Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24207

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ قَالَ كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ أَبِي الطُّفَيْلِ فَقَالَ مَا بَقِيَ أَحَدٌ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي قَالَ قُلْتُ وَرَأَيْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ صِفَتُهُ قَالَ كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مُقْصِدًا

جریری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کے ہمراہ طواف کر رہا تھا کہ وہ کہنے لگے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے والا میرے علاوہ کوئی شخص باقی نہیں بچا میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ کیسا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ گورا خوبصورت اور جسم معتدل تھا۔

کَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مُقَصَّدًا ← قُلْتُ كَيْفَ كَانَ صِفَتُهُ، ← نَعَمْ ← قُلْتُ: وَرَأَيْتَهُ؟ ← مَا بَقِيَ أَحَدٌ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ غَيْرِي ← كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ أَبِي الطُّفَيْلِ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24207

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24208

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مَعْرُوفٌ الْمَكِّيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے اس وقت میں بالکل نوجوان تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔

رَأَيْتُ النَّبِيَّ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ ← أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ ← مَعْرُوفٍ الْمَكِّيِّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24208

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24209

حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ لِي أَبُو الطُّفَيْلِ أَدْرَكْتُ ثَمَانِ سِنِينَ مِنْ حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُلِدْتُ عَامَ أُحُدٍ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آٹھ سال پائے ہیں اور میں غزوہ احد کے سال پیدا ہوا تھا۔

أَبِي ← ثَابِتُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُمَيْعٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24209

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24210

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ وَذَكَرَ بِنَاءَ الْكَعْبَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ فَهَدَمَتْهَا قُرَيْشٌ وَجَعَلُوا يَبْنُونَهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي تَحْمِلُهَا قُرَيْشٌ عَلَى رِقَابِهَا فَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاءِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ حِجَارَةً مِنْ أَجْيَادٍ وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ فَضَاقَتْ عَلَيْهِ النَّمِرَةُ فَذَهَبَ يَضَعُ النَّمِرَةَ عَلَى عَاتِقِهِ فَيُرَى عَوْرَتُهُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَةِ فَنُودِيَ يَا مُحَمَّدُ خَمِّرْ عَوْرَتَكَ فَلَمْ يُرَى عُرْيَانًا بَعْدَ ذَلِكَ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے (زمانہ جاہلیت میں بناء کعبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ) مروی ہے کہ جب بیت اللہ کی تعمیر شروع ہوئی (تو قریش نے پہلے اسے مکمل منہدم کیا اور وادی کے پتھروں سے اس کی تعمیر شروع کر دی) لوگ وہ پتھر اٹھا اٹھا کرلارہے تھے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھے (قریش نے اسے بیس گز لمبا رکھا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونی چادر پہن رکھی تھی لیکن پتھر اٹھانے کے دوران اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو اپنے کندھے پر ڈال لیا اس وقت کسی نے پکار کر کہا کہ اپنا ستر چھپائیے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پھینکا اور اپنی چادراوڑھ لی ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم )

بِنَاءَ الْكَعْبَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24210

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24211

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أَنْزِعُ أَرْضًا وَرَدَتْ عَلَيَّ وَغَنَمٌ سُودٌ وَغَنَمٌ عُفْرٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَمَلَأَ الْحَوْضَ وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ فَأَوَّلْتُ أَنَّ السُّودَ الْعَرَبُ وَأَنَّ الْعُفْرَ الْعَجَمُ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں ایک علاقے میں ہوں اور میرے پاس کچھ سیاہ اور کچھ سفید بکریاں آئی ہیں تھوڑی دیر بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ایک دو ڈول کھینچے جن میں کچھ کمزوری تھی اللہ انہیں معاف کر دے پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے اور وہ ان کے ہاتھ میں ڈول بن گیا اور انہوں نے حوض بھر دیا اور آنے والوں کو سیراب کر دیا میں نے عمر سے زیادہ اچھا ڈول کھینچنے والا کوئی عقبری آدمی نہیں دیکھا اور میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی ہے کہ سیاہ بکریوں سے مراد عرب ہیں اور سفید بکریوں سے مراد اہل عجم ہیں ۔

أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24211

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24212

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکروں میں رمل کیا تھا ۔

أَبَا الطُّفَيْلِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← عبد الله ابن المبارك. ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24212

