Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

تربية الأبناء

Children & Parenting

5818 hadiths

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابُ غَزْوَةِ الطَّائِفِ] · حديث 10309

10309 - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الطَّائِفِ: جُلَيْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَارِبِ بْنِ نَاشِبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْأَوْسِ: رُقَيْمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ ثَوْبَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ: سَعِيدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي. رَوَاهَا الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ.

محمد بن اسحاق نے غزوہ طائف میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں حضرت جلیحہ بن عبد اللہ محارب بن ناشب بن سعد بن لیث رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے۔اس کے علاوہ انصار کے قبیلے بنواوس سے تعلق رکھنے والے حضرت رقیم بن ثابت بن ثعلبہ بن ثوبان بن معاویہ ہیں۔ اس کے علاوہ قریش کی شاخ بنو امیہ بن عبد سے تعلق رکھنے والے حضرت سعید بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نےنقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں۔

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the invasion of the sect] · Hadith 10309

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ بَابٌ فِي يَوْمِ الرَّجِيعِ] · حديث 10339

10340 - وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الرَّجِيعِ: مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: حضرت خبیب بن عدی بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنوعمرو بن عوف ہے ہے اور حضرت عاصم بن ثابت بن ابواقلح بن عمرو بن عوف اور حضرت زید بن دثنہ انصاری رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو بیاضہ سے ہے ان لوگوں کا واقعہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں مکہ میں جاسوسی کے لئے بھیجا تھا تا کہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قریش کے بارے میں اطلاعات پہنچا ئیں یہ لوگ نجدیہ کے راستے پر چلتے ہوئے نجد کے مقام رجیع تک پہنچے تو بنولیحان قبیلے کے لوگ جو ہذیل قبیلے کی شاخ ہے وہ انکے سامنے آ گئے عاصم بن ثابت نے اپنی تلوار کے ذریعے مقابلہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔ حضرت خبیب اور حضرت زید بن دشنہ پہاڑ پر چڑھ گئے لوگ ان تک نہیں پہنچ سکتے تھے یہاں تک کہ ان لوگوں نے ان حضرات کے ساتھ یہ کہ کیا کہ وہ انہیں کچھ نہیں کہیں گے ) تو یہ دونوں حضرات نے اتر کر ان کے پاس آگئے ان لوگوں نے ان دونوں حضرات کو باندھ دیا پھر وہ ان دونوں کو لے کے مکہ آگئے اور ان دونوں کوقریش کے ہاتھ فروخت کر دیا جہاں تک حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو عقبہ بن حارث نے انہیں خریدلیا ان کی خریداری میں ابوا ہاب بن عزیز بن قیس بن سوید بن ربیعہ بن عدی بن عبداللہ بن دارم بھی ان کا شراکت دار بنا قیس بن سوید بن ربیہ اصل میں عامر بن نوفل کاماں کی طرف شریک بھائی تھا ان دونوں کی ماں نہشل کی بیٹی تھی او ر تمیمیہ تھی عکرمہ بن ابوجہل اور خنس بن شرنون بن علاج بن مغیر ثقفی اور عبیدہ بن حکیم سلمی ثم ذکوانی اور امیہ بن ابوعتبہ بن ہمام بن حفظ جسکا تعلق بنودارم سے ہے اورحضری کے بیٹوں نے اورسعیہ بن عبد الله بن ابو قیس نے جس کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے ہے اور صفوان بن امیہ بن خلف بن وہبی نے (اس خریداری میں حصہ لیا ) ان لوگوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو عقبہ بن حارث کے حوالے کردیا عقبہ نے انہیں اپنے گھر میں قید کر دیا جتنا عرصہ اللہ کومنظور تھاوہ اس کے گھر میں رہے عقبہ بن حارث بن عامر کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک عورت ان کے قید خانے کا دروازہ کھول کر انہیں کھانا دیا کرتی تھی انہوں نے اس عورت سے کہا کہ جب یہ لوگ مجھے قتل کرنے کا ارادہ کر میں تو تم مجھے اس بارے میں پہلے بتادیا جب ان لوگوں نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس عورت نے انہیں بتا دیا تو انہوں نے فرمایا: تم مجھے کوئی استرالا دوتا کہ میں اس کے ذریعے زیر ناف بال صاف کرلوں (اس عورت نے انہیں استرالا دیا ) اسی دوران اس عورت کا بیٹا ان کے کمرے میں آ گیا استراان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے اس بچے کا ہاتھ پکڑا اور پھر بولے کیا میں تمہیں نقصان پہنچاؤں اس عورت نے کہا: آپ کے بارے میں میرا یہ گمان نہیں ہے پھر انہوں نے استرااس عورت کو پکڑایا اور فرمایا: میں تو مذاق کر رہا تھا جن لوگوں نے مل جل کر انہیں خریدا تھا وہ انہیں ساتھ لے کر نکلے ان لوگوں کے ساتھ اہل مکہ بھی نکلے وہ لوگ اپنے ساتھ ایک لکڑی لے کر گئے۔ یہاں تک تنعیم کے مقام پر انہوں نے اس لکڑی کو زمین میں گاڑ دیا اور اس لکڑی پرا نہیں مصلوب کرد یا عقبہ بن حارث نے انہیں قتل کیا تھا ابوالحسین کمسن تھے اور لوگوں کے ساتھ تھے عقبہ نے انہیں حارث بن عامر کے بدلے میں قتل کیا تھا جو غزوہ بدر کے موقع پر کافر ہونے کے عالم میں قتل ہوا تھا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے قتل ہونے کے وقت ان سے کہا تم لوگ مجھے کھول دوتا کہ میں پہلے دو رکعت ادا کر دوں ان لوگوں نے انہیں کھول دیا انہوں نے مختصر رکعت ادا کیں اور نا مکمل کر لی پھر انہوں نے فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم یہ سمجھوگے کہ شاید میں موت کے خوف کی وجہ سے ایسا کر رہا ہوں تو میں نے یہ دورکعت طویل ادا کرنی تھیں لیکن اسی وجہ سے میں نے انہیں مختصر ادا کیا ہے پھر انہوں نے کہا: اے اللہ مجھے اپنے سامنے صرف دشمن نظر آ رہا ہے اے اللہ مجھے ایسا کوئی قاصد نہیں ملتا جو تیرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک بھیجا جا سکے تو انہیں میری طرف سے سلام پہنچا دینا حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس بارے میں بتایا جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں نے لکڑی پر بلند کیا تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ تو ان لوگوں کو گن لے اور انہیں قتل کرواددینا ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑناراوی کہتے ہیں : حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو ان مشرکین کے بیٹوں نے شہید کیا جو مشرکین غزوہ بدر میں مارے گئے تھے جب ان لوگوں نے ان کی طرف ہتھیار بڑھائے اور جب انہیں مصلوب کیا جا چکا تھا تو انہوں نے بلند آواز میں پکا کر ان سے کہا کہ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) تمہاری جگہ ہوتے تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں عظیم اللہ کی قسم مجھے تو یہ بات بھی پسند نہیں ہے کہ میری جان کے بدلے میں ان کے پاؤں میں کوئی کا نٹا بھی چبھ جائے تو وہ لوگ ہنسنے لگے جب ان لوگوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کولکڑی پر بلند کیا تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے:”(دشمن کے) گروہ میرے گردہ اکٹھے ہو گئے ہیں انہوں نے اپنے قبائل کو جمع کر لیا ہے اور ہر قسم کا مجمع اکٹھا کر لیا ہے انہوں نے اپنے بیٹوں اور عورتوں کو اکٹھا کر لیا اور مجھے کھجور کی ایک مضبوط شاخ کے قریب کر دیا ہے میں اپنی غریب حب الوطنی اور اپنی پریشانی اور ان لوگوں نے میرےقتل کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے ان سب کے حوالے سے میں اللہ تعالی ہی کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہوں اے عرش والی ذات تو مجھے اس چیز کے حوالے سے صبر عطا فرما جو یہ لوگ میرے بارے میں ارادہ رکھتے ہیں کہ یہ میرے گوشت کے ٹکڑے کر دے اور ( بچنے کی ) میری توقع ختم ہو چکی ہے اور یہ سب کچھ اس معبود کی راہ میں ہورہا ہے کہ اگر وہ چاہے تو میرے جسم کے مردہ ٹکڑوں میں بھی برکت ڈال دے مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے اگر میں مسلمان ہونے کے عالم میں مرتا ہوں تو مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں ہےکہ اللہ تعالی مجھے کس حال میں موت دیتا ہے۔جہاں تک حضرت زید بن دثنہ کا تعلق ہے تو صفوان بن امیہ نے انہیں خرید لیا تھا اس نے اپنے باپ امیہ بن خلف کے عو ض میں انہیں قتل کیا بنو جمح کے غلام نیطاس نے انہیں قتل کیا تھا ان دونوں حضرات کو تنعیم کے مقام پر قتل کیا گیا تھا عمرو بن امیہ نے حضر ت خبیب رضی اللہ عنہ کو دفن کیا تھا ۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ اشعار کہے تھے۔ارے خبیب نے اپنے عہد کے حوالے سے خیانت نہیں کی ارے خبیب لوگوں میں عالم تھا زہیر بن اغر اور جامع نے تمہیں خریدا ہے اور وہ دونوں پرانے وقتوں سے ہی حرام کاموں کا ارتکاب کرتے چلے آرہے ہیں تم لوگوں نے پہلے پناہ دی اور جب تم نے پناہ دیدی تو تم نے اس کی خلاف ورزی کی جب تم لوگ رجیع کے کناروں پر چیخیں مارا کرتے تھے یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پا یا جا تا ہے۔

