حضرت عروہ نے بنی مخزوم کے حلفاء میں سے جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں " حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ " کا نام ذکر کیا ہے ۔
أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أبو جعفر محمد بن عبد الله البغدادي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the governor of Ammar bin Yasser, may God be pleased with him · Hadith 5652
موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن تیمی اور ابن ابی عون اور عاصم بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین میں جو عقد مواخاۃ قائم کیا تھا اس میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا ۔ عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں : حضرت حذیفہ اگرچہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تاہم وہ ایمان بہت پہلے لے آئے تھے ۔ باقی تمام مؤرخین کا کہنا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ جنگ بدر، جنگ احد ، جنگ خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو جنگ یمامہ کے موقع پر دیکھا ، وہ ایک چٹان پر چڑھ کر پکار پکار کہہ رہے تھے : اے مسلمانو ! کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟ میں عمار بن یاسر ہوں ۔ کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟ میں عمار بن یاسر ہوں ۔ آؤ میری جانب آؤ۔ اس وقت میں دیکھ رہا تھا کہ ان کا کان کٹ چکا تھا اور وہ ہل رہا تھا ، لیکن اس کے باوجود آپ شدید جنگ کر رہے تھے ۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام حکم کی آزادہ کردہ لونڈی لو لوءۃ کہتی ہیں : جس دن حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ، اس دن علم کو ابو ہاشم بن عتبہ اٹھائے ہوئے تھے ، اس دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے عصر تک قتال کیا ( لیکن فتح نہیں ہو رہی تھی ) پھر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، انہوں نے ابو ہاشم کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھا ، اس وقت سورج غروب ہونے کے بالکل قریب تھا اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ تھا، آپ ( نے کیونکہ روزہ رکھا ہوا تھا اس لئے آپ ) غروب آفتاب کا انتظار کر رہے تھے ، راوی کہتے ہیں جب سورج غروب ہو گیا اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے وہ دودھ پی لیا تو کہنے لگے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ سنا ہے کہ تیرا دنیا کا آخری کھانا ، پانی ملا ہوا دودھ ہو گا۔ پھر آپ جنگ میں شریک ہو گئے اور شہید ہو گئے شہادت کے وقت آپ کی عمر 94 برس تھی ۔ عمارہ بن خزیمہ بن ثابت فرماتے ہیں : حضرت خزیمہ بن ثابت جنگ جمل میں شریک ہوئے ہیں ۔ لیکن انہوں نے تلوار نہیں سونتی ۔ پھر آپ جنگ صفین میں شریک ہوئے ، آپ نے کہا: میں عمار کو قتل کرنے کی غلطی کبھی نہیں کروں گا ۔ تم دیکھنا ان کو کون شہید کرتا ہے ۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ " تمہیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا" راوی کہتے ہیں : جب حضرت عمار کو شہید کر دیا گیا تو حضرت خذیمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اس آدمی کی گمراہی کا وقت آ گیا ہے پھر وہ اس کے قریب آئے جب حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے قاتل کو دیکھا تو وہ ابو غادیہ مزنی تھا، اس نے نیزے کے ساتھ آپ پر نشانہ مارا جس کی وجہ سے آپ گر پڑے تھے ، آپ نے لڑائی کی لیکن بالآخر شہید ہو گئے ، اس دن آپ 94 برس کے ہونے کے باوجود جہاد کر رہے تھے ، جب آپ گر پڑے تو ایک دوسرا آدمی آ کر آپ کے جسم اطہر پر جھک گیا اور آپ کا سر مبارک کاٹ لیا ، ان دونوں میں لڑائی شروع ہو گئی ، ایک کہتا تھا اس کو میں نے قتل کیا ہے اور دوسرا کہتا تھا کہ اس کو میں نے قتل کیا ہے ۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم ! یہ دوزخ کے حصول کے لئے لڑ رہے ہیں ۔ حضرت عمرو نے کہا: اللہ کی قسم ایسا ہی ہے۔ خدا کی قسم ! تم اس کو جانتے ہو ۔ کاش کہ میں آ ج سے بیس سال پہلے ہی فوت ہو چکا ہوتا۔ ابن ابی عون کہتے ہیں : حضرت عمار بن یاسر کی عمر 91 برس ہو چکی تھی ، ان کی جانب تین آدمی بڑھے ، عقبہ بن عامر جہن رضی اللہ عنہ ، عمر بن حارث خولانی رضی اللہ عنہ اور شریک بن سلمہ رضی اللہ عنہ ۔ یہ تمام لوگ حضرت عمار تک اکٹھے پہنچے ، اس وقت حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے ، خدا کی قسم ! اگر تم لوگ مجھے اتنا مارو کہ مقام ہجر کے کھجوروں کی شاخوں تک پہنچا دو تب بھی میں سمجھوں گا کہ میں حق پر ہوں اور تم باطل پر ہو، اس وقت ان سب نے مل کر ان پر حملہ کیا اور ان کو شہید کر دیا، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ان کو شہید کیا ، اور ایک موقف یہ ہے کہ ان کو عمر بن حارث رضی اللہ عنہ نے شہید کیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ہمراہی میں جنگ صفین میں ماہ صفر 37 ہجری میں شہید کیا گیا ، شہادت کے وقت آپ کی عمر 93 برس تھی ، ان کو صفین ہی میں دفن کیا گیا ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the governor of Ammar bin Yasser, may God be pleased with him · Hadith 5657
ابن اسحاق نے بنی ضبیعہ قبیلہ کی جانب سے رسول اللہﷺ کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں’’حضرت سہل بن حنیف بن واہب بن غا نم بن ثعبلہ بن مجدعہ بن حارث بن عمرہ‘‘کانام ذکر کیا ہے۔یہ عمرووہی ہیں جن کو ’’یخرج‘‘کہا جاتا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Sahl bin Hanif al-Ansari, and his nickname is Abu Thabit, may God be pleased with him · Hadith 5730
عروہ کہتے ہیں:رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جنگ بدر میں انصار کی جانب سے’’حضرت سہل بن حنیف بن واہب بن عکیم بن ثعبلہ بن مجدعہ بن حارث بن عمرو‘‘(بھی)شریک ہوئے۔مئو ر خین کا خیال ہے کہ انہی کو ’’بجدع‘‘کے نام سے پکاراجاتاتھا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Sahl bin Hanif al-Ansari, and his nickname is Abu Thabit, may God be pleased with him · Hadith 5731
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Muadh ibn Amr ibn al-Jamuh, may God be pleased with him · Hadith 5794
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mention of the virtue of Kharash ibn al-Sama, ibn Amr ibn al-Jamuh, may God be pleased with him · Hadith 5799
عروہ کہتے ہیں:بنی زعوراء بن عبدالاشہل کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں ’’حضرت محمد بن مسلمہ بن خالد بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث‘‘ تھے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the follower of Muhammad ibn Muslimah al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 5833
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفَرَائِضِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7985
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فرائض میں سب سے پہلے عول حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ اللہ کی قسم ! اگر قرآن کے مقدم کردہ کو مقدم رکھتے اور قرآن کے مؤخر کردہ کو مؤخر رکھتے تو کسی فرضی حصہ میں عول کی ضرورت نہ پڑتی ، آپ سے پوچھا گیا : کونسے فرائض کو اللہ نے مقدمہ رکھا ہے اور کونسے فرائض کو مؤخر رکھا ہے؟حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اگر کسی فرضی حصے کو اتارتا ہے تو کسی فریضہ ہی کی جانب اتارتا ہے، یہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مقدم کیا ہے ، اور ہر وہ فرضی حصہ جب اپنے فرض سے زائل ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اس کو صرف باقی ماندہ ہی ملے گا، یہ وہ فرائض ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مؤخر کیا ہے جیسا کہ شوہر ، بیوی اور ماں ۔ اور جن کو مؤخر کیا ہے ، وہ جیسے بہنیں اور بیٹیاں ، جب اللہ تعالیٰ کے مقدم کردہ اور مؤخر کردہ سب جمع ہوں تو ان میں مقدمین سے ابتداء کی جائے ، اگر ان سے کچھ بچ جائے تو وہ مؤخرین کے لئے ہوگا۔ اور اگر کچھ بھی نہ بچے تو یہ محروم رہیں گے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد :﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ ﴾ [البقرة: 124] " اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں آزمایا " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )کے متعلق فرماتے ہیں : اللہ تعالی نے ابراہیم کو سر کی پانچ اور جسم کی پانچ طہارتوں میں آزمایا ۔ سر کی طہارتیں یہ تھیں (1) مونچھیں کاٹنا (2) کلی کرنا (3) ناک میں پانی چڑھانا ( 4) مسواک کرنا ( 5) سر میں مانگ نکالنا ۔ اور جسم کی طہارتیں یہ تھیں ( 1 ) ناخن کاٹنا ( 2) موئے زیر ناف مونڈنا ( 3) ختنہ کرنا ( 4) بغلوں کے بال نوچنا ( 5) پیشاب اور پاخانہ کے مقام کو پانی کے ساتھ دھونا ۔ ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔
حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نسب کی وجہ سے سات رشتے حرام کئے گئے ہیں اور نکاح کی وجہ سے بھی سات رشتے حرام کئے گئے ہیں ۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُمۡ وَعَمَّٰتُكُمۡ وَخَٰلَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ " حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ رشتہ داریاں تو نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور ( درج ذیل آیت میں بھی محرمات کی مزید بیان ہے ) وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّٰتِيٓ أَرۡضَعۡنَكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمۡ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِي دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمۡ تَكُونُواْ دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ وَحَلَٰٓئِلُ أَبۡنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنۡ أَصۡلَٰبِكُمۡ وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ ( النساء : 23) " اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں اب بیبیوں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو تو پھر اگر ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بہٹیوں سے کوئی حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیاں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )اور :وَلَا تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ ( النساء : 22)"باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو مگر جو ہو گزرا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیچ کی شاہد ہے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : معراج کی رات رسول اکرم ﷺحضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملے اور قیامت کے متعلق ان میں گفتگو ہوئی ۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا لیکن ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی علم نہ تھا۔ پھر حضرت موسٰی علیہ السلام سے پوچھا تو ان کے پاس بھی قیامت کے متعلق معلوما ت نہ تھیں پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو عیسیٰ علیہ السلام بولے وقوع قیامت کے قریب قریب کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ سے عہد لیا ہے۔اس لئے اس (وقوع قیامت کے معین وقت ) کو ہم نہیں جانتے ۔پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے خروج کا ذکر کیا( فرمایاکہ ) پھر میں اتروں گا اور اس کو قتل کروں گا اور تمام لوگ اپنے اپنے شہروں کو لوٹ جائیں گے اور یاجوج ماجوج ان کو آگے سے آن ملیں گے اور وہ ہر طرف سے امنڈ تے آرہے ہوں گے ۔وہ جس پانی کے قریب سے گزریں گے ، اس کو پی کر ختم کرتے جائیں گے اور جو چیز ان کے راستے میں آئے گی، اس کو تباہ و برباد کرتے جائیں گے۔ پھر لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑ ا کر دعا مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کردے گا پھر ان کی بد بو کی وجہ سے زمین اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرے گی اور تمام لوگ مجھ سے کہیں گے پھر میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگوں گا ،اللہ تعالیٰ پانی کا ایک ریلا بھیجے گا جو ان کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گا، پھر پہاڑوں کو اکھیڑ دیا جائے گا اور زمین ایک دسترخوان کی طرح بچھا دی جائے گی ، پس جب یہ حالات واقع ہو جائیں گے ، (اس سے آگے کے حالات کا ) اللہ تعالیٰ نے مجھ سے عہد لیا ہے کیونکہ اس وقت قیامت اس قدر قریب ہوگی جیسے کسی حاملہ عورت کے دن پورے ہوچکے ہوں ، تو اس کے گھر والوں کو یہ پتہ نہیں ہوتا نہ جانے کس وقت ولادت ہوجائے؟دن میں ہوگی یارات میں ؟۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اس بات کی تصدیق قرآن کریم میں بھی پا لی ( وہ یہ ہے):حتی اذ فتحت یاجوج و ما جوج و ہم من کل حدب ینسلون (الانبیاء : 96) یہاں تک کے کھولے جائیں گے یاجوج و ماجوج اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے"۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ)واقترب الوعد الحق (الانبیاء:97) "اور قریب آیا سچا وعدہ " (ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور آپ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ جہاں جہاں سے آئیں گے اس جگہ کو"حدب" کہتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اس کے راوی "موثر" مجہول نہیں ہے ۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی ہے اور تابعین کی ایک جماعت نے ان سے روایات نقل کی ہیں۔
عروہ فرماتے ہیں: جن لوگوں نے لیلۃ العقبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ان میں بنی غنم بن مالک بن نجار کی جانب سے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے ۔ ان کا نام’’خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ‘‘ ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Ayyub al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 5927
حضرت موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ایسے کسی شخص کونہیں جانتے جس کی چارپشتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ملی ہو،سوائے ان اشخاص کے ۔ حضرت ابوقحافہ، حضرت ابو بکر صدیق ،حضرت عبدالرحمٰن ابن ابی بکر اور ان کا بیٹا ابوعتیق محمد بن عبدالرحمٰن ابن ابی بکر رضی اللہ عنہ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the virtues of Abd al-Rahman bin Abi Bakr al-Siddiq, may God be pleased with them · Hadith 6008
موسیٰ بن عقبہ فرماتے ہیں: ہم ایسے کسی شخص کو نہیں جانتے جس کی چارپشتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیضیاب ہوئی ہوں سوائے ان لوگوں کے ۔حضرت ابوقحافہ ۔ حضرت ابو بکر صدیق ۔حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر اور ابوعتیق محمد بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Ateeq Muhammad ibn Abd al-Rahman ibn Abi Bakr al-Siddiq, may God be pleased with them · Hadith 6024
عروہ بن زبیرفر ماتے ہیں کہ قریش سے تعلق رکھنے والے قبیلہ بنی مخزوم کی جانب سے غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت ارقم بن ابی ارقم مخز ومی رضی اللہ عنہ شامل ہیں ۔ ابوالارقم کے والد کا نام’’ عبد مناف بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم‘‘ ہے۔ آپ بدری صحابی ہیں،آپ،حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اکٹھے مسلمان ہوئےتھے۔ اور حضرت ارقم رضی اللہ عنہ بدری صحابہ کرام میں سب سے آخر میں فوت ہوئے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Al-Arqam Ibn Abi Al-Makhzoumi, may God be pleased with him · Hadith 6127
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Kaab Bin Amr Abu Al-Yasser Al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 6134
حضرت عروہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں ’’ حضرت معتب بن عوف بن عامر بن فضل بن عفیف‘‘ بھی ہیں ۔ یہی صحابی ہیں جنہیں’’ معتب بن حمراء‘‘ کہا جا تا ہے، ان کی کنیت ابوعوف ہے، آپ بنی مخزوم کے حلیف ہیں ، حبشہ کی جانب دوسری ہجرت کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرت ثعلبہ بن حاطب رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا تھا۔ ۷۸ برس کی عمرسن ۵۷ ہجری کوان کا انتقال ہوا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Mutaib bin Al-Hamraa Al-Makhzoumi, may God be pleased with him · Hadith 6138
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8502
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : معراج کی رات حضورصلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی ملاقات ہوئی، ان کے درمیان قیامت کے بارے میں مذاکرہ ہوا، سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑسے پوچھا تو ان کے پاس قیامت کے بارے میں کوئی علم نہ تھا ، پھر موسی ٰؑ سے پوچھا تو انہوں نے بھی کوئی جواب نہ دیا، پھر عیسی ؑسے پوچھا ، انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں میرے پاس اللہ تعالی کی طرف سے وقوع قیامت کے معین دن سے پہلے تک کا علم ہے۔ اس کے واقع ہونے کے معین وقت کو الله تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس کے بعد دجال کے خروج کا ذکر ہوا پھر حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا: پھر میں نازل ہوں گا اور اس کوقتل کروں گا۔ پھر لوگ اپنے وطنوں کی جانب لوٹ جائیں گے، پھر ان کو یاجوج و ماجوج کا سامنا ہوگا، اور وہ ہر جانب سے نکل پڑیں گے ، وہ جس پانی کے پاس سے گزریں گے اس کو پی جائیں گے، . اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے ، اسے تباہ کر دیں گے ، پھر لوگ مجھ سے مدد مانگیں گے ، میں اللہ تعالی سے دعا مانگوں گا،اللہ تعالی ان سب کو ہلا ک فرمادے گا، پھر پوری زمین ان کی وجہ سے بدبودار ہو جائے گی ، لوگ پھر مجھ سے مدد مانگیں گے، میں اللہ تعالی سے دعا مانگوں گا ، اللہ تعالی آسمان سے بارش برسائے گا، برسات کا پانی ان کے جسموں کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گا پھر پہاڑ چلیں گے اور زمین، دسترخوان کی مانند بچھا دی جائے گی، اللہ تعالی کا میرے ساتھ یہ عہد ہے کہ جب یہ معاملات رونما ہو چلیں گے تب قیامت اتنی قریب ہوگی جیسے کسی حاملہ عورت کے دن پورے ہو جائیں تو اس کے ہاں ولادت بالکل قریب ہوتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے یہ آیت پڑھی(ترجمہ )یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج و ماجوج اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے اور قریب آیا سچا وعده" (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رماتے ہیں : معراج کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام سے ہوئی ، پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ، ان سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا تو تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کر دیا ، پھر حضرت موسی علیہ السلام سے پاچھا گیا تو ان کے پاس بھی اس سلسلہ میں معلومات نہ تھیں ، پھر حضرت عیسی علیہ السلام سے یہ سوال کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا : وقوع قیامت سے کے معین وقت سے پہلے تک کی معلومات میرے پاس ہیں ۔ کیونکہ قیامت کے واقع ہونے کا معین وقت صرف اللہ تعالی ہی کو پتہ ہے ، پھر حضرت عیسی علیہ السلام نے دجال کے ظاہر ہونے کا ذکر کیا پھر فرمایا : میں نازل ہو کر اس کو قتل کروں گا ، پھر لوگ اپنے اپنے وطنوں کو واپس لوٹ جائیں گے ۔ پھر ان کا سامنا یاجوج و ماجوج سے ہو گا ، اور وہ بلندی سے ڈھلکیں گے ، وہ پانی کے جس مقام سے گزریں گے ، اس کو ختم کرتے جائیں گے ، اور جہاں جہاں سے گزریں گے ، تباہی پھیلاتے جائیں گے ، پھر لوگ مجھ سے مشکل کشائی چاہیں گے ، میں اللہ سے دعا مانگو گا ، اللہ تعالی برسات نازل فرمائے گا ، اہ ان کے جسموں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی ، پھر پہاڑ اپنی جگہ چھوڑنے لگ جائیں گے ، اور زمین کو ایک دستر خوان کی مانند بچھا دیا جائے گا ، اور اللہ تعالی نے مجھے یہ علم دیا ہے کہ اس وقت قہامت اتنی قریب آ چکی ہو گی جیسے کوئی حاملہ عورت اپنے دن پورے کر چکی ہو تو دن میں یا رات میں کسی بھی وقت ولادت ہو سکتی ہے ( اسی طرح اس وقت قیامت بھی یونہی کسی بھی وقت اچانک قائم ہو جائے گی ) حضرت عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس بات کی تصدیق مجھے قرآن کریم میں بھی مل گئی ، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی " حَتَّىٰٓ إِذَا فُتِحَتۡ يَأۡجُوجُ وَمَأۡجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٖ يَنسِلُونَ ٩٦ وَٱقۡتَرَبَ ٱلۡوَعۡدُ ٱلۡحَقُّ(الانبیاء:96:97)""یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج و ماجوج اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوںض گے اور قریب آ گیا سچا وعدہ " (ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا )
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ( اللہ تعالیٰ کے ارشاد ) : ﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ٤﴾ [البلد: 4]" ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ) فرماتے ہیں : پیدائش میں مشقت ، اس کے دانت اگنے میں مشقت ، اس کے روزگار اور ختنہ میں مشقت ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