حضرت ہشام ، حضرت حسن اور حضرت محمد کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ یہ دونوں حضرات اس بات کو نا پسند کرتے تھے کہ بچہ کے سر کو عقیقہ کے خون سے آلودہ کیا جائے اور حضرت حسن کا ارشاد ہے۔ خون ناپاک شئے ہے۔
حضرت سعید سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت قتادہ سے سوال کیا گیا کہ عقیقہ کو کیسے ذبح کیا جائے گا۔ انہوں نے جواب دیا ۔ آدمی عقیقہ کو قبلہ رخ کرے پھر اس کے حلق پر چھری چلائے، پھر کہے ۔ اے اللہ ! تیری جانب سے ہی ملی ہے اور تیرے لیے ہی ذبح ہو رہی ہے۔ فلاں کا عقیقہ ہے۔ بسم اللہ واللہ اکبر پھر اس کو ذبح کردے۔
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : کہ جب کھانا رکھ دیا جائے تو تم ( ایک مرتبہ ) بسم اللہ پڑھ دو تو پھر جو کچھ لایا جائے تم اس کو کھا لو اور تمہارے لیے وہی پہلی بسم اللہ کفایت کر جائے گی۔
حضرت خالد الا حد ب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بچوں کی نماز جنازہ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس کا کوئی گناہ نہیں اس کی نماز جنازہ پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 6- Book of Funerals › 111 - Those who say in the fall of those who say peace be upon him. · Hadith 11716
مصنف ابن أبي شيبة · 6- كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ 115- فِي الْمَيِّتِ مَا يَتْبَعُهُ مِنْ صَلاَةِ النَّاسِ عَلَيْهِ. · حديث 11744
11744- حدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ أَبِي بَكَّارٍ ، قَالَ : صَلَّيْت مَعَ أَبِي الْمَلِيحِ عَلَى جِنَازَةٍ ، فَقَالَ : سَوُّوا صُفُوفَكُمْ وَلْتَحْسُنْ شَفَاعَتُكُمْ وَلَوْ خُيِّرْت رَجُلاً لاَخْتَرْتُهُ ، حدَّثَنَي عَبْدُ اللهِ بْنُ بن السليل ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم , مَيْمُونَة , وَكان أَخاهَا مِن الرّضَاعَة أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، قَالَ : مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ إِلاَّ شُفِّعُوا فِيهِ. قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ : وَالأُمَّةُ مَا بَيْنَ الأَرْبَعِينَ إلَى الْمِئَةِ.
حضرت ابی بکار رحمتہ اللہ علیہ فرماتےہیں کہ میں نے حضرت ابو ملیح رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی ،آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا صفیں درست کولو اور اس کے لیئے تم خوب اچھے طریقے سے شفاعت (دعائے مغفرت )کرو۔اگر مجھے کسی شخص کا اختیار دیا جاتا تو میں اس کو اختیار کرتا ۔مجھ سے حضرت عبداللہ بن السلیل رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ حضرت میمونہ رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے جوان کےرضاعی بھائی تھےحضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :نہیں ہے کوئی مسلمان جس کی نماز جنازہ ایک جماعت ادا کرے مگر اس کی شفاعت کردی جاتی ہے ۔حضرت ابو الملیح رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جماعت سے مراد چالیس سے سو تک لوگ ہیں۔
حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہوں ، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے ، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی! تو نکلی؟ تجھے طلاق ہے ۔ تو اس صورت میں دونوں کو طلاق ہو جائے گی ، جس کا نام لیا اسے اس کے نام کی وجہ سے اور دوسری کو یہ کہنے کی وجہ سے کہ تجھے طلاق ہے ۔
إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← هُشَيْمٌ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 10 - The Book of Divorce › 50 - In a man he will have two women, and one of them will be exited, so the one who has not finished will come out, so he said: "So and so?" you are divorced. · Hadith 18352
مصنف ابن أبي شيبة · 8- كتاب المناسك ‹ 387- في المرأة تَخْرُجُ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ. · حديث 15410
حضرت عمر بن عبد العز یزؒکے سامنے ذکر کیا گیا کہ عورت نے اپنے غلام کے ساتھ سفر کیا ، تو آپ ؒ نے اس کو ناپسندفر مایا ، آپ کو بتایا گیا کہ وہ اس عورت کا رضاعی بھائی ہے ،تو آپؒ نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔
لَيْثٌ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 8- The Book of Rites › 387- In a woman, she comes out with a female mahram. · Hadith 15410
مصنف ابن أبي شيبة · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 106- مَنْ قَالَ إذا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ. · حديث 934
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ساتھ جماع کے ارادے سے بیٹھے اور دونوں کی شرمگا ہیں مل جائیں تو غسل واجب ہو جا تا ہے ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 1- Purity Book › 106- Whoever says if he meets the two circumcision, then it is obligatory to do ghusl. · Hadith 934
مصنف ابن أبي شيبة · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 106- مَنْ قَالَ إذا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ. · حديث 935
935- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْيدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : إذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، فَقَدْ كَانَ ذَلِكَ يَكُونُ مِنِّي وَمِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَغْتَسِلُ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ جب شرمگا ہیں مل جائیں تو غسل واجب ہو جا تا ہے ۔ اگر میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہوتا تو ہم غسل کیا کرتے تھے ۔
حضرت رفاعہ بن رافع رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے کہ ایک شخص وہاں آیا۔ کسی آدمی نے کہا اے امیر المؤمنین ! یہ زید بن ثابت ہیں جولوگوں کوغسل جنابت کے بارے میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا انہیں میرے پاس لاؤ۔ وہ آئے تو حضرت عمر نے ان سے کہا اے اپنی جان کے دشمن! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگوں کواپنی رائے سے فتویٰ دیتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا اے امیر المؤمنین ! خدا کی قسم میں نے ایسانہیں کیا بلکہ میں نے اپنے ان محترم حضرات سے کچھ احادیث سنیں اور انہیں آگے بیان کر دیا: حضرت ابو ایوب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت رفاعہ بن رافع کی طرف متوجہ ہوئے اوران سے فرمایا کہ کیا تم ایسا کیا کرتے تھے کہ تم میں کوئی شخص عورت سے بغیر انزال کے جماع کرنے کے بعد غسل نہیں کرتا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسا کرتے تھے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حرمت یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے کوئی نہی وارد نہیں ہوئی ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کواس بات کاعلم تھا۔ حضرت رفاعہ نے فرمایا میں یہ نہیں جانتا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انصار ومہا جر ین کو جمع فرمایا اور اس بارے میں ان سے مشورہ کیا سب لوگوں نے مشورہ دیا کہ اس میں غسل نہیں ہے۔ لیکن حضرت معاذ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب شرم گا ہیں مل جائیں تو غسل واجب ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم اصحاب بدر ہو کر اختلاف کر تے ہوتو بعد کے لوگ تم سے زیادہ اختلاف کر یں گے! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے امیر المؤمنین ! میرے خیال میں اس بارے میں از واج مطہرات سے زیادہ علم کسی کونہیں ہو سکتا۔ اس بارے میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ سے پو چھا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ، جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے پو چھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب شرم گا ہیں مل جائیں تو غسل واجب ہو گیا ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں نے کسی آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ شرم گاہوں کے ملنے کے باوجودغسل سے اجتناب کرتا ہے تو میں اسے تکلیف دہ سزادوں گا ۔