Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

تربية الأبناء

Children & Parenting

5818 hadiths

مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ · حديث 936

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: كَانَ عُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَائِشَةُ، وَالْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ، يَقُولُونَ: إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ "

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں :حضرت عمر حضرت عثمان سیدہ عائشہ صدیقہ اور مہاجرین اولین یہ کہتے ہیں کہ جب شرمگاہ شرمگا ہ سے مل جائے گی تو غسل واجب ہو جائے گا۔

ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter on what is required to be washed · Hadith 936

مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ · حديث 938

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَمَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالُوا: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. قَالَ مَسْرُوقٌ: «فَكَانَتْ عَائِشَةُ أَعْلَمَهُنَّ بِذَلِكَ»

حضرت علی حضرت عبداللہ بن مسعود اور سیدہ عائشہ سے یہ بات منقول ہے یہ فرماتے ہیں: جب شرمگاہ شرمگاہ کے اندر داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ مسروق بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ اس بارے میں اُن سے زیادہ علم رکھتی تھی ۔

مَسْرُوقٌ: «فَكَانَتْ عَائِشَةُ أَعْلَمَهُنَّ بِذَلِكَ» ← اِذَا جَاوَزَ الختان الختان وجب الغسل۔4:32 ← عَائِشَةَ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، وَمَسْرُوقٍ، ← عَلِيٍّ، وَعَلْقَمَةَ ← الْحَارِثِ ← الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٍ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter on what is required to be washed · Hadith 938

مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ · حديث 939

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَلَسَ بَيْنَ الشُّعَبِ الْأَرْبَعِ، ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ»

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جب مرد عورت چار جوڑوں کے درمیان بیٹھ جا ئے اور شرمگاہ کو شرمگاہ سے ملا دے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔

عَائِشَةَ ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter on what is required to be washed · Hadith 939

مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ · حديث 941

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ فَقَالَتْ: «أَتَدْرِي مَا مِثْلُكَ يَا أَبَا سَلَمَةَ؟ مِثْلُ الْفَرُّوجِ يَسْمَعُ الدِّيكَ يَصِيحُ فَصَاحَ، إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ»

ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ سے دریافت کیا : کون سی چیز غسل کو واجب کرتی ہے ؟ تو اُنہوں نے فرمایا : اے ابو سلمہ ! تمہری مثال اُس چوزے کی طرح ہے جو مرغے کو اذان دیتے ہوئے سنتا ہے تو وہ خور بھی چینخنے لگتا ہےجب شرمگاہ کو شرمگاہ سے ملا دے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔

سَأَلْتُ عَائِشَةَ، مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي النَّضْرِ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter on what is required to be washed · Hadith 941

مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ · حديث 946

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ» قَالَ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُهُ

حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں : جب شرگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ بھی یہی فرماتی تھیں۔

وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُهُ ← إذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ. ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ ← نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter on what is required to be washed · Hadith 946

مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ · حديث 948

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ»

حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں: جب شرگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔

اِذَا جَاوَزَ الختان الختان وجب الغسل۔4:32 ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter on what is required to be washed · Hadith 948

مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ · حديث 951

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا كَانَ قَوْلُ الْأَنْصَارِ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةٌ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أَخَذْنَا بِالْغُسْلِ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ "

حضرت سہل بن سعد ساعدی جنہیں نبی اکرم ﷺ کا زمانہ نصیب ہوا ہے وہ فرماتے ہیں: انصا اس بات کے قا ئل تھے کہ پانی کے ذریعے پانی لازم ہونے کی اجزت ابتدا ء کی تھی اُس کے بعد ہم نے شرمگاہ سے شرمگاہ ملنے کی وجہ سے غسل لازم ہونے ک قول اختیار ادا کیا ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter on what is required to be washed · Hadith 951

مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ · حديث 954

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْتَلِفُونَ فِي الرَّجُلِ يَطَأُ امْرَأَتَهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يُنْزِلَ، فَذَكَرَ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ أَتَى عَائِشَةَ، فَقَالَ: لَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ اخْتِلَافُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ إِنِّي لَأُعْظِمُكِ أَنْ أَسْتَقْبِلَكِ بِهِ، فَقَالَتْ: «مَا هُوَ مِرَارًا»، فَقَالَ: الرَّجُلُ يُصِيبُ أَهْلَهُ وَلَمْ يُنْزِلْ قَالَ: فَقَالَتْ لِي: «إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ» قَالَ: أَبُو مُوسَى: لَا أَسْأَلُ عَنْ هَذَا بَعْدَكَ أَبَدًا

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کا ایسے شخص کے بارے میں اختلاف تھا جو اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور پھر انزل ہونے سے پہلے اُس عورت سے الگ ہوجاتا ہے ۔ پھر ایک مرتبہ حضرت موسیٰ اشعری سیدہ عائشہ کے پاس آئے اور بولے : مجھے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے اختلاف کے بارے میں بڑی پریشانی ہے اور وہ اختلاف ایک ایسی صوعت حال کے بارے میں ہے جسے میں آپ کے سامنے پیش کرنے کو بہت مشکل سمجھتا تھا ۔ سیدہ عائشہ نے کئی مرتبہ دریافت کیا : وہ کیا مسئلہ ہے ؟ تو حضرت ابو موسیٰ اشعری نے کہا : ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے لیکن اُسے انزال نہیں ہوتا ۔ تو سیدہ عائشہ نے فرمایا: جب شرگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ تو حضرت ابو موسیٰ اشعری نے کہا : اب آپ کے بعد میں اس بارے میں کسی سے دریافت نہیں کروں گا ۔

ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter on what is required to be washed · Hadith 954

مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ · حديث 955

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ، أَبَا جَعْفَرٍ يَقُولُ: كَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَأْمُرُونَ بِالْغُسْلِ، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ يَقُولُونَ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فَمَنْ يَفْصِلُ بَيْنَ هَؤُلَاءِ؟ وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَحَكَّمُوا بَيْنَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاخْتَصَمُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ رَأَيْتُمْ رَجُلًا يُدْخِلُ وَيُخْرِجُ أَيَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ؟ قَالَ: فَيُوجِبُ الْحَدَّ، وَلَا يُوجِبُ عَلَيْهِ صَاعًا مِنْ مَاءٍ؟، فَقَضَى لِلْمُهَاجِرِينَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: «رُبَّمَا فَعَلْنَا ذَلِكَ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْنَا وَاغْتَسَلْنَا»

امام باقر بیان کرتے ہیں: مہاجرین غسل کرنے کا حکم دیتے تھے اور انصا اس بات کے قائل تھے کہ پانی کی وجہ سے پانی لازم ہوتا ہے تو پھر ان کے درمیان فیصلہ کس نے کرنا تھا مہاجرین کا یہ کہنا تھا کہ جب شرگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ ان حضرات نے حضرت علی کو اہنے درمیان ثاکت بنایا اور اپنا مقدمہ اُن کے سامنے پیش کیا ۔ تو حضرت علی نے دریافت کیا : کہ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ اگر تم ایک شخص کو دیکھتے ہو کے وہ اپنی شرمگاہ داخل کرتا ہے ا ور پھر باہر نکال لیتا ہے تو کیا اُس پر حد واجب ہو گی ؟ پھر حضرت نے فرمایا : ایسے شخص پر حد تو واجب ہو جائے گی لیکن اُس پر پانی کا ایک صاح واجب نہیں ہو گا ۔ تو حضرت علی نے مہاجرین کے حق میں فیصلہ دے دیا ۔

أَبَا جَعْفَرٍ ← مَنْ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter on what is required to be washed · Hadith 955

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي حَفْرِ زَمْزَمَ، وَقَدْ دَخَلَ فِي الْحَجِّ أَوَّلُ مَا ذُكِرَ مِنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ · حديث 9718

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا ذُكِرَ مِنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ جَدِّ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا خَرَجَتْ مِنَ الْحَرَمِ فَارَّةً مِنْ أَصْحَابِ الْفِيلِ، وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَخْرُجُ مِنْ حَرَمِ اللَّهِ أَبْتَغِي الْعِزَّ فِي غَيْرِهِ، فَجَلَسَ عِنْدَ الْبَيْتِ، وَأَجْلَتْ عَنْهُ قُرَيْشٌ فَقَالَ: [البحر الكامل] لَاهُمَّ إِنَّ الْمَرْءَ يَمْنَعُ رَحْـ ... لَهُ فَامْنَعْ رِحَالَكْ [ص:314] لَا يَغْلِبَنَّ صَلِيبُهُمْ ... وَمِحَالُهُمْ غَدْوًا مِحَالَكْ فَلَمْ يَزَلْ ثَابِتًا حَتَّى أَهْلَكَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْفِيلَ وَأَصْحَابَهُ، فَرَجَعَتْ قُرَيْشٌ وَقَدْ عَظُمَ فِيهِمْ بِصَبْرِهِ، وَتَعْظِيمِهِ مَحَارِمِ اللَّهِ، فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ وُلِدَ لَهُ أَكْبَرُ بَنِيهِ، فَأَدْرَكَ، وَهُوَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. فَأُتِيَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فِي الْمَنَامِ فَقِيلَ لَهُ: احْفُرْ زَمْزَمَ، خَبِيئَةَ الشَّيْخِ الْأَعْظَمِ قَالَ: فَاسْتَيْقَظَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لِي، فَأُرِيَ فِي الْمَنَامِ مَرَّةً أُخْرَى: احْفُرْ زَمْزَمَ تَكْتُمْ بَيْنَ الْفَرْثِ وَالدَّمِ فِي مَبْحَثِ الْغُرَابِ فِي قَرْيَةِ النَّمْلِ، مُسْتَقْبِلَةَ الْأَنْصَابِ الْحُمْرِ قَالَ: فَقَامَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَمَشَى حَتَّى جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ يَنْظُرُ مَا خُبِّئَ لَهُ مِنَ الْآيَاتِ، فَنُحِرَتْ بَقْرَةٌ بِالْحَزُورَةِ، فَأَفْلَتَتْ مِنْ جَازِرِهَا بِحُشَاشَةِ [ص:315] نَفْسِهَا، حَتَّى غَلَبَهَا الْمَوْتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي مَوْضِعِ زَمْزَمَ، فَجُزِرَتْ تِلْكَ الْبَقْرَةُ فِي مَكَانِهَا، حَتَّى احْتُمِلَ لَحْمُهَا، فَأَقْبَلَ غُرَابٌ يَهْوِي حَتَّى وَقَعَ فِي الْفَرْثِ، فَبَحَثَ فِي قَرْيَةِ النَّمْلِ، فَقَامَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ يَحْفِرُ هُنَالِكَ، فَجَاءَتْهُ قُرَيْشٌ فَقَالُوا لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ: مَا هَذَا الصَّنِيعُ؟ لَمْ نَكُنْ نَزُنَّكَ بِالْجَهْلِ، لِمَ تَحْفُرُ فِي مَسْجِدِنَا؟ فَقَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ: إِنِّي لَحَافِرٌ هَذِهِ الْبِئْرَ، وَمُجَاهِدٌ مَنْ صَدَّنِي عَنْهَا، فَطَفِقَ يَحْفِرُ هُوَ وَابْنُهُ الْحَارِثُ وَلَيْسَ لَهُ يَوْمَئِذٍ وَلَدٌ غَيْرُهُ، فَيَسْعَى عَلَيْهِمَا نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَيُنَازِعُونَهُمَا، وَيُقَاتِلُونَهُمَا، وَيَنْهَى عَنْهُ النَّاسُ مِنْ قُرَيْشٍ لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ عِتْقِ نَسَبِهِ، وَصِدْقِهِ، وَاجْتِهَادِهِ فِي دِينِهِ يَوْمَئِذٍ، حَتَّى إِذَا أَمْكَنَ الْحَفْرَ، وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ الْأَذَى، نَذَرَ إِنْ وُفِيَ لَهُ بِعَشْرَةٍ مِنَ الْوِلْدَانِ يَنْحَرُ أَحَدَهُمْ، ثُمَّ حَفَرَ حَتَّى أَدْرَكَ سُيُوفًا دُفِنَتْ فِي زَمْزَمَ، فَلَمَّا رَأَتْ قُرَيْشٌ أَنَّهُ قَدْ أَدْرَكَ السُّيُوفَ فَقَالُوا لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ: أَحْذِنَا مِمَّا وَجَدْتَ، فَقَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ: بَلْ هَذِهِ السُّيُوفُ لِبَيْتِ [ص:316] اللَّهِ، ثُمَّ حَفَرَ حَتَّى أَنْبَطَ الْمَاءَ، فَحَفَرَهَا فِي الْقَرَارِ ثُمَّ بَحَرَهَا حَتَّى لَا تُنْزِفُ، ثُمَّ بَنَى عَلَيْهَا حَوْضًا، وَطَفِقَ هُوَ وَابْنُهُ يَنْزِعَانِ فَيَمْلَآنِ ذَلِكَ الْحَوْضَ، فَيَشْرَبُ مِنْهُ الْحَاجُّ، فَيَكْسَرُهُ نَاسٌ مِنْ حَسَدَةِ قُرَيْشٍ بِاللَّيْلِ، وَيُصْلِحُهُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ حِينَ يُصْبِحُ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا إِفْسَادَهُ، دَعَا عَبْدُ الْمُطَّلِبِ رَبَّهُ، فَأُرِيَ فِي الْمَنَامِ، فَقِيلَ لَهُ: قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّهَا لِمُغْتَسِلٍ، وَلَكِنْ هِيَ لِشَارِبٍ حِلٌّ وَبَلٌّ، ثُمَّ كَفَيْتُهُمْ، فَقَامَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ حِينَ أَجْفَلَتْ قُرَيْشٌ بِالْمَسْجِدِ، فَنَادَى بِالَّذِي أُرِيَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَكُنْ يُفْسِدُ عَلَيْهِ حَوْضَهُ أَحَدٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا رُمِيَ بِدَاءٍ فِي جَسَدِهِ، حَتَّى تَرَكُوا لَهُ حَوْضَهُ ذَلِكَ، وَسِقَايَتَهُ، ثُمَّ تَزَوَّجَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ النِّسَاءَ فَوُلِدَ لَهُ عَشْرَةُ رَهْطٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ لَكَ نَحْرَ أَحَدِهِمْ، وَإِنِّي أُقْرِعُ بَيْنَهُمْ، فَأَصِبْ بِذَلِكَ مَنْ شِئْتَ، فَأَقْرِعْ بَيْنَهُمْ، فَصَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَ أَحَبَّ وَلَدِهِ إِلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هُوَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَوْ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ؟ قَالَ: ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ [ص:317]، فَصَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى مِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ فَنَحَرَهَا عَبْدُ الْمُطَّلِبِ مَكَانَ عَبْدِ اللَّهِ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ أَحْسَنُ رَجُلٍ رُئِيَ فِي قُرَيْشٍ قَطُّ، فَخَرَجَ يَوْمًا عَلَى نِسَاءٍ مِنْ قُرَيْشٍ مُجْتَمِعَاتٍ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا نِسَاءَ قُرَيْشٍ أَيَّتُكُنَّ يَتَزَوَّجُهَا هَذَا الْفَتَى فَنَصَطَتِ النُّورَ الَّذِي بَيْنَ عَيْنَيْهِ، - قَالَ: وَكَانَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ نُورٌ - فَتَزَوَّجَتْهُ آمِنَةُ بِنْتُ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ فَجَمَعَهَا فَالْتَقَتْ، فَحَمَلَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَعَثَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَمْتَارُ لَهُ تَمْرًا مِنْ يَثْرِبَ فَتُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بِهَا، وَوَلَدَتْ آمِنَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِي حِجْرِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَاسْتَرْضَعَهُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، فَنَزَلَتْ بِهِ الَّتِي تُرْضِعُهُ سُوقَ عُكَاظٍ، فَرَآهُ كَاهِنٌ مِنَ الْكُهَّانِ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ عُكَاظٍ، اقْتُلُوا هَذَا الْغُلَامَ، فَإِنَّ لَهُ مُلْكًا، فَرَاعَتْ بِهِ أُمُّهُ الَّتِي تُرْضِعُهُ، فَنَجَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ شَبَّ عِنْدَهَا، حَتَّى إِذَا سَعَى وَأُخْتُهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ تَحْضُنُهُ، فَجَاءَتْهُ أُخْتُهُ مِنْ أُمِّهِ الَّتِي تُرْضِعُهُ فَقَالَتْ: أَيْ أُمَّتَاهُ، إِنِّي رَأَيْتُ رَهْطًا أَخَذُوا أَخِي آنِفًا، فَشَقُّوا بَطْنَهُ، فَقَامَتْ أُمُّهُ الَّتِي [ص:318] تُرْضِعُهُ فَزِعَةً، حَتَّى أَتَتْهُ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ مُنْتَقِعًا لَوْنُهُ، لَا تَرَى عِنْدَهُ أَحَدًا، فَارْتَحَلَتْ بِهِ، حَتَّى أَقْدَمَتْهُ عَلَى أُمِّهِ، فَقَالَتْ لَهَا: اقْبِضِي عَنِّي ابْنَكِ، فَإِنِّي قَدْ خَشِيتُ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ أُمُّهُ: لَا وَاللَّهِ، مَا بِابْنِي مَا تَخَافِينَ، لَقَدْ رَأَيْتُ وَهُوَ فِي بَطْنِي أَنَّهُ خَرَجَ نُورٌ مِنِّي أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ، وَلَقَدْ وَلَدْتُهُ حِينَ وَلَدْتُهُ، فَخَرَّ مُعْتَمِدًا عَلَى يَدَيْهِ، رَافِعًا رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَافْتَصَلَتْهُ أُمُّهُ وَجَدُّهُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ ثُمَّ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ، فَهَمَّ فِي حِجْرِ جَدِّهِ، فَكَانَ - وَهُوَ غُلَامٌ - يَأْتِي وِسَادَةَ جَدِّهِ، فَيَجْلِسُ عَلَيْهَا، فَيَخْرُجُ جَدُّهُ وَقَدْ كَبُرَ، فَتَقُولُ الْجَارِيَةُ الَّتِي تَقُودُهُ: انْزِلْ عَنْ وِسَادَةِ جَدِّكَ، فَيَقُولُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ: دَعِي ابْنِي فَإِنَّهُ مُحْسِنٌ بِخَيْرٍ، ثُمَّ تُوُفِّيَ جَدُّهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ، فَكَفَلَهُ أَبُو طَالِبٍ، وَهُوَ أَخُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَلَمَّا نَاهَزَ الْحُلُمَ، ارْتَحَلَ بِهِ أَبُو طَالِبٍ تَاجِرًا قِبَلَ الشَّامِ، فَلَمَّا نَزَلَا تَيْمَاءَ رَآهُ حَبْرٌ مِنْ يَهُودِ تَمِيمٍ، فَقَالَ لِأَبِي طَالِبٍ: مَا هَذَا الْغُلَامُ مِنْكَ؟ فَقَالَ: هُوَ ابْنُ أَخِي، قَالَ لَهُ: أَشَفِيقٌ أَنْتَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدِمْتَ بِهِ إِلَى الشَّامِ لَا تَصِلُ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ أَبَدًا، لَيَقْتُلُنَّهُ، إِنَّ هَذَا عَدُوُّهُمْ، فَرَجَعَ أَبُو طَالِبٍ مِنْ تَيْمَاءَ إِلَى مَكَّةَ. فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلُمَ، أَجْمَرَتِ امْرَأَةٌ الْكَعْبَةَ، فَطَارَتْ شَرَارَةٌ [ص:319] مِنْ مِجْمَرِهَا فِي ثِيَابِ الْكَعْبَةِ فَأَحْرَقَتْهَا، وَوَهَتْ، فَتَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ فِي هَدْمِهَا، وَهَابُوا هَدْمَهَا، فَقَالَ لَهُمُ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ: مَا تُرِيدُونَ بِهَدْمِهَا؟ الْإِصْلَاحَ تُرِيدُونَ أَمِ الْإِسَاءَةَ؟ فَقَالُوا: بَلِ الْإِصْلَاحُ قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُهْلِكُ الْمُصْلِحَ قَالُوا: فَمَنِ الَّذِي يَعْلُوهَا فَيَهْدِمُهَا؟ قَالَ الْوَلِيدُ: أَنَا أَعْلُوهَا، فَأَهْدِمُهَا، فَارْتَقَى الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَلَى ظَهْرِ الْبَيْتِ، وَمَعَهُ الْفَأْسُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّا لَا نُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ، ثُمَّ هَدَمَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قُرَيْشٌ قَدْ هَدَمَ مِنْهَا، وَلَمْ يَأْتِهِمْ مَا خَافُوا مِنَ الْعَذَابِ، هَدَمُوا مَعَهُ، حَتَّى إِذَا بَنَوْهَا فَبَلَغُوا مَوْضِعَ الرُّكْنِ، اخْتَصَمَتْ قُرَيْشٌ فِي الرُّكْنِ، أَيُّ الْقَبَائِلِ تَرْفَعُهُ؟ حَتَّى كَادَ يَشْجُرُ بَيْنَهُمْ فَقَالُوا: تَعَالَوْا نُحَكِّمُ أَوَّلَ مَنْ يَطْلُعُ عَلَيْنَا مِنْ هَذِهِ السِّكَّةِ، فَاصْطَلَحُوا عَلَى ذَلِكَ، فَطَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ عَلَيْهِ وِشَاحُ نَمِرَةٍ، فَحَكَّمُوهُ، فَأَمَرَ بِالرُّكْنِ، فَوُضِعَ فِي ثَوْبٍ، ثُمَّ أَمَرَ بِسَيِّدِ كُلِّ قَبِيلَةٍ فَأَعْطَاهُ بِنَاحِيَةِ الثَّوْبِ، ثُمَّ ارْتَقَى وَرَفَعُوا إِلَيْهِ الرُّكْنَ، فَكَانَ هُوَ يَضَعُهُ. ثُمَّ طَفِقَ لَا يَزْدَادُ فِيهِمْ بِمَرِّ السِّنِينَ إِلَّا رِضًا، حَتَّى سَمَّوْهُ الْأَمِينَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، ثُمَّ طَفِقُوا لَا يَنْحَرُونَ جَزُورًا لِبَيْعٍ إِلَّا دَرُوهُ فَيَدْعُو لَهُمْ فِيهَا [ص:320]. فَلَمَّا اسْتَوَى وَبَلَغَ أَشُدَّهُ، وَلَيْسَ لَهُ كَثِيرٌ مِنَ الْمَالِ اسْتَأْجَرَتْهُ خَدِيجَةُ ابْنَةُ خُوَيْلِدٍ إِلَى سُوقِ حُبَاشَةَ وَهُوَ سُوقٌ بِتَهَامَةَ وَاسْتَأْجَرَتْ مَعَهُ رَجُلًا آخَرَ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْهَا مَا رَأَيْتُ مِنْ صَاحِبَةِ أَجِيرٍ خَيْرًا مِنْ خَدِيجَةَ، مَا كُنَّا نَرْجِعُ أَنَا وَصَاحِبِي إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا تُحْفَةً مِنْ طَعَامٍ تُخْبِئْهُ لَنَا قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ سُوقِ حُبَاشَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْتُ لِصَاحِبِي: انْطَلِقْ بِنَا نُحْدِثُ عِنْدَ خَدِيجَةَ قَالَ: فَجِئْنَاهَا فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهَا إِذْ دَخَلَتْ عَلَيْنَا مُنْتَشِيَةٌ مِنْ مُوَلَّدَاتِ قُرَيْشٍ وَالْمُنْتَشِيَةُ النَّاهِدُ الَّتِي تَشْتَهِي الرَّجُلَ قَالَتْ: أَمُحَمَّدٌ هَذَا؟ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ إِنْ جَاءَ لَخَاطِبًا فَقُلْتُ: كَلَّا، فَلَمَّا خَرَجْنَا أَنَا وَصَاحِبِي قَالَ: أَمِنْ خِطْبَةِ خَدِيجَةَ تَسْتَحِي؟ فَوَاللَّهِ مَا مِنْ قُرَشِيَّةٍ إِلَّا تَرَاكَ لَهَا كُفْوًا قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا مَرَّةً أُخْرَى، فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا تِلْكَ الْمُنْتَشِيَةُ، فَقَالَتْ: أَمُحَمَّدٌ هَذَا؟ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ إِنْ جَاءَ لَخَاطِبًا قَالَ: قُلْتُ عَلَى حَيَاءٍ: أَجَلْ قَالَ: فَلَمْ تُعْصِنَا خَدِيجَةُ وَلَا أُخْتُهَا، فَانْطَلَقَتْ إِلَى أَبِيهَا خُوَيْلِدُ بْنُ أَسَدٍ وَهُوَ ثَمِلٌ مِنَ الشَّرَابِ فَقَالَتْ: هَذَا ابْنُ [ص:321] أَخِيكَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُ خَدِيجَةَ، وَقَدْ رَضِيَتْ خَدِيجَةُ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَخَطَبَ إِلَيْهِ فَأَنْكَحَهُ قَالَ: فَخَلَّقَتْ خَدِيجَةُ، وَحَلَّتْ عَلَيْهِ حُلَّةً، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ صَحَا الشَّيْخُ مِنْ سُكْرِهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا الْخَلُوقُ؟ وَمَا هَذِهِ الْحُلَّةُ؟ قَالَتْ أُخْتُ خَدِيجَةَ: هَذِهِ حُلَّةٌ كَسَاكَ ابْنُ أَخِيكَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْكَحْتَهُ خَدِيجَةَ، وَقَدْ بَنَى بِهَا، فَأَنْكَرَ الشَّيْخُ، ثُمَّ صَارَ إِلَى أَنْ سَلَّمَ، وَاسْتَحْيَى وَطَفِقَتْ رُجَّازٌ مِنْ رُجَّازِ قُرَيْشٍ تَقُولُ: لَا تَزْهَدِي خَدِيجُ فِي مُحَمَّدٍ جِلْدٌ يُضِيءُ كَضِيَاءِ الْفَرْقَدِ فَلَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ خَدِيجَةَ حَتَّى وَلَدَتْ لَهُ بَعْضَ بَنَاتِهِ، وَكَانَ لَهَا وَلَهُ الْقَاسِمُ. وَقَدْ زَعَمَ بَعْضُ الْعُلَمَاءَ أَنَّهَا وَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا آخَرَ يُسَمَّى الطَّاهِرُ قَالَ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَا نَعْلَمُهَا وَلَدَتْ لَهُ إِلَّا الْقَاسِمَ، وَوَلَدَتْ لَهُ بَنَاتَهُ الْأَرْبَعَ: زَيْنَبَ، وَفَاطِمَةَ، وَرُقَيَّةَ، وَأُمَّ كُلْثُومٍ، وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا وَلَدَتْ لَهُ بَعْضَ بَنَاتِهِ يَتَحَنَّثُ وَحُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ "

زہری بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے دادا جناب عبدالمطلب کے بارے میں سب سے پہلی چیز یہ ذکر کی گئی ہے کہ جب ہاتھوں کے لشکر سے ڈر کر قریش حر م کو چھوڑ کر جانے لگے تو جناب عبدالمطلب اُس وقت ایک نوجوان شخص تھے اُنہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں کسی اور جگہ پر عزت حاصل کرنےکے لیے اللہ کی حرم کی حدود سے باہر نہیں جاؤں گا ۔ وہ بیت اللہ کے پاس بیٹھ گئے جبکہ قریش اُس کو چھوڑ کر چلے گئے تو اُنہوں نے ہہ شعر کہا: یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی سواری کو روک لو ان کی صلیب ہر گز غالب نہیں آئیں گی اور ان کا ارادہ تمہاری طرف سے آنے کا ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنی جگہ مسلسل ثابت قدم رہے یہا ں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں اور اُس کے ساتھ کے لشکر کو بر باد کر دیا جب قریش واپس آئے تو جناب حضرت عبدالمطلب کے صبر اور اللہ تعالیٰ کے حرم کی تعظیم کے حوالے سے اُن کی بہت عزت کرنے لگے ۔ اسی دوران جناب عبدالمطلب کے ہاں اُن کے سب سے بڑے صاحبزادے کی پیدائش ہوئی وہ صاحبزادے بالغ ہوگئے اُن کا نام حارث بن عبدالمطلب تھا ایک مرتبہ جناب عبدالمطلب نے خواب میں دیکھا کہ اُن سے کہا گیا تم آب زمزم کا کنواں کھودو ! جو ایک بڑے بزرگ کو سنبھال کر رکھی ہوئی چیز ہے ۔ جناب عبدالمطلب بیمار ہوئے تو اُنہوں نے دعا کی : اے اللہ! تو میرے لیے مزید واضح کر دے ! تو اُنہیں دوسری مرتبہ خواب میں یہ بات دکھائی گئی تم زمزم کو کھودو جو لید اور خون کے درمیان چھپا ہوا ہے جو چیونٹیوں کی بستی میں کوے کے تلاش کرنے کی جگہ پر ہو گا اُس کا رُخ سر خ مٹی کی طرف ہو گا ۔ جناب عبدالمطلب اُٹھے وہ چلتے ہوئے آئے اور مسجد حرام میں بیٹھ گئے اور اس بات کا جائز لینت لگے کہوہ نشانیاں کون سی ہو سکتی ہیں ؟ جو اُنہیں دکھائی گئی تھیں اسی دوران حزورہ کے مقام پر ایک گائے ذبح کی گئی تھی وہ ذبح کرنے والے کے ہاتھ سے چھوٹ کر اپنے آپ کو بچاتی ہوئی آگے بڑھی یہاں تک کہ جس جگہ آب زمزم ہونا چاہیے تھا مسجد میں اُس جگہ وہ مر گئی ۔ تو اُس گائے کو اُسی جگہ پر قربان کیا گیا اُس کا گوشت اُٹھا لیا گیا اسی دوران ایک وا نیچے کی طرف آیا اور اُس نے اُس کی لید کے اندر سے کچھ نکلنے کی کوشش کی وہ چیونٹیوں کی وادیوں کے اندر کچھ تلاش کر رہا تھا ۔ جناب عبدالمطلب اُٹھے اور اُنہوں نے اُس جگہ کھدائی کرنا شروع کی قریش اُن کے پاس آئے اور اُنہوں نے جناب عبدالمطلب سے دریافت کیا: یہ کیا کر رہے ہیں؟ ہم آپ کو جاہل نہیں سمجھتے ! آپ ہماری مسجد میں کیوں کھدائی کرر ہے ہیں ؟ تو جناب عبدالمطلب نے کہا: میں یہاں ایک کنواں کھود رہا ہوں اور جو شخص اُس سے روکنے کی کوشش کرے گا میں اُس کا مقابلہ کروں گا ۔ جناب عبدالمطلب اور اُن کے صاحبزادے جناب حارث نے اُسے کھودنا شروع کیا اُن دنوں جناب حارث کے علاوہ اُن کی کوئی اور اولاد نہیں تھی ۔ قریش کے کچھ افراد نے ان دونوں حضرات کے کے خلاف مزحمت کی کوشش کی اور ان دونوں کے ساتھ جھگڑا کیا کچھ قریش نے اُنہیں ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ جناب عبدالمطلب کا نسب باوقار ہے وہ سچے آدمی ہیں اور اپنے دین میں بھر پور کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ جناب عبدالمطلب کو کنویں کو کھودنے کے قابل ہوئے اور اُن کے خلاف زیادتیاں شدید ہو گئیں تو اُنہوں نے یہ نذر مانی کی کہ اُن کے ہاں دس بیٹے ہوئے تو وہ اُن میں سے کسی ایک کو قربان کر دیں گے اور پھر ا ُنہوں نے کھدائی شروع کر دی یہاں تک کہ وہ اُن تلوار تک پہنچ گئے جو زمزم کے پاس دفن کی گئی تھیں۔ جب قریش نے یہ دیکھا کہ یہ تلواروں تک پہنچ گئے ہیں تو اُنہوں نے جناب عبدالمطلب سے کہا: آپ نے جو کچھ کھایا ہے وہ ہمیں بھی دیجئے۔ تع جناب عبدالمطلب نے کہا: یہ تلواریں اللہ ے گھر کے لیے ہوں گی ۔ پھر اُنہوں نے کھدائی شروع کی یہاں تک کہ پانی پھوٹ پڑا اُنہوں نے مزید اُس جگہ کھدائی کی تو پھر تو اتنا پانی نکلنے لگا کہ وہ رُکتا ہی نہیں تھا تو اُنہوں نے اُس کے لیے حوض بنا دیا ۔ وہ اور اُن کے صاحبزادے پانی نکالتے تھے اور اُس حوض کو بھر دیتے تھے حاجی لوگ وہاں سے پیا کرتے تھے ۔ ایک دن قریش سے تعلق رکھنے والے حاسد لوگوں نے رات کے وقت اُس حوض کو توڑ دیا جناب عبدالمطلب نے اگلے دن صبح اُسے ٹھیک کیا جب اُن لوگوں نے بار بار اُسے خراب کرنا شروع کیا تو جناب عبدالمطلب نے اپنے پروردگار سے دعا کی : تو اُن خواب میں یہ بات دکھائی گئی کہ تم یہ پڑھو : اے اللہ! میں کسی غسل کرنے والے شخص کے لیے اسے حلال قرار نہیں دیتا یہ پینے والے شخص کے لیے ہے حلال بھی ہے اور مباح بھی ہے تو تمہاری اس حوالے سے کفایت ہو جائے گی۔ اگلے دن جب قریش مسجد میں اکٹھے ہوئے تو جناب عبدالمطلب کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے بلند آواز میں وہ خواب سنا دیا جو اُنہیں دکھایا گیا تھا پھر وہ واپس چلے گئے اُس کے بعد قریش کے تعلق رکھنے والے جس بھی شخص نے اُس حوض کو خراب کرنے کی کوشش کی تو اُس کے جسم میں کوئی بیماری مسلط ہو گئی یہاں تک کہ اُن لوگوں نے حوض کو ترک کر دیا اور پانی پلانے کی خدمت جناب عبدالمطلب کے پاس رہنے دی ۔ اُس کے بعد جناب عبدالمطلب نے کچھ شادیاں کیں اور اُن کے ہاں دس بیٹے پیدا ہوئے تو اُنہوں نے عرض کی : اے اللہ! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں ان میں سے کسی ایک کو تیرے لیے قربان کر دوں گا اب میں ان کے درمیان قرعہ اندازی کی تو قرعہ عبداللہ بن عبدالمطلب کے نا م نکلا جو اُن کی اولاد میں اُنہیں سب سے زیادہ محبوب تھے تو جناب عبدالمطلب نے دعا کی : اے اللہ! یہ تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے یا ایک سو اونٹ ؟ پھر اُنہوں نے جناب عبداللہ اور ایک سو اونٹوں کے درمیان قرعہ اندازی کی تو قرعہ ایک سو اونٹوں کے نام نکل آیا جناب عبدالمطلب نے جناب عبداللہ کی جگہ اُن اونٹوں کو قربان کیا ۔ جناب عبداللہ قریش کے سب سے وجیہیہ شکیل شخص تھے ایک دن وہ کچھ خواتین کے پاس سے گزرے جن کا تعلق قریش سے تھا اور وہ اکھٹی بیٹھی ہوئی تھی تو اُن میں سے ایک نے کہا: اے قریش کی عورتوں! تم میں سے کون اس نوجوان کے ساتھ شادی کرے گی ؟ جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور چکمتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: اُن کی دو آنکھوں کے درمیان نور چمکتا تھا ۔ پھر سیدہ آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ کی شادی اُن کے ساتھ ہو گئی ۔ رخصتی کے بعد سیدہ آمنہ نبی اکرمﷺ سے حاملہ ہو گئین جناب عبدالمطلب نے جناب عبداللہ کو یثرب سے کچھ کھجوریں لانے کے لیے بھیجا جناب عبداللہ کا انتقال وہیں ہو گیا پھر سیدہ آمنہ نے نبی اکرمﷺ کو جنم دیا آپ جناب عبدالمطلب کی زیر پروش رہے بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والی خاتون نے آپ کو دودھ پلانا شروع کیا وہ خاتون جو آپ کو دودھ پلاتی تھی ایک مرتبہ وہ ساتھ لے کر عکاظ کے میلہ میں گئیں وہاں ایک کاہن نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا تو بولا : اے عکاظ کے رہنے والو! اس بچہ کو قتل کر دو! اسے بادشاہی ملے گی۔ تو نبی اکرمﷺ کی دائی ماں آپ کو لے کر وہاں سے آگئیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺ کو بچا لیا پھر نبی اکرمﷺ کچھ عرصہ ان کے ہاں رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کیرضاعی بہن جو آپ کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں وہ دوڑتی ہوئی اپنی والدہ کے پاس آئی اور بولی : اےا می جان! میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ اُنہوں نے ابھی میرے بھائی کو پکڑ لیا ہے اور ان کا پیٹ چیر دیا ہے تو آپ کی رضاعی ماں گھبرا کر کھڑی ہوئی اور نبی اکرمﷺ کےپاس آئیں تو نبی اکرمﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کی رنگت متغیر ہوئی تھی لیکن آپ کے پاس کوئی شخص نہیں تھا ۔ سیدہ حلیمہ نبی اکرمﷺ کو لے کر اُن کی والدہ کے پاس آئی اور اُن سے کہا: آپ اپنے بیٹے کو واپس لے لیں کیونکہ مجھے اس کے حوالے سے یہ اندیشہ ہے ۔ تو نبی اکرم ﷺ کی والدہ نے کہا : جی نہیں ۔ اللہ کی قسم! تم میرے بیٹے کے حوالے سے کسی اندیشہ کا شکار نہ ہو کیونکہ جب یہ میرے پیٹ میں تھا تو میں نے دیکھا: میرے جسم سے ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا اور جب میں نے اسے جنم دیا تو اپنے ہاتھوں کے سہارے جھکا اور اس نے اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھا لیا پھر نبی اکرمﷺ کی والدہ اور آپ کے دادا جناب عبدالمطلب نے آپ کا دودھ چھڑ وایا پھر نبی اکرمﷺ کی والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ نبی اکرمﷺ اپنے دادا کے زیر پوش آگئے نبی اکرمﷺ ا بھی بچہ تھے آپ اپنے دادا کے تکیہ کے پاس آتے تھے اور اُس پر بیٹھ جاتے تھے آپ کے دادا جو عمر رسیدہ ہو چکے تھے وہ بعد میں آتے تھے تو اُنہیں ساتھ لانے والی کنیز یہ کہتی تھی : آپ اپنے دادا کے تکیہ سے نیچے اُتر جائیں ۔ تو جناب عبدالمطلب یہ کہتے تھے : تم میرے بیٹے کو رہنے دو! کیونکہ یہ بھلائی کرنے والا ہے ۔ پھر نبی اکرمﷺ کے دادا کا انتقال ہو گیا نبی اکرمﷺ اُن دنوں کمسن تھے جناب ابو طالب نے آپ کی کفایت اپنے ذمہ لی جو جناب عبداللہ کے سگے بھائی تھے جب نبی اکرمﷺ قریب البلوغ ہوئے تو جناب ابو طالب آپ کو ساتھ لے کر تجارت کے لیے شام کی طرف لے گئے جب ان دونوں صاحب نے تیما ء نامی بستی میں پڑاؤ کیا تو وہاں تمیم یہوں دیاں کے قبیلہ کے ایک عالم نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا تو جناب ابو طالب نے دریافت کیا: اس لڑکے کا تمہارے ساتھ کیا رشتہ ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: یہ میرا بھتیجا ہے ! اُس یہودی نے جناب ابو طالب سے دریافت کیا: کیا تم اس سے محبت رکھتے ہو ؟ جنا ب ابو طالب نے جواب دیا: جی ہاں! تو اُ س یہودی نے یہ کہا: اللہ کی قسم! اگر تم اسے لے کر شام چلے گئے تو پھر تم اسے ساتھ لے کر ب کبھی نہیں جا سکو گے کیونکہ وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے یہ اُن کا دشمن ہے ۔ تو ابو طالب تیما ء سے مکہ واپس آگئے ۔ جب نبی اکرمﷺ بالغ ہوئے تو ایک عورت نے خانہ کعبہ میں دھونی دی ۔ اس کے کچھ شرارے خانہ کعبہ کو لگے اور اُسے جلا دیا۔ قریش نے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے کا مشورہ کیا لیکن وہ اسے منہدم کرنے سے خوفزدہ ہو گئے تو ولید بن مغیرہ نے ان سے کہا: تم اسے کیوں منہدم کرنا چاہتے ہو ؟ تم بہتری چاہتے ہو یا خرابی ۔ اُنہوں نے کہا: بہتری۔ ولید نے کہا: اللہ تعالیٰ بہتری کرنے والوں کو ہلاکت کا شکار نہیں کرتا ۔ اُنہوں نے کہا: کون اس پر چڑھ کر اس کو منہدم کرنے کا آغاز کرے گا ؟ ولید نے کہا: میں اس پر چڑھ کر اس کو منہدم کرنے کا آغاز کرتا ہوں ۔ پھر ولید بن مغیرہ خانہ کعبی کی چھت پر چڑھا اور اس کے پاس پھاؤڑا تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ! ہم صرف بہتری چاہتے ہیں پھر اس نے منہدم کرنے کا آغاز کیا ۔ جب قریش نے دیکھا کہ اس نے کچھ حصہ منہدم کیا لیکن ان پر وہ عذاب نازل نہیں ہوا جس کا اُنہیں اندیشہ تھا تو وہ لوگ بھی منہدم کرنے میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے جب اُنہوں نے اس کی تعمیر نو کی تو حجر اسود رکھنے کا وقت آیا تو قریش کے درمیان جھگڑا ہو گیا کہ کون سا قبیلہ اسے اُٹھا کر اوپر رکھے گا ۔ جب یہ اختلاف بڑھ گیا تو اُنہوں نے کہا: ہم ا س بارے میں اس شخص کو ثالت مقرر کریں گے جو اس اگلی سے سب سے پہلے ہمارے سامنے آئے گا ۔ اُنہوں نے اس پر اتفاق کیا تو نبی اکرمﷺ ان کے سامنے آگئے ۔ آپ نوجوان تھے ۔ آپ نے اونی لباس پہنا ہوا تھا ان لوگوں نے آپ کو ثاکت مقرر کیا آپ کی ہدایت کے مطابق حجر اسود کو ایک کپڑے میں رکھا گیا اور ایک ہدایت کے تحت ہر قبیلہ کے سردار نے اس کپڑے کا ایک کونہ پکڑ کر حجر اسود کو اُٹھا کر اس کی جگہ پر رکھ دیا نبی اکرمﷺ بھی اسے رکھنے والوں میں شامل تھے ۔ اس کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ نبی اکرمﷺ کی پسندیدگی میں اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ آپ پر وحی نازل ہونے سے پہلے لوگوں نے آپ کو امین کا خطاب دے دیا ۔ اس کے بعد جب لوگ اونٹ ذبح کرتے تھے تو نبی اکرمﷺ کو بلواتے تھے اور نبی اکرمﷺ ان کے لیے دعا کیا کرتے تھے ۔ جب آپ جوان ہوئے تو آپ کے پاس زیادہ مال نہیں تھا ۔ سیدہ

