10522 - معمر بیان کرتے ہیں: میں نے حماد سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا: جو ایک عورت سے شاد ی کرتا ہے وہ ابھی اُس کی رخصتی نہیں کرواتا کہ کسی اور جگہ چلا جاتا ہے وہاں وہ ایک اور عورت سے شادی کر لیتا ہے اور اُس کی رخصتی کروا لیتا ہے تو وہ عورت اُس کی پہلی بیوی کی رضائی بہن ہوتی ہے تو حماد نے کہا: اُس مرد اور اُن دونوں عورتوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی دوسری عورت کے ساتھ اُس نے جو وظیفہ زوجیت ادا کیا اُس کی وجہ سے دوسری عورت کو مہر ملے گا جب اُس عورت کی عدت گزر جائے گی جس کی اُس نے رخصتی کروائی تھی تو پھر اگر وہ عورت چاہے تو اُس کے ساتھ شادی کر سکتی ہے۔
10527 - قتادہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں: جو اپنی رضائی بہن کے ساتھ لاعلمی میں شادی کر لیتا ہے اور پھر اُس عورت کا انتقال ہو جاتا ہے تو قتادہ فرما تے ہیں: وہ مرد اُس عورت کا وارث بنے گا ۔
10531 - ابن جریح نے طاؤس کے صاحبزادے کے حوالے سے اُن کے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : جب مرد اور عورت کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے جس کا اُن دونوں نے ارادہ نہ کیا ہو یا ایک شخص اپنی رضائی بہن کے ساتھ شادی کر لیتا ہے اُسے اس کا پتا نہیں ہوتا وہ اُس عورت کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے تو طاؤس فرماتے ہیں: اُس خاتون کو مکمل مہر نہیں ملے گا اُسے نصف مہر ملے گا ۔
10709 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ صنعا ء سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے ساتھ ایک شخص نے شادی کی ابھی اُس نے اُس عور ت کے ساتھ صحبت نہیں کی تھی کہ مرد کو جذام ہوگیا اُس عورت نے مرد کو پیغام بھیجا کہ تم مجھ سے علیحدگی اختیار کر لو اور اپنا مہر واپس لے لو۔ مرد نے یہ بات تسلیم نہیں کی تو محمد بن یوسف نے اس بارے میں عبدالملک کو خط لکھا تو عبدالملک نے جوابی خط میں لکھا کہ تم اُن دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دو اُس مرد کا نام عوسجہ بن انس بن داؤد تھا اور عورت کا نام اُم عمرو بنت بر سا بن سعد تھا ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Marriage Book › Chapter of what is returned from marriage · Hadith 10709
10752 - ابن جریح بیان کرتے ہیں : عطا ء نے یہ بات بیان کی ہے کہ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ عورت اُس کی رضاعی خالہ یا رضا عی پھوپی کو نکاح میں جماح کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ابن جریح نے دریافت کیا: کیا اُن دونوں وک اکٹھا کیا جا سکتا ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! یہ بھی ولادت کی مانند ہے ۔
10761- ابن جریح نے عطا ء کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ میں نے اُن سے دریافت کیا : کیا کوئی شخص کسی عورت اور اُس کی رضاعی پھوپی کو نکاح میں جمع کر سکتا ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں ! یہ ولادت کی مانند ہے ۔
10762 –قتادہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: میں تمہاری رضاعی پھوپی کو اور تمہاری رضاعی خالہ کو اور تمہاری رضاعی خالہ کو بھی مکروہ قرار دوں گا ۔
10805 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: ایک شخص ایک عورت کے ساتھ نکاح کرتا ہے اُس نے اُس عورت کو دیکھا بھی نہیں اور پھر اُس عورت کو طلاق دے دی تو کیا وہ اُس شخص کے بیٹے کے لیے حلال ہو گی ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! قرآن میں اُس عورت کا ذکر مطلق طور پر کیا گیا ہے ۔ میں نے دریافت کیا ماسوائے اُس کے جو پہلے گزر چکا ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: اس سے مراد وہ بیٹے ہیں جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں اپنے باپ دادا کی بیویوں سے نکاح کیا تھا ۔
10809 – قتادہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے بارہ قسم کی عورتوں کو حرام قرار دیا ہے اور میں بارہ قسم کی عورتوں کو مکروہ قرار دیتا ہوں : کنیز اور اُس کی بہن کو یعنی تمہارا دو بہنوں کو جمع کرنا ایسی کنیز جس کے ساتھ تمہارے باپ نے صحبت کی ہوئی ہو ایسی کنیز جس کے ساتھ تمہارے بیٹے نے صحبت کی ہوئی ہو ایسی کنیز جسے مد برکر دیا گیا ہو ایسی کنیز جو کسی اور کی عدت گزر رہی ہو ایسی کنیز جس کا شوہر موجود ہو اور تمہاری ایسی کنیز جو مشرک ہو اور تمہاری رضاعی پھوپی اور رضاعی خالہ ۔
16866 - زہری فرماتے ہیں: جب آدمی اپنے رضاعی بھائی کا مالک بن جائے تو وہ آزاد شمار نہیں ہو گا زہری فرماتے ہیں: تاہم یہ طریقہ جاری ہے کہ رضاعی بھائی کو فروخت نہیں کیا جا سکتا ۔
16869 - ثوری بیان کرتے ہیں: رضاعی ماں کو فروخت کرنا قضا ء کے اعتبار سے جائز ہے تاہم آدمی کے لئے یہ بات مکروہ ہے اسی طر ح رضاعی بھائی سے اس کا بھائی خدمت لیتا رہے گا اور اس کو پابند رکھے گا۔
الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Handbook › The door of the neck, in which the emancipation is required, and the one who owns a mercy · Hadith 16869
عطا ء بیان کرتے ہیں: جو شخص کسی محرم رشتہ دار عورت کا نام لے کر ظہار کرے یا اپنی رضا عی بہن کی طرف منسوب کر کے ظہار کرے جبکہ وہ رشتہ دار عورت اُس کے لیے ماں کی طرح تو اُس آدمی کی بیوی اُس کے لیے اُس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ آدمی کفارہ ادا نہیں کرتا ۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › The door of demonstrating with the same forbidden · Hadith 11480
9153 - عبداللہ بن عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ اور اُن کے بھائی عبدالرحمٰن کے درمیان کچھ ناراضگی ہو گئی تو عبدالرحمٰن نے یہ قسم اُٹھائی کہ وہ سیدہ عائشہ کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے سیدہ عائشہ کی یہ خواہش تھی ہ عبدالرحمٰن اُن کے ہاں آئیں تو سیدہ عائشہ کو بتایا گیا کہ وہ رات کے مخصوص حصہ میں خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں تو سیدہ عائشہ حطیم کے دروازہ کے پاس اُس کے انتظار میں بیٹھ گئے جب وہ سیدہ عائشہ کے پاس سے گزرے تو سیدہ عائشہ نے اُن کا کپڑا پکڑ لیا اور اُسے کھینچا یہاں تک کہ وہ حطیم میں داخل ہو گئیں پھر سیدہ عائشہ نے کہا: فلاں شخص تمہاری طرف سے آزاد ہے اُس ذات کی قسم جس کے گھر میں میں موجود ہوں ! پھر سیدہ عائشہ نے اُنہیں قسم دینا شروع کی اور اُن کے سامنے عذر پیش کیا ۔
9656 - عطا ء خراسانی بیان کرتے ہیں: تستر صلح کے ذریعہ وہاں کے رہنے والوں نے انکار کیا تو مہاجرین نے اُن کےساتھ جنگ کی اُنہیں قتل کیا اور اُنہیں پسپا کیا پھراُنہیں قیدی بھی بنا لیا مسلمانوں کو اُن کی عورتیں ملیں یہاں تک کہ اُن کی اولاد اُن عورتوں سے پیدا ہوئی ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اُن کی اولاد دیکھی ہے ان کا مخصوص حلیہ ہوتا تھا ۔ حضرت عمر بن خطاب نے یہ حکم دیا تھا کہ اُن میں سے جس کو بھی قیدی بنایا گیا ہے اُسے اُس کے جزیہ پر لوٹا دیا جائے ۔ حضرت عمر نے اُن کے سرداروں اور اُن لوگوں کے درمیان فرق کیا تھا ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Jihad › Chapter of the Joint The Muslim Comes Without a Covenant · Hadith 9656
12173 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: اور مائیں اپنی اولاد کو مکمل دو سال تک دودھ پلائیں۔ اس سے مراد کیا ہے ؟ تو عطا ء نے جواب دیا: اگر کوئی عورت دو سال سے کم عرصہ تک دودھ پلاتی ہے ت وبچہ کی ماں پر یہ بات لازم ہو گی کہ وہ اُس کی مدت تک اُسے پورا کروائے لیکن اس سے زیادہ نہیں کروا سکتی اگر وہ عورت چاہے گی تو ایسا کر سکے گی جبکہ وہ طلاق یافتہ یا بیوہ ہو ۔
12468 - معمر نے زہری کے حوالے سے ایسے شخص کے بارے میں نقل کیاہے جو اپنی رضاعی بہن کے ساتھ لا علمی میں شادی کر لیتا ہے یہاں تک کہ اُن کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے پھر وہ اُس پر زنا کا الزام لگاتا ہے پھر اُسے اس بات کا علم ہو تا ہے تو زہری نے فرمایا: اُن دونوں میاں بیوی کے درمیان لعان نہیں ہو گا اُن دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی مر کو کوڑت لگائے جائیںگے اور بچہ اُس کی طرف سے منسوب ہو گا۔
مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Door Who throws Ibn al-Mala’anah, and a man marries his sister through breastfeeding · Hadith 12468