Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

تربية الأبناء

Children & Parenting

5818 hadiths

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ [بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمَوْلُودِ] · حديث 6204

6204 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَبْعَةٌ مِنَ السُّنَّةِ فِي الصَّبِيِّ يَوْمَ السَّابِعِ: يُسَمَّى، وَيُخْتَنُ، وَيُمَاطُ عَنْهُ الْأَذَى، وَتُثْقَبُ أُذُنُهُ، وَيُعَقُّ عَنْهُ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ، وَيُلَطَّخُ بِدَمِ عَقِيقَتِهِ، وَيُتَصَدَّقُ بِوَزْنِ شَعْرِهِ فِي رَأْسِهِ ذَهَبًا، أَوْ فِضَّةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بچے کے بارے میں ساتویں دن سات چیز میں سنت ہیں: اس کا نام رکھا جائے اس کا ختنہ کیا جائے اس سے بال صاف کیے جائیں گے اس کے کان میں سوراخ کیا جائے‘ اس کا عقیقہ کیا جائے اس کاسرمونڈ دیا جائے اور اسے عقیقہ(کے جانور کا خون لگا دیا جائے اور اس کے سر کے بالوں کے وزن جتنا سونایاچاندی صدقہ کی جائے۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہےاوراس کےرجال ثقہ ہیں۔

يُخْتَنُ، وَيُمَاطُ عَنْهُ الْأَذَى، ← سَبْعَةٌ مِنَ السُّنَّةِ فِي الصَّبِيِّ يَوْمَ السَّابِعِ: يُسَمَّى، ← ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › [Chapter on what is to be done to the newborn] · Hadith 6204

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ بَابٌ فِي الْخِتَانِ] · حديث 6208

6208 - عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: دُعِيَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ إِلَى خِتَانٍ فَأَبَى [أَنْ يُجِيبَ]، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا لَا نَأْتِي الْخِتَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَلَا نُدْعَى لَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

حسن بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کوختنہ کے موقع پر کی جانے والی دعوت میں بلایا گیا تو انہوں نے جانے سے انکار کر دیا ان سے کہا گیا تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نہ تو ہم ختنے کی دعوت میں جایا کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں اس کے لئے بلا یا جا تا تھا۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

دُعِيَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ إِلَى خِتَانٍ فَأَبَى أَنْ يُجِيبَ فَقِيلَ لَهُ ← الْحَسَنِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › Chapter on circumcision] · Hadith 6208

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَبْرَارِ] · حديث 13422

13422 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «سَمَّاهُمُ اللَّهُ الْأَبْرَارَ لِأَنَّهُمْ بَرُّوا الْآبَاءَ وَالْأُمَّهَاتِ وَالْأَبْنَاءَ، كَمَا أَنَّ لِوَالِدَيْكَ عَلَيْكَ حَقًّا كَذَلِكَ لِوَلَدِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’الله تعالیٰ نے نیک لوگوں کا نام نیک لوگ‘ اس لئے رکھا ہے کیونکہ وہ اپنے آباؤ اجداد‘ اپنی ماؤں اور بیٹوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں‘ جس طرح تمہارے ماں باپ کا تم پر حق ہے اسی طرح تمہاری اولاد کا بھی تم پرحق ہے ‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی عبد الله بن ولید وصافی ہے اور وہ ضعیف ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Righteousness and Prayer] › [Chapter of what comes in the righteous] · Hadith 13422

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعُقُوقِ] · حديث 13430

13430 - وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: عُقُوقُ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدُ الْبَنَاتِ، وَمَنْعٌ وَهَاتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک الله تبارک وتعالیٰ نے تمہارے لئے تین چیزوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے‘ ماؤں کی نافرمانی کرنا‘ بیٹیوں کو زنده دفن کرنا اور ’’منع ‘‘(یعنی اپنے پاس موجود چیز کو صدقہ نہ کرنا)اور’’ہات ‘‘(یعنی دوسرے سے مانگتے ہوئے یہ کہنا: مجھے دو!)‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Righteousness and Prayer] › [Chapter of what comes in the Aakkooks] · Hadith 13430

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ] ‹ [بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا] · حديث 13453

13453 - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَثَّ عَلَى صِلَةِ الرَّحِمِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْقِيَامِ عَلَى الْبَنَاتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے صلہ رحمی کے بارے میں ترغیب دی۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے‘ یہ مکمل روایت بیٹیوں کے لئے کھڑے ہونے کے باب میں آئے گی‘ اگر اللہ نے چاہا۔

جَابِرٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Righteousness and Prayer] › [Chapter of the prayer of the womb and its severing] · Hadith 13453

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَوْلَادِ] · حديث 13485

13485 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «لَا تَكْرَهُوا الْبَنَاتَ، فَإِنَّهُنَّ الْمُؤْنِسَاتُ الْغَالِيَاتُ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم بیٹیوں کو ناپسند نہ کرو! کیونکہ وہ محبت رکھنے والی اور (بہت)قیمتی ہوتی ہیں‘‘۔یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Righteousness and Prayer] › Chapter on What Comes Among the Children] · Hadith 13485

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ بَابٌ فِي مَنْ قُتِلَ بِالشَّامِ] · حديث 10374

10375 - وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أَجْنَادِينَ: مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: تَمِيمُ بْنُ الْحَارِثِ بْنُ قَيْسٍ، وَجُنْدُبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَمْحَمَةَ الدَّوْسِيُّ حَلِيفُ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ. مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: حَجَّاجُ بْنُ الْحَارِثِ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: الْحَارِثُ بْنُ أَبِي قَارِبٍ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ. رَوَاهُ كُلَّهُ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

قریش کی شاخ بن سہم بن ہصیص سے تعلق رکھنے والے حضرت تمیم بن حارث قیس اور حضرت جندب بن حممہ دوسی رضی اللہ عنہ جو بنو امیہ بن عبد شمس کے حلیف تھے ۔ قریش کی شاخ بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے حضرت عمرو بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ ، قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت حجاج بن حارث بن قیس رضی اللہ عنہ ، قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن حارث بن قیس رضی اللہ عنہ ، قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت سعید بن حارث بن قیس رضی اللہ عنہ بنو عدی بن کعب سے تعلق رکھنے والے حضرت نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ، یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں عروہ کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے۔

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › Chapter on Who Was Killed in the Levant] · Hadith 10374

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ بَابٌ فِي مَنْ قُتِلَ بِالشَّامِ] · حديث 10375

10376 - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أَجْنَادِينَ: مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: حَجَّاجُ بْنُ الْحَارِثِ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: الْحَارِثُ بْنُ الْحَارِثِ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

ابن شہاب نے یوم اجنادین میں جام شہادت کرنے والوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے : قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت تمیم بن حارث بن قیس رضی اللہ عنہ اور حضرت جندب بن عمرو بن حممہ دوسی رضی اللہ عنہ جو بنو امیہ بن عبد شمس کے حلیف تھے ، قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت حجاج بن حارث رضی اللہ عنہ ، قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن ابو قارب رضی اللہ عنہ ، قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت سعید بن حارث بن قیس رضی اللہ عنہ انہوں نے یہ تمام روایات ایک سند کے ساتھ نقل کی ہیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › Chapter on Who Was Killed in the Levant] · Hadith 10375

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ بَابٌ فِي مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الْجِسْرِ] · حديث 10380

10380 - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْجِسْرِ سَنَةَ خَمْسَ عَشَرَةَ. مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: أَسْعَدُ بْنُ حَارِثَةَ بْنِ لَوْذَانَ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ: ثَابِتُ بْنُ عَتِيكٍ، وَثَعْلَبَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحْصَنٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ: الْحَارِثُ بْنُ عَدِيِّ بْنِ مَالِكٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ عَبْدِ بْنِ مُظَاهِرٍ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

ابن شہاب نے جنگ جسر کے دن شہید ہونے والے مسلمانوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے : یہ جنگ پندرہ ہجری میں پیش آئی تھی : انصار کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ ، انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت اسعد بن حارثہ بن لوذان رضی اللہ عنہ ، انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن عتیک رضی اللہ عنہ اور حضرت ثعلبہ بن عمرو بن محصن رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو معاویہ سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن عدی بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت حارث بن مسعود بن عبد بن مظاہر رضی اللہ عنہ دونوں روایت امام طبرانی نے ایک ہی سند کے ساتھ نقل کی ہیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › Chapter on Who Was Killed on the Day of the Bridge] · Hadith 10380