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Maghazi Book › The door of what came in Hafar Zamzam, and has entered during the Hajj the first of what was mentioned by Abd Al-Muttalib · Hadith 9718

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ غَزْوَةُ الْحُدَيْبِيَةِ · حديث 9723

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ هِرَقْلُ حَزَّاءً يَنْظُرُ فِي النُّجُومِ، فَأَصْبَحَ يَوْمًا وَقَدْ أَنْكَرَ أَهْلُ مَجْلِسِهِ هَيْئَتَهُ فَقَالُوا: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: نَظَرْتُ فِي النُّجُومِ اللَّيْلَةَ فَرَأَيْتُ مَلَكَ الْخِتَانِ قَدْ ظَهَرَ قَالُوا: فَلَا يَشُقُّ ذَلِكَ عَلَيْكَ، فَإِنَّمَا يَخْتَتِنُ الْيَهُودُ، فَابْعَثْ إِلَى مَدَائِنِكَ فَاقْتُلْ كُلَّ يَهُودِيٍّ قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَتَبَ إِلَى نَظِيرٍ لَهُ حَزَّاءٍ أَيْضًا، يَنْظُرُ فِي النُّجُومِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ بِمِثْلِ قَوْلِهِ قَالَ: وَرَفَعَ إِلَيْهِ مَلِكُ بُصْرَى رَجُلًا مِنَ الْعَرَبِ يُخْبِرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «انْظُرُوا أَمُخْتَتِنٌ هُوَ؟» قَالُوا: فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ مُخْتَتِنٌ فَقَالُوا: هَذَا مَلَكُ الْخِتَانِ قَدْ ظَهَرَ

9723 - زہری بیان کرتے ہیں: ہر قل فلکیات کا ماہر تھا وہ علم نجوم میں دستر رکھتا تھا ایک دن جب وہ اُٹھا تو اُس کے ساتھ والوں کو اُس کی حالت پریشان کن نظر آئی اُنہوں نے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے ؟ اُس نے کہا: میں نے گزشتہ رات علم نجوم کا جائز لیا تو مجھے پتا چلا کہ ختنہ کرنے والی قوم کا بادشاہ ظہو پذیر ہو چکا ہے ۔ اُن لوگوں نے کہا: آپ کو اس حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہودی ختنہ کرواتے ہیں آپ اپنے شہروں میں پیغا م بھیج دیجئے اور ہر یہودی کو قتل کروا دیجئے۔ زہری بیان کرتے ہیں: اُس بادشاہ نے اپنے ہی ٓپائے کے علم نجوم کے ایک اور ماہر ک وخط لکھا جو علم نجوم میں دستر رکھتا تھا تو اُس نے بھی اُس کی رائے کے مطابق جواب دیا۔راوی بیان کرتے ہیں: بصٰری کے گورنر نے ایک عرب شخص کو اُس کے پاس بھیجا اور اُسے نبی اکر مﷺ کے بارے میں اطلاع دی تو ہر قل نے کہا: تم لوگ جائز لو کیا اس کے ختنے ہوئے ہیں؟ تو لوگوں نے اس کا جائزہ لیا تو اُس شخص کے ختنے ہوئے تھے لوگوں نے بتایا تو اُس نے کہا: ختنہ کرنے والوں کا باشاہ ظاہر ہو چکا ہے۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Maghazi Book › The invasion of Hudaybiyah · Hadith 9723

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابِ ‹ لَا يُهَوَّدُ مَوْلُودٌ، وَلَا يُنَصَّرُ · حديث 9974

