عَن يَزِيد بْن أَبِي حَبِيب ، عَن عَبْد اللَّه بْن رَاشِد الزَّوْفِي ، عَن عَبْد اللَّه بْن أَبِي مُرَّة الزَّوْفِي ، عَن خَارِجَة بْن حُذَافَة ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلاَةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ، جَعَلَهَا اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ.

حضرت خارجہ بن حذافہ عدویؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت نبیﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لئے ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے ‘ جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے ‘ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ کون سی نماز ہے ؟ نبیﷺ نے فرمایا نماز وتر جو نماز عشاء اور طلوع آفتاب کے درمیان کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔

خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24227

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24228

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ الْقُرَشِيِّ ، ثُمَّ أَحَدُ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَلاَةِ الصُّبْحِ ، فَقَالَ : لَقَدْ أَمَدَّكُمُ اللَّهُ اللَّيْلَةَ بِصَلاَةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِْ النَّعَمِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا هِي يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : الْوِتْرُ فِيمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ.

حضرت خارجہ بن حذافہ عدویؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت نبیﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لئے ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے ‘ جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے ‘ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ کون سی نماز ہے ؟ نبیﷺ نے فرمایا نماز وتر جو نماز عشاء اور طلوع آفتاب کے درمیان کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔

فَقُلْتُ مَا هِي ← لَقَدْ أَمَدَّكُمَ اللَّهُ اللَّيْلَةَ بِصَلاَةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ← خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ إِلَى صَلاَةِ الصُّبْحِ ← خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ الْقُرَشِيِّ ثُمَّ أَحَدُ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ ← عبد الله بن راشد، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24228

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24229

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الأَشَجِّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ جَاءَهُ مِنْ أَخِيهِ مَعْرُوفٌ ، مِنْ غَيْرِ إِشْرَافٍ وَلاَ مَسْأَلَةٍ ، فَلْيَقْبَلْهُ وَلاَ يَرُدَّهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ.

حضرت خالد بن عدیؓ مروی ہے کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کو بن مانگے اور بن متوجہ ہوئے اپنے بھائی سے کوئی اچھائی پہنچے تو اسے قبول کر لینا چاہئے ، اسے رد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اس کا رزق جو اللہ نے اس کے پاس بھیجا۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ ← أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ← أَبُو الأَسْوَدِ أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الأَشَجِّ ← حَيْوَةُ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24229

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24230

حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي ثَلاَثٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَكَانَ يَقْرَؤُهُ حَتَّى تُوُفِّيَّ.

حضرت سعد بن منذر انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں تین دن میں قرآن پڑھ لیا کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! چنانچہ وفات تک ان کا یہی معمول رہا۔

سعد بن المنذر الأنصاري أنه ← أَبِيهِ ← حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24230

chevron_left Previous
1…2,3232,3242,325…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter