Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [The chapter on what came in Abu al-Yusr, like Ka'b Ibn Amru - may God be pleased with him -] · Hadith 15752
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › Chapter on what came in Thabit bin Qais bin Shammas - may God be pleased with him -] · Hadith 15786
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ فِي أَبِي الْهَيْثَمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] · حديث 15845
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter of what came in a group of companions and others for whom their names, or their deaths, or their lineages are mentioned to them] · Hadith 16241
مسند عبد بن حميد · کتاب ‹ مُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 391
Musnad Abd Bin Hameed · Book › From the chain of narration of the friend, Aisha, the mother of the believers, may God be pleased with her, and on the authority of her father · Hadith 1473
سنن دار القطنی · كِتَابُ الرَّضَاعِ ‹ باب · حديث 4360
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رضاعت میں ایک یا دو مرتبہ ( عورت کے پستان کو ) چوسنا حرام نہیں کرتا اور صرف وہی رضاعت ( رشتے کو ) حرام کرتی ہے جو آنتوں کو پھاڑے ( یعنی بچہ خوب سیر ہو کر دودھ پئے ) ۔ ابراہیم کہتے ہیں : میں نے اس کا تذکرہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے کہا: جب بچہ چھوٹا ہو اور اس کے پیٹ میں دودھ کا ایک قطرہ بھی داخل ہو جائے تو حرمت ثابت ہو جاتی ہے ۔ عثمان رحمہ اللہ نے فرماتے ہیں : جب دودھ آنتوں کو پھاڑ دے ( تب حرمت ثابت ہوتی ہے ) انہوں نے اس سے زائد الفاظ بیان نہیں کیے ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد ابو قعیس کے بھائی افلح نے ان سے ( گھر میں داخلے کی ) اجازت طلب کی ، وہ آپ کا رضاعی چچا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اسے اجازت نہ دی ، پھر جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو یہ بات بتلائی تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے اجازت دے دیا کروں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رجم کی آیت اور بڑی عمر کے لڑکے کو دس مرتبہ دودھ بلانے کے مسئلے پر مشتمل ایت نازل ہوئی ، تو یہ دونوں آیتیں کاغذ پر لکھی ہوئیں میرے بستر پر پڑی تھیں ۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو ہم آپ کی وفات ( یعنی غسل ور تکفین و تدفین ) میں مشغول ہو گئے تو ایک بکری ( گھر میں ) داخل ہوئی اور وہ کاغذ کھا گئی ۔ ( واضح رہے کہ یہ وہ آیات تھیں جن کی تلاوت منسوخ ہو چکی تھی، البتہ حکم باقی تھا، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے انہیں مصحف میں نہیں لکھا ) ۔
عمرو بن دینار روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے رضاعت کا کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے تو صرف یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رضاعی بہن کو حرام قرار دیا ہے ۔ ان سے کہا گیا: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ایک یا دو مرتبہ ( عورت کا پستان ) چوسنا ( رشتے کو ) حرام نہیں کرتا۔ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تیرے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے فیصلے سے بہتر ہے ۔
زینب بنت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ سیدہ اسماء بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ دودھ پلایا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ میرے پاس آیا کرتے اور میں کنگھی کر رہی ہوتی تھی تو وہ میرے سر کی مینڈھی پکڑ کر کہتے : آؤ میرے ساتھ باتیں کرو۔ وہ انہیں اپنے ولاد اور انکی اولاد کو اپنے بھائی سمجھتی تھیں ۔ پھر حرہ کا واقعہ پیش آنے سے قبل عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حمزہ بن زبیر کا میری بیٹی سے نکاح کا پیغام بھیجا، حمزہ اور مصعب کلابی تھے ۔ کہتی ہیں کہ میں نے انہیں پیغام بھیجا کہ کیا یہ اس کے لیے صحیح ہے ؟ انہوں نے کہہ بھیجا کہ تم صرف ( میرے بیٹے کے ساتھ ) اپنی بیٹی کا نکاح نہیں کرنا چاہتی ، حالانکہ میں تمہارا بھائی ہوں اور اسماء رضی اللہ عنہ کی اولاد تمہارے بھائی ہیں ، لیکن سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ک وہ اولاد جو اسماء رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے ، وہ تمہارے بھائی نہیں ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے بیغام بھیج دیا، حالانکہ بہت سے صحابہ کرام اور اور امہات المومنین کہتے تھے کہ رضاعت مرد کی طرف سے رشتوں کو حرام نہیں کرتی ۔
ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: تھوڑا دودھ پینا یا زیادہ پیا ( بہ ہر صورت رشتے کو ) حرام کر دیتا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے قول سے متاثر ہیں کہ سات مرتبہ سے کم دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کا فرمان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بہتر ہے ، اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے : ( و اخواتکم من الرضاعۃ ) " اور تمہاری دودھ شریک بہنیں ( حرام ہیں ) ۔ " اور اللہ تعالیٰ نے ایک یا دو مرتبہ دودھ پینے کا ذکر نہیں فرمایا: ( بلکہ مطلقاً رضاعت کا ذکر فرمایا ہے ) ۔
عمرو بن وینار روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ ان سے ایک آدمی نے سوال کی اکہ کیا ایک یا دو مرتبہ دودھ پینا ( رشتے کو ) حرام کر دیتا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا: میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ رضاعی بہن سے نکاح حرام ہے ۔ اس آدمی نے کہا: امیر المومنین ( اس کی مراد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے ) کا خیال ہے کہ ایک دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ۔ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تیرے اور امیر المومنین کے فیصلے سے بہتر ہے ۔