19178 - عبداللہ بن ابو بکر بیان کرتے ہیں: حضرت عثمان غنی عجمیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو وارث قرار نہیں دیتے جبکہ وہ اسلام کے زمانے سے پہلے پیدا ہوئے ہوں ۔
19392 - کر دوس تغلبی بیان کرتے ہیں بنو تغلب سے تعلق رکھنےو الا ایک شخص حضرت عمر کے پاس آیا حضرت عمر نے اس سے فرمایا زمانہ جاہلیت میں تم لوگوں کا مخصوص حصہ ہوتا تھا تو تم اسلام میں سے بھی اپنا حصہ حاصل کر لو تو انہوں نے ان کے ساتھ اس شرط پر صلح کی کہ ان پر دگنا جزیہ عائد کیا جائے گا اور وہ لوگ اپنے بچوں کو عیسائی نہیں بنائیں گے ۔
Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Two Books › Bab: Are they left to become Judaized, to become Christians, or to purify themselves? · Hadith 19392
19393 - اصبغ بن نباتہ نے حضرت علی بن ابو طالب کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ ﷺ نے بنو تغلب سے تعلق رکھنے والے عیسائیوں کے ساتھ صلح کی تھی اس شرط کے ساتھ کہ وہ اپنے بچوں کو عیسائی نہیں بنائیں گے اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے ساتھ معاہدہ باقی نہیں رہے گا ۔
Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Two Books › Bab: Are they left to become Judaized, to become Christians, or to purify themselves? · Hadith 19393
اُم بنوکر زکعبیہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ اُنہوں نے نبی اکرمﷺ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے گی ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے دریافت کیا: لفظ مکافات سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: وہ دونوں ایک دوسرے کی مثل ہوں ویسے بکرے کے مقابلہ میں دنبہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اور مؤنث کے مقابلہ میں مذکر میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔
7954 - سیدہ اُم کرز بیان کرتی ہیں: اُنہوں نے نبی اکرمﷺ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے گی تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا خواہ وہ بکری ہو یا بکرہ ہو ۔
7958 - حضرت سلمان بن عامر ضبی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :لڑکے کا عقیقہ کیا جائے گا تم اُس کی طرف سے خون بہاؤ اور اُس سے گندگی دور کر دو۔
7961 - عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: میں عقوق کو پسند نہیں کرتا گویا نبی اکرمﷺ نے اس نام کو ناپسند کیا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! ہم آپ سے اس بارے میں دریافت کر رہے ہیں کہ جب کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو شخص پسند کرے تو وہ ایک بچہ کی طرف سے قربانی کر لے لڑکے کی طرف سے دو بکریاں قربان کی جائیں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک قربان کی جائے گی۔
7963 – سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے حضرت امام حسن کی طرف سے دو بکریاں قربان کی تھی اور حضرت امام حسین کی طرف سے دو بکریاں قربان کی تھی آپ نے ا ُن کی پیدائش کے ساتویں دن یہ قربانی کی تھیں آپ نے اُن دونوں پر مشق لگوائی تھی اور یہ ہدایت کی تھی کہ ان کے سر سے گندگی دو ر کر دی جائے ۔ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اس کا نام لے کر قربانی کرو اور تم لوگ یہ کہو: اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ! یہ تیرے لیے ہے اور تیری طرف جا رہی ہے یہ فلاں کا عقیقہ ہے ۔ راوی بیان کرتےے ہیں: زمانہ جاہلیت میں لوگ عقیقہ کے جانو ر کے خون کو روئی کو ڈبوتے تھے اور جب بچہ کا سر منڈتے تھے تو وہ روئی اُس کے سر پر رکھ دیتے تھے ۔
7964- نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر کے اہل خانہ میں سے جو بھی عقیقہ کی درخواست کرتا وہ اسے عطا ء کر دیا کرتے تھے اور وہ یہ فرماتے تھے : لڑکے کی طرف سے دو بکریاں قربان کی جائیں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک قربان کی جائے گی۔