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › Chapter on the return day] · Hadith 10339

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ [بَابٌ فِي الرَّضَاعِ] · حديث 7358

7358 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ق کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے، جو حرمت نسب سے ثابت ہوتی ہے، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ،اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان اور وہ ضعیف ہے۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › [Section in breastfeeding] · Hadith 7358

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ [بَابٌ فِي الرَّضَاعِ] · حديث 7359

7359 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے ، جو نسب سے حرمت ثابت ہوتی ہے "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ،اور اس رجال ثقہ ہیں۔

أَنَسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › [Section in breastfeeding] · Hadith 7359

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ [بَابٌ فِي الرَّضَاعِ] · حديث 7360

7360 - وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ: «قِيلَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لَا تَحِلُّ بِنْتُ الْأَخِ، وَلَا بِنْتُ الْأُخْتِ مِنَ الرَّضَاعَةِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

ابو جعفر بیان کرتے ہیں: حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : آپ وہ حدیث بیان ، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی سنی ہو، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " رضاعی بھتیجی ، یا رضاعی بھانجی ( کے ساتھ شادی کرنا) حلال نہیں ہے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← «قِيلَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: حَدِّثْ بِمَا ← أَبِي جَعْفَرٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › [Section in breastfeeding] · Hadith 7360

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ [بَابٌ فِي الرَّضَاعِ] · حديث 7362

7362 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ خَيْرٌ مِنْ قَضَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ. قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ سَوَاءٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ابن زبیر کا یہ کہنا ہے کہ رضاعت جو ایک چسکی یا دو چسکی کی ہو ، وہ حرمت کو ثابت نہیں کرتی ہے، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ابن زبیر کے فیصلے سے زیادہ بہتر ہے، رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ ہو ، برابر کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزی خوزی ہے اور وہ متروک ہے۔

إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ؟ ← جاء رجل إلى ابن عمر ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › [Section in breastfeeding] · Hadith 7362

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا يَحْرُمُ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِ ذَلِكَ] · حديث 7418

7418 - عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: سَلُونِي، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُوا مِثْلِي وَلَنْ تَسْأَلُوا مِثْلِي!! فَقَالَ ابْنُ الْكَوَّا: أَخْبِرْنَا عَنِ الْأُخْتَيْنِ الْمَمْلُوكَتَيْنِ، وَعَنْ بِنْتِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ. فَقَالَ: سَلْ عَنْ مَا يَعْنِيكَ، فَإِنَّكَ ذَاهِبٌ فِي التِّيهِ. فَقَالَ: إِنَّمَا أَسْأَلُ عَمَّا لَا نَعْلَمُ، فَأَمَّا مَا نَعْلَمُ فَإِنَّا لَا نَسْأَلُ عَنْهُ. قَالَ: أَمَّا الْأُخْتَانِ الْمَمْلُوكَتَانِ فَأَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، وَلَا آمُرُ بِهِ، وَلَا أَنْهَى عَنْهُ، وَلَا أَفْعَلُهُ أَنَا، وَلَا أَهْلُ بَيْتِي. فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ.

ابو صالح بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ مجھ پر سوال کرو کیونکہ تم مجھ جیسے شخص سے سوال نہیں کرو گے ، تم مجھ جیسے شخص سے سوال نہیں کرو گے، تو ابن الکوا نے کہا: اپ ہمیں دو بہنوں کے بارے میں بتائیے ، جو دونوں کنیز ہوتی ہیں اور رضاعی بھائی کی بیٹی کے بارے میں بتائیے ( کہ کیا ان کے ساتھ شادی یا صحبت کی جا سکتی ہے ؟ ) تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے سے وہ چیز دریافت کرو ! جس کا تمہیں فائدہ ہو ، تم پیچیدہ مسائل میں جا رہے ہو، اس نے کہا : میں آپ سے وہ سوال کر رہا ہوں ، جس کے بارے میں ، میں نہیں جانتا ہوں، جس چیز کے بارے میں ، میں جانتا ہوں ، میں اس کے بارے میں تو سوال نہیں کر رہا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جہاں تک کنیز بہنوں کا تعلق ہے ( کہ ان دونوں کے ساتھ آقا کی صحبت کر سکتا ہے؟ ) تو ایک آیت ان دونوں کو حلال کرتی ہے ، اور ایک آیت ان دونوں کو حرام قرار دیتی ہے ، میں اس کے بارے میں حکم بھی نہیں دوں گا اور اس سے منع بھی نہیں کروں گا۔ میں خود بھی یہ نہیں کروں گا اور میرے اہل بیت میں سے بھی کوئی یہ نہیں کرے گا۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام بزار نے یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے ۔

اَبِیْ صَالِحٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › [Chapter on what is forbidden to women and other than that] · Hadith 7418

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا يَحْرُمُ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِ ذَلِكَ] · حديث 7420

7420 - وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ النِّسَاءِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ امْرَأَةً، وَأَنَا أَكْرَهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ امْرَأَةً: الْأَمَةَ، وَأُمَّهَا، وَالْأُخْتَيْنِ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا، وَالْأَمَةَ إِذَا وَطِئَهَا أَبُوكَ، وَالْأَمَةَ إِذَا وَطِئَهَا ابْنُكَ، وَالْأَمَةَ إِذَا زَنَتْ، وَالْأَمَةَ فِي عِدَّةِ غَيْرِكَ، وَالْأَمَةَ لَهَا زَوْجٌ، وَأَمَتَكَ مُشْرِكَةً، وَعَمَّتَكَ وَخَالَتَكَ مِنَ الرَّضَاعَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْعِتْقِ فِيمَا يُكْرَهُ مِنْ حَبْسِ الرَّقِيقِ النَّهْيُ عَنِ الْمَجُوسِيَّاتِ.

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے خواتین میں سے بارہ خواتین کو حرام قرار دیا ہے ، اور میں ( مزید ) بارہ خواتین کو مکروہ قرار دیتا ہوں ، کنیز اور اس کی ماں ، دو ( کنیز ) کی بہنیں کہ ان دونوں کو ( صحبت کرنے میں ) اکٹھا کیا جائے ، وہ کنیز جس کے ساتھ تمہارے باپ نے صحبت کی ہو، وہ کنیز جس کے ساتھ تمہارے بیٹے نے صحبت کی ہو، وہ کنیز جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، وہ کنیز جو تمہارے علاوہ کسی اور کی عدت گزار رہی ہو، وہ کنیز جس کا شوہر موجود ہو، تمہاری مشرک کنیز اور تمہاری رضائی پھوپھی اور رضاعی خالہ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ قتادہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ اس سے پہلے غلام آزاد کرنے سے متعلق باب میں یہ بات ذکر ہو چکی ہے کہ جن غلاموں ( اور کنیزوں ) کو رکھنا مکروہ ہے ، ان میں مجوسی عورتوں سے منع کیا گیا ہے۔

قَتَادَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › [Chapter on what is forbidden to women and other than that] · Hadith 7420

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ] · حديث 426

426 - قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثْنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: تَسْمِيَةُ أَصْحَابِ الْعَقَبَةِ: مُعَتِّبُ بْنُ قُشَيْرِ بْنِ مُلَيْلٍ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: يَعِدُنَا مُحَمَّدٌ كُنُوزَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَأَحَدُنَا لَا يَأْمَنُ عَلَى خَلَائِهِ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَاهُنَا. قَالَ الزُّبَيْرُ: وَهُوَ الَّذِي شَهِدَ عَلَيْهِ الزُّبَيْرُ بِهَذَا الْكَلَامِ. وَوَدِيعَةُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: مَالِي أَرَى قُرَّاءَنَا هَؤُلَاءِ أَرْغَبُنَا بُطُونًا وَأَجْبَنُنَا عِنْدَ اللِّقَاءِ. وَجَدُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَبْتَلَ بْنِ الْحَارِثِ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا مُحَمَّدُ، مَنْ هَذَا الْأَسْوَدُ كَثِيرُ شَعْرٍ، عَيْنَاهُ كَأَنَّهُمَا قِدْرَانِ مِنْ صُفْرٍ، يَنْظُرُ بِعَيْنَيْ شَيْطَانِ، وَكَبِدُهُ كَبِدُ حِمَارٍ، يُخْبِرُ الْمُنَافِقِينَ بِخَبَرِكَ، وَهُوَ الْمُخْبَرُ بِخَبَرِهِ؟. وَالْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الطَّائِيِّ، حَلِيفٌ لِبَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَهُوَ الَّذِي سَبَقَ إِلَى الْوَشَلِ - يَعْنِي الْبِئْرَ - الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَسْبِقَهُ أَحَدٌ، فَاسْتَقَى مِنْهُ. وَأَوْسُ بْنُ قِبْطِيٍّ، وَهُوَ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ: إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ، وَهُوَ جَدُّ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ. وَالْجُلَّاسُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَبَلَغَنَا أَنَّهُ تَابَ بَعْدَ ذَلِكَ. وَسَعْدُ بْنُ زُرَارَةَ، مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، وَهُوَ الْمُدَّخَنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ سِنًّا، وَأَخْبَثُهُمْ. وَسُوَيْدٌ وَرَاعِشٌ، وَهُمَا مِنْ بَلْحُبْلَى، وَهُمَا مِمَّنْ جَهَّزَ ابْنُ أُبَيٍّ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ لِخِذْلَانِ النَّاسِ. وَقَيْسُ بْنُ عَمْرِو بْنِ فَهْدٍ. وَزَيْدُ بْنُ اللُّصَيْبِ، وَكَانَ مِنْ يَهُودِ قَيْنُقَاعَ، فَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ وَفِيهِ غِشُّ الْيَهُودِ وَنِفَاقُ مَنْ نَافَقَ. وَسُلَالَةُ بْنُ الْحُمَامِ، مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، فَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ قَوْلِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ كَمَا تَرَى.

