Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

تربية الأبناء

Children & Parenting

5818 hadiths

سنن دار القطنی · الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ ‹ باب · حديث 4764

4764 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ , وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ , قَالَا: نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى , نا جَرِيرٌ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ , قَالَ: صَنَعَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَتْهُ وَأَصْحَابَهُ , قَالَ: فَذَهَبَ بِي أَبِي مَعَهُ , قَالَ: فَجَلَسْنَا بَيْنَ يَدَيْ آبَائِنَا مَجَالِسَ الْأَبْنَاءِ مِنْ آبَائِهِمْ , قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلُوا حَتَّى رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَكَلَ فَلَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَتَهُ رَمَى بِهَا , ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَجِدُ طَعْمَ لَحْمِ شَاةٍ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبَتِهَا» , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِي [ص:516] وَأَنَا مِنْ أَعَزِّ النَّاسِ عَلَيْهِ وَلَوْ كَانَ خَيْرًا مِنْهَا لَمْ يُغَبِّرْ عَلَيَّ , وَعَلَيَّ أَنْ أُرْضِيَهُ بِأَفْضَلَ مِنْهَا , فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَأَمَرَ بِالطَّعَامِ لِلْأُسَارَى.

ایک مزنی بیان کرتے ہیں کہ ایک قریشی مسلمان خاتون نے رسول اللہ ﷺ کے لیے کھانا تیار کر کے آپ ﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو دعوت دی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میرے والد مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ ہم اپنے بڑوں کے سامنے اسی طرح بیٹھے جس طرح اپنے بڑوں کے سامنے بیٹھتے ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس وقت تک کھانا شروع نہ کیا جب تک کہ رسول اللہ ﷺ کو کھاتے نہ دیکھ لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک لقمہ لیا تو فورا رکھ دیا اور فرمایا: میں ایسی بکری کے گوشت کا ذائقہ محسوس کر رہا ہوں کہ جسے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کیا گیا ہے۔ تو اس عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وہ میرا بھائی ہے اور سب سے زیادہ میری عزت کرتا ہے، اس سے بھی بہتر مال ہوتو وہ مجھے ( اسے استعمال کرنے پر ) کچھ نہیں کہتا، تاہم میں اسے اس سے بہتر لوٹا کر راضی کرلوں گی تو آپ ﷺ نے اس کا گوشت کھانے سے انکار کر دیا اور قیدیوں کو کھلانے کا حکم دے دیا۔

رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ ← أَبِيهِ ← عاصمِ بنِ كليبٍ الجرميِّ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ

Sunan Dar Al Qutni · Fish, carcasses, food and so on › Door · Hadith 4764

سنن دار القطنی · الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ ‹ باب · حديث 4804

4804 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , وَأَبُو عُمَرَ الْقَاضِي , وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ , قَالُوا: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَيْسَرَةَ , قَالَ: نا أَبُو جَابِرٍ , نا شُعْبَةُ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , فِي الْمُسْلِمِ يَذْبَحُ وَيَنْسَى التَّسْمِيَةَ , قَالَ: «لَا بَأْسَ بِهِ».

ابراہیم رحمہ اللہ نے اس مسلمان کے متعلق ، جو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے ، فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔

لاَ بَأْسَ بِهِ. ← إِبْرَاهِيمَ فِي الْمُسْلِمِ يَذْبَحُ وَيَنْسَى التَّسْمِيَةَ ← مُغِيرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو جَابِرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَيْسَرَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَأَبُو عُمَرَ الْقَاضِي وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ

Sunan Dar Al Qutni · Fish, carcasses, food and so on › Door · Hadith 4804

سنن دار القطنی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ · حديث 392

392 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ , نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ , نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , نا الْأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: «إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا»

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم فرماتی ہیں کہ جب شرم گاہ کے ساتھ شرم گاہ مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، جب میں نے اور رسول اللہﷺ نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔

وَرَسُولُ الله، فاغتسلنا1. ← «إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ فَعَلْتُهُ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ،

Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › Chapter on the obligation to do ghusl after meeting the circumcision, even if it is not revealed · Hadith 392

سنن دار القطنی · کتاب ‹ بَابُ مَوْضِعِ سَكَتَاتِ الْإِمَامِ لِقِرَاءَةِ الْمَأْمُومِ · حديث 1275