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ كُرْدُوسٍ التَّغْلِبِيِّ قَالَ: قَدِمَ عَلَى عُمَرَ رَجُلٌ مِنْ تَغْلِبَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «إِنَّهُ قَدْ كَانَ لَكُمْ نَصِيبٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَخُذُوا نَصِيبَكُمْ مِنَ الْإِسْلَامِ»، فَصَالَحَهُ عَلَى أَنْ أَضْعَفَ عَلَيْهِمُ الْجِزْيَةَ، وَلَا يُنَصِّرُوا الْأَبْنَاءَ

9974 - کردوس تغلبی بیان کرتے ہیں: تغلب قبیلہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حضرت عمر کے پاس آیا حضرت عمر نے اُس سے دریافت کیا: زمانہ جاہلیت میں تمہارا جو حصہ ہوتا تھا تم اپنا وہ حصہ اسلام میں بھی وصول کرو تو حضرت عمر نے اس شرط پر اُس کے ساتھ مصالحت کی کہ وہ دگنا جزیہ ادا کریں گے اور اپنے بچوں کو عیسائی نہیں بنائیں گے۔

قَدِمَ عَلَى عُمَرَ رَجُلٌ مِنْ تَغْلِبَ، ← كُرْدُوسٍ التَّغْلِبِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Book › There will be no born Jews, and no Christianity · Hadith 9974

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابِ ‹ لَا يُهَوَّدُ مَوْلُودٌ، وَلَا يُنَصَّرُ · حديث 9975

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نَبَاتَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَالَحَ نَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ عَلَى أَنْ لَا يُنَصِّرُوا الْأَبْنَاءَ، فَإِنْ فَعَلُوا فَلَا عَهْدَ لَهُمْ» قَالَ: وَقَالَ عَلِيٌّ: لَوْ فَرَغْتُ لَقَاتَلْتُهُمْ

9975 - حضرت علی بن ابو طالب بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے بنو تغلب سے تعلق رکھنے والے عیسائیوں کے ساتھ اس شرط پر مصالحت کی تھی کہ وہ اپنے بچوں کو عیسائی نہیں بنائیں گے اگر وہ ایسا کریں گے تو اُن کے ساتھ کوئی عہد نہیں ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت علی فرماتے ہیں: اگر مین فارغ ہوا تو میں اُن لوگوں کے ساتھ جنگ کروں گا ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← الأصبغ بن نباتة ← محمد بن السائب ← ابْنُ التَّيْمِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Book › There will be no born Jews, and no Christianity · Hadith 9975

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ بَابُ اسْتِئْمَارِ النِّسَاءِ فِي أَبْضَاعِهِنَّ · حديث 10288

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «تُسْتَأْمَرُ النِّسَاءُ فِي أَبْضَاعِهِنَّ» قَالَ: وَقَالَ لِي ابْنُ طَاوُسٍ: إِلَّا. . . الرِّجَالَ فِي ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْبَنَاتِ، لَا يُكْرَهُوا، وَأَشَدُّ بَأْسًا "

10288 - طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: خواتین سے اُن کی شادی کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں: طاؤس کے صاحبزادے نے مجھے یہ بات بیان کی ہے اس بارے میں بیٹیوں کی مانند ہوں گے اُنہیں مجبور نہیں کیا جائے گا اور یہ زیاد برا ہے ۔

«تُسْتَأْمَرُ النِّسَاءُ فِي أَبْضَاعِهِنَّ» ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Marriage Book › Chapter of women quitting their breastfeeding · Hadith 10288

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ بَابُ وُجُوبِ النِّكَاحِ وَفَضْلِهِ · حديث 10390

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخِتَانُ، وَالسِّوَاكُ، وَالتَّعَطُّرُ، وَالنِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي»

10390 - حضرت ابو ایوب انصار روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ختنہ کروانا مسواک کرنا عطر لگانا اور نکاح کرنا میری سنت ہیں۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← مَكْحُولٌ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يحيى بن العلاء ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Marriage Book › Chapter Obligation and virtue of marriage · Hadith 10390

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ مَا يُعَدُّ وَكَيْفَ تُؤْخَذُ الصَّدَقَةُ؟ · حديث 6822

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ بَعْضِ الْأَنْصَارِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَتَبَ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ كِتَابًا يَعْهَدُ إِلَيْهِ [ص:17]: «خُذِ الصَّدَقَةَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ طُهْرَةً لِأَعْمَالِهِمْ، وَزَكَاةً لِأَمْوَالِهِمْ، وَحُكْمًا مِنْ أَحْكَامِ اللَّهِ، الْعَدَاءُ فِيهَا حَيْفٌ، وَظُلْمٌ لِلْمُسْلِمِينَ، وَالتَّقْصِيرُ عَنْهَا مُدَاهَنَةٌ فِي الْحَقِّ، وَخِيَانَةٌ لِلْأَمَانَةِ، فَادْعُ النَّاسَ بِأَمْوَالِهِمْ إِلَى أَرْفَقِ الْمَجَامِعِ، وَأَقْرَبِهَا إِلَى مَصَالِحِهِمْ، وَلَا تَحْبِسِ النَّاسَ أَوَّلَهُمْ لِآخِرِهِمْ، فَإِنَّ الرَّجَزَ لِلْمَاشَيَةِ عَلَيْهَا شَدِيدَةٌ، عَلَيْهَا مَهِلَاتٌ، وَلَا تَسُقْهَا مَسَاقًا يُبْعِدُ بِهَا الْكَلَأُ وَرَدَّهَا فَإِذَا أَوْقَفَ الرَّجُلُ عَلَيْكَ غَنَمَهُ، فَلَا تَعْتَمْ مِنْ غَنَمِهِ، وَلَا تَأْخُذْ مِنْ أَدْنَاهَا، وَخُذِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَوْسَطِهَا، وَلَا تَأْخُذْ مِنْ رَجُلٍ إنْ لَمْ تَجِدْ فِي إِبِلِهِ السِّنَّ الَّتِي عَلَيْهِ إِلَا تِلْكَ السَّنَّ مِنْ شَرْوَى إِبِلِهِ، أَوْ قِيمَةَ عَدْلٍ، وَانْظُرْ ذَواتِ الدَّرِّ، وَالْمَاخِضَ مِمَّا تَجِبُ مِنْهُ الصَّدَقَةُ فَتَنَكَّبْ عَنْهَا عَنْ مَصَالِحِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّهَا مَالُ حَاضِرِهِمْ، وَزَادُ مُغْرِبِهَمْ، أَوْ مُعِدِّيهِمْ، وَذَخِيرَةُ زَمَانِهِمْ، ثُمَّ اقْسِمْ لِلْفُقَرَاءِ، وَابْدَأْ بِضَعَفَةِ المَسْكَنَةِ، وَالْأَيْتَامِ، وَالْأَرَامِلِ، وَالشُّيُوخِ، فَمَنِ اجْتَمَعَ لَكَ مِنَ الْمَسَاكِينِ فَكَانُوا أَهْلَ بَيْتٍ يَتَعَاقَبُونَ، وَيَتَحَامَلُونَ فَاقْسِمْ لَهُمْ مَا كَانَ مِنَ الْإِبِلِ يَتَعَاقَبُوهُ حَمْلَهُمْ، وَإِنْ كَانَ مِنَ الْغَنَمِ امْنَحْهُمْ، وَمَنْ كَانَ فَذًّا فَلَا تُنْقِصْ كُلَّ خَمْسَةٍ مِنْهُمْ مِنْ فَرَيْضَةٍ أَوْ عَشْرٍ شَيْئًا إِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْغَنَمِ»

6822 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: بعض انصار کے حوالے سے مجھے یہ بات بتائی گئی کہ حضرت عمر نے اپنے بعض سرکاری اہلکاروں کے خلاط خط لکھا جس میں اُنہیں یہ تلقین کی : تم مسلمان سے زکوٰۃ وصول کرو ان کے اعمال کی طہارت ان کے اموال کی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیر وی کے لیے اس بارے میں حد سے تجاوز کرنا قابل ملامت اور مسلمانوں پر ظلم کے مترادف ہو گا اور اس میں کوتاہی کرنا حق میں کمی کرنے اور امانے میں خیانت کرنے کے مترادف ہو گا ۔ تم لوگوں کے مال مویشی دوبارہ بلواؤ جہاں آنا ان کے لیے سہولت والا ہو اور ان کے لیے اسی میں بہتر ہو تم پہلے والے لوگوں کو بعض والوں کے لیے روک کہ نہ رکھو کیونکہ جانوروں کے ساتھ اس طرح ٹھہرنا ان کے لیے دشواری کا باعث ہو گا اور تم اُنہیں وہاں آنے تک مجبور مت کرو جہاں گھاس پھوس اور پانی ان سے دور ہو جائے اور جب کوئی شخص اپنی بکریاں تمہارے سامنے پیش کرے تو تم ان میں سے بہتر کو اختیار نہ کرو اور نہ ہی کمتر کو اختیار کرو بلکہ درمیانی قسم زکوٰۃ میں وصول کرو۔ اگر کسی شخص سے مطلوبہ اونٹ نہیں ملتا تو اس کے آس پاس کا اونٹ حاصل کر لو انصاف کے مطابق اس کی قیمت وصول کرو ۔ زکوٰۃ جن میں واجب ہوتی ہے ان میں سے دودھ دینے والی یا حاملہ بکری کو حاصل نہ کرو اور ان چیزوں سے بچ کے رہو جو مسلمانوں کے حق میں بہتر ہوتی ہیں کیونکہ اس طرح کے جانور شہروں میں رہنے والوں کا مال ہوتے ہیں اور مسافروں کے لیے زاد سفر ہوتے ہیں اور زمانہ کا ذخیرہ ہوتے ہیں پھر تم غریبو ں میں تقسیم کر دو اور آغاز کمزور مسکینوں بیواؤں اور عمر رسیدہ سے کرو۔ جب تمہارے سامنے ایسے غریب لوگ اکٹھے ہو جائیں جو ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہوں جو آگے پیچھے آئے اور قربانی کے لیے جانور مانگے تو تم اُن کے لیے جانور تقسیم کر دو اور اگر وہ بکریاں بانگیں تو وہ تم انہیں عطیہ کے طور پر دے دو جو شخص اکیلا ہو تو زکوٰۃ میں سے ان میں سے پانچ سے لے کر پندراں تک بکریاں ادا کر دو ۔

بَعْضِ الْأَنْصَارِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · Zakat Book › Chapter of what is prepared and how is charity received? · Hadith 6822

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْفَرَائِضِ ‹ باب · حديث 19012

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ , عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , فِي بِنْتَيْنِ وَبَنِي ابْنٍ ذُكُورًا وَإِنَاثًا , قَالَ مَسْرُوقٌ: «كَانَتْ عَائِشَةُ تُشْرِكُ بَيْنَهُمْ» ثُمَّ قَالَ: وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ , يَقُولُ: «لِلذُّكْرَانِ دُونَ الْإِنَاثِ , وَالْأَخَوَاتُ بِمَنْزِلَةِ الْبَنَاتِ»

19012 - معبد بن خالد نے مسروق کے حوالےسے یہ بات نقل کی ہے جب میت کی دو بیٹیاں ہوں اور پوتے اور پوتیاں بھی ہوں تو مسروق فرماتے ہیں: سیدہ عائشہ انہیں شراکت دار قرار دیتی ہیں جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود یہ فرماتے ہیں کہ وراثت میں حصہ صرف پوتوں کو ملے گا پوتیوں کو نہیں ملے گا اور بہنوں اور بھی بیٹیوں کے حکم میں ہوں گی ۔

«لِلذُّكْرَانِ دُونَ الْإِنَاثِ وَالْأَخَوَاتُ بِمَنْزِلَةِ الْبَنَاتِ» ← وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٌ: «كَانَتْ عَائِشَةُ تُشْرِكُ بَيْنَهُمْ» ثُمَّ ← مَسْرُوقٍ فِي بِنْتَيْنِ وَبَنِي ابْنٍ ذُكُورًا وَإِنَاثًا ← معبد بن خالد، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Surplus › Door · Hadith 19012

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْفَرَائِضِ ‹ باب · حديث 19035

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ , قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «لَا تُعَوَّلُ الْفَرَائِضُ , تُعَوَّلُ الْمَرْأَةُ , وَالزَّوْجُ , وَالْأَبُ , وَالْأُمُّ» يَقُولُ: «هَؤُلَاءِ لَا يَنْقُصُونَ , إِنَّمَا النُّقْصَانُ فِي الْبَنَاتِ وَالْبَنِينَ , وَالْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ»

19035 - حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: فرائض میں عول نہیں ہو گا عورت شوہر اور باپ اور ماں میں عول ہو گا وہ فرماتے ہیں: ان کے حصے میں کمی ہو گی وہ بیٹیوں بیٹوں بھائیوں اور بہنوں کے حصے میں ہوں گی ۔

«هَؤُلَاءِ لَا يَنْقُصُونَ إِنَّمَا النُّقْصَانُ فِي الْبَنَاتِ وَالْبَنِينَ وَالْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ» ← «لَا تُعَوَّلُ الْفَرَائِضُ تُعَوَّلُ الْمَرْأَةُ وَالزَّوْجُ وَالْأَبُ وَالْأُمُّ» ← کَانَ ابْنُ عَبَّاسِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Surplus › Door · Hadith 19035

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الشَّهَادَاتِ ‹ بَابٌ: شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ فِي الرَّضَاعِ وَالنُّفَاسِ · حديث 15427

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «مَضَتِ السُّنَّةُ فِي أَنَّ تَجُوزَ شَهَادَةُ النِّسَاءِ لَيْسَ مَعَهُنَّ رَجُلٌ فِيمَا يَلِينَ مِنْ وِلَادَةِ الْمَرْأَةِ، وَاسْتِهْلَالِ الْجَنِينِ، وَفِي غَيْرِ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النِّسَاءِ الَّذِي لَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ وَلَا يَلِيَهُ إِلَّا هُنَّ، فَإِذَا شَهِدْتِ الْمَرْأَةُ الْمُسْلِمَةُ الَّتِي تُقْبِلُ النِّسَاءَ فَمَا فَوْقَ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ فِي اسْتِهْلَالِ الْجَنِينِ جَازَتْ»

15427 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: ابن شہاب فرماتے ہیں: سنت اس کے بارے میں جاری ہو چکی ہے کہ خواتین کی گواہی اس صورت میں جب ان کےساتھ کوئی مرد نہ ہو ان معاملات میں درست ہو گی جیسے عورت کےہاں بچے کی پیدائش یا بچے کا پیدائش کے وقت چینخ کر رونا یا اس کے جیسے دیگر معاملات ہیں کن کا تعلق خواتین سے ہوتا ہے مرد اس پر مطلع نہیں ہوتے ہیں یہ معاملات صرف عورتوں سے متعلق ہوتے ہیں توجب کوئی عورت اس بارے میں گواہی دےد ے گی تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی جبکہ بچے کی چینخ کر رونے کے بارے میں ایک خاتون سے زیادہ خواتین ہوں تو گواہی درست ہو گی ۔

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · Book of testimonies › Chapter: the testimony of a woman in breastfeeding and postpartum · Hadith 15427

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْفَرَائِضِ ‹ بَابُ الْحَمِيلِ · حديث 19176

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ , قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ «أَلَّا يَتَوَارَثَ الْحَمِيلَانِ فِي وِلَادَةِ الْكُفْرِ»

19176 - عاصم بن سلیمان بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خط لکھا تھا کہ زمانہ کفر میں پیدا ہونے والے حمل ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے ۔

عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ «أَلَّا يَتَوَارَثَ الْحَمِيلَانِ فِي وِلَادَةِ الْكُفْرِ» ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Surplus › The section of the pregnancy · Hadith 19176

chevron_left Previous
1…212223…291
Next chevron_right