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : علی بن عبدالعزیز نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : " گھاٹی والے افراد (جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، ان ) کے نام یہ ہیں : " معتب بن قشیر بن ملیل ، اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ، اس نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی ، یہ وہ شخص ہے ، جس نے یہ کہا تھا : حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ساتھ کسریٰ ، اور قیصر کے خزانوں کا وعدہ کرتے ہیں ، جبکہ ہم میں سے کوئی ایک اپنے خلائی کے حوالے سے بھی محفوظ نہیں ہے یہی وہ شخص ہے جس نے یہ کہا تھا: اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے زبیر بن بکار فرماتے ہیں : اس کلام کے حوالے سے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسی شخص کے خلاف گواہی دی تھی ۔ ودیعہ بن ثابت بن عمرو بن عوف یہ وہ شخص ہے جس نے یہ کہا تھا۔ کیا وجہ ہے کہ میں یہ دیکھتا ہوں ہ ہمارے یہ قاری صاحبان پیٹ کی طرف سے سب سے زیادہ رغبت رکھتے ہیں اور دشمن کا سامان کرنے کے وقت سب سے زیادہ بزدل ہوتے ہیں ۔ جدبن عبداللہ بن نبتل بن حارث اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے یہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ کہا تھا : اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت سے بالوں والا یہ شخص کون ہے ؟ جس کی آنکھیں پیتل کی ہنڈیاؤں جیسی ہیں ، وہ شیطان کی آنکھوں کے ساتھ دیکھتا ہے اور اس کا جگر گدھے کا جگر ہے ، یہ منافقین کو آپ کی خبریں پہنچاتا ہے ۔ حارث بن یزید طائی یہ بنو عمرو بن عوف کا حلیف ہے ، یہ وہ شخص ہے جو اس کنویں کے پاس پہلے چلا گیا تھا، جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع کیا تھا کہ کوئی آپ سے پہلے وہاں تک جائے ، اس نے وہاں سے پانی حاصل کیا تھا۔ اوس بن قبطی اس کا تعلق بنو حارثہ سے ہے یہ وہی شخص ہے جس نے یہ کہا تھا : ہمارے گھر پردہ کی چیزیں ہیں ، یہ یحییٰ بن سعید بن قیس کا دادا ہے ۔ جلاس بن سوید بن صامت اس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ، ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ اس نے بعد میں توبہ کر لی تھی ۔ سعد بن زرارہ اس کا تعلق بنو مالک بن نجار سے ہے ، یہ وہ شخص جس نے نبی اکرم کے خلاف دھواں پھیلایا تھا، یہ ان لوگوں میں عمر میں سب سے چھوٹا تھا اور سب سے زیادہ خبیث تھا۔ سوید اور راعش ان دونوں کا تعلق بلحبلی سے تھا ، یہ دونوں ان افراد میں سے ہیں ، جنہیں عبداللہ بن ابی نے غزوہ تبوک کے موقع پر سامان فراہم کیا تھا تاکہ یہ لوگوں کو رسوا کریں ۔ قیس بن عمرو بن فہد ، زید بن لصیب ، اس کا تعلق قینقاع کے یہودیوں سے تھا ، اور اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا ، اس میں یہودیوں کا کھوٹ تھا اور منافقین کا نفاق تھا۔ سلالہ بن حمام اس کا تعلق بنو قینقاع سے تھا اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں زبیر بن بکار کے قول کے طور پر نقل کی ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں۔

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › A section of it among the hypocrites] · Hadith 426

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الطَّلَاقِ] ‹ بَابُ مَتَى تَحِلُّ الْمَبْتُوتَةُ] · حديث 7795

7795 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ يُقَالُ لَهَا: تَمِيمَةُ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا رِفَاعَةُ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، ثُمَّ فَارَقَهَا فَأَرَادَتْ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا ذَاكَ مِنْهُ إِلَّا كَهُدْبَةِ ثَوْبِي هَذَا!! فَقَالَ: " وَاللَّهِ يَا تَمِيمَةُ لَا تَرْجِعِينَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ رَجُلٌ غَيْرُهُ "، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ [كَانَ] قَدْ جَاءَنِي هِبَةً». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا تَسْمِيَتِهَا: تَمِيمَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جس کا نام تمیمہ تھا وہ حضرت عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں رفاعہ جن کا تعلق بنو قریظہ سے تھا انہوں نے اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی پھر انہوں نے اس خاتون سے علیحدگی کر لی اس خاتون نے دوبارہ عبدالرحمٰن بن زبیر کے پاس واپس جانے کا ارادہ کیا ( یعنی دوبارہ اس کے ساتھ شادی کا ارادہ کیا ) تو اس سے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا ساتھ (یعنی دوسرے شوہر کا ساتھ ) میرے اس کپڑے کے کنارے کی طرح ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم ! اے تمیمہ تم عبدالرحمٰن کی طرف اس وقت تک واپس نہیں جا سکتی ہو جب تک اس کے علاوہ کوئی اور شخص ( یعنی تمہارا دوسرا شوہر تمہارا شہد نہیں چکھ لیتا اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ میرے پاس ہیبہ کے طور پر آیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں اس خاتون کا نام تمیمہ ذکر نہیں ہوا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے، اور وہ مدلس ہے۔

عَائِشَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Divorce Book] › Chapter: When will the death arise] · Hadith 7795