1275 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ , ثنا سَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ , وَعَلِيُّ بْنُ أَشْكَابٍ , وَالْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْبُسْتَنْبَانِ , قَالُوا: نا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ , عَنِ الْحَسَنِ , قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ: حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ , - وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ: - قَالَ سَمُرَةُ: " حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ: سَكْتَةٌ إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ , وَسَكْتَةٌ إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ [ص:135] فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ". فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ , فَكَتَبُوا إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , فَصَدَّقَ سَمُرَةَ الْحَسَنُ مُخْتَلِفٌ فِي سَمَاعِهِ مِنْ سَمُرَةَ , وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ حَدِيثًا وَاحِدًا وَهُوَ حَدِيثُ الْعَقِيقَةِ فِيمَا زَعَمَ قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے نماز میں دو سکتے ( یعنی کچھ دیر خاموش رہنے کے دو مواقع) یاد رکھے ہیں : ایک سکتنہ تب جب امام تکبیر کہتا ہے ، یہاں تک کہ قرآت شروع کر دے ( یعنی تکبیر اور قرآت کے درمیان میں خاموشی کا وقت ) اور دوسرا سکتہ تب کہ جب امام سورۃ الفاتحہ کی قرآت سے فارغ ہو۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار کیا، تو لوگوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف مدینہ خط لکھا تو انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ حسن کے سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت سننے میں اختلاف واقع ہوا ہے ، انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے ایک ہی حدیث سنی ہے اور وہ عقیقے کی حدیث ہے ، جیسا کہ قریش بن انس کا گمان ہے ، انہوں نے حبیب بن شہید سے روایت کیا۔

الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْبُسْتَنْبَانِ ← عَلِيُّ بْنُ أَشْكَابٍ ← سَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Dar Al Qutni · prayer book › The door of the Imam's placement of the Imam's recitation · Hadith 1275

سنن دار القطنی · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ بَابُ الْمَوَاقِيتِ · حديث 2793

2793 - ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ , نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ مُحَمَّدٍ , نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , نا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ , نا أَبِي , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: " أَرْبَعَةٌ لَا أُؤَمِّنُهُمْ فِي حِلٍّ وَلَا حَرَمٍ: الْحُوَيْرِثُ بْنُ نُقَيْدٍ , وَمِقْيَسٌ , وَهِلَالُ بْنُ خَطَلٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ ". فَأَمَّا الْحُوَيْرِثُ فَقَتَلَهُ عَلِيٌّ , وَأَمَّا مِقْيَسٌ فَقَتَلَهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ لَحَا , وَأَمَّا هِلَالُ بْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ , وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ , وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمِقْيَسٍ تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا وَأَفْلَتَتِ الْأُخْرَى فَأَسْلَمَتْ

سیدنا سعید مخزوی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز فرمایا: چار افراد کو میں حل و حرم میں امان نہیں دوں گا ( یعنی ان چار افراد کو میری طرف سے نہ تو حدود حرم میں کوئی پناہ حاصل ہے اور نہ ہی اس سے باہر ) حویرث بن ثقید، مقیس، بلال بن خطل ،اور عبداللہ بن ابی سرح ۔ حویرث کو تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قتل کردیا تھا، مقیس کو اس کے چچا زاد لحانے قتل کر ڈالا ،بلال بن خطل کو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا اور عبداللہ بن ابی سرح کے لیے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے امان طلب کر لی ، وہ ان کا رضاعی بھائی تھا۔ مقیس کی دو لونڈیاں تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں گانے گایا کرتی تھیں ، ان میں سے ایک تو قتل کر دی گئی تھی اور دوسری بچ کر بھاگ گئی تھی، پھر وہ مسلمان ہو گئی تھی۔

جَدِّهِ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ

Sunan Dar Al Qutni · The Hajj Book › Timing door · Hadith 2793

سنن دار القطنی · كِتَابُ الرَّضَاعِ ‹ باب · حديث 4354

4354 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ , نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ , نا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّهُ سَأَلَهُ: تَرَى تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَرَّةٌ وَاحِدَةٌ؟ , قَالَ: «نَعَمْ»

ابو زبیر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے کہ ایک مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا: ہاں ۔

نَعَمْ ← جَابِرٍ أَنَّهُ سَأَلَهُ: تَرَى تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَرَّةٌ وَاحِدَةٌ؟ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ

Sunan Dar Al Qutni · The Breastfeeding Book › Door · Hadith 4354

مسند الفاروق · كتاب الطهارة ‹ أثر عن عمر · حديث 12

(12) وقال أبو القاسم البغوي: ثنا الحكم بن موسى، ثنا يحيى بن حمزة، عن زيد بن واقِد، حدثني بُسر بن عبيد الله (2) قال: كانت تحتَ عمرَ بن الخطاب امرأةٌ تسمَّى عاصيةً، فسمَّاها رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: جميلةً -وكانت امرأةً جميلةً-، وكان عمرُ يحبُّها، فكان إذا خَرَج إلى صلاةٍ مَشَت معه من فراشها إلى الباب، فإذا / (ق 9) أراد الخروجَ قبَّلَتْهُ، ثم مضى، ورَجَعتْ إلى فراشِها. وهذا إسناد رجاله كلُّهم ثقات، إلا أنَّ بُسرًا لم يُدرك أيام عمر. وقد رواه أسد بن موسى، عن قيس بن الرَّبيع، عن هشام بن حسان، عن ابن سيرين، عن عمرَ ... ، فذَكَره. وسيأتي في العقيقة (3). ومن زوجات أمير المؤمنين عمر: جميلةُ بنت ثابت بن أبي الأقلح الأنصاري، أخت عاصم، أمير سَريَّة الرَّجيع، وهي: أُمُّ عاصم بن عمر، فلعلَّها هذه (1)، والله أعلم. ثم رأيت حماد بن سَلَمة قد روى عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمرَ قال: كان اسم أُمِّ عاصم: عاصيَة، فسمَّاها رسولُ الله صلى الله عليه وسلم جميلةً (2). وهذا صحيح. وهذا يقتضي أنَّ عمرَ كان لا يرى القُبْلةَ ناقضةً للوُضوءِ. لكن قد روى الدارقطني (3) عنه ما يقتضي خلاف هذا، فقال:

كانت تحتَ عمرَ بن الخطاب امرأةٌ تسمَّى عاصيةً، فسمَّاها رسولُ الله جميلةً ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 12

مسند الفاروق · كتاب الحجِّ ‹ حديث آخر · حديث 376

376) قال أبو يعلى (1): ثنا موسى، ثنا أبو أحمد الزُّبيري، ثنا سفيان، عن أبي الزُّبير، عن جابر، عن عمرَ قال: إنْ عِشتُ -إنْ شاءَ اللهُ-؛ لأُخْرِجَنَّ اليهودَ من جزيرةِ العربِ. قال: وقال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: «لَئِن عِشتُ -إنْ شاءَ اللهُ- لأَنهينَّ أن يُسمَّى رَبَاحًا، ونَجِيحًا (2)، وأَفلَحَ، ويَسَارًا». ورواه الترمذي (3)، وابن ماجه (4) بدون قصَّة إخراج اليهود والنصارى من حديث أبي أحمد الزُّبيري. ثم قال الترمذي: غريب، وهكذا رواه أبو أحمد، وهو ثقة حافظ، والمشهور عند الناس في هذا الحديث: عن جابر. ليس فيه عمر (5). _________ (1) لم أجده في المطبوع من «مسنده»، وهو من رواية ابن حمدان، فلعلَّه في مسنده الكبير. (2) كذا ضبطها المؤلِّف. (3) في «سننه» (5/ 122 رقم 2835) في الأدب، باب ما يُكره من الأسماء. (4) في «سننه» (2/ 1229 رقم 3729) في الأدب، باب ما يُكره من الأسماء. (5) وقال الدارقطني في «العلل» (2/ 95): رواه أبو أحمد الزُّبَيري، عن الثوري، عن أبي الزُّبير، عن جابر، عن عمرَ هذا الحديث، وألحق به كلامًا آخر، أدرجه فيه عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم: «لأَنَهينَّ أن يُسمَّى رَبَاحًا، ونَجِيحًا»، ووَهِمَ في إدراجه هذا الكلام عن عمرَ، وغيره يَرويه عن الثوري، عن أبي الزُّبير، عن جابر، عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم، وهو الصحيح. قلت: وحديث جابر رضي الله عنه: أخرجه مسلم (3/ 1686 رقم 2138) في الآداب، باب كراهة التسمية بالأسماء القبيحة، وبنافع، ونحوه، من طريق ابن جريج، أخبرني أبو الزبير: أنه سَمِعَ جابر بن عبد الله يقول: أراد النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنْ ينهى عن أن يُسمَّى بـ «يعلى»، وبـ «بركة»، وبـ «أفلح»، وبـ «يَسَار»، وبـ «نافع»، وبنحو ذلك، ثم رأيتُهُ سَكَتَ بعدُ عنها، فلم يقل شيئًا، ثم قُبِضَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم ولم ينه عن ذلك، ثم أراد عمرُ أن ينهى عن ذلك، ثم تَرَكَهُ. قلت: وقد ورد النهي صريحًا، وذلك فيما أخرجه مسلم (3/ 1685 رقم 2136) من حديث سَمُرة بن جندب -رضي الله عنه- قال: نهانا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم أنْ نُسمِّيَ رَقِيقَنَا بأربعةِ أسماءٍ: أفلحَ، ورباحٍ، ويَسَارٍ، ونافعٍ. وفي لفظ: «لا تُسمِّ غلامَكَ رَبَاحًا، ولا يَسَارًا، ولا أفلحَ، ولا نافعًا».