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24213

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزَهُمْ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا فِي اللَّهِ فَقَالَ أَهْلُ الْمَجْلِسِ بِئْسَ وَاللَّهِ مَا قُلْتَ أَمَا وَاللَّهِ لَنُنَبِّئَنَّهُ قُمْ يَا فُلَانُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَخْبِرْهُ قَالَ فَأَدْرَكَهُ رَسُولُهُمْ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ فُلَانٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُمْ أَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فُلَانًا قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا الرَّجُلَ فِي اللَّهِ فَادْعُهُ فَسَلْهُ عَلَى مَا يُبْغِضُنِي فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فَسَأَلَهُ عَمَّا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ وَقَالَ قَدْ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلِمَ تُبْغِضُهُ قَالَ أَنَا جَارُهُ وَأَنَا بِهِ خَابِرٌ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُصَلِّي صَلَاةً قَطُّ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ الَّتِي يُصَلِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ الرَّجُلُ سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ رَآنِي قَطُّ أَخَّرْتُهَا عَنْ وَقْتِهَا أَوْ أَسَأْتُ الْوُضُوءَ لَهَا أَوْ أَسَأْتُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فِيهَا فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَا ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يَصُومُ قَطُّ إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ الَّذِي يَصُومُهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ رَآنِي قَطُّ أَفْطَرْتُ فِيهِ أَوْ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُعْطِي سَائِلًا قَطُّ وَلَا رَأَيْتُهُ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فِي شَيْءٍ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِخَيْرٍ إِلَّا هَذِهِ الصَّدَقَةَ الَّتِي يُؤَدِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ فَسَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ كَتَمْتُ مِنْ الزَّكَاةِ شَيْئًا قَطُّ أَوْ مَاكَسْتُ فِيهَا طَالِبَهَا قَالَ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ إِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ خَيْرٌ مِنْكَ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کچھ لوگوں کے پاس سے گذرا اس نے انہیں سلام کیا لوگوں نے اس کے سلام کا جواب دیا جب وہ آدمی آگے بڑھ گیا تو ان لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ بخدا! میں اللہ کی راہ میں اس سے بغض رکھتا ہوں اہل مجلس نے اس سے کہا کہ تم نے بہت بری بات کی ہے بخدا! ہم اسے یہ بات ضروربتائیں گے ، پھر ایک آدمی سے کہا کہ اے فلاں ! کھڑا ہو اور جا کر اسے یہ بات بتا دے چنانچہ قاصد نے اسے جالیا اور یہ بات بتا دی وہ آدمی وہاں سے پلٹ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی ایک مجلس پر میرا گذر ہوا میں نے انہیں سلام کیا ان میں فلاں آدمی بھی تھا ان سب نے میرے سلام کا جواب دیا جب میں آگے بڑھ گیا تو ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ فلاں آدمی کا یہ کہنا ہے کہ میں اس سے بغض فی اللہ رکھتا ہوں آپ اسے بلا کر پوچھئے کہ وہ مجھ سے کس بنا پر بغض رکھتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اس بات کے متعلق دریافت فرمایا اس نے اپنی بات کا اعتراف کر لیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہ بات کہی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس سے بغض کیوں رکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس کا پڑوسی ہوں اور اس کے حالات سے باخبر ہوں بخدا! میں نے اسے اس فرض نماز جسے نیک اور فاجر لوگ ہی پڑھتے ہیں کے علاوہ کبھی کوئی نماز نہیں پڑھتے ہوئے دیکھا اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس سے پوچھئے کہ کیا اس نے مجھے کبھی بھی نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ وضو غلط کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ یا رکوع وسجود میں کبھی غلطی کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر اس نے کہا نہیں پھر کہنے لگا میں نے اسے کبھی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے اس مہینے کے جس کا روزہ نیک اور فاجر ہی رکھتے ہیں اس نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پوچھئے کہ کیا کبھی اس نے مجھے اس مہینے میں کسی دن روزے کا ناغہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ یا میں نے اس کے حق میں کوئی کمی کی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا نہیں ۔ پھر اس نے کہا کہ واللہ میں نے اسے کبھی کسی سائل کو کچھ دیتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے اسے اپنے مال میں سے اللہ کے راستہ میں کچھ خرچ کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے اس زکوۃ کے جو نیک اور فاجر ہی ادا کرتے ہیں اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس سے پوچھئے کہ کی میں نے زکوۃ کا مال چھپایا ہے ؟ یا اسے طلب کرنے والے کو کم دیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معترض سے فرمایا کہ اٹھ جاؤ میں نہیں جانتا شاید یہی تم سے بہتر ہو۔

أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24213

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24214

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا الطُّفَيْلِ قَالَ عَبْد اللَّهِ بَلَغَنِي أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِنْ حِفْظِهِ وَقَالَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ حَدَّثَ بِهِ ابْنُهُ يَعْقُوبُ عَنْ أَبِيهِ فَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا الطُّفَيْلِ فَأَحْسِبُهُ وَهِمَ وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ يَعْقُوبَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کچھ لوگوں کے پاس سے گذرا اس نے انہیں سلام کیا لوگوں نے اس کے سلام کا جواب دیا جب وہ آدمی آگے بڑھ گیا تو ان لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ بخدا! میں اللہ کی راہ میں اس سے بغض رکھتا ہوں اہل مجلس نے اس سے کہا کہ تم نے بہت بری بات کی ہے بخدا! ہم اسے یہ بات ضروربتائیں گے ، پھر ایک آدمی سے کہا کہ اے فلاں ! کھڑا ہو اور جا کر اسے یہ بات بتا دے چنانچہ قاصد نے اسے جالیا اور یہ بات بتا دی وہ آدمی وہاں سے پلٹ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی ایک مجلس پر میرا گذر ہوا میں نے انہیں سلام کیا ان میں فلاں آدمی بھی تھا ان سب نے میرے سلام کا جواب دیا جب میں آگے بڑھ گیا تو ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ فلاں آدمی کا یہ کہنا ہے کہ میں اس سے بغض فی اللہ رکھتا ہوں آپ اسے بلا کر پوچھئے کہ وہ مجھ سے کس بنا پر بغض رکھتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اس بات کے متعلق دریافت فرمایا اس نے اپنی بات کا اعتراف کر لیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہ بات کہی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس سے بغض کیوں رکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس کا پڑوسی ہوں اور اس کے حالات سے باخبر ہوں بخدا! میں نے اسے اس فرض نماز جسے نیک اور فاجر لوگ ہی پڑھتے ہیں کے علاوہ کبھی کوئی نماز نہیں پڑھتے ہوئے دیکھا اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس سے پوچھئے کہ کیا اس نے مجھے کبھی بھی نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ وضو غلط کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ یا رکوع وسجود میں کبھی غلطی کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر اس نے کہا نہیں پھر کہنے لگا میں نے اسے کبھی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے اس مہینے کے جس کا روزہ نیک اور فاجر ہی رکھتے ہیں اس نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پوچھئے کہ کیا کبھی اس نے مجھے اس مہینے میں کسی دن روزے کا ناغہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ یا میں نے اس کے حق میں کوئی کمی کی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا نہیں ۔ پھر اس نے کہا کہ واللہ میں نے اسے کبھی کسی سائل کو کچھ دیتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے اسے اپنے مال میں سے اللہ کے راستہ میں کچھ خرچ کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے اس زکوۃ کے جو نیک اور فاجر ہی ادا کرتے ہیں اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس سے پوچھئے کہ کی میں نے زکوۃ کا مال چھپایا ہے ؟ یا اسے طلب کرنے والے کو کم دیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معترض سے فرمایا کہ اٹھ جاؤ میں نہیں جانتا شاید یہی تم سے بہتر ہو۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24214

