Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

تربية الأبناء

Children & Parenting

5818 hadiths

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 227

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ. نَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، نَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا، فَذَكَرُوا مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ. فَقَالَ مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ: إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. وَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ: لَا حَتَّى يَدْفُقَ. قَالَ أَبُو مُوسَى: أَنَا آتِيكُمْ بِالْخَبَرِ. فَقَامَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا. فَسَلَّمَ. ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَأَنَا أَسْتَحِي مِنْهُ. فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحْيِ أَنْ تَسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ تَسْأَلُ عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ. فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ. قَالَ: قُلْتُ: مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ؛ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ".

’’حضرت ابو موسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ وہ (صحابہ کرام ) بیٹھے ہوئے تھے توانہوں نےغسل واجب کرنے والی چیز کا تذکرہ کیا۔ حاضرین میں سے ایک مہاجر صحابی نے فرمایا: ’’جب ختنہ (شرم گاہ ) ختنے سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔‘‘ حاضرین میں سے ایک انصاری صحابی نے فرمایا : ’’نہیں حتی کہ وہ (منی ) زور اور جوش سے نکل جائے ۔ ‘‘(اس تذکرے کوسن کر ) حضرت ابو موسی ؓ نے کہا :میں تمہیں اس کے متعلق خبر لا کر دیتا ہوں ۔ وہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے ، انہیں سلام کیا ، پھر عرض کی : میں آ پ سے ایک چیز کے متعلق پو چھنا چاہتا ہوں مگر اس سے شرماتا ہوں ۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: ’’ایسا سوال پوچھتے ہوئے مت شرماؤ جسے تم اپنے جنبے والی ( حقیقی ) ماں سے پو چھ سکتے ہو۔ بے شک میں بھی تمہاری ماں ہوں ۔‘‘کہتے ہیں ، میں نے عرض کی : غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا:تم علم والے ( باخبر اور مسئلے سے واقف ) کے پاس آ ئے ہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جب (مرد ) عورت کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھ گیا اور ختنہ ختنے سے مل گیا تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔‘‘

عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ؛ ← قُلْتُ: مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ ← "أُمُّكَ" ← شَيْءٍ تَسْأَلُ عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ. فَإِنَّمَا ← لَا تَسْتَحْيِ أَنْ تَسْأَلَ ← أَسْتَحِي مِنْهُ. ← شَيْءٍ ← إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ ← آتِيكُمْ بِالْخَبَرِ. فَقَامَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمَ. ثُمَّ ← أَبُو مُوسَى، ← مَنْ حَضَرَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ: لَا حَتَّى يَدْفُقَ. ← مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ: إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. ← أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا، فَذَكَرُوا مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ. ← أَبِي بُرْدَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 227

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2067

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان؛ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْد- كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ؛ وَحَدَّثَنَا عَلِي بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَاب، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى الْقَرِيبِ صَدَقَتَانِ؛ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ". وَقَالَ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَإِنْ [لَمْ] (1) يَجِدْ فَمَاءٌ فَإِنَّهُ طُهُورٌ". وَقَالَ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اذْبَحُوا عَنِ الْغُلَامِ عَقِيقَتَهُ، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى، وَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا". هَذَا حَدِيثُ عَبْد الْجَبَّارِ. وَقَالَ الْآخَرَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ طُهُورٌ". وَلَمْ يَذْكُرَا قِصَّةَ الصَّدَقَةِ وَلَا الْعَقِيقَةِ.

''حضرت سلیمان بن عامر الضبییؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا، آپ فرما رہے تھے تھے۔''مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے جبکہ قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنا دو صدقے ہیں: ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔''اور آپ ﷺ نے فرما یا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ کھولے تو اسے کھجور سے روز ہ کھولنا چاہیے کیونکہ وہ باعث برکت ہے اور اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطاری کرے کیونکہ وہ بہت پاکیزہ ہے۔''اور آپ ﷺ نے فرمایا: ''بچے کی طرف سے ایک بکرے کو عقیقے میں ذبح کرو۔ اور اس سے گندگی صاف کرو اور اس کی طرف سے (بکرےکا )خون بہاؤ۔(اسے ذبح کرو)۔ ''یہ حدیث جناب عبدالجبارکی ہے۔جبکہ دیگر دو اساتذہ کی روایت میں ہے: ''رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے کھجور کے ساتھ روزہ افطار کرنا چاہیے ۔ اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی کے ساتھ افطار کرلے کیونکہ وہ پاکیزہ ہے۔''دونوں اساتذہ کرام نے صدقہ کرنے اور عقیقہ کرنے کا قصہ ذکر نہیں کیا۔''

عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ← الرَّبَابِ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عَاصِمٍ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ كِلَاهُمَا ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2067

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ کِتَابُ الجُمُعَۃِ المُختَصَرُ مِنَ المُختَصَرِ · حديث 1721

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ -وَهُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ-، ثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ، وَعَلَى مَنْ رَاحَ الْجُمُعَةَ الْغُسْلُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: "عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ"، مِنَ اللَّفْظِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ الْأَمْرَ إِذَا كَانَ لِعِلَّةٍ فَالتَّمْثِيلُ وَالتَّشْبِيهُ بِهِ جَائِزٌ، مَتَى كَانَتِ الْعِلَّةُ قَائِمَةً فَالْأَمْرُ وَاجِبٌ، لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا عَلَّمَ أَنَّ عَلَى الْمُحْتَلِمِ رَوَاحَ الْجُمُعَةِ، لِأَنَّ الِاحْتِلَامَ بُلُوغٌ، فَمَتَى كَانَ الْبُلُوغُ وَإِنْ لَمْ يَكُنِ احْتِلَامٌ وَكَانَ الْبُلُوغُ بِغَيْرِ احْتِلَامٍ، فَفَرْضُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ بَالِغٍ وَإِنْ كَانَ بُلُوغُهُ بِغَيْرِ احْتِلَامٍ، وَلَوْ كَانَ عَلَى غَيْرِ أَصْلِنَا، وَكَانَ عَلَى أَصْلِ مَنْ خَالَفَنَا مِنَ التَّشْبِيهِ وَالتَّمْثِيلِ، وَزَعَمَ أَنَّ الْأَمْرَ لَا يَكُونُ لِعِلَّةٍ، وَلَا يَكُونُ إِلَّا تَعَبُّدًا، لَكَانَ مَنْ بَلَغَ عِشْرِينَ سَنَةً وَثَلَاثِينَ سَنَةً وَهُوَ حَرٌّ عَاقِلٌ فَسَمِعَ الْأَذَانَ لِلْجُمُعَةِ فِي الْمِصْرِ، أَوْ هُوَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ، إِنْ لَمْ يَكُنِ احْتَلَمَ، لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْلَمَ أَنَّ رَوَاحَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمُحْتَلِمِ! وَقَدْ يَعِيشُ (1) كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ السِّنِينَ الْكَثِيرَةَ فَلَا يَحْتَلِمُ أَبَدًا، وَهَذَا كَقَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: (وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ) [النور: 59] فَإِنَّمَا أَمَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِالِاسْتِئْذَانِ مَنْ قَدْ بَلَغَ الْحُلُمَ، إِذِ الْحُلُمُ بُلُوغٌ، وَ [لَوْ] (2) لَمْ يَجُزِ الْحُكْمُ بِالتَّشْبِيهِ، وَالنَّظِيرِ كَانَ مَنْ بَلَغَ ثَلَاثِينَ سَنَةً وَلَمْ يَحْتَلِمْ، لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ الِاسْتِئْذَانُ. وَهَذَا كَخَبَرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ" قَالَ فِي الْخَبَرِ: "وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ" وَمَنْ لَمْ يَحْتَلِمْ [181 - ب] وَبَلَغَ مِنَ السِّنِّ مَا يَكُونُ إِدْرَاكًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ فَالْقَلَمُ عَنْهُ غَيْرُ مَرْفُوعٍ، إِذِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: "حَتَّى يَحْتَلِمَ" أَنَّ الِاحْتِلَامَ بُلُوغٌ، فَمَتَى كَانَ الْبُلُوغُ وَإِنْ كَانَ بِغَيْرِ احْتِلَامٍ، فَالْحُكْمُ عَلَيْهِ، وَالْقَلَمُ جَارٍ عَلَيْهِ كَمَا يَكُونُ بَعْدَ الِاحْتِلَامِ.

"حضرت حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"ہر بالغ شخص کےلیے جمعہ کے لیے جانا ضروری ہے اور جمعہ کےلیے جانے والے شخص پر غسل کرنا واجب ہے ۔ "امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ "ہر بالغ شخص کےلیے جمعہ کےلیے جانا واجب ہے ۔"یہ ان الفاظ میں سےہیں جن کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ جب حکم کسی علت وسبب کی بنیاد پر ہو تو اس کے ساتھ تمثیل وتشبیہ دینا جائز ہوتا ہے ۔ جب تک وہ علت باقی ہو وہ حکم واجب ہوتا ہے ۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے بتایا ہے کہ ہر محتلم ( بالغ ) شخص کےلیے جمعہ کےلیے حاضر ہونا واجب ہے اور احتلام سے مراد بالغ ہونا ہے ۔ لہٰذا جب کوئی شخص بالغ ہوجائے اور اگرچہ اسے احتلام نہ آئے اور وہ کسی او ر علامت سے بالغ ہو جائے تو ایسے ہر بالغ شخص پر جمعہ فرض ہوتا ہے اگرچہ اس کا بالغ ہونا احتلام کے علاوہ کسی اور علامات سے ہی ہو۔ اگرچہ یہ بات ہمارے قاعدے کے خلاف ہے اور تشبیہ وتمثیل میں ہمارے مخالفین کے قاعدے اور اصول کے مطابق ہے ۔ اس کا خیال یہ ہے کہ حکم کسی علت کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ حکم صرف تعبد کے لیے ہوتا ہے ۔ اگر بات ایسے ہی ہو تو وہ شخص جس کی عمر بیس یا تیس سال ہو اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا(اسے احتلام نہ آیا ہو) اور وہ مسلمان عقلمند آزاد شخص ہو وہ شہر میں جمہ کےلیے اذان سنے یا وہ مسجد کے دروازے پر موجود ہو تو اس کےلیے جمعہ کےلیے حاضر ہونا واجب نہیں ہوگا۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے بتایا ہے کہ جمعہ کی حاضری صرف محتلم شخص پر واجب ہے ۔ حالانکہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہیں سالہا سال تک احتلام نہیں ہوتا اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی طرح ہے :(وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْکُمُ الحُلُمَ فَلْیَسْتَأْذِنُوْا کَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِٰھِمْ)"اور جب تم میں سے لڑکے بلوغت کی حد کو پہنچ جائیں تو انہیں چاہیے کہ وہ بھی اسی طرح اجازت مانگیں جس طرح ان سے پہلے ( ان کے بڑے ) اجازت مانگتے رہے ہیں ۔"اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان بچوں کو اجازت لینے کا حکم دیا ہے جنہیں احتلام آجائے اور احتلام کا آنا بالغ ہونے کی دلیل ہے اور اگر تشبیہ اور نظیر ( پر قیاس کرتے ہوئے) حکم لگانا جائز نہ ہوتا تو ایسا شخص جو تیس سال کا ہوجائے اور اسے احتلام نہ آئے تو اس پر اجازت طلب کرنا واجب نہیں ہوگا ۔ اور یہ بات نبی کریمﷺ کی اس حدیث کی طرح ہے :"تین قسم کے افراد سے قلم اٹھالی گئی ہے ( وہ شریعف کے مکلف نہیں ہیں) اس روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: "اور بچے سے حتیٰ کہ اسے احتلام آنے لگے ۔"اور جس شخص کو احتلام نہ آئے اور وہ اس عمر کو پہنچ چکا ہو جس میں انسان بغیر احتلام کے بالغ ہوجاتا ہے تو ایسے شخص سے قلم نہیں اٹھایا گیا ۔ کیونکہ کریم ﷺ کے اس فرمان کا مطلب "یہاں تک کہ وہ احتلام والا ہوجائے" یہ ہے کہ احتلام بلوغت کی دلیل ہے ۔ اس لیےجب بھی بچہ بالغ ہوجائے گا اگرچہ احتلام آئے بغیر ہی ہو، تو اس پر شرعی احکام لاگو ہوں گے اور اس پر قلم جاری ہوگا جیسا کہ احتلام آنے کے بعد جاری ہوتا ہے ۔

حَفْصَةَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ -وَهُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ، ← عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The abbreviated collection book from the abbreviated · Hadith 1721

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4783

4783 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيِّ قَالَ: لَمَّا أَنُ وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟» قُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ: «هُوَ الْحَسَنُ» فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟» قُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ: «هُوَ الْحُسَيْنُ» فَلَمَّا أَنْ وُلِدَ مُحْسِنٌ، قَالَ: «مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟» قُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ: «هُوَ مُحْسِنٌ» ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي سَمَّيْتُ بَنِي هَؤُلَاءِ بِتَسْمِيَةِ هَارُونَ بَنِيهِ شَبَرًا، وَشُبَيْرًا، وَمُشْبِرًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حسن رضی اللہ عنہ کی پیدا ہوئے تو میں نے ان کام "حرب "رکھا۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے پوچھا: تم نے میرے بیٹوں کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا :حرب ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ "حسن "ہے ۔ پھر جب حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام "حرب" رکھا دیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا : تم نے میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ۔ وہ "حسین" ہے ۔ پھر جب "محسن " پیدا ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے پوچھا : تم نے میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ "محسن "ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اپنے تینوں بیٹوں کے وہی نام رکھے ہیں جوحضرت ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے رکھے تھے( ان کے نام یہ تھے) شبر، شبیراور مشبر۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

«هُوَ مُحْسِنٌ» ثُمَّ ← «مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟» قُلْتُ: حَرْبًا، ← «هُوَ الْحُسَيْنُ» فَلَمَّا أَنْ وُلِدَ مُحْسِنٌ، ← النبي ما سميت ابني قلت حربا ← هو الحسن فلما ولد الحسين سميته حربا ← لِي النَّبِيُّ «مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟» قُلْتُ: حَرْبًا، ← لما أن ولد الحسن سميته حربا ← عَلِيٍّ، ← هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، ← أَبِيهِ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أبو الحسن علي بن محمد الشيباني بالكوفة

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4783

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4828

4828 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ الْعَلَوِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ: «زِنِي شَعْرَ الْحُسَيْنِ وَتَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ فِضَّةً، وَأَعْطِي الْقَابِلَةَ رِجْلَ الْعَقِيقَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4828 - ليس بصحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا :حسین رضی اللہ عنہ کے بالوں کا وزن کرکے اس کے برابر چاندہ صدقہ کر دو اور آیا ( دائی ) کو ( کم از کم ) عقیقہ کے جانور کا کھر دے دینا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حسين بن زيد العلوي، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← يحيى بن محمد بن صاعد ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4828

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6644

6644 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ الْهِجْرَةَ الْأُولَى قَبْلَ خُرُوجِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ، وَفِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ»

عروہ بیان کرتے ہیں کہ حجرت حبشہ میں حضرت جعفر ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے نکلنے سے پہلے حضرت سہیل بن بیضاء نے ہجر کی ۔ اور قریش میں سے بنی حارث بن فہر کی جانب سے جنگ بدر میں بھی شریک ہوئے ۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Suhail ibn Bayda, may God be pleased with him · Hadith 6644

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6653

6653 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ»

حضرت عروہ نے حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ کو بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں شمار کیا ہے ۔

عُرْوَةَ، «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ» ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abu Burda Ibn Niyar, may God be pleased with him · Hadith 6653

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6681

6681 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ فَذَكَرَ هَذَا النَّسَبَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَزَادَ أَنَّهُ حَلِيفُ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ»

مصعب بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن حجش کا مذکورہ بالا نسب بیان کیا ہے اور ان کو بدری صحابہ میں شمار کیا ہے ، اس بات کا اضافہ ہے کہ وہ بنو امیہ بن عبد شمس کے حلیف بھی تھے ۔

«وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ ← مصعب بن عبد الله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abdullah ibn Jahsh al-Assad, may God be pleased with him · Hadith 6681

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6682

6682 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، «فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ حَلِيفٌ لَهُمْ وَهُوَ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ»

عروہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن بنی امیہ کی جانب سے " عبداللہ بن حجش " شہید ہوئے ۔ یہ ان کے حلیف تھے جبکہ ان کا اپنا تعلق بنی اسد بن خزیمہ سے ہے ۔

أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abdullah ibn Jahsh al-Assad, may God be pleased with him · Hadith 6682

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مِخْمَرِ بْنِ حَيْدَةَ أخوهُمُ الثَّالِثُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6709

6709 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثَنَا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ مِخْمَرِ بْنِ حَيْدَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَغِيبُ أَشْهُرًا عَنِ الْمَاءِ، وَمَعِي أَهْلِي أَفَأُصِيبُ مِنْهُمْ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَإِنْ غِبْتُ عِشْرِينَ سَنَةً» تَسْمِيَةُ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ، الْأَبْكَارِ وَالثَّيِّبَاتِ، وَذِكْرُ مَنْ كُنَّ وَعَدَدِهُنَّ، وَمَنْ وُلِدَتْ مِنْهُنَّ وَمَنْ دَخَلَ بِهَا مِنْهُنَّ وَمَنْ طُلِّقَتْ مِنْهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَاتَتْ وَمَنْ طَلَّقَ بَعْدَمَا دَخَلَ بِهَا فَمَاتَتْ وَمَنْ طَلَّقَهَا ثُمَّ رَاجَعَهَا وَمَنْ مَاتَتْ عِنْدَهُ وَمَنْ تَزَوَّجَ مِنْهُنَّ بِالْمَدِينَةِ وَبِغَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْبُلْدَانِ وَمَنْ تَزَوَّجَ مِنْ بُطُونِ قُرَيْشٍ وَمِنْ حُلَفَاءِ قُرَيْشٍ وَمِنْ سَائِرِ قَبَائِلِ الْعَرَبِ وَمِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَمِنْ سَبَايَا الْعَرَبِ، وَمَنْ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَتَزَوَّجْهَا، وَأَوْقَاتِ تَزْوِيجِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُنَّ كَيْفَ كَانَ وَمَنْ بَقِيَتْ مِنْهُنَّ عِنْدَهُ حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنِ اتَّخَذَ مِنْ سَرَارِي الْعَجَمِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6709 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت مخمر بن حیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں کئی کئی مہینے پانی والے علاقے سے بہت دور رہتا ہوں جبکہ میری بیوی میرے ہمراہ ہوتی ہے ، کیا میں اس سے ہمبستری کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔ اگرچہ تم 60 سال پانی سے دور رہو ۔ ( تب بھی ہمبستری کر سکتے ہو اور غسل کے لئے تیمم کر لیا کرو ) اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج مطہرات کا بیان ہوگا۔ ( جس کے ضمن میں درج ذیل موضوع زیر بحث آئیں گے ) ٭ قبل اسلام کتنی اور کون کون سی ازواج تھیں اور بعد اسلام کتنی اور کون کون تھیں؟ ، ٭ کنواری کتنی اور کون کون سی تھیں اور دوسری شادی والی کتنی اور کون کون سی تھیں؟ ، ٭ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج کی کل تعداد کتنی تھی ؟ ، ٭ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج مطہرات کے اسماء گرامی کیا کیا تھے ؟ ، ٭ کس کس زوجہ کے بطن سے کتنی اولادیں ہوئیں ؟ ، ٭ کن کن ازواج سے مدینہ منورہ میں شادی ہوئی اور کن کن سے دیگر علاقوں میں ہوئی ؟ ، ٭ قریش خاندان سے کتنی ازواج کا تعلق تھا ؟ ، قریس کے حلیف قبائل سے کتنی ازواج کا تعلق تھا ؟ ، ٭ دیگر عرب سے تعلق رکھنے والی کون کون سی ازواج تھیں ؟ ، ٭ بنی اسرائیل میں سے کون کون تھیں ؟ ، ٭ عرب کنیزوں میں سے کون تھیں ؟ ، ٭ کون کون سے عورتیں ایسی ہیں جا کو پیغام نکاح تو بھیجا تھا مگر نکاح کی نوبت نہیں آئی ؟ ، ٭ ان ازواج کے ساتھ نکاح کے اوقات کیا کیا تھے ؟ ، ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ظاہری وصال تک آپ کے ساتھ کون کون رہیں ؟ ، ٭ عجمی کنیزوں میں سے کون کون تھیں ؟ ۔