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابٌ فِي مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ] · حديث 10396

10396 - وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ: مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: أُسَيْدُ بْنُ يَرْبُوعٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: أَسْعَدُ بْنُ سَلَامَةَ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: ثَابِتُ بْنُ خَالِدِ بْنِ النُّعْمَانِ .. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: جَزْءُ بْنُ مَالِكٍ وَرَبَاحٌ مَوْلَى جَحْجَبَى. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ: رَبِيعَةُ بْنُ خَرَشَةَ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ: زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ: زَيْدُ بْنُ أُسَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: سَعْدُ بْنُ حَمَّارٍ، حَلِيفٌ لَهُمْ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: سَعِيدُ بْنُ رَبِيعِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ مَالِكٍ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

ابن شہاب نے جنگ یمامہ میں جام شہادت نوش کرنے والوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے ۔ انصار کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت اسعد بن سلامہ رضی اللہ عنہ ، انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن خالد بن نعمان رضی اللہ عنہ ، انصار کی شاخ اوس قبیلے کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے حضرت جز بن مالک اور حضرت رباح حججبا ح کے غلام ہیں ، قریش کی شاخ بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھنے والے حضرت ربیعہ بن خرشہ رضی اللہ عنہ ، قریش کی شاخ بنو عدی بن کعب سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ ، قریشی کی شاخ بنو زہرہ سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن اسید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ، انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن حمار رضی اللہ عنہ جو ان کے حلیف ہیں ، انصر کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے حضرت سعید بن ربیع بن عدی بن مالک رضی اللہ عنہ ان سب کے نام امام طبرانی نے ایک ہی سند کے ساتھ نقل کیے ہیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter on who was martyred on the Day of the Imamate] · Hadith 10396

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابٌ فِي مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ] · حديث 10397

10397 - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ: مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ وَهُوَ أَبُو دُجَانَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

محمد بن اسحاق نے جنگ یمامہ میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے : انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ یہ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter on who was martyred on the Day of the Imamate] · Hadith 10397

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابُ مَا كَانَ عِنْدَ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ أَمْرِ نُبُوَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 13885

13885 - وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ: خَرَجْتُ إِلَى الْيَمَنِ فِي إِحْدَى رِحْلَتَيِ الْإِيلَافِ، فَنَزَلْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ فَرَآنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الدُّيِّوُرِ فَنَسَّبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى بَعْضِكِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، مَا لَمْ يَكُنْ عَوْرَةً، فَفَتَحَ إِحْدَى مَنْخَرَيَّ فَنَظَرَ، ثُمَّ نَظَرَ فِي الْآخَرِ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ فِي إِحْدَى يَدَيْكَ مُلْكًا، وَفِي الْأُخْرَى نُبُوَّةً، وَإِنَّا لِنَجِدُ ذَلِكَ فِي بَنِي زُهْرَةَ فَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ سَاعَةٍ؟ قُلْتُ: وَمَا السَّاعَةُ؟ قَالَ: زَوْجَةٌ، قُلْتُ: أَمَّا الْيَوْمُ فَلَا، قَالَ: فَإِذَا رَجَعْتَ فَتَزَوَّجْ فِي بَنِي زُهْرَةَ، فَرَجَعَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَتَزَوَّجَ هَالَةَ بِنْتَ وُهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ فَوَلَدَتْ لَهُ حَمْزَةَ، وَزَوْجَ ابْنِهِ آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: نَبَحَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَى أَبِيهِ، فَوَلَدَتْ لَهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ حَمْزَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَخَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْهُمَا ثُوَيِّبَةُ مَوْلَاةُ أَبِي لَهَبٍ وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جناب عبدالمطلب نے یہ بات بیان کی ہے: میں اپنے سالانہ دو سفروں میں سے‘ ایک سفر میں یمن کی طرف گیا‘ میں ایک یہودی شخص کے ہاں ٹھہرا‘ وہاں کے ایک عبادت خانے کے ایک شخص نے مجھے دیکھا‘ اس نے مجھ سے میرا نسب دریافت کیا‘ میں نے اس کے سامنے اپنا نسب بیان کیا‘ اس نے کہا: کیاتم مجھے اس بات کی اجازت دو گے کہ میں تمہارے جسم کا جائزہ لوں؟ میں نے کہا ٹھیک ہے‘ جبکہ شرمگاہ کے علاوہ ہو‘ اس نے میرے نتھنوں میں سے ایک کھول کے دیکھا‘ پھر دوسرے میں دیکھا اور پھر بولا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تمہارے ایک ہاتھ میں بادشاہی ہے‘ اور دوسرے میں نبوت ہے‘ لیکن ہم تو یہ چیز پاتے ہیں کہ اس کا تعلق بنو زہرہ سے بھی ہو گا‘ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم‘ تواس نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس ساتھ ہے؟ میں نے کہا: ساتھ سے مراد کیا ہے؟ اس نے کہا: بیوی‘ میں نے کہا: اب تو کوئی نہیں ہے‘ اس نے کہا: جب تم واپس جاؤ گے‘ تو تم بنو زہرہ میں شادی کر لینا‘ جناب عبد المطلب واپس آئے‘ تو انہوں نے ہالہ بنت وہیب بن عبد مناف بن زہرہ سے شادی کی‘ تو ان کے ہاں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے‘ انہوں نے اپنے صاحبزادے (حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی شادی سیّدہ آمنہ بنت وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کی‘ تو قریش نے کہا: عبداللہ نے اپنے والد کا مقابلہ کیا ہے‘ سیّدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنم دیا‘ اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رضائی بھائی بھی تھے‘ کیونکہ ابولہب کی کنیز ثویبہ نے ان دونوں کو دودھ پلایا تھا‘ اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ تھی۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے‘ اور وہ متروک ہے۔

الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13885

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ] · حديث 10675

10675 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ; «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ ". قَالَ: فَأُتِيَ بِالنُّعَيْمَانِ قَدْ شَرِبَ فِي الرَّابِعَةِ، فَجَلَدَهُ وَلَمْ يَقْتُلْهُ، فَكَانَ ذَلِكَ نَاسِخًا لِلْقَتْلِ». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ: فَكَانَ نَاسِخًا لِلْقَتْلِ، وَتَسْمِيَةِ النُّعَيْمَانِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:)’’جو شخص شراب پیئے اسے کوڑے مارو اگر وہ پھر پیئے تو اسے کوڑے مارو اگر وہ پھر پیئے تو اسے کوڑے مارو اگر وہ چوتھی مرتبہ پیئے تو اسے قتل کر دو‘‘۔راوی بیان کرتے ہیں:)پھر نعیمان نامی صاحب کو لایا گیا جنہوں نے چوتھی مرتبہ شراب پی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کوڑے لگوائے انہیں قتل نہیں کیا تو یہ حکم قتل کے حکم کا ناسخ ہوگا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں :)میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے’’ تو یہ چیز قتل کے حکم کی ناسخ ہو گی‘‘۔ اور انہوں نے نعیمان نامی صاحب کا نام بھی بیان نہیں کیا۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hudud and Diyat al-Diyyat] › [Chapter on what came in the limit of wine] · Hadith 10675

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِي كَثْرَةِ السُّؤَالِ] · حديث 716

716 - وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَمَنَعَ وَهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ». قُلْتُ: حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ، لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِمَا انْفَرَدَ بِهِ.

