Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

تربية الأبناء

Children & Parenting

5818 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْخَزْرَجِيِّ النَّقِيبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5096

5096 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ وَمِنْ بَنِي سَاعِدَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْخَزْرَجِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ كَانَ حَامِلَ رَايَةِ الْأَنْصَارِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ وَغَيْرِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5096 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت عروہ نے بیعت عقبہ میں بنی ساعدہ بن کع ب خزرج میں شریک ہونے والوں میں سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام ذکر کیا ہے۔ جنگ بدر وغیرہ کے دن انصار کے علم بردار یہی تھے۔

أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5096

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5108

5108 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ وَكَانَ أَخَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَابْنَ عَمِّهِ أَرْضَعَتْهُ حَلِيمَةُ أَيَّامًا، فَكَانَ يَأْلَفُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَاهُ وَهَجَاهُ وَهَجَا أَصْحَابَهُ، فَمَكَثَ عِشْرِينَ سَنَةً مُغَاضِبًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَخَلَّفُ عَنْ مَوْضِعٍ تَسِيرُ فِيهِ قُرَيْشٌ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا ذُكِرَ شُخُوصُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِهِ الْإِسْلَامَ، فَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ نُزُولِهِ الْأَبْوَاءَ، فَأَسْلَمَ هُوَ وَابْنُهُ جَعْفَرٌ، وَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ فَتْحَ مَكَّةَ وَحُنَيْنًا قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَلَمَّا لَقِينَا الْعَدُوَّ بِحُنَيْنٍ اقْتَحَمْتُ عَنْ فَرَسِي وَبِيَدِي السَّيْفُ صَلْتًا، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي أُرِيدُ الْمَوْتَ دُونَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيَّ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَخُوكَ وَابْنُ عَمِّكَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ فَارْضَ عَنْهُ، قَالَ: «قَدْ فَعَلْتُ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ كُلَّ عَدَاوَةٍ عَادَانِيهَا» ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: «أَخِي لَعَمْرِي» فَقَبَّلْتُ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ، قَالُوا: وَمَاتَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بِالْمَدِينَةِ بَعْدَ أَخِيهِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بِأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ إِلَّا ثَلَاثَةَ عَشَرَ لَيْلَةً، وَيُقَالُ: مَاتَ سَنَةَ عِشْرِينَ وَصَلَّى عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَقُبِرَ فِي دَارِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِالْبَقِيعِ، وَهُوَ الَّذِي حَفَرَ قَبْرَ نَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ «قَدْ ذَكَرْتُ إِسْلَامَ أَبِي سُفْيَانَ فِي فَتْحِ مَكَّةَ فِيمَا تَقَدَّمَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5108 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن عمر نے حضرت ابو سفیان کا نام یوں ذکر کیا ہے " ابو سفیان حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی ہیں اور چچا زاد بھائی بھی ہیں۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کئی دن ان کو دودھ پلایا ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت پیار کیا کرتے تھے۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو یہ بہت سخت دشمنی کرنے لگا۔ آپ کو اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ 20 سال تک یہ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دشمنی کرتا رہا، جب بھی قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگ کی ، یہ اس میں لازمی شریک ہوئے۔ پھر جب فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکہ میں آنے کی اطلاع ملی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام کی ہیبت ڈال دی، چنانچہ حضور ﷺ کے مکہ آنے سے پہلے ہی یہ اپنے بیٹے جعفر کو ساتھ لے گئے اور مقام ابواء پر جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کر لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مکہ کی جانب روانہ ہوئے اور فتح مکہ اور جنگ حنین میں شریک ہوئے۔ حضرت سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: جب جنگ حنین میں ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی ، میں اپنے گھوڑے کو حقیر جاتے ہوئے اس سے نیچے اتر آیا، میرے ہاتھ میں تلوار سونتی ہوئی تھی۔ خدا کی قسم! میں صرف موت کا ارادہ کئے ہوئے تھا جبکہ نبی اکرم ﷺ مجھے دیکھ رہے تھے، حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آپ کا بھائی اور آپ کا چچا زاد ، ابو سفیان بن حارث ہے، آپ اس سے راضی ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی وہ تمام دشمنی معاف فرمائے جو آج تک انہوں نے میرے ساتھ کی ہے، پھر آپ کی جانب متوجہ ہوئے اور بولے: میری عمر کی قسم یہ میرا بھائی ہے۔ میں نے رکاب میں آپ کے قدموں کا بوسہ لیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ حضر ت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے بھائی نوفل بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے تین ماہ اور سترہ دن بعد مدینہ میں وفات پا گئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سن 20 ہجری میں فوت ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع کے اند دار عقیل بن ابی طالب میں ان کا روضہ مبارک بنایا گیا، یہی وہ صحا بی ہیں جنہوں نے اپنی وفات سے تین دن پہلے خود ہی اپنے لئے قبر کھود لی تھی۔ حضرت سفیان بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ اس سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔

مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدِ بْنِ بَطَّةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of the virtue of Abu Sufyan ibn al-Harith ibn Abd al-Muttalib, may God be pleased with him · Hadith 5108

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ نُعَيْمِ النَّحَّامِ الْعَدَوِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5129

5129 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، «فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أَجْنَادِينَ مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامِ» قَالَ: «وَذَلِكَ سَنَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ» فَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ: «أَنَّ نُعَيْمَ النَّحَّامَ قُتِلَ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ شَهِيدًا فِي رَجَبٍ سَنَةَ خَمْسَ عَشْرَةَ»

حضرت عروہ نے قریش کے خاندان بنی عدی بن کعب میں سے اجنادین کے دن شرکت کرنے والے لوگوں میں نعیم بن عبداللہ کا نام ذکرکیا ہے۔ یہ 13 ہجری کا واقعہ ہے۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Na'im An-Nhim al-Adi, may God be pleased with him · Hadith 5129

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5203

5203 - أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عُمَرَ بْنِ زُرَارَةَ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ هَاجَرَ إِلَى الْحَبَشَةِ شُرَحْبِيلُ ابْنُ حَسَنَةَ هَاجَرَتْ أُمُّهُ حَسَنَةُ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مَعَ زَوْجِهَا سُفْيَانَ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ جُمَحٍ»

محمدبن اسحاق نے حبشہ کی جانب ہجرت کرنے والوں میں شرحبیل بن حسنہ کا بھی ذکر کیا ہے ان کی والدہ اپنے شوہر سفیان بن معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح کے ہمراہ حبشہ کی جانب ہجرت کی ۔

زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَکَّائِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عُمَرَ بْنِ زُرَارَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mention of the virtues of Sharabeel ibn Hasanah, may God be pleased with him · Hadith 5203

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ اللَّخْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5303

5303 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ: «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ حَلِيفٌ لَهُمْ»

حضرت عروہ نے اسد بن عبدالعزی میں سے جنگ بدر میں شرکت کرنے والوں میں حضرت حاطب ابن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔ یہ ان کے حلیف تھے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Hatib bin Abi Balatat al-Lakhmi, may God be pleased with him · Hadith 5303

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5349

5349 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْفَقِيهُ، ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ، ثَنَا أَبِي، أَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ: " فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ بْنِ زُهَيْرٍ "

ابو الاسود نےبنی زہرہ بن کلاب بن مرہ میں سےجنگ بدر میں رسول اللہ ﷺ کےہمراہ شریک ہونے والوں میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف بن زہیر رضی اللہ عنہ کانام ذکر کیا ہے۔

ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the governor of Abd al-Rahman bin Awf al-Zuhri, may God be pleased with him · Hadith 5349

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5369

5369 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ حُلَفَاءِ بَنِي زُهْرَةَ بْنِ كِلَابٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ» ، قَالَ عُرْوَةُ: «وَمِمَّنْ هَاجَرَ إِلَى الْحَبَشَةِ الْهِجْرَةَ الْأُولَى قَبْلَ خُرُوجِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ»

عروہ نے بنی زہراہ بن کلاب کےحلیفوں میں سے جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام ذکر کیا ہے۔ نیز عروہ کہتے ہیں : حبشہ کی جانب پہلی دفعہ ہجرت کرنے والوں میں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the virtue of Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 5369

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7474

7474 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا» قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: «وَكَانَ أَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَهُ لَمْ يَحْتَلِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7474 - على شرط مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگوانے کی اجازت مانگی نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ عائشہ کو پچھنے لگائیں راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ ابو طیبہ ام المومنین کا رضاعی بھائی تھا یا ان کا رشتہ دار کوئی نابالغ لڑکا تھا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7474

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الذَّبَائِحِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7587

7587 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى يَوْمَ السَّابِعِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7587 - صحيح

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بچے کا عقیقہ لازمی کرو اس کی جانب سے ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے ( یعنی عقیقہ کیا جائے ) اس کا سر مونڈا جائے اور ساتویں دن ہی اس کا نام رکھا جائے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Offering Book › The merits of all Arabs · Hadith 7587

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الذَّبَائِحِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7592