قُلْتُ ← عَمِّهِ مِخْمَرِ بْنِ حَيْدَةَ، ← حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← أَبُو الْجُمَاهِرِ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Mukhmar ibn Haydah, their third brother, may God be pleased with him · Hadith 6709

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6759

6759 - أَخْبَرَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ ثَابِتٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصَابَتْ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا " وَكُنْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا قُلْتُ: وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى قُلْتُهَا، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا أَبُو بَكْرٍ فَرَدَّتْهُ وَخَطَبَهَا عُمَرُ، فَرَدَّتْهُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْطُبَهَا فَقَالَتْ: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِرَسُولِهِ، أَقْرئْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ غَيْرَى، وَأَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدٌ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَّا قَوْلُكِ: إِنِّي مُصْبِيَةٌ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَكْفِيكِ صِبْيَانَكِ، وَأَمَّا قَوْلُكِ: إِنِّي غَيْرَى فَسَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ غَيْرَتَكِ، وَأَمَّا الْأَوْلِيَاءُ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ إِلَّا سَيَرْضَانِي " فَقَالَتْ لِابْنِهَا: قُمْ يَا عُمَرُ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ وَقَالَ لَهَا: لَا أُنْقِصُكِ مِمَّا أَعْطَيْتُ أُخْتَكِ فُلَانَةَ جَرَّتَيْنِ وَرَحَاتَيْنِ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا وَهِيَ تُرْضِعُ زَيْنَبَ، فَكَانَتْ إِذَا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَتْهَا فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِهَا تُرْضِعُهَا، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيِيًّا كَرِيمًا فَيَرْجِعُ، فَفَطِنَ لَهَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَكَانَ أَخًا لَهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَهَا ذَاتَ يَوْمٍ، فَجَاءَ عَمَّارٌ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَانْتَشَطَ زَيْنَبَ مِنْ حِجْرِهَا، وَقَالَ: دَعِي هَذِهِ الْمَقْبُوحَةَ الْمَشْقُوحَةَ الَّتِي قَدْ آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ يُقَلِّبُ بَصَرَهُ فِي الْبَيْتِ وَيَقُولُ: «أَيْنَ زُنَابُ، مَا لِي لَا أَرَى زُنَابَ؟» فَقَالَتْ: جَاءَ عَمَّارٌ فَذَهَبَ بِهَا فَبَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَهْلِهِ، وَقَالَ: «إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ سَبَّعْتُ لِلنِّسَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ " قَالَ: " ابْنُ عُمَرَ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ: الَّذِي لَمْ يُسَمِّهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ سَمَّاهُ غَيْرُهُ سَعِيدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6759 - صحيح

ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہیں کوئی مصیبت آئے تو یوں دعا مانگو : " ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی جانب ہمیں لوٹ کر جانا ہے، اے اللہ میں اپنی مصیبت کا معاملہ تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں تو مجھے اس میں اجر عطا فرما " ام المومنین فرماتی ہیں (اس دعا میں اس سے آگے یہ الفاظ ہیں ، یا اللہ ! مجھے اس کا اچھا بدل عطا فرما، چنانچہ )میں جب اگلے لفظ بولنے گئی تو میں سوچتی کہ ابوسلمہ سے بہتر مجھے کونسا شو ہر مل سکتا ہے لیکن میں یہ دعاسلسل مانگتی رہی ، حتیٰ کہ جب میری عدت پوری ہوگئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام نکاح بھیجا، میں نے انکار کر دیا، پھر حضرت عمر نے پیغام بھیجا، میں نے ان کو بھی انکار کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیغام نکاح دے کر ایک خاتون کو بطورنمائندہ بھیجا، ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالی کے رسول کو خوش آمدید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سفیر کوبھی خوش آمدید۔ (پھر اس خاتون سے کہا ) تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو. میرا سلام کہنا اور آپ کو بتا دینا کہ مجھ میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے اور میں بہت زیادہ غیرت مند بھی ہوں ۔ اور یہ کہ میرے قریبی رشتہ داروں میں کوئی بھی اس وقت میرے پاس نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جواباً پیغام بھیجا کہ بچوں کے معاملہ میں الله تعالی تیرے بچوں کو تیرے لئے سلامت رکھے (میری طرف سے اس بات کی پرواہ نہ کرو ) اور جہاں تک غیرت کا معاملہ ہے تو میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالی تمہاری اس کیفیت میں نرمی عطافرمائے ۔ اور جہاں تک اولیاء کا ہے تو تمہارے جتنے بھی اولیاء ہیں چاہے یہاں حاضر ہیں یا غائب ہیں سب کو راضی کرنا میری ذمہ داری ہے۔ ام المومنین نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے عمر جاؤ اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ میرا نکاح کر دو، ان کے بیٹے نے ان کا نکاح رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کر دیا ۔ اور ان سے کہا: میں نے جتنا سامان تمہاری فلاں بہن کو دیا تھا اتنا ہی آپ کوبھی دونگا، اس میں کچھ بھی کمی نہیں کروں گا۔ چنانچہ دو مٹکے، دوچکیاں اور ایک تکیہ جس میں لیف بکھرا ہوا تھا ان کو جہیز میں دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے پاس تشریف لاتے تھے۔ ان ایام میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی " زینب" دودھ پیتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب بھی تشریف لاتے توام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی بیٹی زینب کو گود میں لٹا کر دودھ پلانے لگ جاتی تھیں۔ آپ فرماتی ہیں: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بہت نرم مزاج اور حیا دار تھے، آپ غصہ کئے بغیر واپس تشریف لے جاتے تھے، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی ہیں ، وہ معاملہ سمجھ گئے ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو حضرت عمار بن یاسر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کی گود سے زینب کو چھین لیا اور کہا: اس گندی بچی کو چھوڑ دوتو نے اس کے سبب رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تکلیف دی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لے آئے ، آپ نے حجرے کے چاروں طرف نظر دوڑائی اور پوچھا: زینب کہاں ہے؟ کیا بات ہے آج زینب نظرنہیں آرہی ؟ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: عمار آیا تھا وہ اس کو اپنے ساتھ لے گیا، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی اس بیوی کے ساتھ سلسلہ ازدواج شروع کیا۔ اور ان سے فرمایا: اگرتم چاہوتو میں ساتوں دن تمہارے پاس آیا کروں اور اس صورت میں دیگر ) ازواج کے پاس بھی ساتوں دن جایا کروں گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ابن عمر بن ابی سلمہ کہتے ہیں: اس حدیث میں حماد بن سلمہ نے جس راوی کا نام ذکر نہیں کیا ہے، ایک اور محدث نے ان کا نام ذکر کر دیا ہے۔ وہ " سعید بن عمر بن ابی سلمہ" ہیں ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← ابن عمر بن أبي سلمة ← حماد بن سلمة أنبأ ثابت ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6759

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 6847

6847 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، فِي تَسْمِيَةِ الَّذِينَ خَرَجُوا فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى إِلَى هِجْرَةِ الْحَبَشَةِ قَبْلَ خُرُوجِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ: «عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مَعَ امْرَأَتِهِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت عروہ بیان کرتے ہیں : حبشہ کی جانب پہلی ہجرت میں حضرت جعفر اور ان کے ساتھیوں کے ہجرت کرنے سے پہلے حج عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو ہمراہ لے کر ہجرت کی تھی ۔

أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ruqyah, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6847

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4877

4877 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهَا، «أَنَّ آمِنَةَ بِنْتَ وَهْبٍ أُمَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ فِي حِجْرِ عَمِّهَا أَهْيَبَ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ، وَإِنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ هَاشِمٍ جَاءَ بِابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَبِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَ عَبْدُ اللَّهِ آمِنَةَ بِنْتَ وَهْبٍ، وَتَزَوَّجَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ هَالَةَ بِنْتَ أَهْيَبَ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ، وَهِيَ أُمُّ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ قَرِيبَ السِّنِّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ»

حضرت ا م بکر بنت المسور بن مخرمہ اپنے اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ بنت وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، اپنے چچا اہیب بن عبد مناف بن زہرہ کی پرورش میں تھیں، حضرت عبدالمطلب بن ہاشم اپنے بیٹے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد گرامی حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنے ساتھ لائے اور ان کے ساتھ حضرت آمنہ بن وہب کا نکاح کر دیا اور اسی مجلد میں حضرت عبدالمطلب نے خود نکاح ہالہ بنت اہیب بن عبد مناف بن زہرہ کے ساتھ کر لیا، یہی (ہالہ بنت عبد اہیب) حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ محترمہ ہیں۔ حضرت حمزہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقریباً ہم عمر ہی ہیں۔ اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی ہیں۔

أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4877

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ هَذِهِ أَحَادِيثُ تَرَكَهَا فِي الْإِمْلَاءِ · حديث 4892

4892 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4892 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شمار کیا ہے، آپ 54 سا ل کی عمر میں جنگ احد میں شہید ہوئے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › These are the hadiths he left in dictation · Hadith 4892

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ كَنَّازُ بْنُ الْحُصَيْنِ الْعَدَوِيُّ · حديث 4970

4970 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ حَلِيفُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ»

حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شرکت کرنے والوں میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حلیف حضرت ابو مرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام بھی ذکر کیا ہے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the muraqab of Abu Merthad Al-Ghanawi Kanaz Bin Al-Husayn Al-Adawi · Hadith 4970

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ جُبَارِ بْنِ صَخْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَدِ الْبَدْرِيِّينَ · حديث 4982

4982 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَارُ بْنُ صَخْرِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ خَنْسَاءَ بْنِ سِنَانٍ»

حضرت عروہ نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت جبار بن صحر بن امیہ بن خنساء بن سنان کا بھی ذکر کیا ہے۔

أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Jabbar Ibn Sakhr, may God be pleased with him, one of the Badrists · Hadith 4982

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَنَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5020

5020 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي عَدِيٍّ ثَعْلَبَةُ بْنُ عَنَمَةَ بْنِ عَدِيٍّ، وَاسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ»

حضرت عروہ نے بنی عدی میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت ثعلبہ بن عنمہ بن عدی رضی اللہ عنہ کا نام بھی ذکر کیا ہے۔آپ جنگ خندق میں شہید ہوئے۔

أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the tracts of Athlabah bin Anamah al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 5020

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5022

5022 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُرَيْقِ بْنِ عَامِرٍ، ثُمَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ رَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ الْعَجْلَانِ الزُّرَقِيُّ»

ابن اسحاق نے بنی زریق بن عامر ، پھر بنی عجلان میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت رافع بن مالک بن عجلان زرقی رضی اللہ عنہ کا نام بھی ذکر کیا ہے۔

يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Niqab Rifa` ibn Malik al-Zarqa, may God be pleased with him · Hadith 5022

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5026

5026 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا الْأَسْوَدُ، ثنا عُرْوَةُ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْعَجْلَانِ بْنِ زُرَيْقٍ، وَهُوَ نَقِيبٌ وَذَكَرَهُ أَيْضًا فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا»

حضرت عروہ نے بنی زریق کے انصاریوں میں سے بیعت عقبہ میں شریک ہونے والوں میں حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک بن عجلان بن زرقی رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی کیا ہے ۔ یہ مبلغ تھے۔ اور ان بدری صحابہ میں بھی ان کا ذکر کیا ہے۔

الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Rifa’a ibn Rafa’a al-Zarqa al-Zarqa, may God be pleased with him · Hadith 5026

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْخَزْرَجِيِّ النَّقِيبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5095

5095 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْخَزْرَجِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ بْنِ دُلَيْمِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ حُزَيْمَةَ وَهُوَ نَقِيبٌ وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5095 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت عروہ نے انصار کے قبیلہ بنی ساعدہ بن کعب بن کعب بن خزرج میں سے جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت سعد بن عبادہ بن ولیم بن حارثہ بن عبیدہ بن خزیمہ کا نام ذکر کیا ہہے۔، یہ اسلام کے مبلغ تھے، یہ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5095

chevron_left Previous
1…151617…291
Next chevron_right