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے :"بے شک اللہ تعالی نے ،تمہارے لیے قیل و قال ، بکثرت سوال کرنا ، نہ دینا اور دینا ، لڑکیوں کو زندہ در گور کرنا اور ماؤں کی نافرمانی کرنا (ان سب امور کو رتمہارے لیے ) نا پسندیدہ قرار دیا ہے ۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں)میں یہ کہتا ہوں حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے منقولن حدیث "صحیح"میں مذکور ہے۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے جو بصری کا شاگرد ہے، جس روایت کو نقل کرنے میں یہ منفرد ہو اس کے حوالے سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← وعن عمار بن ياسر

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter in the lot of the question] · Hadith 716

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى} [الحج: 52]. · حديث 11186

11186 - عَنْ عُرْوَةَ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - «فِي تَسْمِيَةِ الَّذِينَ خَرَجُوا إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَبْلَ خُرُوجِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ: عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَأَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَوَلَدَتْ لَهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حُذَيْفَةَ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ وَأَبُو سَلَمَةَ ابْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ وَامْرَأَتُهُ أُمُّ سَلَمَةَ، وَأَبُو سَبْرَةَ بْنُ أَبِي رُهْمٍ وَمَعَهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَسُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَهَبُوا الْمَرَّةَ الْأُولَى قَبْلَ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابِهِ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ الَّتِي يَذْكُرُ فِيهَا {وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى} [النجم: 1] فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَوْ كَانَ هَذَا الرَّجُلُ يَذْكُرُ آلِهَتَنَا بِخَيْرٍ أَقْرَرْنَاهُ وَأَصْحَابَهُ فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ أَحَدًا مِمَّنْ خَالَفَ دِينَهُ مِنَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى بِمِثْلِ الَّذِي يَذْكُرُ بِهِ آلِهَتَنَا مِنَ الشَّتْمِ وَالشَّرِّ. فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ الَّتِي يَذْكُرُ فِيهَا وَالنَّجْمِ وَقَرَأَ أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِيهَا عِنْدَ ذَلِكَ ذِكْرَ الطَّوَاغِيتِ، فَقَالَ: وَإِنَّهُمْ مِنَ الْغَرَانِيقِ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُمْ لَتُرْتَجَى، وَذَلِكَ مِنْ سَجْعِ الشَّيْطَانِ وَفِتْنَتِهِ، فَوَقَعَتْ هَاتَانِ الْكَلِمَتَانِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُشْرِكٍ، وَذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ وَاسْتَبْشَرُوا بِهَا وَقَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ رَجَعَ إِلَى دِينِهِ الْأَوَّلِ وَدِينِ قَوْمِهِ. فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِرَ السُّورَةِ الَّتِي فِيهَا النَّجْمُ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ كُلُّ مَنْ حَضَرَهُ مِنْ مُسْلِمٍ وَمُشْرِكٍ، غَيْرَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ رَجُلًا كَبِيرًا فَرَفَعَ مِلْءَ كَفِّهِ تُرَابًا فَسَجَدَ عَلَيْهِ، فَعَجِبَ الْفَرِيقَانِ كِلَاهُمَا مِنْ جَمَاعَتِهِمْ فِي السُّجُودِ لِسُجُودِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَمَّا الْمُسْلِمُونَ فَعَجِبُوا مِنْ سُجُودِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ غَيْرِ إِيمَانٍ وَلَا يَقِينٍ، وَلَمْ يَكُنِ الْمُسْلِمُونَ سَمِعُوا الَّذِي أَلْقَى الشَّيْطَانُ عَلَى أَلْسِنَةِ الْمُشْرِكِينَ، وَأَمَّا الْمُشْرِكُونَ فَاطْمَأَنَّتْ أَنْفُسُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَهُمُ الشَّيْطَانُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَرَأَهَا فِي السَّجْدَةِ فَسَجَدُوا لِتَعْظِيمِ آلِهَتِهِمْ. فَفَشَتْ تِلْكَ الْكَلِمَةُ فِي النَّاسِ، وَأَظْهَرَهَا الشَّيْطَانُ حَتَّى بَلَغَتِ الْحَبَشَةَ. فَلَمَّا سَمِعَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ النَّاسَ أَسْلَمُوا وَصَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَلَغَهُمْ سُجُودُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَلَى التُّرَابِ عَلَى كَفِّهِ، أَقْبَلُوا سِرَاعًا، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَلَمَّا أَمْسَى أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَشَكَا إِلَيْهِ، فَأَمَرَهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا بَلَغَهَا تَبَرَّأَ مِنْهَا جِبْرِيلُ وَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ مِنْ هَاتَيْنِ، مَا أَنْزَلَهُمَا رَبِّي، وَلَا أَمَرَنِي بِهِمَا رَبُّكَ. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَقَّ عَلَيْهِ وَقَالَ: " أَطَعْتُ الشَّيْطَانَ وَتَكَلَّمْتُ بِكَلَامِهِ وَشَرَكَنِي فِي أَمْرِ اللَّهِ ". فَنَسَخَ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ - لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ} [الحج: 52 - 53] فَلَمَّا بَرَّأَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ سَجْعِ الشَّيْطَانِ وَفِتْنَتِهِ انْقَلَبَ الْمُشْرِكُونَ بِضَلَالِهِمْ» وَعَدَاوَتِهِمْ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَلَا يُحْتَمَلُ هَذَا مِنَ ابْنِ لَهِيعَةَ.

عروہ بن زبیر ان لوگوں کے نام بیان کرتے ہیں: جو حبشہ کی سر زمین کی طرف پہلی مرتبہ گئے تھے یہ حضرات جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے جانے سے پہلے کی بات ہے وہ حضرات یہ ہیں : حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ سہلہ بنت سبیل بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں اور انہوں نے حبشہ کی سر زمین پر ان صاحب کے صاحبزادے حضرت محمد بن ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جنم دیا تھا حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کا تعلق بنو عبددار سے ہے حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کی اہلیہ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت ابو سبرہ بن ابو رجم ان کے ساتھ سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنت سہیل بن عمرو تھیں اور حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : یہ لوگ جو حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے پہلے ہی پہلی مرتبہ میں گئے تھے یہ لوگ واپس آ گئے تھے جب اللہ تعالیٰ نے وہ سورت نازل کی تھی جس میں یہ ذکر تھا: ’’ستارے کی قسم ہے جب وہ نیچے کی طرف آیا‘‘۔ مشرکین نے یہ کہا تھا اگر یہ صاحب ہمارے معبودوں کا ذکر بھلائی کے ساتھ کریں تو ہم انہیں اور ان کے ساتھیوں کو رہنے دیں گے کیونکہ یہ اپنے مخالف ادیان میں سے یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر اس طرح نہیں کرتے جس طرح یہ ہمارے معبودوں کا ذکر برائی اور خرابی کے ہمراہ کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی جس میں یہ ذکر ہے : ’’ اور ستارے کی قسم ہے‘‘۔ اور اس میں یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت کی : ’’کیا تم نے لات اورعزیٰ کو دیکھا ہے اور منات کو دیکھا ہے جو تیسرا ہے‘‘۔ تو اس وقت شیطان نے بتوں کا ذکر القاء کیا ، اور اس نے یہ کہا: وانهم من الغرانيق العلى وإن شفاعتهم لترتجى یہ کلمات شیطان کے ایجاد کیے ہوئے تھے اور اس کا فتنہ تھے اور یہ دو کلمات ہر مشرک کے دل میں واقع ہو گئے اور ان کی زبانوں پر جاری ہو گئے اور انہوں نے اس کے ذریعے خوشخبری حاصل کی اور انہوں نے یہ کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پہلے دین کی طرف اور اپنی قوم کے دین کی طرف رجوع کر لیا ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورت کے آخر میں اس مقام پر پہنچے جہاں سجدے کا ذکر ہے تو آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ موجود ہر مسلمان اور ہر مشرک شخص نے سجدہ کیا صرف ولید بن مغیرہ نے ایسا نہیں کیا وہ ایک بڑا شخص تھا اس نے مٹھی بھرمٹی اٹھائی اور اس پر سجدہ کرلیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سجدے کے ساتھ دونوں گروہوں کا سجدہ کرنا دونوں گروہوں کو اچھا لگا مسلمانوں کو یہ بات اچھی لگی کہ مشرکین نے ایمان لائے بغیر اور یقین کا اظہار کیے بغیر سجدہ کیا ہے کیونکہ مسلمانوں نے وہ بات نہیں سنی تھی جو شیطان نے مشرکین کی زبانوں پر القاء کی تھی اور مشرکین اس حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطمئن تھے اور شیطان نے انہیں یہ بات سکھا دی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت سجدے کے دوران تلاوت کی ہے تو ان لوگوں نے اپنے معبودوں کی تعظیم کی خاطر سجدہ کیا تھا۔ یہ کلمات لوگوں کے درمیان پھیل گئے شیطان نے اسے مشہور کر دیا یہ اطلاع حبشہ تک بھی پہنچ گئی یہاں تک کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اہل مکہ سے تعلق رکھنے والے ان کے ساتھیوں نے یہ بات سنی کہ لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل گئے ہیں ان لوگوں کو یہ بھی پتہ چلا کہ ولید بن مغیرہ نے بھی اپنی ہتھیلی پر رکھی ہوئی مٹی پر سجدہ کیا ہے تو یہ لوگ تیزی سے مکہ آ گئے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گراں گزری جب شام ہوئی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سامنے اس بات کی شکایت کی حضرت جبرائیل علیہ السلام کی فرمائش پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یہ سورت پڑھ کر سنائی جب وہ اس مقام پر پہنچے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ان کلمات سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا: ان دونوں کلمات سے اللہ کی پناہ ہے نہ تو میرے پروردگار نے ان دونوں کو نازل کیا ہے اور نہ ہی آپ کے پروردگار نے ان دونوں کے بارے میں مجھے حکم دیا ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ صورت حال دیکھی تو یہ بات آپ پر گراں گزری آپ نے ارشاد فرمایا: کیا میں نے شیطان کی اطاعت کر لی ہے اور میں نے اس کے کلام کے مطابق کلام کر لیا ہے اور وہ اللہ کے معاملے میں میرا شریک بن گیا ہے تو شیطان نے جو چیز القاء کی تھی اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر دیا اور آپ پر یہ آیت نازل کی : ’’اور تم سے پہلے ہم نے جس بھی رسول یا نبی کومبعوث کیا تو جب وہ نبی تلاوت کرتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت کے درمیان کوئی چیز القاء کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس چیز کو مٹا دیتا ہے جو شیطان نے القاء کی ہوئی ہو اور پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو مضبوط کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے اس کی وجہ یہ ہے شیطان نے جو چیز القاء کی تھی اسے وہ ان لوگوں کے لئے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور ان کے دل سخت ہیں اور بے شک ظلم کرنے والے لوگ شدید مخالفت میں مبتلا ہیں‘‘۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شیطان کے ایجاد کیے ہوئے کلمات اور اس کے فتنے سے لاتعلق کر دیا تو مشرکین اپنی گمراہی اور اپنی دشمنی پر پلٹ گئے ... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ یہ روایت اس سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور یہ روایت اس بات کا احتمال نہیں رکھتی کہ یہ ابن لہیعہ سے منقول ہو۔

