حضرت عروہ نے بیعت عقبہ میں بنی ساعدہ بن کع ب خزرج میں شریک ہونے والوں میں سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام ذکر کیا ہے۔ جنگ بدر وغیرہ کے دن انصار کے علم بردار یہی تھے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5096
محمد بن عمر نے حضرت ابو سفیان کا نام یوں ذکر کیا ہے " ابو سفیان حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی ہیں اور چچا زاد بھائی بھی ہیں۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کئی دن ان کو دودھ پلایا ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت پیار کیا کرتے تھے۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو یہ بہت سخت دشمنی کرنے لگا۔ آپ کو اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ 20 سال تک یہ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دشمنی کرتا رہا، جب بھی قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگ کی ، یہ اس میں لازمی شریک ہوئے۔ پھر جب فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکہ میں آنے کی اطلاع ملی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام کی ہیبت ڈال دی، چنانچہ حضور ﷺ کے مکہ آنے سے پہلے ہی یہ اپنے بیٹے جعفر کو ساتھ لے گئے اور مقام ابواء پر جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کر لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مکہ کی جانب روانہ ہوئے اور فتح مکہ اور جنگ حنین میں شریک ہوئے۔ حضرت سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: جب جنگ حنین میں ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی ، میں اپنے گھوڑے کو حقیر جاتے ہوئے اس سے نیچے اتر آیا، میرے ہاتھ میں تلوار سونتی ہوئی تھی۔ خدا کی قسم! میں صرف موت کا ارادہ کئے ہوئے تھا جبکہ نبی اکرم ﷺ مجھے دیکھ رہے تھے، حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آپ کا بھائی اور آپ کا چچا زاد ، ابو سفیان بن حارث ہے، آپ اس سے راضی ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی وہ تمام دشمنی معاف فرمائے جو آج تک انہوں نے میرے ساتھ کی ہے، پھر آپ کی جانب متوجہ ہوئے اور بولے: میری عمر کی قسم یہ میرا بھائی ہے۔ میں نے رکاب میں آپ کے قدموں کا بوسہ لیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ حضر ت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے بھائی نوفل بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے تین ماہ اور سترہ دن بعد مدینہ میں وفات پا گئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سن 20 ہجری میں فوت ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع کے اند دار عقیل بن ابی طالب میں ان کا روضہ مبارک بنایا گیا، یہی وہ صحا بی ہیں جنہوں نے اپنی وفات سے تین دن پہلے خود ہی اپنے لئے قبر کھود لی تھی۔ حضرت سفیان بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ اس سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of the virtue of Abu Sufyan ibn al-Harith ibn Abd al-Muttalib, may God be pleased with him · Hadith 5108
حضرت عروہ نے قریش کے خاندان بنی عدی بن کعب میں سے اجنادین کے دن شرکت کرنے والے لوگوں میں نعیم بن عبداللہ کا نام ذکرکیا ہے۔ یہ 13 ہجری کا واقعہ ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Na'im An-Nhim al-Adi, may God be pleased with him · Hadith 5129
محمدبن اسحاق نے حبشہ کی جانب ہجرت کرنے والوں میں شرحبیل بن حسنہ کا بھی ذکر کیا ہے ان کی والدہ اپنے شوہر سفیان بن معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح کے ہمراہ حبشہ کی جانب ہجرت کی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mention of the virtues of Sharabeel ibn Hasanah, may God be pleased with him · Hadith 5203
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Hatib bin Abi Balatat al-Lakhmi, may God be pleased with him · Hadith 5303
ابو الاسود نےبنی زہرہ بن کلاب بن مرہ میں سےجنگ بدر میں رسول اللہ ﷺ کےہمراہ شریک ہونے والوں میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف بن زہیر رضی اللہ عنہ کانام ذکر کیا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the governor of Abd al-Rahman bin Awf al-Zuhri, may God be pleased with him · Hadith 5349
عروہ نے بنی زہراہ بن کلاب کےحلیفوں میں سے جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام ذکر کیا ہے۔ نیز عروہ کہتے ہیں : حبشہ کی جانب پہلی دفعہ ہجرت کرنے والوں میں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the virtue of Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 5369
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7474
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگوانے کی اجازت مانگی نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ عائشہ کو پچھنے لگائیں راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ ابو طیبہ ام المومنین کا رضاعی بھائی تھا یا ان کا رشتہ دار کوئی نابالغ لڑکا تھا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بچے کا عقیقہ لازمی کرو اس کی جانب سے ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے ( یعنی عقیقہ کیا جائے ) اس کا سر مونڈا جائے اور ساتویں دن ہی اس کا نام رکھا جائے ۔
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نا پسند نہیں کرتا جس کے ہاں بچہ پیدا ہو مجھے یہ پسند ہے کہ اس کی جانب سے جانور ذبح کیا جائے لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لڑکے کا عقیقہ کیا جائے اسکی جانب سے جانور ذبح کیا جائے اور اس سے اذی صاف کر دی جائے حضرت جریر فرماتے ہیں حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے اذی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اس سے مراد سر کے بال ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں، ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ انہوں نے ایک انصاری خاتون کے غلام ’’ سالم‘‘ کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا اور اپنے بھائی ولید بن عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی ہند کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا ۔جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا ، اسی طرح حذیفہ نے بھی سالم کو منہ بولا بیٹا بنا لیا ۔ ان لوگوں کی عادت یہ تھی لوگ اس بیٹے کو اسی متنبی( یعنی جس نے بیٹا بنایا ہے) کہ نسب سے پکارا کرتے تھے اور اس کی وراثت سے بھی حصہ دیتے تھے ۔پھر یہ آیت نازل ہوگئی: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ﴾ [الأحزاب: 5] ’’انہیں ان کے باپ کا ہی کہہ کر پکارا کرو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے۔ پھر اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد ‘‘ (ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا ) تو لوگوں نے ان کو ان کے باپوں کے ناموں سے پکارنا شروع کر دیا اور جس کے باپ کا پتا نہ چل سکے تو پھر اس کا آقا یا دینی بھائی زیادہ مستحق ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہے۔ سہیل بن عمرو القرشی عامری کی بیٹی سھلہ، ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کے نکاح میں تھیں ۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو سالم بچہ کو سمجھتے ہیں ، اور رسول اللہ نے اپنے منہ بولے بیٹے کو اپنے گھر میں رہائش دے دی تھی اس طرح یہ بھی اب ابو حزیفہ کے ہمراہ انہی کے گھر میں رہتے ہیں ۔ اور میں گھر کے کپڑوں میں ہوتی ہوں اور مجھ پر اس کی نظر پڑتی ہے۔ اور اب تو قرآن کریم کی آیت بھی نازل ہوچکی ہے۔ جس کو آپ بخوبی جانتے ہیں ۔تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس سلسلے میں کیا کروں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مشورہ دیا کہ تو اس کو دودھ پلا دے ۔اس نے اس کو پانچ گونٹ دودھ پلا دیا تو وہ ان پر حرام ہو گیا ، اس کے بعد وہ اس کے رضاعی بیٹوں کی طرح ہوگیا ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور اس میں یہ ہے۔ کہ ’’ شریف عورت کا ہر مسلمان سے نکاح ہوسکتا ہے‘‘۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی کو کوئی مصیبت آئے تو وہ کہے : ’’ان للہ وانا الیہ راجعون ، اللھم عندک احتسب مصیبتی فا جرنی فیھا ، وابدلی خیرامنھا ‘‘۔’’ ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی جانب ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے ۔اے اللہ ! میں اپنی مصیبت کا تجھ ہی سے ثواب چاہتا ہوں تو مجھے اس میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہتر عدل عطا فرما ۔(ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتی ہیں جب ان کے شوہر ) ابو سلمہ کا انتقال ہوگیا تو میں نے یہ دعا پڑھی ، اور دعا پڑھتے ہوئے جب میں کہ الفاظ پر پہنچتی تو میں اپنے دل میں سوچتی کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے لیکن بہرحال میں یہ پڑھتی رہی جب ان کی عدت گزر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ ان کی جانب سے پیغام نکاح بھیجا ، انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عمر ! جاؤ اور اس کا (یعنی میرا ) نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کردو ۔ چنانچہ ان کے بیٹے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا ۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ حوصلم ان کے ساتھ ہمبستری کے لیے تشریف لاتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیتی ، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (بغیر ہمبستری )کے واپس چلے جاتے ۔اس بات کا عمار بن یاسر کو پتہ چلا ، عمار رضی اللہ تعالی عنہ حضرت سلمہ کے رضاعی بھائی تھے ،وہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے اور بولے :کہاں ہے یہ قبیحہ اور گالیوں کی مستحق ؟ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے ۔عمار اس (زینب ) کو اپنے ساتھ لے کر چلے گئے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمرے کی چاروں جانب نظریں گھما کر دیکھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زینب کہیں نظر نہ آئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا زینب کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا: عمار آئے تھے وہ اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمبستری کی اور فرمایا: میں نے جو کچھ دوسری ازواج کو دیا ہے تجھے اس سے کم نہیں دوں گا ، وہ دو چکیاں ، دو مٹکے اور ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تجھے ساتھ چیزیں دو ں تو پھر تمام بیویوں کو سات سات دوں گا ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کی نیک بختی میں سے یہ بھی ہے کہ اس کو آسانی سے پیغام نکاح ملے ، اور اس کا حق مہر بھی آسان ہو ،اور اس کا رحم بھی آسام ہو۔عروہ فرماتے ہیں: یعنی کے لئے اس کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔عروہ فرماتے ہیں: اور (اس مقام پر ) میں اپنی طرف سے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ عورت کی سب سے پہلی بدبختی یہ ہے کہ اس کا حق مہر بہت زیادہ ہو ۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔
عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أسامة بن زيد أن صفوان بن سليم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2739
ابن اسحاق نے بنی ہاشم بن حارث میں سے اور بنی زید بن حارث میں سے بیعت عقبہ اور جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں عبداللہ بن زید بن عبدربہ بن ثعلبہ کا نام بھی ذکر کیا ہے ۔ یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے خواب میں اذان دیکھی تھی انہوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو سنائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس ( کو جاری کرنے ) کا حکم دے دیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of the Maqib Abd Allah ibn Zayd ibn Abd Rabbh al-Ansari with the Adhan · Hadith 5444
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The Niqab of Al-Miqdad Ibn Amru Al-Kindi, and he is the one who was said to him Ibn Al-Aswad · Hadith 5480
عروہ نے بنی عمرو بن مالک بن نجار میں سے بیعت عقبہ اور جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ عنہ کا نام ذکر کیا ہے ان کا نام " زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ " ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The virtue of Abu Talhah Zayd ibn Sahl al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 5499
ابن اسحاق ، بیعت عقبہ میں شامل ہونے والے ستر صحابہ کرام یں ان کا نام لکھتے ہوئے فرماتے ہیں : بنی سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج میں سے " حضرت عبادہ بن صامت بن قیس بن اصرم بن بہز بن ثعلبہ بن غنم بن سالم " ہیں ۔ یہ خطیب بھی تھے ، جنگ بدر سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the modes of worship of the son of the silent, may God be pleased with him · Hadith 5510
حضرت عروہ نے عقبہ میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : بنی عوف میں سے ، پھر بنی سالم بن جعفر میں سے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہیں جو کہ نقیب بھی تھے اور جنگ بدر میں بھی شریک ہوئے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the modes of worship of the son of the silent, may God be pleased with him · Hadith 5513
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Khabab Ibn al-Arat and the name Aba Abd Allah, may God be pleased with him · Hadith 5638