Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24195

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي وَحَدِيثَ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ فِي كُلِّ سَنَةٍ قَالَ كَذَبَ كَعْبٌ هُوَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ يَوْمِ جُمُعَةٍ قُلْتُ إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ تِلْكَ السَّاعَةَ قَالَ قُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ فَأَخْبِرْنِي بِهَا قَالَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ قُلْتُ قَالَ لَا يُوَافِقُ مُؤْمِنٌ وَهُوَ يُصَلِّي قَالَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ انْتَظَرَ صَلَاةً فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَهُوَ كَذَلِكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کوہ طور کی طرف روانہ ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری ملاقات حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں کعب کے ساتھ اپنی نشست کے متعلق بتایا اور جمعہ کے دن کے حوالے سے اپنی بیان کردہ حدیث بھی بتائی اور کہا کہ کعب کہنے لگے ایسا سال بھر میں صرف ایک مرتبہ ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کعب سے غلطی ہوئی ایسا ہر جمعہ میں ہوتا ہے حضرت ابن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں عبداللہ بن سلام کی جان ہے میں وہ گھڑی جانتا ہوں میں نے ان سے کہا کہ اے عبداللہ ! مجھے بھی اس کے متعلق بتا دیجئے انہوں نے فرمایا وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہوتی ہے میں نے کہا کہ دوران نماز تو وہ کسی شخص کو نہیں مل سکتی (کیونکہ اس وقت ممنوع ہوتے ہیں) انہوں نے فرمایا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے وہ نماز پڑھنے تک نماز ہی میں شمار ہوتا ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا پھر وہ یہی ہے۔

كَذَبَ كَعْبٌ هُوَ كَمَا ← فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي وَحَدِيثَ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ فِي كُلِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24195

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24196

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ فَدَخَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَوْجَزَ فِيهَا فَقَالَ الْقَوْمُ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلَمَّا خَرَجَ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فَحَدَّثْتُهُ فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ الْقَوْمَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ الْمَسْجِدَ قَالُوا كَذَا وَكَذَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَذَكَرَ مِنْ خُضْرَتِهَا وَسَعَتِهَا وَسْطُهَا عَمُودُ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ فَقِيلَ لِيَ اصْعَدْ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَا أَسْتَطِيعُ فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ هُوَ الْوَصِيفُ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي فَقَالَ اصْعَدْ عَلَيْهِ فَصَعِدْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقَالَ اسْتَمْسِكْ بِالْعُرْوَةِ فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ أَمَّا الرَّوْضَةُ فَرَوْضَةُ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الْعَمُودُ فَعَمُودُ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى أَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ قَالَ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ

قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی آیا جس کے چہرے پر خشوع کے آثار واضح تھے اس نے مختصر طور پر دو رکعتیں پڑھیں لوگ کہنے لگے کہ یہ شخص اہل جنت میں سے ہے جب وہ چلا گیا تو میں بھی اس کے پیچھے روانہ ہوگیا حتیٰ کہ وہ آدمی اپنے گھر میں داخل ہو گیا میں بھی اس کے ساتھ اس کے گھر میں چلا گیا اور اس سے باتیں کرتا رہا جب وہ مجھ سے مانوس ہوگیا تو میں نے اس سے کہا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے آپ کے متعلق اس اس طرح کہا تھا اس نے کہا سبحان اللہ! انسان کو ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جو وہ جانتا نہ ہو اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں ۔ میں نے عہد نبوت میں ایک خواب دیکھا تھا جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کر دیا اس خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک سرسبزوشاداب باغ میں ہوں جس کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون ہے جس کا نچلا سرا زمین میں ہے اور اوپر والا سرا آسمان میں ہے اور اس کے اوپر ایک رسی ہے مجھے کسی نے کہا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ اب چڑھو میں اس پر چڑھنے لگا حتیٰ کہ اس رسی کو پکڑ لیا اس نے مجھ سے کہا کہ اس رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا میں جب بیدار ہوا تو یوں محسوس ہوا کہ وہ رسی اب تک میرے ہاتھ میں ہے پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ خواب بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ باغ اسلام کا تھا ستون اسلام کا تھا اور وہ رسی مضبوط رسی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اور موت تک اس پر قائم رہو گے قیس کہتے ہیں کہ پھر معلوم ہوا کہ وہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔

قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24196

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24197

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ تَذَاكَرْنَا أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلَهُ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فَلَمْ يَقُمْ أَحَدٌ مِنَّا فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَجَمَعَنَا فَقَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ السُّورَةَ يَعْنِي سُورَةَ الصَّفِّ كُلَّهَا

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مذاکرہ کر رہے تھے کہ تم میں سے کون آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کرے گا کہ اللہ کی نظروں میں سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے ہم میں سے کوئی کھڑا نہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیج کر ایک ایک کر کے ہم سب کو اپنے پاس جمع کر لیا اور ہمارے سامنے سورت صف مکمل تلاوت فرمائی۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24197

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24198

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ حَدَّثَهُ

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مذاکرہ کر رہے تھے کہ تم میں سے کون آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کرے گا کہ اللہ کی نظروں میں سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے ہم میں سے کوئی کھڑا نہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیج کر ایک ایک کر کے ہم سب کو اپنے پاس جمع کر لیا اور ہمارے سامنے سورت صف مکمل تلاوت فرمائی تلاوت کا یہ سلسلہ تمام راویوں نے اپنے شاگردوں تک جاری رکھا۔

أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ ← هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← يَعْمَرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24198

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24199

أَوْ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ تَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا فَقُلْنَا أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلَهُ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ وَهِبْنَا أَنْ يَقُومَ مِنَّا أَحَدٌ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا رَجُلًا رَجُلًا حَتَّى جَمَعَنَا فَجَعَلَ بَعْضُنَا يُشِيرُ إِلَى بَعْضٍ فَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ قَالَ فَتَلَاهَا مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا قَالَ فَتَلَاهَا عَلَيْنَا ابْنُ سَلَامٍ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا قَالَ فَتَلَاهَا عَلَيْنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا قَالَ يَحْيَى فَتَلَاهَا عَلَيْنَا هِلَالٌ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ فَتَلَاهَا عَلَيْنَا يَحْيَى مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مذاکرہ کر رہے تھے کہ تم میں سے کون آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کرے گا کہ اللہ کی نظروں میں سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے ہم میں سے کوئی کھڑا نہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیج کر ایک ایک کر کے ہم سب کو اپنے پاس جمع کر لیا اور ہمارے سامنے سورت صف مکمل تلاوت فرمائی تلاوت کا یہ سلسلہ تمام راویوں نے اپنے شاگردوں تک جاری رکھا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24199

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24200

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى شِيَخَةٍ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ شَيْخٌ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَصًا لَهُ فَقَالَ الْقَوْمُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا فَقَامَ خَلْفَ سَارِيَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ الْجَنَّةُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُهَا مَنْ يَشَاءُ وَإِنِّي رَأَيْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَا رَأَيْتُ كَأَنَّ رَجُلًا أَتَانِي فَقَالَ انْطَلِقْ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَسَلَكَ بِي مَنْهَجًا عَظِيمًا فَعَرَضَتْ لِي طَرِيقٌ عَنْ يَسَارِي فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْلُكَهَا فَقَالَ إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا ثُمَّ عَرَضَتْ لِي طَرِيقٌ عَنْ يَمِينِي فَسَلَكْتُهَا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى جَبَلٍ زَلِقٍ فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي فَإِذَا أَنَا عَلَى ذُرْوَتِهِ فَلَمْ أَتَقَارَّ وَلَا أَتَمَاسَكْ فَإِذَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ فِي ذُرْوَتِهِ حَلْقَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقَالَ اسْتَمْسِكْ فَقُلْتُ نَعَمْ فَضَرَبَ الْعَمُودَ بِرِجْلِهِ فَاسْتَمْسَكْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَأَيْتَ خَيْرًا أَمَّا الْمَنْهَجُ الْعَظِيمُ فَالْمَحْشَرُ وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عَرَضَتْ عَنْ يَسَارِكَ فَطَرِيقُ أَهْلِ النَّارِ وَلَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عَرَضَتْ عَنْ يَمِينِكَ فَطَرِيقُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَمَّا الْجَبَلُ الزَّلِقُ فَمَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ وَأَمَّا الْعُرْوَةُ الَّتِي اسْتَمْسَكْتَ بِهَا فَعُرْوَةُ الْإِسْلَامِ فَاسْتَمْسِكْ بِهَا حَتَّى تَمُوتَ قَالَ فَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ وَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ

قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی آیا جس کے چہرے پر خشوع کے آثار واضح تھے اس نے مختصر طور پر دو رکعتیں پڑھیں لوگ کہنے لگے کہ یہ شخص اہل جنت میں سے ہے جب وہ چلا گیا تو میں بھی اس کے پیچھے روانہ ہوگیا حتیٰ کہ وہ آدمی اپنے گھر میں داخل ہوگیا میں بھی اس کے ساتھ اس کے گھر میں چلا گیا اور اس سے باتیں کرتا رہا جب وہ مجھ سے مانوس ہوگیا تو میں نے اس سے کہا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے آپ کے متعلق اس اس طرح کہا تھا اس نے کہا سبحان اللہ! انسان کو ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جو وہ جانتا نہ ہو اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں ۔ میں نے عہد نبوت میں ایک خواب دیکھا تھا جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کر دیا اس خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک سرسبزوشاداب باغ میں ہوں جس کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون ہے جس کا نچلا سرا زمین میں ہے اور اوپر والا سرا آسمان میں ہے اور اس کے اوپر ایک رسی ہے مجھے کسی نے کہا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ اب چڑھو میں اس پر چڑھنے لگا حتیٰ کہ اس رسی کو پکڑ لیا اس نے مجھ سے کہا کہ اس رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا میں جب بیدار ہوا تو یوں محسوس ہوا کہ وہ رسی اب تک میرے ہاتھ میں ہے پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ خواب بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ باغ اسلام کا تھا ستون اسلام کا تھا اور وہ رسی مضبوط رسی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اور موت تک اس پر قائم رہو گے قیس کہتے ہیں کہ پھر معلوم ہوا کہ وہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔ ی

خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24200

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24201

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَدِمْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ كَعْبًا فَكَانَ يُحَدِّثُنِي عَنْ التَّوْرَاةِ وَأُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ذِكْرِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَحَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَقَالَ كَعْبٌ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ هِيَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةٌ قُلْتُ لَا فَنَظَرَ كَعْبٌ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ هِيَ فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةٌ قُلْتُ لَا فَنَظَرَ سَاعَةً فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةٌ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ كَعْبٌ أَتَدْرِي أَيُّ يَوْمٍ هُوَ قُلْتُ وَأَيُّ يَوْمٍ هُوَ قَالَ فِيهِ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالْخَلَائِقُ فِيهِ مُصِيخَةٌ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ خَشْيَةَ الْقِيَامَةِ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ بِقَوْلِ كَعْبٍ فَقَالَ كَذَبَ كَعْبٌ قُلْتُ إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ إِلَى قَوْلِي فَقَالَ أَتَدْرِي أَيُّ سَاعَةٍ هِيَ قُلْتُ لَا وَتَهَالَكْتُ عَلَيْهِ أَخْبِرْنِي أَخْبِرْنِي فَقَالَ هِيَ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ قُلْتُ كَيْفَ وَلَا صَلَاةَ قَالَ أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کوہ طور کی طرف روانہ ہوا راستے میں میری ملاقات کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ سے ہوگئی میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا انہوں نے مجھے تورات کی باتیں اور میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنانا شروع کر دیں اسی دوران میں نے ان سے یہ حدیث بھی بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے سب سے بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اسی دن انہیں جنت سے اتارا گیا اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اسی دن وہ فوت ہوئے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی اور زمین پر چلنے والا ہر جانور جمعہ کے دن طلوع آفتاب کے وقت خوفزدہ ہو جاتا ہے کہ کہیں آج ہی قیامت قائم نہ ہو جائے سوائے جن و انس کے اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی بھی آتی ہے جو اگر کسی نماز پڑھتے ہوئے بندہ مسلم کو مل جائے اور وہ اس میں اللہ سے کچھ بھی مانگ لے اللہ اسے وہ ضرورعطاء فرماتا ہے ۔ کعب رحمتہ اللہ علیہ کہنے لگے کہ یہ ہر سال میں مرتبہ ہوتا ہے میں نے کہا کہ نہیں ہر جمعہ میں ہوتا ہے اس پر کعب نے تورات کو کھول کر پڑھا پھر کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری ملاقات حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں کعب کے ساتھ اپنی اس نشست کے متعلق بتایا اور جمعہ کے دن کے حوالے سے اپنی بیان کردہ حدیث بھی بتائی اور کہا کہ کعب کہنے لگے ایسا سال بھر میں ایک مرتبہ ہوتا ہے حضرت عبداللہ بن سلام سے ہوئی میں نے کہا کہ پھر کعب نے تورات پڑھ کر کہا کہ نہیں ایسا ہر جمعہ میں ہوتا ہے حضرت ابن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ گھڑی کون سی ہے میں نے کہا نہیں میں تو ہلاک ہوگیا آپ مجھے بتا دیجئے انہوں نے فرمایا وہ عصر اور مغرب کے درمیان ہوتی ہے میں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اس وقت کوئی نماز نہیں ہوتی ؟ انہوں نے فرمایا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے وہ نماز پڑھنے تک نماز ہی میں شمار ہوتا ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا پھر وہ یہی ہے۔ ی

يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَحَدَّثْتُهُ ← رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ← التَّوْرَاةِ وَأُحَدِّثُهُ ← قَدِمْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ كَعْبًا فَكَانَ يُحَدِّثُنِي ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24201

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24202

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْعَقَبَةَ فَلَا يَأْخُذْهَا أَحَدٌ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُودُهُ حُذَيْفَةُ وَيَسُوقُ بِهِ عَمَّارٌ إِذْ أَقْبَلَ رَهْطٌ مُتَلَثِّمُونَ عَلَى الرَّوَاحِلِ غَشَوْا عَمَّارًا وَهُوَ يَسُوقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ عَمَّارٌ يَضْرِبُ وُجُوهَ الرَّوَاحِلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُذَيْفَةَ قَدْ قَدْ حَتَّى هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَرَجَعَ عَمَّارٌ فَقَالَ يَا عَمَّارُ هَلْ عَرَفْتَ الْقَوْمَ فَقَالَ قَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الرَّوَاحِلِ وَالْقَوْمُ مُتَلَثِّمُونَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا أَرَادُوا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَطْرَحُوهُ قَالَ فَسَأَلَ عَمَّارٌ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ كَمْ تَعْلَمُ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ فَقَالَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ فِيهِمْ فَقَدْ كَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ فَعَدَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ثَلَاثَةً قَالُوا وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ فَقَالَ عَمَّارٌ أَشْهَدُ أَنَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الْبَاقِينَ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ قَالَ الْوَلِيدُ وَذَكَرَ أَبُو الطُّفَيْلِ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنَّاسِ وَذُكِرَ لَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَنْ لَا يَرِدَ الْمَاءَ أَحَدٌ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَرَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ رَهْطًا قَدْ وَرَدُوهُ قَبْلَهُ فَلَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپس آرہے تھے تو راستے میں منادی کو حکم دیا اس نے یہ اعلان کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھاٹی کا راستہ اختیار کیا ہے اس راستے پر کوئی نہ جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے اور پیچھے حضرت عمار رضی اللہ عنہ تھے کہ اچانک کچھ سواریوں پر ڈھاٹا باندھے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ سامنے آگیا جنہوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا حضرت عمار رضی اللہ عنہ پیچھے تھے وہ ان سواریوں کے چہروں پر مارنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطرے کا احساس ہوتے ہی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سواری روکنے کے لئے کہا اور نیچے اتر آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی سے اترنے لگے اسی دوران حضرت عمار رضی اللہ عنہ بھی واپس آگئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا عمار! کیا تم ان لوگوں کو پہچان سکے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اکثر سواریوں کو تو میں نے پہچان لیا ہے لیکن لوگوں نے اپنے چہروں پر ڈھاٹا باندھا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں ان کا ارادہ معلوم ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جائیں اور اوپر سے نیچے دھکیل دیں ۔ پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کو سخت سست کہا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس گھاٹی میں کتنے آدمی تھے ؟اس نے کہا چودہ انہوں نے کہا کہ اگر آپ بھی ان میں شامل ہوں تو وہ پندرہ ہوتے ہیں جن میں سے تین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معذور قرار دیا تھا جن کا کہنا یہ تھا کہ بخدا! ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کی آواز نہیں سنی تھی اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ان لوگوں کا کیا ارادہ تھا؟ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ بارہ آدمی جو باقی بچے وہ دنیوی زندگی اور گواہوں کے اٹھنے کے دن دونوں موقعوں پراللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والے ہیں ۔ ولید کہتے ہیں کہ حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ نے اسی غزوے کے متعلق بتایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " جب پانی کی قلت کا علم ہوا تو " لوگوں سے فرما دیا تھا اور منادی نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی شخص پانی پر نہ جائے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں پہنچے تو کچھ لوگوں کو وہاں موجود پایا جو ان سے پہلے وہاں پہنچ گئے تھے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لعنت ملامت کی ۔

لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24202

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24203

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ لَأَغْتَنِمَنَّ ذَلِكَ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ النَّفَرُ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِهِمْ مَنْ هُمْ فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِمْ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ دَعْوَةً فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً

عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوا تو انہیں خوشگوارموڈمیں پایا میں نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر فائدہ اٹھانے کی سوچی چنانچہ میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوالطفیل ! وہ لوگ جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت ملامت کی تھی وہ کون تھے ؟ ابھی انہوں نے مجھے ان کے متعلق بتانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ ان کی اہلیہ سودہ نے کہا کہ اے ابوالطفیل ! رک جائیے آپ کو معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اے اللہ ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے اگر کسی مسلمان کو میں نے کوئی بد دعا دی ہو تو اسے اس شخص کے حق میں تزکیہ اور رحمت کا سبب بنا دے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، ← رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24203

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24204

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا بُنِيَ الْبَيْتُ كَانَ النَّاسُ يَنْقُلُونَ الْحِجَارَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ فَأَخَذَ الثَّوْبَ فَوَضَعَهُ عَلَى عَاتِقِهِ فَنُودِيَ لَا تَكْشِفْ عَوْرَتَكَ فَأَلْقَى الْحَجَرَ وَلَبِسَ ثَوْبَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ سے (زمانہ جاہلیت میں بناء کعبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ) مروی ہے کہ جب بیت اللہ کی تعمیر شروع ہوئی (تو قریش نے پہلے اسے مکمل منہدم کیا اور وادی کے پتھروں سے اس کی تعمیر شروع کر دی) لوگ وہ پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھے (قریش نے اسے بیس گز لمبا رکھا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونی چادر پہن رکھی تھی لیکن پتھر اٹھانے کے دوران اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو اپنے کندھے پر ڈال لیا اس وقت کسی نے پکار کر کہا کہ اپنا ستر چھپائیے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پھینکا اور اپنی چادر اوڑھ لی ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم )

أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24204

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24205

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُبَيْدٍ الرَّاسِبِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلَّا الْمُبَشِّرَاتِ قَالَ قِيلَ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ أَوْ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد نبوت تو نہیں ہوگی البتہ " مبشرات " ہوں گے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! " مبشرات " سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھے خواب ۔

أَبَا الطُّفَيْلِ ← عُثْمَانُ بْنُ عُبَيْدٍ الرَّاسِبِيُّ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24205

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24206

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ عِمْرَانَ الْمَازِنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ وَسُئِلَ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قِيلَ فَهَلْ كَلَّمْتَهُ قَالَ لَا وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ انْطَلَقَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى أَتَى دَارَ قَوْرَاءَ فَقَالَ افْتَحُوا هَذَا الْبَابَ فَفُتِحَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ مَعَهُ فَإِذَا قَطِيفَةٌ فِي وَسَطِ الْبَيْتِ فَقَالَ ارْفَعُوا هَذِهِ الْقَطِيفَةَ فَرَفَعُوا الْقَطِيفَةَ فَإِذَا غُلَامٌ أَعْوَرُ تَحْتَ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ قُمْ يَا غُلَامُ فَقَامَ الْغُلَامُ فَقَالَ يَا غُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ الْغُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ الْغُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا مَرَّتَيْنِ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! سائل نے پوچھا کہ کیا بات بھی کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں البتہ میں نے فلاں جگہ جاتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت ان کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کشادہ مکان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا جب دروازہ کھلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوگئے میں بھی ان کے ساتھ ہی اندر چلا گیا وہاں گھر کے درمیان میں ایک چادر تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چادر اٹھاؤ صحابہ رضی اللہ عنہم نے چادر اٹھائی تو اس کے نیچے سے ایک کانا لڑکا نکلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لڑکے ! کھڑا ہوجا وہ لڑکا کھڑا ہوگیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا اے لڑکے ! کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس لڑکے نے کہا کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ دو مرتبہ یہی سوال جواب ہوئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔

أَبَا الطُّفَيْلِ وَسُئِلَ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ ← مَهْدِيُّ بْنُ عِمْرَانَ الْمَازِنِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24206

chevron_left Previous
1…2,3212,3222,323…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter