Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

تربية الأبناء

Children & Parenting

5818 hadiths

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ مَنْ قَذَفَ ابْنَ الْمُلَاعِنَةِ، وَالِرَجُلُ يَتَزَوَّجُ أُخْتَهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ · حديث 12469

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمَّا مَاتَتْ أُعْلِمَ أَنَّهَا أُخْتُهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ قَالَ: «يُغَرَّمُ الصَّدَاقَ وَلَا يَرِثُهَا». وَقَالَ قَتَادَةُ: «يَرِثُهَا»

12469 - زہری نے ایسے شخص کے بارے میں بیان کیا ہے: جو کسی عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے جب اُس عورت کا انتقال ہو جاتا ہے تو اُس مرد کو پتا چلتا ہے کہ وہ اُس عورت کی رضاعی بہن تھی تو زہری فرماتے ہیں: وہ مہر جرمانے کے طور پر وصول ہو جائے گا اور وہ مرد اُس کا وارث نہیں بنے گا ۔ قتادہ بیان کرتےہیں: وہ مرد ا ُس عورت کا وارث بنے گا ۔

«يُغَرَّمُ الصَّدَاقَ وَلَا يَرِثُهَا». وَقَالَ قَتَادَةُ: «يَرِثُهَا» ← الزُّهْرِيِّ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمَّا مَاتَتْ أُعْلِمَ أَنَّهَا أُخْتُهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Door Who throws Ibn al-Mala’anah, and a man marries his sister through breastfeeding · Hadith 12469

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ الرَّجُلُ يَنْكَحُ أَمَتَهُ كَانَ لَا يَمَسُّهَا · حديث 12917

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ، رَجُلٌ أَنْكَحَ أُخْتَهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَامْرَأَةٌ أَنْكَحَتْ أَمَتَهَا؟ قَالَ: «تَعْتَدُّ»، قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: «كَانَتَا أَمَتَيْنِ»

ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: ایک شخص اپنی رضاعی بہن کا نکاح کروا دیتا ہے اور ایک عورت اپنی کنیز کا نکاح کروا دیتی ہے تو عطا ء نے فرمایا: وہ عدت بسر کرے گی میں نے دریافت کیا: کس بنیاد پر؟ اُنہوں نے جواب دیا: کیونکہ وہ دونوں کنیزیں ہیں۔

«كَانَتَا أَمَتَيْنِ» ← «تَعْتَدُّ»، قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ؟ ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ، رَجُلٌ أَنْكَحَ أُخْتَهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَامْرَأَةٌ أَنْكَحَتْ أَمَتَهَا؟ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › The door of a man getting married to his slave, he would not touch her · Hadith 12917

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ «هَلْ يَكُونُ النِّكَاحُ الْفَاسِدُ إِحْصَانًا» · حديث 13305

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ بِامْرَأَةٍ، ثُمَّ دَخَلَ بِهَا فَإِذَا هِيَ أُخْتُهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ قَالَ: «لَيْسَ بِإِحْصَانٍ». وَقَالَهُ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ

ابن جریح نے عطا ء کے حوالے سے ایسے شخص کے بارے میں نقل کیا ہے جو کسی عورت کے ساتھ شادی کر لیتا ہے پھر اس کی رخصتی کروا لیتا ہے تو بعد میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ عورت اس کی رضا عی بہن ہے تو عطا ء فرماتے ہیں: یہ چیز احصان شمار نہیں ہو گی ۔ معمر نے یہی بات قتادہ کے حوالے سے بھی نقل کی ہے ۔

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter: “Should a corrupt marriage be charity” · Hadith 13305

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ رَضَاعِ الْكَبِيرِ · حديث 13886

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَكَانَ بَدْرِيًّا، وَكَانَ قَدْ تَبَنَّى سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:460] زَيْدًا، وَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا , وَهُوَ يَرَى أِنَّهُ ابْنُهُ , ابْنَةَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَهِيَ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَى قُرَيْشٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَلِكَ مَا أَنْزَلَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ} [الأحزاب: 5] الْآيَةَ. رَدَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ أُولَئِكَ إِلَى أَبِيهِ، فَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ أَبُوهُ رَدَّ إِلَى مَوَالِيهِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا نَرَى أَنَّ سَالِمًا وُلِدَ، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ، وَأَنَا فَضْلٌ، وَلَيْسَ لَنَا إِلَّا بَيْتٌ وَاحِدٌ فِمَاذَا تَرَى؟ - قَالَ الزُّهْرِي: فَقَالَ لَهَا فِيمَا بَلَغَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ -: «أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، فَتَحْرُمُ بِلَبَنِهَا»، وَكَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَأَخَذَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ، فِيمَنْ كَانَتْ تُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ، فَكَانَتْ تَأْمُرُ أُمَّ كُلْثُومٍ ابْنَةَ أَبِي بَكْرٍ، وَبَنَاتَ أَخِيهَا يُرْضِعْنَ لَهَا مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ، وَأَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ قُلْنَ: وَاللَّهِ مَا نَرَى الَّذِي أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ سَهْلَةَ إِلَّا رُخْصَةً فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ "

13886 – سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں: حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کو غزوہ بدر میں شرک کا شرف حاصل ہے انہوں نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا جسے سالم مولیٰ ابو حذیفہ کہا جاتا ہے یہ بالکل اسی طرح تھا جس طرح نبی اکرمﷺ نےحجرت زید کو منہ بولا بیٹا ہے انہوں نے اس کی شادی اپنی بھتیجی فاطمہ بنت ولید بن عتبہ سے کروائی تھی جو ابتدا ء میں ہجرت کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں اور اس وقت قریش ست تعلق رکھنے والی معزز ترین بیوہ خاتون تھیں جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا : تم ان بچوں کو اُن کے حقیقی باپوں کے حوالے سے بلاؤ۔

عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter of elder feeding · Hadith 13886

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ رَضَاعِ الْكَبِيرِ · حديث 13887

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ [ص:461]: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ تَبَنَّى سَالِمًا وَهُوَ مَوْلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ ابْنَهُ، وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ} [الأحزاب: 5] فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، وَمَنْ لَمْ يُعْرَفْ لَهُ أَبٌ، فَمَوْلًى وَأَخٌ فِي الدِّينِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا يَأْوِي مَعِي، وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَيَرَانِي فَضْلًا، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ مَا عَلِمْتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ»، وَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ

13887 - ابن شہاب بیان کرتے ہیں: عروہ نے سیدہ عائشہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : حضرت ابو حذیفہ نے سالم کو اپنا منہ بولابیٹا بنا لیا تھا جو ایک انصاری خاتون کا غلام تھا یہ بالکل اسی طرح تھا جیسے نبی اکرمﷺ نے حضرت زید کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا زمانہ جاہلیت میں جب کوئی شخص کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیتا تھا تو اس لڑکے کو اس آدمی کے بیٹے کے طور پر ہی بلایا جاتا تھا اور وہ لڑکا اس شخص کا وارث بنتا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی : تم ان بچوں کو اُن کے حقیقی باپوں کے حوالے سے بلاﷺ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انصاف کے زیادہ مطابق ہے ۔ اور اگر تمہیں ان کے حقیقی باہوں کے بارے میں علم نہ ہو تو تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔

عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← [ص:149] ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter of elder feeding · Hadith 13887

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ: لَا رَضَاعَ بَعْدَ الْفِطَامِ · حديث 13905

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «لَا رَضَاعَ إِلَّا لِمَنْ أُرْضِعَ فِي الصِّغَرِ، وَلَا رَضَاعَةَ لِكَبِيرٍ»

13905 - نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر کا یہ قول نقل کیا ہے : ر ضاعت صرف وہ معتبر ہوتی ہے جو کم سنی میں دودھ پلایا گیا ہو بڑی عمر کے بچے کو دودھ پلانے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۔

«لَا رَضَاعَ إِلَّا لِمَنْ أُرْضِعَ فِي الصِّغَرِ، وَلَا رَضَاعَةَ لِكَبِيرٍ» ← ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Section: no breastfeeding after weaning · Hadith 13905

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الْقَلِيلِ مِنَ الرَّضَاعِ · حديث 13911

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: «يُحَرِّمُ مِنْهَا مَا قَلَّ وَمَا كَثُرَ» قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرُ: لَمَّا بَلَغَهُ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ يَأْثِرُ عَنْ عَائِشَةَ فِي الرَّضَاعِ أَنَّهُ قَالَ: «لَا يُحَرِّمُ مِنْهَا دُونَ سَبْعِ رَضَعَاتٍ» قَالَ: " اللَّهُ خَيْرٌ مِنْ عَائِشَةَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ} [النساء: 23] وَلَمْ يَقُلْ رَضْعَةً وَلَا رَضْعَتَيْنِ "

13911 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: عطا ء فرماتے ہیں: رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت ہوتی ہے خواہ وہ کم ہو یا زیادہ ہو ۔ ابن عمر نامی راوی بیان کرتے ہیں: جب ان تک یہ روایت پہنچی کہ ابن زبیر کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : انہوں نے سیدہ عائشہ کے حوالے سے رضاعت کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے : ساتھ مرتبہ دودھ پلانے کے ذریعے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو انہوں نے یہ فرمایا : اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہ سے زیادہ بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ؛ اور تمہارا رضاعی بھائی ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک یا دو مرتبہ کی رضاعت کا ذکر نہیں کیا۔

اللَّهُ تَعَالَى {وَأَخَوَاتِكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ} [النساء: وَلَمْ يَقُلْ: رَضْعَةً وَلَا رَضْعَتَيْنِ ← اللَّهُ خَيْرٌ مِنْ عَائِشَةَ ← «لَا يُحَرِّمُ مِنْهَا دُونَ سَبْعِ رَضَعَاتٍ» ← عَائِشَةَ فِي الرَّضَاعِ أَنَّهُ ← ابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ يَأْثُرُ ← وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَمَّا بَلَغَهُ ← عَطَاءٌ: «يُحَرِّمُ مِنْهَا مَا قَلَّ وَمَا كَثُرَ» ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter on a little breastfeeding · Hadith 13911

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الْقَلِيلِ مِنَ الرَّضَاعِ · حديث 13917

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: «تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ الْمَرَّةُ الْوَاحِدَةُ»

13917 - عبدالکریم ابو امیہ نے طاؤس کا یہ قول نقل کیا ہے : ایک مرتبہ کی رضاعت بھی حرمت کو ثابت کر دیتی ہے ۔

«تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ الْمَرَّةُ الْوَاحِدَةُ» ← طَاوْسٍ ← عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ ← الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter on a little breastfeeding · Hadith 13917

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الْقَلِيلِ مِنَ الرَّضَاعِ · حديث 13919

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ سَأَلَهُ رَجُلٌ، أَتُحَرِّمُ رَضْعَةٌ أَوْ رَضْعَتَانِ؟ فَقَالَ: «مَا نَعْلَمُ الْأُخْتَ مِنَ الرَّضَاعَةِ إِلَّا حَرَامًا»، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يُرِيدُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَا تُحَرِّمُ رَضْعَةٌ، وَلَا رَضْعَتَانِ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «قَضَاءُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ قَضَائِكَ وَقَضَاءِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ». عَبْدُ الرَّزَّاقِ، [ص:468]

13919 - عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو سنا ایک شخص نے ان سے سوال کیا : کیا ایک یا دو رضاعتیں حرمت کو ثابت کر دیتی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہمیں اس بات کا علم ہے کہ رضاعی بہن حرام ہوتی ہے ایک شخص نے کہا: امیر المومنین! اس بات کے قائل ہیں اس شخص کی مراد حضرت عبداللہ بن زبیر تھے کہ ایک یا دو رضاعتیں حرمت کو ثابت نہیں کرتی ہیں تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تمہارے فیصلے سے اور امیر المؤمنین کے فیصلے سے بہتر ہے ۔

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter on a little breastfeeding · Hadith 13919

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الْقَلِيلِ مِنَ الرَّضَاعِ · حديث 13925

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قََالََ: «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَلَا الْمَصَّتَانِ»

13925 - عروہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : انہوں نے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : رضاعت کی ایک چسکی حرمت کو ثابت نہیں کرتی ہے اور نہ ہی دو چسکیاں ثابت کر تی ہیں۔

لا تحرم المصة من الرضاعة ولا المصتان ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ حَدَّثَ، ← عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter on a little breastfeeding · Hadith 13925

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الْقَلِيلِ مِنَ الرَّضَاعِ · حديث 13930

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ: أُخْبِرْتُ، أَنَّ عُمَرَ أُتِيَ بِغُلَامٍ، وَجَارِيَةٍ أَرَادُوا أَنْ يَتَنَاكَحُوا بَيْنَهُمَا، فَأُعْلِمُوا أَنْ قَدْ أَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا قَالَ: فَكَيْفَ أَرْضَعَتِ الْأُخْرَى؟ قَالَ: مَرَّتْ بِهِ وَهُوَ يَبْكِي فَأَرْضَعَتْهُ، - أَوْ أَمَصْصَتْهُ -. فَعَلَاهُمَا بِالدِّرَةِ، ثُمَّ قَالَ: «نَاكِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ الْحَضَانَةُ»

13930 - ابن عجلان بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی ہے : ایک مرتبہ حضرت عمر کے پاس ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو لایا گیا لوگوں کا یہ ارادہ تھا کہ وہ دونوں کی شادی کروا دیں لیکن پھر لوگوں کو یہ بات بتائی گئی کہ ان میں لڑکی نے دوسرے لڑکے کو دودھ پلایا ہوا ہے حجرت عمر نے درافت کیا تو اس شخص نے بتایا : یہ لڑکی اس آدمی کے پاس سے گزری یہ لرکا اُس وقت رو رہا تھا تو اس لرکی نے اس لرکے کو دودھ پلا دیا تو حضرت عمر نے اپنا درہ اٹھایا اور بولے : ان کے درمیان شادی کروادو رضاعت کمسنی میں ثابت ہو تی ہے ۔

ابْنِ عَجْلَانَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter on a little breastfeeding · Hadith 13930

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ لَبَنِ الْفَحْلِ · حديث 13933

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " لَبَنُ الْفَحْلِ أَيُحَرِّمُ؟ قَالَ: " نَعَمْ. قَالَ اللَّهُ: {وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ} [النساء: 23] فَهِيَ أُخْتُكَ مِنْ أَبِيكَ

13933 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: کیا لبن الفحل حرمت کو ثابت کر دیتا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ! اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : اور تمہاری رضاعی بہنیں وہ تمہارے بہن تمہارے باپ کے حوالے سے ہو گی ۔

اللَّهُ: {وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ} [النساء: فَهِيَ أُخْتُكَ مِنْ أَبِيكَ ← نَعَمْ ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: لَبَنُ الْفَحْلِ أَيُحَرِّمُ؟ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Bab al-Fahal · Hadith 13933

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ لَبَنِ الْفَحْلِ · حديث 13939

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: اسْتأذَنَ عَلَيَّ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَبُو الْجَعْدِ فَرَدَدْتُهُ. - قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ لِي هِشَامٌ: إِنَّمَا هُوَ أَبُو الْقَعِيسِ - فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ بِذَلِكَ. قَالَ: " فَهَلَّا أَذِنْتِي لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ - أَوْ قَالَ: يَدُكِ - "

13939 - عروہ بن زبیر بیان کرتےہیں: سیدہ عائشہ نے انہیں یہ بتایا : ایک مرتبہ میرے رضاعی چچا اور ابو الجعد نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی ۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں: ہشام نامی راوی نے مجھے یہ بات بتائی نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نے اسے اجازت کیوں نہیں دی تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔

يَدُكِ ← فَهَلَّا أَذِنْتِي لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ أَوْ ← لِي هِشَامٌ: إِنَّمَا هُوَ أَبُو الْقَعِيسِ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ أَخْبَرَتْهُ بِذَلِكَ. ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي مِنْ الرَّضَاعَةِ أَبُو الْجَعْدِ فَرَدَدْتُهُ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Bab al-Fahal · Hadith 13939

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ لَبَنِ الْفَحْلِ · حديث 13940

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامٌ، عَنِ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيَّ الْحِجَابُ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا آذَنُ لَكَ حَتَّى يَأْتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَأْذِنَهُ. قَالَ لَهَا: «فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ عَمُّكِ» قَالَتْ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَ: «إِنَّمَا هُوَ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ». عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

13940 - ہشام نے اپنے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد میرے رضاعی چچا میرے ہاں آئے اور انہوں نے میرے گھر کے اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو اس وقت تک اجازت نہیں دوں گی جب تک نبی اکرمﷺ تشریف نہیں لے آتے اور میں نبی اکرمﷺ سے اجازت نہیں لے لیتی نبی اکرمﷺ نے سیدہ عائشہ سے فرمایا: تمہارے چچا تمہارے ہاں آسکتے ہیں سیدہ عائشہ نے عرض کی : مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مجھے مرد نے دودھ نہیں پلایا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ تمہارے چچا ہے اور وہ تمہارے ہاں آسکتا ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Bab al-Fahal · Hadith 13940