عُمَرَ، ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مُوسَى ← أَبُو يَعْلَى

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 376

مسند الفاروق · كتاب الجنايات ( ‹ أثر آخر فيه تقديم المباشرة على السَّبب · حديث 613

613) قال عبد الله بن صالح كاتب الليث (1): ثنا موسى بن عُلَي بن رباح، عن أبيه: أنَّ أعمى كان له قائدٌ بصيرٌ، فغَفَلَ البصيرُ، فوقعا في بئرٍ، فمات البصيرُ، وسَلِمَ الأعمى، فجعل عمرُ -رضي الله عنه- دِيَتَهُ على عاقلةِ الأعمى، فسَمِعتُهُ يقول في الحجِّ: يا أيها الناسُ لَقِيتُ مُنكَرًا ... هل يًعقِلُ الأعمى الصحيحَ المُبْصِرَا خَرَّا معًا كلاهما تَكَسَّرا وأخرجه الدارقطني في «سننه» (2)، وزاد فيه: فوَقَعا في بئرٍ، فوقع الأعمى على البصير، فمات. وهذا إسناد حسن (3). _________ (1) ومن طريقه: أخرجه الذهبي في «السِّير» (15/ 311). (2) (3/ 98) من طريق زيد بن الحُبَاب، عن موسى بن عُلَي، به. (3) في هذا نظر؛ فقد نصَّ أبو زرعة على أنَّ رواية عُلَي بن رباح عن أبي بكر وعليّ -رضي الله عنهما- مرسلة، فلتكن روايته عن عمرَ كذلك، وقد أرَّخ ابن يونس ولادة عُلَي سنة خمس عشرة، عام اليرموك، فيكون عُمُره عند وفاة عمرَ -رضي الله عنه- ثماني سنين، فالانقطاع ظاهر. انظر: «المراسيل» لابن أبي حاتم (ص 140) و «تهذيب الكمال» (20/ 430). زد على هذا: أنَّ عبد الله بن صالح كاتب الليث، صدوق كثير الغلط، كما قال الحافظ في «التقريب». وقد قال ابن حزم في «المحلى» (10/ 506): الرواية عن عمرَ لا تصحُّ في أمر الأعمى؛ لأنه عن عُلَي بن رباح واللَّيث، وكلاهما لم يُدرك عمرَ أصلاً. وبالانقطاع -أيضًا- أعلَّه الحافظ في «التلخيص الحبير» (4/ 37).

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← عبد الله بن صالحٍ كاتب الليث،

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 613

مسند الفاروق · كتاب الجامع ‹ أحاديث في الأدب · حديث 944

944) قال أبو القاسم الطَّبراني (4): ثنا زكريا السَّاجي (5)، ثنا عبد الرحمن بن يونس الرَّقِّي، ثنا أبو القاسم بن أبي الزِّناد، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن عمرَ قال: دَخَلتُ على النبيِّ صلى الله عليه وسلم وحَبَشيٌّ يَغمزُ ظَهْرَه. فقلتُ: ما هذا يا رسولَ الله؟ فقال: «إنَّ الناقةَ تقحَّمَت بِيَ البارحةَ». اختاره الضياء في كتابه من هذا الوجه. قلت: فيه دلالةٌ على جواز التكبيس إذا دَعَت إليه حاجةٌ، فإنَّ الغمزَ ههنا هو التكبيسُ، وفيه نفعٌ مباحٌ، والله أعلم. _________ (1) أي: ألقتني في ورطةٍ، يقال: تقحَّمت به دابَّتُه، إذا نَدَّت به فلم يَضبط رأسَها، فربَّما طوَّحت به في أُهويَّة، والقُحْمة: الوَرْطة والمَهْلَكة. «النهاية» (4/ 18). (2) سيأتي تخريجه في الحديث التالي. (3) لم أقف عليه من هذا الوجه، وقد أخرجه الطبراني في «الأوسط» (8/ 95 رقم 8077) عن موسى بن هارون، عن قتيبة، عن عبد الله بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن جدِّه. (4) في «معجمه الصغير» (1/ 148 رقم 226). وقال: لم يروه عن زيد بن أسلم إلا هشام بن سعد، ولا عن هشام بن سعد إلا أبو القاسم بن أبي الزِّناد، تفرَّد به عبد الرحمن بن يونس. وضعَّف إسنادَه العراقي في «المغني عن حمل الأسفار» (1/ 140 - بهامش الإحياء). (5) كذا ورد بالأصل. والذي في المطبوع، و «مجمع البحرين» (7/ 122 رقم 4160): «إبراهيم بن يوسف البزَّاز». وأخرجه الضياء في «المختارة» (1/ 183 رقم 91) من طريق الطبراني، وجاء فيه تسمية شيخ الطبراني، كما عند المؤلِّف.