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ [بَابُ الدَّعْوَةِ فِي الْوَلِيمَةِ وَالْإِجَابَةِ] · حديث 6156

6156 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: الْوَلِيمَةُ حَقٌّ وَسُنَّةٌ فَمَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَالْخَرَسُ وَالْإِعْذَارُ وَالتَّوْكِيرُ أَنْتَ فِيهِ بِالْخِيَارِ. قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي مَا الْخَرَسُ، وَالْإِعْذَارُ، وَالتَّوْكِيرُ؟ قَالَ: الْخَرَسُ: الْوِلَادَةُ. وَالْإِعْذَارُ: الْخِتَانُ. وَالتَّوْكِيرُ: الرَّجُلُ يَبْنِي الدَّارَ وَيَنْزِلُ فِي الْقَوْمِ فَيَجْعَلُ الطَّعَامَ فَيَدْعُوهُمْ. فَهُمْ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءُوا جَاءُوا، وَإِنْ شَاءُوا قَعَدُوا. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ التَّيْمِيُّ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ولیمہ حق اور سنت ہے ‘جس شخص کو اس کی دعوت دی جائے اور وہ اس کو قبول نہ کرے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے جبکہ خرس اعزار اور تو کیر کے بارے میں تمہیں اختیار ہے( کہ تم چاہوتو چلے جاؤ چاہو تو نہ جاؤ)۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ خرس ،اعزار اور تو کیر کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ تو انہوں نے (یعنی میرے استاد نے )بتایا خرس سے مراد( بچے کی) پیدائش کی دعوت ہے اعزار سے مراد ختنے کے وقت کی دعوت ہے اور تو کیرسےمراد یہ ہے کہ جب آدمی کوئی گھر بنا تا ہے‘ تو اس میں لوگوں کو بلاتا ہے اور کھانا تیار کر کے ان کی دعوت کرتا ہے‘ توان کے بارےمیں لوگوں کو اختیار ہے کہ اگر وہ چاہیں تو چلے جائیں اور اگر چاہیں تو نہ جائیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : )میں یہ کہتا ہوں ’’صحیح‘‘میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عثمان تیمی ہے‘ جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام بخاری اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › [Chapter of invitation at the banquet and the answer] · Hadith 6156

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ] · حديث 6183

6183 - وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ؟ قَالَ: " لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ ". كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ، وَقَالَ: " مَنْ وُلِدَ لَهُ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ».

بنوضمرہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشادفرمایا: میں عقوق ( نافرمانی) کو پسند نہیں کرتا ہوں ۔ ( راوی کہتے ہیں: ) گویا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لفظ کو نا پسند کیا آپ نے ارشادفرمایا: جس کا بچہ پیدا ہوا گر وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی کرنے کو پسند کرے تو وہ کر لے۔

أَبِيهِ ← وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › Bab Al Aqiqah] · Hadith 6183

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ] · حديث 6185

6185 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعَقِيقَةِ قَالَ: " «مَنْ وُلِدَ لَهُ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے عقیقہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جس شخص کا بچہ پیدا ہووہ اگر اس کی طرف سے قربانی کرنے کو پسند کرتا ہو‘ تو ایسا کر لے‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے۔

النَّبِيَّ فِي الْعَقِيقَةِ ← أُمِّ سَلَمَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › Bab Al Aqiqah] · Hadith 6185

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ] · حديث 6186

6186 - وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «الْعَقِيقَةُ حَقٌّ عَلَى الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُحْتَجٌّ بِهِمْ.

سیّد و اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”عقیقہ حق‘ ہے جس میں لڑ کے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں اورلڑ کی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی‘‘۔یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے راویوں سے استدلال کیا گیا ہے۔

«الْعَقِيقَةُ حَقٌّ عَلَى الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، ← النَّبِيِّ ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › Bab Al Aqiqah] · Hadith 6186

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ] · حديث 6189

6189 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: يُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ. قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَعَقَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ شَاتَيْنِ شَاتَيْنِ يَوْمَ السَّابِعِ، وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ عَنْ رَأْسِهِ الْأَذَى، وَقَالَ: " اذْبَحُوا عَلَى اسْمِهِ، وَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ [اللَّهُمَّ] مِنْكَ وَلَكَ هَذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ». قَالَ: وَكَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُؤْخَذُ قُطْنَةٌ فَتُجْعَلُ فِي دَمِ الْعَقِيقَةِ، ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُجْعَلُوا مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقًا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ أَبِي يَعْلَى: إِسْحَاقَ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ.

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں لڑ کے کے عقیقے میں دو برابر کی بکریاں اورلڑ کی کے عقیقے میں ایک بکری ذبح کی جائے گی ۔سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے عقیقے میں (ان کے پیدائش کے ) ساتویں دن دو‘ دو بکریاں قربان کروائی تھیں آپ نے یہ حکم دیا تھا ان کے سر سے بالوں کو صاف کر دیا گیا تھا آپ نے فرمایا: اس کے نام پر ذبح کرواور یہ کہو : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئےاللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے: اے اللہ! یہ تیری طرف سے (ملا) ہے اور تیرے لئے ہے اور یہ فلاں کا عقیقہ ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں لوگ روئی کاٹکڑالے کراسے عقیقہ ( کے جانور )کے خون میں ڈال کر پھر بچے کےسر پر رکھ دیتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا خون کی جگہ خلوق ( نام کی خوشبو) لگا دی جائے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں‘ صرف امام ابویعلیٰ کے استاد اسحاق کا معاملہ مختلف ہے میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔

عَائِشَةُ: فَعَقَّ رَسُولُ اللَّهِ ← الْجَارِيَةِ شَاةٌ. ← الغلام شَاتَان مُكَافأتَان، ← «يُعَقُّ ← عَائِشَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › Bab Al Aqiqah] · Hadith 6189

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ] · حديث 6191

6191 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ بچے کا عقیقہ ہوگا تم اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے گندگی ( یعنی بالوں کو) دور کر دو‘‘ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › Bab Al Aqiqah] · Hadith 6191

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ] · حديث 6192

6192 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: " «لِلْغُلَامِ عَقِيقَتَانِ وَلِلْجَارِيَةِ عَقِيقَةٌ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:’’ لڑکے کے دوعقیقے ہوں گے (یعنی اس کے عقیقے میں دو جانورقربان کیے جائیں گے ) اورلڑ کی کا ایک عقیقہ ہوگا‘‘۔یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران بن عیینہ ہے‘ جسے یحییٰ بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قراردیا ہے اور اس میں ضعف پایا جا تا ہے۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › Bab Al Aqiqah] · Hadith 6192

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ] · حديث 6194

6194 - وَعَنْ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «كُلُّ مَوْلُودٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ہر نیا پیدا ہونے والا بچہ ‘اپنے عقیقہ کے عوض میں رہن رکھا گیا ہوتا ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نےمعجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حیان ہے اور وہ ضعیف ہے۔

النَّبِيِّ ← بُرَيْدَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › Bab Al Aqiqah] · Hadith 6194

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ باب · حديث 6200

6200 - وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ وَخَتَنَهُمَا لِسَبْعَةِ أَيَّامٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارِ الْخِتَانِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ لِينٌ.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا عقیقہ کروایا تھااور ساتویں دن ان کے عقیقے کروائے تھے۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے‘ جس میں صرف ختنہ کرنے کا ذکر ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوسری ہے ‘جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قراردیا ہے اور اس میں کمزوری پائی جاتی ہے۔

جَابِرٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › Chapter · Hadith 6200

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ [بَابُ زَمَنِ الْعَقِيقَةِ] · حديث 6202

6202 - عَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «الْعَقِيقَةُ [تُذْبَحُ] لِسَبْعٍ، أَوْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِكَثْرَةِ غَلَطِهِ وَوَهْمِهِ.

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:’’عقیقہ( کا جانور ) ساتویں دن ذبح کیا جائے یا چودھو یں دن کیا جائے یا اکیسویں دن کیا جائے گا‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اورمعجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ اپنی غلطیوں اور وہم کی کثرت کی وجہ سے ضعیف ہے۔

بُرَيْدَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › [Chapter of the time of Aqiqah] · Hadith 6202

chevron_left Previous
1…697071…291
Next chevron_right