سهيل بن بيضاء ← مَعَهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو سَبْرَةَ بْنُ أَبِي رُهْمٍ ← امْرَأَتُهُ أُمُّ سَلَمَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ابْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ ← عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ← الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ← وَلَدَتْ لَهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حُذَيْفَةَ، ← مَعَهُ امْرَأَتُهُ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَعَهُ امْرَأَتُهُ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَصْحَابِهِ: عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {And we were not sent from before you by a Messenger, and there is no prophet unless he wished.} [Al-Hajj: 52]. · Hadith 11186

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَطْفَالِ] · حديث 11945

11945 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي اللَّاهِينَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ كَلِمَةً، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزْوِهِ وَطَافَ فَإِذَا هُوَ بِغُلَامٍ قَدْ وَقَعَ وَهُوَ يَعْبَثُ بِالْأَرْضِ، فَنَادَى مُنَادِيهِ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ اللَّاهِينَ؟ "، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ الْأَطْفَالِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ هَذَا مِنَ اللَّاهِينَ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنگ میں حصہ لے رہے تھے‘ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا اس نے عرض کی :یا رسول اللہ ! لہو کا شکار ہونے والوں (یعنی بچپن میں فوت ہوجانے والوں) کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں:آپ خاموش رہے‘ آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا‘ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جنگ سے فارغ ہو گئے تو آپ نے چکر لگاتے ہوئے دیکھا کہ ایک بچہ گرا ہوا تھا اور وہ زمین پر (خاک وخون میں) لتھڑا ہوا تھا‘ آپ نے منشکو پکار کر کہا:بچوں کے بارے میں پوچھنے والا شخص کہاں ہے؟ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا اور پھر ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ اس بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ان لوگوں نے جو عمل کرنے تھے اور یہ بچہ بھی ان میں شامل ہے‘‘۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: ← وعن ابن عباس

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › Chapter What Comes Among Children] · Hadith 11945

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابٌ فِي أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ] · حديث 11954

11954 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «سَأَلْتُ رَبِّي عَنِ اللَّاهِينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ الْبَشَرِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ فَأَعْطَانِيهِمْ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ طُرُقٍ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُتَوَكِّلِ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَفْظُهَا " «سَأَلْتُ اللَّهَ اللَّاهِينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ الْبَشَرِ فَأَعْطَانِيهِمْ» ". وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي تَفْسِيرِ اللَّاهِينَ فِي بَابِ الْأَطْفَالِ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنے پروردگار سے بنی نوع انسان کے بچوں کے بارے میں یہ دعا کی کہ وہ انہیں عذاب نہیں دے گا تو اس نے یہ چیز مجھے عطا کر دی‘‘۔یہ روایت امام ابو یعلی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں‘ صرف عبدالرحمٰن بن متوکل کا معاملہ مختلف ہے اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:’’میں نے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے بچوں کے بارے میں دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے وہ چیز مجھے عطا کر دی‘‘۔ اس سے پہلے بچوں سے متعلق باب میں لفظ’’لاہین‘‘ کی وضاحت گزر چکی ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the children of the polytheists] · Hadith 11954

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابٌ فِي أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ] · حديث 11956

11956 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «الْأَطْفَالُ خَدَمُ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: " «أَطْفَالُ الْمُشْرِكِينَ» "، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ فِيهِ ابْنُ مَعِينٍ: رَجُلُ صِدْقٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’بچے اہل جنت کے خدمت گزار ہوں گے‘‘۔یہ روایت امام ابو یعلی نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :مشرکین کے بچے ...‘‘ ۔امام ابو یعلی کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے اس کے بارے میں یحییٰ بن معین نے کہا ہے :یہ سچا آدمی ہے ابن عدی نے اسے ضعیف کہا ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔

أَنَسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the children of the polytheists] · Hadith 11956

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ بَابُ وَفَاتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] · حديث 14791

14791 - وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَاشِدٍ قَالَ: كَانَ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مُلْجَمٍ - لَعَنَهُ اللَّهُ وَأَصْحَابَهُ -: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُلْجَمٍ، وَالْبُرَكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَعُمَرَ بْنَ بَكْرٍ التَّمِيمِيَّ، اجْتَمَعُوا بِمَكَّةَ فَذَكَرُوا أَمْرَ النَّاسِ وَعَابُوا عَلَيْهِمْ عَمَلَ وُلَاتِهِمْ، ثُمَّ ذَكَرُوا أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَتَرَحَّمُوا عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَصْنَعُ بِالْبَقَاءِ بَعْدَهُمْ شَيْئًا؟ إِخْوَانُنَا الَّذِينَ كَانُوا دُعَاةَ النَّاسِ لِعِبَادَةِ رَبِّهِمْ، الَّذِينَ كَانُوا لَا يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، فَلَوْ شَرَيْنَا أَنْفُسَنَا فَأَتَيْنَا أَئِمَّةَ الضَّلَالَةِ فَالْتَمَسْنَا قَتْلَهُمْ فَأَرَحْنَا مِنْهُمُ الْبِلَادَ، وَثَأَرْنَا بِهِمْ إِخْوَانَنَا. قَالَ ابْنُ مُلْجَمٍ - وَكَانَ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ -: أَنَا أَكْفِيكُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ. وَقَالَ الْبُرَكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَا أَكْفِيكُمْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ. وَقَالَ عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ التَّمِيمِيُّ: أَنَا أَكْفِيكُمْ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ. فَتَعَاهَدُوا وَتَوَاثَقُوا بِاللَّهِ أَنْ لَا يَنْكُصَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ صَاحِبِهِ الَّذِي تَوَجَّهَ إِلَيْهِ حَتَّى يَقْتُلَهُ أَوْ يَمُوتَ دُونَهُ، فَأَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ فَسَمُّوهَا، اتَّعَدُوا لِسَبْعَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يَثِبَ كُلُّ وَاحِدٍ عَلَى صَاحِبِهِ الَّذِي تَوَجَّهَ إِلَيْهِ. وَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ إِلَى الْمِصْرِ الَّذِي فِيهِ صَاحِبُهُ الَّذِي يَطْلُبُ، فَأَمَّا ابْنُ مُلْجَمٍ الْمُرَادِيُّ فَأَتَى أَصْحَابَهُ بِالْكُوفَةِ، وَكَاتَمَهُمْ أَمْرَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُظْهِرُوا شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ، وَأَنَّهُ لَقِيَ أَصْحَابَهُ مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ وَقَدْ قَتَلَ عَلِيٌّ مِنْهُمْ عِدَّةً يَوْمَ النَّهْرِ، فَذَكَرُوا قَتْلَاهُمْ فَتَرَحَّمُوا عَلَيْهِمْ. قَالَ: وَلَقِيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ يُقَالُ لَهَا: قَطَامِ بِنْتُ الشِّحْنَةِ، وَقَدْ قَتَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَبَاهَا وَأَخَاهَا يَوْمَ النَّهْرِ، وَكَانَتْ فَائِقَةَ الْجَمَالِ، فَلَمَّا رَآهَا الْتَبَسَتْ بِعَقْلِهِ وَنَسِيَ حَاجَتَهُ الَّتِي جَاءَ لَهَا فَخَطَبَهَا، فَقَالَتْ: لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تَشْفِيَنِي قَالَ: وَمَا تَشَائِينَ؟ قَالَتْ: ثَلَاثَةُ آلَافٍ، وَعَبْدٌ وَقَيْنَةٌ، وَقَتْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: هُوَ مَهْرٌ لَكِ، فَأَمَّا قَتْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَمَا أَرَاكِ ذَكَرْتِيهِ وَأَنْتِ تُرِيدِينَهُ. قَالَتْ: بَلَى، فَالْتَمِسْ غُرَّتَهُ فَإِنْ أَصَبْتَهُ شَفَيْتَ نَفْسَكَ وَنَفْسِي، وَنَفَعَكَ مَعِي الْعَيْشُ، وَإِنْ قُتِلْتَ فَمَا عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَزِبْرِجِ أَهْلِهَا. فَقَالَ: مَا جَاءَ بِي إِلَى هَذَا الْمِصْرِ إِلَّا قَتْلُ عَلِيٍّ. قَالَتْ: فَإِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ فَأَخْبِرْنِي حَتَّى أَطْلُبَ لَكَ مَنْ يَشُدُّ ظَهْرَكَ وَيُسَاعِدُكَ عَلَى أَمْرِكَ، فَبَعَثَتْ إِلَى رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهَا مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ يُقَالُ لَهُ: وَرْدَانُ، فَكَلَّمَتْهُ فَأَجَابَهَا، وَأَتَى ابْنُ مُلْجَمٍ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ يُقَالُ لَهُ: شَبِيبُ بْنُ نَجْدَةَ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ فِي شَرَفِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَتْلُ عَلِيٍّ قَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ؛ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِدًّا، كَيْفَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ؟ قَالَ: أَكْمُنُ لَهُ فِي السَّحَرِ فَإِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الْغَدَاةِ شَدَدْنَا عَلَيْهِ فَقَتَلْنَاهُ، فَإِنْ نَجَوْنَا شَفَيْنَا أَنْفُسَنَا وَأَدْرَكْنَا ثَأْرَنَا، وَإِنْ قُتِلْنَا فَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَزِبْرِجِ أَهْلِهَا. قَالَ: وَيْحَكَ! لَوْ كَانَ غَيْرَ عَلِيٍّ كَانَ أَهْوَنَ عَلَيَّ، قَدْ عَرَفْتَ بَلَاءَهُ فِي الْإِسْلَامِ، وَسَابِقَتَهُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا أَجِدُنِي أَشْرَحُ لِقَتْلِهِ. قَالَ: أَمَا تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ الْعُبَّادَ الْمُصَلِّينَ؟ قَالَ: نَعَمْ نَقْتُلُهُ بِمَا قَتَلَ مِنْ إِخْوَانِنَا، فَأَجَابَهُ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى قَطَامِ وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ مُعْتَكِفَةً فِيهِ، فَقَالُوا لَهَا: قَدِ اجْتَمَعَ رَأْيُنَا عَلَى قَتْلِ عَلِيٍّ. قَالَ: فَإِذَا أَرَدْتُمْ ذَلِكَ فَأْتُونِي، فَقَالَ: هَذِهِ اللَّيْلَةُ الَّتِي وَاعَدْتُ فِيهَا صَاحِبَيَّ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا صَاحِبَهُ، فَدَعَتْ لَهُمْ بِالْحَرِيرِ فَعَصَّبَتْهُمْ، وَأَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ، وَجَلَسُوا مُقَابِلَ السُّدَّةِ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْهَا عَلِيٌّ، فَخَرَجَ [عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَجَعَلَ يَقُولُ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَشَدَّ عَلَيْهِ شَبِيبٌ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَوَقَعَ السَّيْفُ بِعَضَادَتَيِ الْبَابِ أَوْ بِالطَّاقِ فَشَدَّ عَلَيْهِ ابْنُ مُلْجَمٍ فَضَرَبَهُ عَلَى قَرْنِهِ وَهَرَبَ، حَتَّى وَرَدَ أَنَّ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ، وَدَخَلَ رَجُلٌ مَنْ بَنِي أُمِّهِ وَهُوَ يَنْزِعُ السَّيْفَ وَالْحَدِيدَ عَنْ صَدْرِهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا السَّيْفُ وَالْحَدِيدُ؟ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ، فَذَهَبَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَجَاءَ بِسَيْفِهِ فَضَرَبَهُ حَتَّى قَتَلَهُ، وَخَرَجَ شَبِيبٌ نَحْوَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ، فَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ إِلَّا أَنَّ رَجُلًا [مِنْ حَضْرَمَوْتَ] يُقَالُ لَهُ: عُوَيْمِرٌ ضَرَبَ رِجْلَهُ بِالسَّيْفِ، فَصَرَعَهُ وَجَثَمَ عَلَيْهِ الْحَضْرَمِيُّ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسَ قَدْ أَقْبَلُوا فِي طَلَبِهِ وَسَيْفُ شَبِيبٍ فِي يَدِهِ خَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ فَتَرَكَهُ فَنَجَا بِنَفْسِهِ، وَنَجَا شَبِيبٌ فِي غِمَارِ النَّاسِ. وَخَرَجَ ابْنُ مُلْجَمٍ، فَشَدَّ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ [أَهْلِ] هَمَذَانَ يُكَنَّى: أَبَا أُدُمَا، فَضَرَبَ رِجْلَهُ فَصَرَعَهُ، وَتَأَخَّرَ عَلِيٌّ، وَدَفَعَ فِي ظَهْرِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ بْنِ أَبِي وَهْبٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ الْغَدَاةَ، وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ. وَذَكَرُوا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حُنَيْفٍ قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُصَلِّي تِلْكَ اللَّيْلَةَ [الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا عَلِيٌّ] فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ قَرِيبًا مِنَ السُّدَّةِ فِي رِجَالٍ كَثِيرَةٍ مَنْ أَهْلِ الْمِصْرِ مَا فِيهِمْ إِلَّا قِيَامٌ وَرُكُوعٌ وَسُجُودٌ، مَا يَسْأَمُونَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ إِلَى آخِرِهِ، إِذْ خَرَجَ عَلِيٌّ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَجَعَلَ يُنَادِي: أَيُّهَا النَّاسُ، الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَمَا أَدْرِي أَتَكَلَّمُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ، أَوْ نَظَرْتُ إِلَى بَرِيقِ السَّيْفِ، وَسَمِعْتُ: الْحُكْمُ لِلَّهِ لَا لَكَ يَا عَلِيُّ وَلَا لِأَصْحَابِكَ. فَرَأَيْتُ سَيْفًا، وَرَأَيْتُ نَاسًا، وَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: لَا يَفُوتُكُمُ الرَّجُلُ. وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ. فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أُخِذَ ابْنُ مُلْجَمٍ، فَأُدْخِلَ عَلَى عَلِيٍّ، فَدَخَلْتُ فِيمَنْ دَخَلَ مِنَ النَّاسِ، فَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، إِنْ هَلَكْتُ فَاقْتُلُوهُ كَمَا قَتَلَنِي، وَإِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي. وَلَمَّا أُدْخِلَ ابْنُ مُلْجَمٍ عَلَى عَلِيٍّ قَالَ لَهُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، أَلَمْ أُحْسِنْ إِلَيْكَ؟ أَلَمْ أَفْعَلْ بِكَ؟ قَالَ: بَلَى قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: شَحَذْتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَقْتُلَ بِهِ شَرَّ خَلْقِهِ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا أُرَاكَ إِلَّا مَقْتُولًا بِهِ، وَمَا أُرَاكَ إِلَّا مِنْ شَرِّ خَلْقِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -. وَكَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ مَكْتُوفًا بَيْنَ يَدَيِ الْحَسَنِ إِذْ نَادَتْهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عَلِيٍّ وَهِيَ تَبْكِي: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، [إِنَّهُ] لَا بَأْسَ عَلَى أَبِي، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مُخْزِيكَ. قَالَ: فَعَلَامَ تَبْكِينَ، وَاللَّهِ لَقَدِ اشْتَرَيْتُهُ بِأَلْفٍ، وَسَمَمْتُهُ بِأَلْفٍ، وَلَوْ كَانَتْ هَذِهِ الضَّرْبَةُ لِجَمِيعِ أَهْلِ مِصْرَ مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ سَاعَةً، وَهَذَا أَبُوكِ بَاقِيًا حَتَّى الْآنَ. فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ: إِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي، وَلَئِنْ هَلَكْتُ مِنْ ضَرْبَتِي هَذِهِ فَاضْرِبْهُ ضَرْبَةً وَلَا تُمَثِّلْ بِهِ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ وَلَوْ بِالْكَلْبِ الْعَقُورِ». وَذُكِرَ أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَى عَلِيٍّ يَسْأَلُ بِهِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ فَقَدْنَاكَ وَلَا نَفْقِدُكَ فَنُبَايِعُ الْحَسَنَ؟ قَالَ: مَا آمُرُكُمْ وَلَا أَنْهَاكُمْ، أَنْتُمْ أَبْصَرُ. فَلَمَّا قُبِضَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بَعَثَ الْحَسَنُ إِلَى ابْنِ مُلْجَمٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مُلْجَمٍ: هَلْ لَكَ فِي خَصْلَةٍ، إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَعْطَيْتُ اللَّهَ عَهْدًا إِلَّا وَفَيْتُ بِهِ، إِنِّي كُنْتُ أَعْطَيْتُ اللَّهَ عَهْدًا أَنْ أَقْتُلَ عَلِيًّا وَمُعَاوِيَةَ أَوْ أَمُوتَ دُونَهُمَا، فَإِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَلَكَ اللَّهُ عَلَى إِنْ لَمْ أَقْتُلْهُ أَنْ آتِيَكَ حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِكَ، فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ: لَا وَاللَّهِ أَوْ تُعَايِنُ النَّارَ، فَقَدَّمَهُ فَقَتَلَهُ، فَأَخَذَهُ النَّاسُ فَأَدْرَجُوهُ فِي بَوَارٍ، ثُمَّ أَحْرَقُوهُ بِالنَّارِ. وَقَدْ كَانَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُلْفِيَنَّكُمْ تَخُوضُونَ دِمَاءَ الْمُسْلِمِينَ تَقُولُونَ: قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا لَا يُقْتَلْ بِي إِلَّا قَاتِلِي. وَأُمًّا الْبُرَكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَعَدَ لِمُعَاوِيَةَ، فَخَرَجَ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَدَّ عَلَيْهِ بِسَيْفِهِ، وَأَدْبَرَ مُعَاوِيَةُ هَارِبًا، فَوَقَعَ السَّيْفُ فِي إِلْيَتِهِ فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي خَبَرًا أُبَشِّرُكَ بِهِ، فَإِنْ أَخْبَرْتُكَ أَنَافِعِي ذَلِكَ عِنْدَكَ؟ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: إِنَّ أَخًا لِي قَتَلَ عَلِيًّا [فِي هَذِهِ] اللَّيْلَةَ. قَالَ: فَلَعَلَّهُ لَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ. قَالَ: بَلَى؛ إِنَّ عَلِيًّا يَخْرُجُ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ يَحْرُسُهُ، فَأَمَرَ بِهِ مُعَاوِيَةُ فَقُتِلَ، فَبَعَثَ إِلَى السَّاعِدِيِّ - وَكَانَ طَبِيبًا - فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ ضَرْبَتَكَ مَسْمُومَةٌ فَاخْتَرْ مِنِّي إِحْدَى خَصْلَتَيْنِ؛ إِمَّا أَنْ أَحْمِيَ حَدِيدَةً فَأَضَعُهَا فِي مَوْضِعِ السَّيْفِ، وَإِمَّا أَنْ أَسْقِيَكَ شَرْبَةً تَقْطَعُ مِنْكَ الْوَلَدَ وَتَبْرَأُ مِنْهَا؛ فَإِنَّ ضَرْبَتَكَ مَسْمُومَةٌ. فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَمَّا النَّارُ: فَلَا صَبْرَ لِي عَلَيْهَا، وَأَمَّا انْقِطَاعُ الْوَلَدِ: فَإِنَّ فِي يَزِيدَ وَعَبْدِ اللَّهِ وَوَلَدُهُمَا مَا تَقَرُّ بِهِ عَيْنِي. فَسَقَاهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الشَّرْبَةَ فَبَرَأَ، فَلَمْ يُولَدْ لَهُ بَعْدُ. فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْمَقْصُورَاتِ وَقِيَامِ الشُّرْطِ عَلَى رَأْسِهِ. وَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: أَيْ بَنِيَّ، أُوصِيكُمَا بِتَقْوَى اللَّهِ، وَ [إِقَامَ] الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ عِنْدَ مَحَلِّهَا، وَحُسْنِ الْوُضُوءِ؛ فَإِنَّهُ لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ إِلَّا بِطَهُورٍ. وَأُوصِيكُمْ بِغَفْرِ الذَّنْبِ، وَكَظْمِ الْغَيْظِ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ، وَالْحِلْمِ عَنِ الْجَاهِلِ، وَالتَّفَقُّهِ فِي الدِّينِ، وَالتَّثَبُّتِ فِي الْأَمْرِ، وَتَعَاهُدِ الْقُرْآنِ، وَحُسْنِ الْجِوَارِ، وَالْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَاجْتِنَابِ الْفَوَاحِشِ. قَالَ: ثُمَّ نَظَرَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَقَالَ: هَلْ حَفِظْتَ مَا أَوْصَيْتُ بِهِ أَخَوَيْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: إِنِّي أُوصِيكَ بِمِثْلِهِ، وَأُوصِيكَ بِتَوْقِيرِ أَخَوَيْكَ لِعِظَمِ حَقِّهِمَا عَلَيْكَ، وَتَزْيِينِ أَمْرِهِمَا، وَلَا تَقْطَعْ أَمْرًا دُونَهُمَا. ثُمَّ قَالَ لَهُمَا: أُوصِيكُمَا بِهِ؛ فَإِنَّهُ شَقِيقُكُمَا وَابْنُ أَبِيكُمَا، وَقَدْ عَلِمْتُمَا أَنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُحِبُّهُ. ثُمَّ أَوْصَى فَكَانَتْ وَصِيَّتُهُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَوْصَى أَنْ يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ. ثُمَّ إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ. ثُمَّ أُوصِيكُمَا يَا حَسَنُ وَيَا حُسَيْنُ، وَيَا جَمِيعَ أَهْلِي وَوَلَدِي، وَمَنْ بَلَغَهُ كِتَابِي: بِتَقْوَى اللَّهِ رَبِّكُمْ، {وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102]، {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا} [آل عمران: 103]؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «إِنَّ صَلَاحَ ذَاتِ الْبَيْنِ أَعْظَمُ مِنْ عَامَّةِ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ» ". وَانْظُرُوا إِلَى ذَوِي أَرْحَامِكُمْ، فَصِلُوهُمْ يُهَوِّنِ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحِسَابَ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْأَيْتَامِ لَا يَضِيعُنَّ بِحَضْرَتِكُمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الصَّلَاةِ؛ فَإِنَّهَا عَمُودُ دِينِكُمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الزَّكَاةِ فَإِنَّهَا تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ فَأَشْرَكُوهُمْ فِي مَعَايِشِكُمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْقُرْآنِ لَا يَسْبِقَنَّكُمْ بِالْعَمَلِ بِهِ غَيْرُكُمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي بَيْتِ رَبِّكُمْ لَا يَخْلُوَنَّ مَا بَقِيتُمْ؛ فَإِنَّهُ إِنْ تُرِكَ لَمْ تُنَاظَرُوا. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي ذِمَّةِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا تُظْلَمَنَّ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي جِيرَانِكُمْ فَإِنَّهُمْ وَصِيَّةُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِهِمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُمْ» ". وَاللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهُ أَوْصَى بِهِمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الضَّعِيفَيْنِ مِنَ النِّسَاءِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ [فِإِنَّ آخِرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ: " أُوصِيكُمْ بِالضَّعِيفَيْنِ؛ النِّسَاءَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ "]. الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ لَا تَخَافُنَّ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ؛ اللَّهُ يَكْفِيكُمْ مَنْ أَرَادَكُمْ وَبَغَى عَلَيْكُمْ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ. وَلَا تَتْرُكُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ؛ فَيُوَلَّى أَمْرَكُمْ شِرَارُكُمْ، ثُمَّ تَدْعُونَ وَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ. عَلَيْكُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَالتَّبَادُلِ، إِيَّاكُمْ وَالتَّقَاطُعَ وَالتَّدَابُرَ وَالتَّفَرُّقَ " وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ". حَفِظَكُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ، وَحَفِظَ فِيكُمْ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. أَسَتُودِعُكُمُ اللَّهَ، وَأَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ. ثُمَّ لَمْ يُنْطِقْ إِلَّا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَتَّى قُبِضَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَةِ أَرْبَعِينَ، وَغَسَّلَهُ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ الْحَسَنُ تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَوَلِيَ الْحَسَنُ عَمَلَهُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ. وَكَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ قَبْلَ أَنْ يَضْرِبَ عَلِيًّا قَعَدَ فِي بَنِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ إِذْ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةِ أَبْجَرَ بْنِ جَابِرٍ الْعِجْلِيِّ أَبِي حَجَّارٍ - وَكَانَ نَصْرَانِيًّا - وَالنَّصَارَى حَوْلَهُ وَنَاسٌ مَعَ حَجَّارٍ بِمَنْزِلَتِهِ يَمْشُونَ بِجَانِبِ إِمَامِهِمْ: شَقِيقِ بْنِ ثَوْرٍ السُّلَمِيِّ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَأُخْبِرَ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ: لَئِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ مُسْلِمًا ... لَقَدْ بُوعِدَتْ مِنْهُ جِنَازَةُ أَبْجَرِ وَإِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ كَافِرًا ... فَمَا مِثْلُ هَذَا مِنْ كَفُورٍ بِمُنْكَرِ أَتَرْضَوْنَ هَذَا إِنَّ قِسًّا وَمُسْلِمًا ... جَمِيعًا لَدَى نَعْشٍ فَيَا قُبْحَ مَنْظَرِ. وَقَالَ ابْنُ [أَبِي] عَيَّاشٍ الْمُرَادِيُّ: وَلَمْ أَرَ مَهْرًا سَاقَهُ ذُو سَمَاحَةٍ ... كَمَهْرِ قَطَامٍ بَيِّنًا غَيْرَ مُعْجَمِ ثَلَاثَةُ آلَافٍ وَعَبْدٌ وَقَيْنَةٌ ... وَضَرْبُ عَلِيٍّ بِالْحُسَامِ الْمُصَمِّمِ وَلَا مَهْرَ أَغْلَى مِنْ عَلِيٍّ وَإِنْ غَلَا ... وَلَا قَتْلَ إِلَّا دُونَ قَتْلِ ابْنِ مُلْجَمٍ. وَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ: أَلَا أَبْلِغْ مُعَاوِيَةَ بْنَ حَرْبٍ ... فَلَا قَرَّتْ عُيُونُ الشامِتِينَا أَفِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَجَعْتُمُونَا ... بِخَيْرِ الناسِ طُرًّا أَجْمَعِينَا قَتَلْتُمْ خَيْرَ مَنْ رَكِبَ الْمَطَايَا ... وَحَلَّسَهَا وَمَنْ رَكِبَ السَّفِينَا وَمَنْ لَبِسَ النِّعَالَ وَمَنْ حَذَاهَا ... وَمَنْ قَرَأَ الْمَثَانِيَ وَالْمِئِينَا لَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ حِينَ كَانَتْ ... بِأَنَّكَ خَيْرُهَا حَسَبًا وَدِينَا. وَأُمَّا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ فَقَعَدَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا مُعَاوِيَةُ، فَلَمْ يَخْرُجْ [كَانَ] وَاشْتَكَى فِيهَا بَطْنَهُ، فَأَمَرَ خَارِجَةَ بْنَ حَبِيبٍ - وَكَانَ صَاحِبَ شُرْطَتِهِ - وَكَانَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ فَخَرَجَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَشَدَّ عَلَيْهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ [فَأُخِذَ]، وَأُدْخِلَ عَلَى عَمْرٍو، فَلَمَّا رَآهُمْ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ بِالْإِمْرَةِ فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ: مَنْ قَتَلْتُ؟ قَالُوا: خَارِجَةَ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ يَا فَاسِقُ مَا ضَمِدْتُ غَيْرَكَ. قَالَ عَمْرٌو: أَرَدْتَنِي وَاللَّهُ أَرَادَ خَارِجَةَ، وَقَدَّمَهُ وَقَتَلَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: وَقْتُكَ وَأَسْبَابُ الْأُمُورِ كَثِيرَةٌ مَنِيَّةُ شَيْخٍ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ ... فَيَا عَمْرُو مَهْلًا إِنَّمَا أَنْتَ عَمُّهُ وَصَاحِبُهُ دُونَ الرِّجَالِ الْأَقَارِبِ نَجَوْتَ وَقَدْ بَلَّ الْمُرَادِيُّ سَيْفَهُ مِنَ ابْنِ أَبِي شَيْخِ الْأَبَاطِحِ طَالِبِ ... وَيَضْرِبُنِي بِالسَّيْفِ آخَرُ مِثْلُهُ فَكَانَتْ عَلَيْهِ تِلْكَ ضَرْبَةُ لَازِبِ وَأَنْتَ تُنَاغِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بِمِصْرِكَ بِيضًا كَالظِّبَاءِ الشَّوَارِبِ. وَكَانَ الَّذِي ذَهَبَ بِنَعْيِهِ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الزُّهْرِيُّ، وَكَانَ الْحَسَنُ قَدْ بَعَثَ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ بِإِيلَيَاءَ فِي ذَلِكَ الْعَامِ، وَخَرَجَ الْحَسَنُ حَتَّى نَزَلَ فِي الْقُصُورِ الْبِيضِ فِي الْمَدَائِنِ، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ مَسْكَنَ. وَكَانَ عَلَى الْمَدَائِنِ عَمُّ الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: سَعْدُ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لَهُ الْمُخْتَارُ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ -: هَلْ لَكَ فِي الْغِنَى وَالشَّرَفِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تُوثِقُ الْحَسَنَ وَتَسْتَأْمِرُ بِهِ إِلَى مُعَاوِيَةَ. فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: عَلَيْكَ لَعْنَةُ اللَّهِ أَأَثِبُ عَلَى ابْنِ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُوثِقُهُ؟ [بِئْسَ الرَّجُلُ أَنْتَ]. فَلَمَّا رَأَى الْحَسَنُ تَفَرُّقَ النَّاسِ عَنْهُ، بَعَثَ إِلَى مُعَاوِيَةَ يَطْلُبُ الصُّلْحَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَمُرَةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَقَدِمَا عَلَى الْحَسَنِ بِالْمَدَائِنِ فَأَعْطَيَاهُ مَا أَرَادَ، وَصَالَحَاهُ، ثُمَّ قَامَ الْحَسَنُ فِي النَّاسِ فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، إِنَّمَا يَسْتَخِي بِنَفْسِي عَنْكُمْ ثَلَاثٌ: قَتْلُكُمْ أَبِي، وَطَعْنُكُمْ إِيَّايَ، وَانْتِهَابِكُمْ مَتَاعِي. وَدَخَلَ فِي طَاعَةِ مُعَاوِيَةَ، وَدَخَلَ الْكُوفَةَ فَبَايَعَهُ النَّاسُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