7592 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا جَدِّي، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْحِزَامِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: «لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ مَنْ وُلِدَ لَهُ مِنْكُمْ مَوْلُودٌ فَأُحِبُّ أَنْ يُنْسِكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7592 - صحيح

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نا پسند نہیں کرتا جس کے ہاں بچہ پیدا ہو مجھے یہ پسند ہے کہ اس کی جانب سے جانور ذبح کیا جائے لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

الْعَقِيقَةِ. ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Offering Book › The merits of all Arabs · Hadith 7592

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الذَّبَائِحِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7593

7593 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةً فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى» قَالَ جَرِيرٌ: سُئِلَ الْحَسَنُ، عَنِ الْأَذَى؟ فَقَالَ: «هُوَ الشَّعْرُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7593 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لڑکے کا عقیقہ کیا جائے اسکی جانب سے جانور ذبح کیا جائے اور اس سے اذی صاف کر دی جائے حضرت جریر فرماتے ہیں حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے اذی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اس سے مراد سر کے بال ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔

الْأَذَى؟ ← جَرِيرٌ: سُئِلَ الْحَسَنُ ← إِنَّ مع الغلام عقيقة فأهريقوا عنه دما وأميطوا عنه الأذى. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Offering Book › The merits of all Arabs · Hadith 7593

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2692

2692 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا هَاشِمُ بْنُ يُونُسَ الْعَصَّارُ، بِمِصْرَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ هُوَ ابْنُ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ ابْنَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَتَبَنَّاهُ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ، فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ، فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: 5] فَرَدُّوهُمْ إِلَى آبَائِهِمْ فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ، كَانَ مَوْلَاهُ أَوْ أَخَاهُ فِي الدِّينِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَإِنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْعَامِرِيِّ وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ ذَلِكَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ آوَاهُ، فَكَانَ يَأْوِي مَعَهُ، وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ، وَيَرَانِي وَأَنَا فَضْلٌ، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَمَا تَرَى فِي شَأْنِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ» فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، فَحُرِّمَ بِهِنَّ، وَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَفِيهِ أَنَّ الشَّرِيفَةَ تُزَوَّجُ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2692 - على شرط البخاري

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں، ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ انہوں نے ایک انصاری خاتون کے غلام ’’ سالم‘‘ کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا اور اپنے بھائی ولید بن عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی ہند کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا ۔جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا ، اسی طرح حذیفہ نے بھی سالم کو منہ بولا بیٹا بنا لیا ۔ ان لوگوں کی عادت یہ تھی لوگ اس بیٹے کو اسی متنبی( یعنی جس نے بیٹا بنایا ہے) کہ نسب سے پکارا کرتے تھے اور اس کی وراثت سے بھی حصہ دیتے تھے ۔پھر یہ آیت نازل ہوگئی: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ﴾ [الأحزاب: 5] ’’انہیں ان کے باپ کا ہی کہہ کر پکارا کرو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے۔ پھر اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد ‘‘ (ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا ) تو لوگوں نے ان کو ان کے باپوں کے ناموں سے پکارنا شروع کر دیا اور جس کے باپ کا پتا نہ چل سکے تو پھر اس کا آقا یا دینی بھائی زیادہ مستحق ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہے۔ سہیل بن عمرو القرشی عامری کی بیٹی سھلہ، ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کے نکاح میں تھیں ۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو سالم بچہ کو سمجھتے ہیں ، اور رسول اللہ نے اپنے منہ بولے بیٹے کو اپنے گھر میں رہائش دے دی تھی اس طرح یہ بھی اب ابو حزیفہ کے ہمراہ انہی کے گھر میں رہتے ہیں ۔ اور میں گھر کے کپڑوں میں ہوتی ہوں اور مجھ پر اس کی نظر پڑتی ہے۔ اور اب تو قرآن کریم کی آیت بھی نازل ہوچکی ہے۔ جس کو آپ بخوبی جانتے ہیں ۔تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس سلسلے میں کیا کروں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مشورہ دیا کہ تو اس کو دودھ پلا دے ۔اس نے اس کو پانچ گونٹ دودھ پلا دیا تو وہ ان پر حرام ہو گیا ، اس کے بعد وہ اس کے رضاعی بیٹوں کی طرح ہوگیا ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور اس میں یہ ہے۔ کہ ’’ شریف عورت کا ہر مسلمان سے نکاح ہوسکتا ہے‘‘۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ هُوَ ابْنُ مُسَافِرٍ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← هَاشِمُ بْنُ يُونُسَ الْعَصَّارُ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2692

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2734

2734 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصَابَهُ مُصِيبَةٌ، فَلْيَقُلْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا، وَأَبْدِلْنِي خَيْرًا مِنْهَا " فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُهَا، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا بَلَغْتُ أَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا، قُلْتُ فِي نَفْسِي: مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ ثُمَّ قُلْتُهَا، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ لِابْنِهَا: يَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَوَّجَهُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا لِيَدْخُلَ بِهَا، فَإِذَا رَأَتْهُ أَخَذَتِ ابْنَتَهَا زَيْنَبَ فَجَعَلَتْهَا فِي حِجْرِهَا، فَيَنْقَلِبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلِمَ بِذَلِكَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَكَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةَ، فَجَاءَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: أَيْنَ هَذِهِ الْمَقْبُوحَةُ الْمَنْبُوحَةُ الَّتِي قَدْ آذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَخَذَهَا، فَذَهَبَ بِهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَضْرِبُ بِبَصَرِهِ فِي جَوَانِبِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: «مَا فَعَلَتْ زُنَابُ؟» قَالَ: جَاءَ عَمَّارٌ فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا، فَبَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ شَيْئًا مِمَّا أَعْطَيْتُ، فُلَانَةً رَحَاتَيْنِ وَجَرَّتَيْنِ، وَمِرْفَقَةً حَشْوُهَا لِيفٌ» وَقَالَ: «إِنْ سَبَّعْتُ لَكَ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2734 - على شرط النسائي

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی کو کوئی مصیبت آئے تو وہ کہے : ’’ان للہ وانا الیہ راجعون ، اللھم عندک احتسب مصیبتی فا جرنی فیھا ، وابدلی خیرامنھا ‘‘۔’’ ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی جانب ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے ۔اے اللہ ! میں اپنی مصیبت کا تجھ ہی سے ثواب چاہتا ہوں تو مجھے اس میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہتر عدل عطا فرما ۔(ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتی ہیں جب ان کے شوہر ) ابو سلمہ کا انتقال ہوگیا تو میں نے یہ دعا پڑھی ، اور دعا پڑھتے ہوئے جب میں کہ الفاظ پر پہنچتی تو میں اپنے دل میں سوچتی کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے لیکن بہرحال میں یہ پڑھتی رہی جب ان کی عدت گزر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ ان کی جانب سے پیغام نکاح بھیجا ، انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عمر ! جاؤ اور اس کا (یعنی میرا ) نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کردو ۔ چنانچہ ان کے بیٹے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا ۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ حوصلم ان کے ساتھ ہمبستری کے لیے تشریف لاتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیتی ، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (بغیر ہمبستری )کے واپس چلے جاتے ۔اس بات کا عمار بن یاسر کو پتہ چلا ، عمار رضی اللہ تعالی عنہ حضرت سلمہ کے رضاعی بھائی تھے ،وہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے اور بولے :کہاں ہے یہ قبیحہ اور گالیوں کی مستحق ؟ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے ۔عمار اس (زینب ) کو اپنے ساتھ لے کر چلے گئے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمرے کی چاروں جانب نظریں گھما کر دیکھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زینب کہیں نظر نہ آئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا زینب کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا: عمار آئے تھے وہ اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمبستری کی اور فرمایا: میں نے جو کچھ دوسری ازواج کو دیا ہے تجھے اس سے کم نہیں دوں گا ، وہ دو چکیاں ، دو مٹکے اور ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تجھے ساتھ چیزیں دو ں تو پھر تمام بیویوں کو سات سات دوں گا ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أمه أم سَلمَة ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2734

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2739

2739 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ أَنْ يَتَيَسَّرَ خِطْبَتُهَا، وَأَنْ يَتَيَسَّرَ صَدَاقُهَا، وَأَنْ يَتَيَسَّرَ رَحِمُهَا» قَالَ عُرْوَةُ: «يَعْنِي يَتَيَسَّرُ رَحِمُهَا لِلْوِلَادَةِ» قَالَ عُرْوَةُ: " وَأَنَا أَقُولُ مِنْ عِنْدِي: مِنْ أَوَّلِ شُؤْمِهَا أَنْ يَكْثُرَ صَدَاقُهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2739 - على شرط مسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کی نیک بختی میں سے یہ بھی ہے کہ اس کو آسانی سے پیغام نکاح ملے ، اور اس کا حق مہر بھی آسان ہو ،اور اس کا رحم بھی آسام ہو۔عروہ فرماتے ہیں: یعنی کے لئے اس کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔عروہ فرماتے ہیں: اور (اس مقام پر ) میں اپنی طرف سے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ عورت کی سب سے پہلی بدبختی یہ ہے کہ اس کا حق مہر بہت زیادہ ہو ۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أسامة بن زيد أن صفوان بن سليم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2739

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْأَنْصَارِيِّ صَاحِبِ الْأَذَانِ · حديث 5444

5444 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، وَالْعَقَبَةِ، مِنْ بَنِي جُشَمِ بْنِ الْحَارِثِ، وَزَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ، وَهُمَا التَّوْأَمَانِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، وَهُوَ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ فَجَاءَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ بِهِ»

ابن اسحاق نے بنی ہاشم بن حارث میں سے اور بنی زید بن حارث میں سے بیعت عقبہ اور جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں عبداللہ بن زید بن عبدربہ بن ثعلبہ کا نام بھی ذکر کیا ہے ۔ یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے خواب میں اذان دیکھی تھی انہوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو سنائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس ( کو جاری کرنے ) کا حکم دے دیا۔

يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of the Maqib Abd Allah ibn Zayd ibn Abd Rabbh al-Ansari with the Adhan · Hadith 5444

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مَنَاقِبُ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو الْكِنْدِيُّ وَهُوَ الَّذِي قِيلَ لَهُ ابْنُ الْأَسْوَدِ · حديث 5480

5480 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، وَمِنْ حُلَفَائِهِمُ الْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو»

عروہ سے مروی ہے کہ بنی زہرہ اور ان کے حلیفوں میں سے جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہونے والوں میں " حضرت مقداد بن عمرو " ہیں ۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The Niqab of Al-Miqdad Ibn Amru Al-Kindi, and he is the one who was said to him Ibn Al-Aswad · Hadith 5480

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي طَلْحَةَ زَيْدِ بْنِ سَهْلِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5499

5499 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثَنَا الْأَسْوَدُ، عَنْ عُرْوَةَ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَيْعَةَ الْعَقَبَةِ، ثُمَّ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ أَبُو طَلْحَةَ وَهُوَ زَيْدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ حَرَامِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ»

عروہ نے بنی عمرو بن مالک بن نجار میں سے بیعت عقبہ اور جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ عنہ کا نام ذکر کیا ہے ان کا نام " زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ " ہے ۔

الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The virtue of Abu Talhah Zayd ibn Sahl al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 5499

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5510

5510 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، " فِي تَسْمِيَةِ السَّبْعِينَ الَّذِينَ شَهِدُوا الْعَقَبَةَ، قَالَ: وَمِنْ بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ أَصْرَمَ بْنِ بَهْزِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غَنْمِ بْنِ سَالِمٍ نَقِيبٌ شَهِدَ بَدْرًا، وَالْمَشَاهِدَ كُلَّهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

ابن اسحاق ، بیعت عقبہ میں شامل ہونے والے ستر صحابہ کرام یں ان کا نام لکھتے ہوئے فرماتے ہیں : بنی سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج میں سے " حضرت عبادہ بن صامت بن قیس بن اصرم بن بہز بن ثعلبہ بن غنم بن سالم " ہیں ۔ یہ خطیب بھی تھے ، جنگ بدر سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے ۔

ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي تَسْمِيَةِ السَّبْعِينَ الَّذِينَ شَهِدُوا الْعَقَبَةَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the modes of worship of the son of the silent, may God be pleased with him · Hadith 5510

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5513

5513 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدُ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، «فِي تَسْمِيَةِ الَّذِينَ شَهِدُوا الْعَقَبَةَ فَبَايِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، قَالَ: «وَمِنْ بَنِي عَوْفٍ، ثُمَّ مِنْ بَنِي سَالِمِ بْنِ جَعْفَرٍ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ وَهُوَ نَقِيبٌ وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا»

حضرت عروہ نے عقبہ میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : بنی عوف میں سے ، پھر بنی سالم بن جعفر میں سے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہیں جو کہ نقیب بھی تھے اور جنگ بدر میں بھی شریک ہوئے ۔

عُرْوَةَ، «فِي تَسْمِيَةِ الَّذِينَ شَهِدُوا الْعَقَبَةَ فَبَايِعُوا رَسُولَ اللَّهِ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the modes of worship of the son of the silent, may God be pleased with him · Hadith 5513

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ وَيُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5638

5638 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ " فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ: خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ "

حضرت عروہ نے شرکائے بدر میں حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا نام بھی ذکر کیا ہے ۔

خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ ← عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Khabab Ibn al-Arat and the name Aba Abd Allah, may God be pleased with him · Hadith 5638

chevron_left Previous
1…161718…291
Next chevron_right