7965 – مکحول نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: نومولود بچہ اپنے عقیقہ کے عوض میں رہن ہوتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے میں بھی مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ بھی یہ فرمایا کرتے تھے ۔
7966 - حسن بصری فرماتے ہیں: بچہ اپنے عقیقہ کے کے عوض رہن میں ہوتا ہے ۔ وہ یہ روایت نقل کرتے تے اور جب اُس کی طرف سے قربانی کر دی جائے گی تو اُس کی طرف سے عقیقہ ہو جائے گا ۔
ابن عیینہ بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : بچہ کی پیدائش کے ساتویں دن اُس کی طرف سے عقیقہ کیا جائے گا اگر لوگ اُسے نہیں کر پاتے تو یہ چیز میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے کہ وہ اگلے سات دن تک اسے مؤخر کر دیں تاہم میں نے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اہتمام کے ساتھ پیدائش کے ساتویں دن ہی عقیقہ کرتے ہیں اُنہوں نے بتایا کہ عقیقہ کے کھانے میں شری ہونے والے لوگ اُس کا گوشت کھائیں گے اور وہ گوشت تحفہ کے طور پر بھی دیا جائے گا ۔ میںنے اُن سے دریافت کیا : کیا یہ سنت ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: نبی اکرمﷺ نے اس بات کا حکم دیا ہے ۔ میں نے دریافت کیا : کیا میں اُسے صدقہ کر سکتا ہوں ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! اگر تم چاہو تو تم خود کھاؤ یا پھر اُسے تحفہ کے طور پر کسی کو دے دو ۔ اُن سے دریافت کیا گیا: کیا یہ دونوں ذبح شدہ ہوں گے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! یہ دونوں کھڑے ہوئے ہوں گے ۔
15919 – حضرت جابر کے دو صاحبزادوں عبداللہ اور محمد نے اپنے والد حضرت جابر بن عبداللہ کے حوالےسے بات نقل کی ہے : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : والد کے ساتھ اولاد کی قسم نہیں ہوتی شوہر کی قسم کے ساتھ بیوی کی قسم نہیں ہوتی مالک کی قسم کے ساتھ غلام کی قسم نہیں ہوتی قطع رحمی کے بارے میں قسم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی معصیت کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی نکاح ہونے سے پہلے چلاق نہیں دی جا سکتی مالک بننے سے پہلے غلام آزاد نہیں کیا جا سکتا دن بھر چپ رہنے کے روزے کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Faith and Vow › Chapter: Whoever vowed to descend into a certain place, and forbid the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, to make his grave a mosque or idol · Hadith 15919
10515 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے ایک ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو کسی عورت کے ساتھ نکاح کرتا ہے تو بعد میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ا س کی رضائی بہن ہے تو اس کے ذریعہ احصان ثابت ہو جائے گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! سائل نے دریافت کیا وہ اس طرح اُس عور ت کو پہلے شوہر کے لہے حلال کردے گا اگر وہ اُس کے ساتھ صحبت کر چکا ہو ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں!
قتادہ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص نا واقفیت کی بنیاد پر اپنی رضائی بہن کے ساتھ نکاح کر لیتا ہے تو اس کے ذیعہ احصان ثابت نہیں ہو گا جب تک وہ مرد کوئی ایسا نکاح نہیں کرتا جس میں کوئی شعبہ نہیں ہوتا ۔
قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Marriage Book › Chapter of Sister's Marriage through Breastfeeding and Other · Hadith 10518
10519 - معمر نے زہری اور قتادہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : اگر کوئی شخص نا واقفیت کی بنیاد پر اپنی رضائی بہن کے ساتھ نکاح کر لیتا ہے تو اس کے ذیعہ احصان ثابت نہیں ہو گا جب تک وہ مرد کوئی ایسا نکاح نہیں کرتا جس میں کوئی شعبہ نہیں ہوتا ۔
10520 - مغیرہ نے ابراہیم نخعی کا بیان ایسے شخص کے بارے میں نقل کیا ہے : جو کسی عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے اور بعد میں یہ پتا چلتا ہے کہ وہ اس کی رضائی بہن ہے تو ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: عورت کا اس کا مہر ملے گا کیونکہ مرد نے اُس کے ساتھ صحبت کی ہے ۔