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24215

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ أَنَّ رَجُلًا وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِبَشَرَةِ وَجْهِهِ وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ قَالَ فَنَبَتَتْ شَعَرَةٌ فِي جَبْهَتِهِ كَهَيْئَةِ الْقَوْسِ وَشَبَّ الْغُلَامُ فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْخَوَارِجِ أَحَبَّهُمْ فَسَقَطَتْ الشَّعَرَةُ عَنْ جَبْهَتِهِ فَأَخَذَهُ أَبُوهُ فَقَيَّدَهُ وَحَبَسَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ بِهِمْ قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَوَعَظْنَاهُ وَقُلْنَا لَهُ فِيمَا نَقُولُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ بَرَكَةَ دَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَقَعَتْ عَنْ جَبْهَتِكَ فَمَا زِلْنَا بِهِ حَتَّى رَجَعَ عَنْ رَأْيِهِمْ فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ الشَّعَرَةَ بَعْدُ فِي جَبْهَتِهِ وَتَابَ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عہد نبوت میں ایک آدمی کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا وہ شخص اپنے بچے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے برکت کی دعا کی چنانچہ اس بچے کی پیشانی پر کمان کی طرح ایک بال اگ آیا وہ لڑکا جوان ہوگیا جب خوارج کا زمانہ آیا تو وہ خوراج سے محبت رکھنے لگا جس کی نحوست یہ ہوئی کہ اس کی پیشانی کا وہ بال جھڑ گیا اس کے باپ نے اسے پکڑ کر اسے پاؤں میں بیڑی ڈال کربند کر دیا تاکہ وہ خوارج کے ساتھ ہی جا نہ ملے ایک دن ہم لوگ اس کے پاس گئے اور اسے سمجھایا اور بہت ساری باتوں کے علاوہ اس سے یہ بھی کہا کہ تم یہ نہیں دیکھ رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت تمہاری پیشانی سے جھڑگئی ہے ہم اسے مسلسل سمجھاتے رہے حتٰی کہ وہ ان کی رائے سے باز آگیا اور کچھ عرصے بعد اللہ نے اس کی پیشانی پر دوبارہ وہ بال اگا دیا اور اس نے توبہ کرلی۔

عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يُونُسُ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24215

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24216

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ ثَلَاثًا مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکروں میں رمل کیا تھا ۔

أَبَا الطُّفَيْلِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ← يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24216

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24217

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَفَعَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ وَقَالَ إِنَّمَا أَنْتَ ظِئْرِي قَالَ فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ مَا فَعَلَتْ الْجَارِيَةُ أَوْ الْجُوَيْرِيَةُ قَالَ قُلْتُ عِنْدَ أُمِّهَا قَالَ فَمَجِيءُ مَا جِئْتَ قَالَ قُلْتُ تُعَلِّمُنِي مَا أَقُولُ عِنْدَ مَنَامِي فَقَالَ اقْرَأْ عِنْدَ مَنَامِكَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ قَالَ ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنْ الشِّرْكِ

حضرت نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بیٹی میرے حوالے کرتے ہوئے فرمایا کہ میری طرف سے اس کی پرورش تمہارے ذمے ہے کچھ عرصے بعد میں دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ اس بچی کا کیا بنا؟ میں نے کہا کہ وہ اپنی ماں کے پاس ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیسے آنا ہوا ؟ میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے کوئی دعاء سکھا دیجئے جو میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت الکافرون پڑھ لیا کرو اور اس آخری آیت پڑھتے پڑھتے سو جایا کرو کہ یہ شرک سے براءت کا اعلان ہے۔

ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنْ الشِّرْكِ ← اقْرَأْ عِنْدَ مَنَامِكَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ← قُلْتُ تُعَلِّمُنِي مَا أَقُولُ عِنْدَ مَنَامِي ← فَمَجِيءُ مَا جِئْتَ؟ ← قُلْتُ عِنْدَ أُمِّهَا ← مَا فَعَلَتْ الْجَارِيَةُ أَوْ الْجُوَيْرِيَةُ ← فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ ← إِنَّمَا أَنْتِ ظِئْرِي، ← دَفَعَ إِلَيَّ النَّبِيُّ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24217

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24218

حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ الأَرْقَمِ ، عَنْ جَدِّهِ الأَرْقَمِ ؛ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللهِ هَاهُنَا ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى حَيْثُ بَيْتُ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : مَا يُخْرِجُكَ إِلَيْهِ ، أَتِجَارَةٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لاَ ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ الصَّلاَةَ فِيهِ . قَالَ : فَالصَّلاَةُ هَاهُنَا وَأَوْمَأَ إِلَى مَكَّةَ بِيَدِهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ.

حضرت ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ادھر کا ارادہ ہے اور بیت المقدس کی طرف اشارہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس مقصد کے لئے جا رہے ہو تجارت کے لئے ؟ میں نے عرض کیا نہیں بلکہ وہاں نماز پڑھنے کے ارادے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہاں ایک نماز پڑھنا وہاں ایک ہزار نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور بیت المقدس کی طرف اشارہ کیا۔

أَرَدْتُ ← جَدِّهِ الأَرْقَمِ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ الأَرْقَمِ ← يَحْيَى بْنُ عِمْرَانَ، ← الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24218

chevron_left Previous
1…2,3222,3232,324…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter