شرح السنة للبغوي · كتاب الحدود ‹ باب حد الزنى · حديث 2579
2579 - أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أنا زاهر بن أحمد أنا أبو إسحاق الهاشمي ، أنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن ابن شهاب ، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن أبي هريرة وزيد بن خالد الجهني أنهما أخبراه أن رجلين اختصما إلى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقال احدهما : يا رسول الله اقض بيننا بكتاب الله ، وقال الآخر وكان أفقههما : أجل يا رسول الله ، فاقض بيننا بكتاب الله ، وأذن لي في أن أتكلم ، فقال : ( تلكم ) قال : إن ابني كان عسيفا على هذا ، فزنى بأمرأته ، فأخبروني أن على ابني الرجم ، فافتديت منه بمائة شاة ، وبجارية لي ، ثم إني سألت صفحة رقم 275 أهل العلم ، فأخبروني أن ما على ابني جلد مائة ، وتغريب سنةٍ ، وإنما الرجم على امرأته ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : ( أما والذي نفسي بيده ، لأقضين بينكما بكتاب الله ، أما غنمك وجاريتك ، فرد إليك ) وجلد ابنه مائة ، وغربه عاماً ، وأمر أنيسا الأسلمي أن يأتي امرأة الآخر ، فإن اعترفت ، رجمها ، فاعترفت ، فرجمها. قال مالك : العسيف : الأجير. هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن عبد الله بن يوسف ، عن مالك ، وأخرجاه من طرق عن ابن شهاب. قال الإمام : في هذا الحديث أنواع من الفقه ، منها : جواز الفتوى صفحة رقم 276 في زمانه ( صلى الله عليه وسلم ) ، والرخصة لمن هو من أهل الفتوى أن يفتي ، وإن كان ثم من هو أعلم منه ، لأنه عليه السلام لم ينكر على الرجل قوله : سألت أهل العلم مع كونه عليه السلام مقيماً بين ظهرانيهم ، وذهب بعضهم إلى أنه لا تجوز الفتوى للتابعي في زمن الصحابة ، والأكثرون على جوازه. وفيه أن البكر إذا زنى ، عليه جلد مائة ، وتغريب عام والثيب ، إذا زنى عليه الرجم ، ولا يجلد ، والمراد من الثيب : المحصن ، وهو الذي اجتمع فيه أربع شرائط : العقل ، والبلوغ ، والحرية ، والإصابة بالنكاح الصحيح. واختلف أهل العلم في المحصن هل يجلد مع الرجم أم لا ؟ فذهب قوم إلى انه يجلد مائة ، ثم يرجم مستدلين بحديث عبادة : ( الثيب بالثيب جلد مائة ورميا بالحجارة ) وروي ذلك عن علي بن أبي طالب ، وعبد الله بن مسعود ، وأبي بن كعب ، وهو قول الحسن البصري ، وإليه ذهب إسحاق ، وداود.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مقدمہ پیش کیا، ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمادیں اور دوسرا جو اس کی بہ نسبت زیادہ سمجھدار تھا، اس نے کہا: جی ہاں: اے اللہ کے رسول ! آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے کچھ عرض کرنے کی اجازت دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیان کرو۔‘‘ وہ بولا : میرا بیٹا اس کے ہاں مزدوری پر کام کرتا تھا، اس کی اہلیہ سے زنا کا مرتکب ہو گیا ہے، لوگوں نے مجھے بتلایا کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہے تو میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی دے کر اس کی جان چھڑائی ، اس کے بعد میں نے اہل علم سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتا یا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور رجم کی سزا اس کی بیوی پر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے !میں تم دونوں کے درمیان کتاب اللہ کے عین مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔ بکریاں اور لونڈی تجھے واپس لوٹائی جائیں گی ۔‘ ‘اور آپ نے اس کے بیٹے کو سوکوڑے مروائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا اور آپ نے انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کوحکم دیا کہ وہ اس دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں۔ اگر وہ اس کا اعتراف کرلے تو اسے سنگسار کر دو چنانچہ اس نے اعتراف کیا اور انہوں نے اسے رجم کر دیا، امام مالک رحمتہ اللہ نے کہا: العسیف کا معنی (الاجير )’’ مزدور‘‘ ہے۔‘‘
أَحَدُهُمَا ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ: أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشيرزي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Frontiers › Chapter of fornication · Hadith 2579