دَخَلتُ على النبيِّ وحَبَشيٌّ يَغمزُ ظَهْرَه. فقلتُ: ما هذا ← عُمَرَ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ الرَّقِّيُّ ← زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، ← أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 944

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 231

231 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ فَقَالَ «إِنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ» [ص:273]

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میرے رضاعی چچاافلح بن ابوقعیس آئے اور انہوں نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی یہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے میں نے انہیں اجازت نہیں دی۔ نبی اکرم ﷺتشریف لائے اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ ﷺنے فرمایا: وہ تمہارا چچا ہے تم اسے اجازت دے دو۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 231

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 262

262 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ الْعَبُ بِهَذِهِ الْبَنَاتِ، وَكُنَّ جَوَارِيَ يَأْتِيَنِّي يَلْعَبْنَ مَعِي بِهَا، فَلَمَّا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَمَّعْنَ «فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلِيَّ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میں ان گڑیاؤں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی میری سہیلیاں میرے پاس آیا کرتی تھیں اور وہ بھی میرے ساتھ ان کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں جب وہ نبی اکرم ﷺکو دیکھتی تھیں تو جا کر چھپ جاتی تھیں، تو نبی اکرم ﷺانہیں میری طرف بھجوا دیا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 262

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 349

349 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ مَيْسَرَةَ الْفِهْرِيَّةِ مَوْلَاتَهُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي الْعَقِيقَةِ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ»

سیدہ ام کرزخزاعیہؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں ذبح کی جائیں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی۔

الْغُلَامِ شَاتَانِ مُکَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ← فِي الْعَقِيقَةِ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمَّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةَ تَقُولُ: ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ مَيْسَرَةَ الْفِهْرِيَّةِ مَوْلَاتَهُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 349

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 842

842 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَعَ الصَّبِيِّ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى»

حضرت سلمان بن عامر جہنی ؓبیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: بچے کا عقیقہ کیا جائے گا تم اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے گندگی دور کر دو۔

«مَعَ الصَّبِيِّ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ← الرَّبَابِ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 842

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 965

965 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ، أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ "

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"فطرت پا نچ چیز ہیں"۔ (راوی کو شک ہے شائد یہ الفاظ ہیں)"پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں،، ختنہ کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال صاف کرنا اور موچھیں چھوٹی کرنا“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 965

الأدب ابن أبي شيبة · کتاب ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخِتَانِ · حديث 186

186 - حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخِتَانَ سُنَّةٌ لِلرِّجَالِ مَكْرُمَةٌ لِلنِّسَاءِ»

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الْمَلِيحِ ← رَجُلٌ: ← حجاج، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ

Adab Ibn Abi Shaibah · Book › Chapter on what came in circumcision · Hadith 186

الأدب ابن أبي شيبة · کتاب ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخِتَانِ · حديث 187

187 - حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ» ، فَذَكَرَ الْخِتَانَ

خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ فَذَكَرَ الْخِتَانَ. ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ،

Adab Ibn Abi Shaibah · Book › Chapter on what came in circumcision · Hadith 187

الأدب ابن أبي شيبة · کتاب ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخِتَانِ · حديث 188

188 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَإِبْرَاهِيمَ، قَالَا: «الْخِتَانُ مِنَ السُّنَّةِ»

الْخِتَانُ من السُنَّةِ. ← مُجَاهِدٍ وَإِبْرَاهِيمَ ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ

Adab Ibn Abi Shaibah · Book › Chapter on what came in circumcision · Hadith 188

صحیح الترغیب والترھیب · 22 - كتاب البر والصلة وغيرهما. ‹ 2 - (الترهيب من عقوق الوالدين). · حديث 2507

2507 - (1) [صحيح] عن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه عن النبيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال: "إنَّ الله حرَّم عليكُم عقوقَ الأُمَّهاتِ، وَوَأْدَ البَناتِ، ومَنْعَ وهات، وكرهَ لَكُم قيلَ وقالَ، وكثْرةَ السُّؤَال، وإضاعَةَ المالِ" (1). رواه البخاري وغيره.

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ

Sahih Al Targheeb w Al Tarheeb · 22 - Book of Righteousness, Relation, and others. › 2 - (Intimidation is disobedience to parents). · Hadith 2507

صحیح الترغیب والترھیب · 22 - كتاب البر والصلة وغيرهما. ‹ 2 - (الترهيب من عقوق الوالدين). · حديث 2508

2508 - (2) [صحيح] وعن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال رسولُ الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "ألا أُنبِّئُكم بأكبرِ الكبائِر؟ (ثلاثاً) ". قلنا: بَلى يا رسولَ الله! قال: "الإشراكُ بالله، وعقوقُ الوالِدينِ -وكان متكئاً فجلَس فقال:- ألا وقولُ الزورِ، وشهادَة الزورِ". فما زال يُكرِّرُها حتى قلنا: لَيْتَهُ سَكَتَ. رواه البخاري ومسلم والترمذي. __________ (1) (العقوق): أصله من (العق) وهو الشق والقطع. يقال: عق والده يعقه عقوقاً، فهو عاق: إذا آذاه وعصاه وخرج عليه، وهو ضد البر، كأن العاق لأمه يقطع ما بينهما من الحقوق. وإنما خص الأمهات بالذكر وإن كان عقوقُ الآباء أيضاً حراماً؛ لأن العقوق إليهن أسرع من الآباء؛ لضعف النساء، وللتنبيه على أن بر الأم مقدم على بر الأب في التلطف والحنو ونحو ذلك. وقوله: "ووأد البنات"؛ (الوأد) مصدر وأدت الوائدة ابنتها تشدها: إذا دفنتها حية. وكان أحدهم في الجاهلية إذا جاءته بنت يدفنها حية حين تولد، ويقولون: القبر صهر، ونعم الصهر! وكانوا يفعلونه غيرة وأنفة، وبعضهم يفعله تخفيفاً للمؤنة. قيل: أول من فعله من العرب قيس بن عاصم التيمي. وقوله: "ومنع وهات": (المنع) مصدر منع يمنع، والمراد: منع ما أمر الله أن لا يمنع. قال ابن التين: "ضبط (منع) بغير ألف، وصوابه (منعاً) بالألف، لأنه مفعول (حرَّم). و (هات) فعل أمر مجزوم. والمراد به النهي عن طلب ما لا يستحق طلبه". وقوله: "وكره لكم قيل وقال" يروى بغير تنوين حكاية للفظ الفعل، وروي منوناً، وهي رواية البخاري: "قيلاً وقالاً" على النقل من الفعلية إلى الاسمية. والأول أكثر. والمراد به نقل الكلام الذي يسمعه إلى غيره، فيقول: قيل: كذا وكذا بغير تعيين القائل. وقال فلان: كذا وكذا. إنما نُهي عنه؛ لأنه من الاشتغال بما لا يعني المتكلم، ولأنه قد يتضمن الغيبة والنميمة والكذب، لا سيما مع الإكثار من ذلك، قلما يخلو عنه الإنسان. وقوله: "وكثرة السؤال" إما في العلميات، وإما في الأموال؛ وكلاهما مضر، أو عن المشكلات من المسائل، أو مجموع الأمرين، وهو أولى من حمله على الخاص. وقوله: "وإضاعة المال" المتبادر من الإضاعة ما لم يكن لغرض ديني ولا دنيوي. وقيل: هو الإنفاق في الإسراف. وقيده بعضهم بالإنفاق في الحرام. والله أعلم. [من هامش الأصل].

أَبِي بَكْرَةَ ← [صحيح]

Sahih Al Targheeb w Al Tarheeb · 22 - Book of Righteousness, Relation, and others. › 2 - (Intimidation is disobedience to parents). · Hadith 2508

chevron_left Previous
1…737475…291
Next chevron_right