أَصْحَابَهُ. ← كَانَ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مُلْجَمٍ لَعَنَهُ اللَّهُ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَاشِدٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › The chapter on its death, may God be pleased with him] · Hadith 14791

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ جَامِعٌ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] · حديث 14942

14942 - وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، وَقَدْ عَلَّقَتْ عِنْدَهُ بُطُونُ قُرَيْشٍ، وَسَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ جَالِسٌ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمَّا رَآهُ مُعَاوِيَةُ مُقْبِلًا قَالَ: يَا سَعِيدُ، وَاللَّهِ لَأُلْقِيَنَّ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مَسَائِلَ يَعْيَا بِجَوَابِهَا. فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ: لَيْسَ مِثْلُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَعْيَا بِمَسَائِلِكَ. فَلَمَّا جَلَسَ قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا تَقُولُ فِي أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ ; كَانَ وَاللَّهِ لِلْقُرْآنِ تَالِيًا، وَعَنِ الْمَيْلِ نَائِيًا وَعَنِ الْفَحْشَاءِ سَاهِيًا، وَعَنِ الْمُنْكَرِ نَاهِيًا، وَبِدِينِهِ عَارِفًا، وَمِنَ اللَّهِ خَائِفًا، وَبِاللَّيْلِ قَائِمًا، وَبِالنَّهَارِ صَائِمًا، وَمِنْ دُنْيَاهُ سَالِمًا، وَعَلَى عَدْلِ الْبَرِيَّةِ عَازِمًا، وَبِالْمَعْرُوفِ آمِرًا، وَإِلَيْهِ صَائِرًا، وَفِي الْأَحْوَالِ شَاكِرًا، وَلِلَّهِ فِي الْغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ ذَاكِرًا، وَلِنَفْسِهِ بِالصَّالِحِ قَاهِرًا. فَاقَ أَصْحَابَهُ وَرَعًا، وَكَفَافًا، وَزُهْدًا، وَعَفَافًا، وَبِرًّا، وَحِيَاطَةً، وَزَهَادَةً، وَكَفَاءَةً، فَأَعْقَبَ اللَّهُ مَنْ ثَلَبَهُ اللَّعَائِنَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا حَفْصٍ ; كَانَ وَاللَّهِ حَلِيفَ الْإِسْلَامِ، وَمَأْوَى الْأَيْتَامِ، وَمَحَلَّ الْإِيمَانِ، وَمَلَاذَ الضُّعَفَاءِ، وَمَعْقِلَ الْحُنَفَاءِ. لِلْخَلْقِ حِصْنًا، وَلِلْبَأْسِ عَوْنًا. قَامَ بِحَقِّ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا حَتَّى أَظْهَرَ اللَّهُ الدِّينَ وَفَتَحَ الدِّيَارَ، وَذُكِرَ اللَّهُ فِي الْأَقْطَارِ وَالْمَنَاهِلِ وَعَلَى التِّلَالِ، وَفِي الضَّوَاحِي وَالْبِقَاعِ. وَعِنْدَ الْخَنَا وَقُورًا، وَفِي الشِّدَّةِ وَالرَّخَاءِ شَكُورًا، وَلِلَّهِ فِي كُلِّ وَقْتٍ وَأَوَانٍ ذَكُورًا، فَأَعْقَبَ اللَّهُ مَنْ يُبْغِضُهُ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الْحَسْرَةِ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ؟ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَمْرٍو ; كَانَ وَاللَّهِ أَكْرَمَ الْحَفَدَةِ، وَأَوْصَلَ الْبَرَرَةِ، وَأَصْبَرَ الْغُزَاةِ. هَجَّادًا بِالْأَسْحَارِ، كَثِيرَ الدُّمُوعِ عِنْدَ ذِكْرِ اللَّهِ، دَائِمَ الْفِكْرِ فِيمَا يَعْنِيهِ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، نَاهِضًا إِلَى كُلِّ مَكْرُمَةٍ، يَسْعَى إِلَى كُلِّ مَنْجَبَةٍ، فَرَّارًا مِنْ كُلِّ مُوبِقَةٍ. وَصَاحِبَ الْجَيْشِ وَالْبِئْرِ، وَخَتَنَ الْمُصْطَفَى عَلَى ابْنَتَيْهِ، فَأَعْقَبَ اللَّهُ مَنْ سَبَّهُ النَّدَامَةَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا الْحَسَنِ ; كَانَ وَاللَّهِ عَلَمَ الْهُدَى، وَكَهْفَ التُّقَى، وَمَحَلَّ الْحِجَا، وَطَوْدَ النُّهَى، وَنُورَ السُّرَى فِي ظُلَمِ الدُّجَى. دَاعِيًا إِلَى الْمَحَجَّةِ الْعُظْمَى، عَالِمًا بِمَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى، وَقَائِمًا بِالتَّأْوِيلِ وَالذِّكْرَى، مُتَعَلِّقًا بِأَسْبَابِ الْهُدَى، وَتَارِكًا لِلْجَوْرِ وَالْأَذَى، وَحَائِدًا عَنْ طُرُقَاتِ الرَّدَى، وَخَيْرَ مَنْ آمَنَ وَاتَّقَى، وَسَيِّدَ مَنْ تَقَمَّصَ وَارْتَدَى، وَأَفْضَلَ مَنْ حَجَّ وَسَعَى، وَأَسْمَحَ مَنْ عَدَلَ وَسَوَّى، وَأَخْطَبَ أَهْلِ الدُّنْيَا إِلَّا الْأَنْبِيَاءَ وَالنَّبِيَّ الْمُصْطَفَى. وَصَاحِبَ الْقِبْلَتَيْنِ، فَهَلْ يُوَازِيهِ مُوَحِّدٌ؟ وَزَوْجُ خَيْرُ النِّسَاءِ، وَأَبُو السِّبْطَيْنِ، لَمْ تَرَ عَيْنِي مِثْلَهُ، وَلَا تَرَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَاللِّقَاءِ. مَنْ لَعَنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْعِبَادِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. قَالَ: فَمَا تَقُولُ فِي طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ؟ قَالَ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا ; كَانَا وَاللَّهِ عَفِيفَيْنِ، بَرَّيْنِ، مُسْلِمَيْنِ، طَاهِرَيْنِ، مُتَطَهِّرَيْنِ، شَهِيدَيْنِ، عَالِمَيْنِ، زَلَّا زَلَّةً وَاللَّهُ غَافِرٌ لَهُمَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِالنُّصْرَةِ الْقَدِيمَةِ، وَالصُّحْبَةِ الْقَدِيمَةِ، وَالْأَفْعَالِ الْجَمِيلَةِ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي الْعَبَّاسِ؟ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا الْفَضْلِ، كَانَ وَاللَّهِ صِنْوَ أَبِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُرَّةَ عَيْنِ صَفِيِّ اللَّهِ، كَهْفَ الْأَقْوَامِ، وَسَيِّدَ الْأَعْمَامِ، قَدْ عَلَا، بَصِرًا بِالْأُمُورِ، وَنَظَرًا بِالْعَوَاقِبِ، قَدْ زَانَهُ عِلْمٌ قَدْ تَلَاشَتِ الْأَحْسَابُ عِنْدَ ذِكْرِ فَضِيلَتِهِ، وَتَبَاعَدَتِ الْأَنْسَابُ عِنْدَ فَخْرِ عَشِيرَتِهِ، وَلِمَ لَا يَكُونُ كَذَلِكَ وَقَدْ سَاسَهُ أَكْرَمُ مَنْ دَبَّ وَهَبَّ عَبْدُ الْمُطَّلَبِ، أَفْخَرُ مَنْ مَشَى مِنْ قُرَيْشٍ وَرَكِبَ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَلِمَ سُمِّيَتْ قُرَيْشٌ قُرَيْشًا؟ قَالَ: بِدَابَّةٍ تَكُونُ فِي الْبَحْرِ هِيَ أَعْظَمُ دَوَابِّ الْبَحْرِ خَطَرًا، لَا تَظْفَرُ بِشَيْءٍ مِنْ دَوَابِّ الْبَحْرِ إِلَّا أَكَلَتْهُ، فَسُمِّيَتْ قُرَيْشٌ لِأَنَّهَا أَعْظَمُ الْعَرَبِ فِعَالًا. قَالَ: هَلْ تَرْوِي فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ فَأَنْشَدَ قَوْلَ الْجُمَحِيِّ: وَقُرَيْشٌ هِيَ الَّتِي تَسْكُنُ الْبَحْرَ ... بِهَا سُمِّيَتْ قُرَيْشٌ قُرَيْشَا تَأْكُلُ الْغَثَّ وَالسَّمِينَ وَلَا تَتْ ... رُكُ فِيهَا لِذِي جَنَاحَيْنِ رِيشَا هَكَذَا كَانَ فِي الْكِتَابِ حَيٌّ قُرَيْشٍ ... يَأْكُلُ الْبِلَادَ أَكْلًا حَشِيشَا وَلَهُمْ آخِرَ الزَّمَانِ نَبِيٌّ ... يُكْثِرُ الْقَتْلَ فِيهِمْ وَالْخُمُوشَا تَمْلَأُ الْأَرْضَ خَيْلُهُ وَرِجَالٌ ... يَحْشُرُونَ الْمَطِيَّ حَشْرًا كَمِيشَا. قَالَ: صَدَقْتَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَشْهَدُ أَنَّكَ لِسَانُ أَهْلِ بَيْتِكَ. فَلَمَّا خَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ: مَا كَلَّمْتُهُ قَطُّ إِلَّا وَجَدْتُهُ مُسْتَعِدًّا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [A collector’s door, may God be pleased with him] · Hadith 14942

chevron_left Previous
1…707172…291
Next chevron_right