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ · حديث 13946

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَحْسَنِ فَتَاةٍ مِنْ قُرَيْشٍ؟ قَالَ: «مَنْ هِيَ؟» قُلْتُ: ابْنَةُ حَمْزَةَ. قَالَ: «إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ»

سعید بن مسیب حضرت علی کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی : کیا میں آپ کو قریش کی سب سے زیادہ خوبصورت دو شیزہ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: وہ کون ہے ؟ میں نے عرض ک : حضرت حمزہ کی صاحبزادی نبی اکرمﷺ نے ارشا فرمایا: وہ میری رضاعی بھتیجی ہے کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے رضاعت کے ذریعے وہی حرمت ثابت کی ہے جو نسب کے ذریعے حرمت ثابت ہو تی ہے ۔

«مَنْ هِيَ؟» قُلْتُ: ابْنَةُ حَمْزَةَ. ← قُلْتُ لِلنَّبِيِّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَحْسَنِ فَتَاةٍ مِنْ قُرَيْشٍ؟ ← عَلِيٍّ، ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter: children who are breastfeeding are deprived of parentage · Hadith 13946

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ · حديث 13947

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَمَعْمَرٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي ابْنَةِ أَبِي سُفْيَانَ؟ قَالَ: «أفْعَلُ مَاذَا؟» قُلْتُ: تَنْكِحُهَا. قَالَ: «أُخْتُكِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: «أَوَ تُحِبِّينَ ذَلِكَ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأُحِبُّ - أَوْ قَالَتْ: وَأَحَقُّ - مِنْ شِرْكَتِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي. قَالَ: «فَإنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي». قَالَتْ: وَاللَّهِ، لَقَدْ خُبِّرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ. قَالَ: «بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ؟» قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: «فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضُنَّ عَلَيَّ بَنَاتَكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ»

13947 - عروہ نے سیدہ زینب بنت ابو سلمہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : سیدہ اُم حبیبہ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف لائے میں نے عرض کی : کیا آپ میری بہن اور ابو سفیان کی صاحبزادی میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: میں کی کروں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہیں یہ بات پسند ہے ؟ سیدہ اُم حبیبہ نے عرض کی : جی ہاں! کیونکہ میں آپ کی اکیلی بیوی نہیں ہوں تو میں یہ چاہتی ہوں کہ اس بارے میں جو بھلائی ہے اس میں میری بہن بھی میری حصہ دار بن جائے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ میرے لئے حلال نہیں ہے ۔

نَعَمْ ← «بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ؟» ← والله لقد خبرت أنك تخطب درة بنت أبي سلمة ← فإنها لا تحل لي ← وَأَحَقُّ مِنْ شِرْكَتِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي. ← نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأُحِبُّ أَوْ ← أو تحبين ذلك ← نَعَمْ ← أختك ← «أفْعَلُ مَاذَا؟» قُلْتُ: تَنْكِحُهَا. ← دخل علي رسول الله فقلت هل لك في أختي ابنة أبي سفيان ← أُمِّ حَبِيبَةَ، ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، وَمَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter: children who are breastfeeding are deprived of parentage · Hadith 13947

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ · حديث 13948

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: عُرِضَتِ ابْنَةُ حَمْزَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ»

13948 - عکرمہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے سامنے حضرت حمزہ کی صاحبزادی کا رشتہ پیش کی اگیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ۔

عُرِضَتِ ابْنَةُ حَمْزَةَ عَلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: «إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ» ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter: children who are breastfeeding are deprived of parentage · Hadith 13948

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ · حديث 13949

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ»

13949 – ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو حرمت ولادت سے ثابت ہوتی ہے ۔

يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter: children who are breastfeeding are deprived of parentage · Hadith 13949

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ · حديث 13950

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أِنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ»

13950 - ابن جریح نے عطا ء کا یہ قول نقل کیا ہے : رضاعت سے وہی حمرت ثابت ہوتی ہے جو حرمت نسب سے ثابت ہوتی ہے ۔

يَحْرُمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ. ← عَطَاءٍ أَنَّهُ كَانَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter: children who are breastfeeding are deprived of parentage · Hadith 13950

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ · حديث 13951

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ إِسْرَائِيلَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ»

13951 - عکرمہ نے حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے : رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو حرمت نسب سے ثابت ہوتی ہے ۔

يَحْرُمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter: children who are breastfeeding are deprived of parentage · Hadith 13951

chevron_left Previous
1…242526…291
Next chevron_right