’’حضرت ابو موسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ وہ (صحابہ کرام ) بیٹھے ہوئے تھے توانہوں نےغسل واجب کرنے والی چیز کا تذکرہ کیا۔ حاضرین میں سے ایک مہاجر صحابی نے فرمایا: ’’جب ختنہ (شرم گاہ ) ختنے سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔‘‘ حاضرین میں سے ایک انصاری صحابی نے فرمایا : ’’نہیں حتی کہ وہ (منی ) زور اور جوش سے نکل جائے ۔ ‘‘(اس تذکرے کوسن کر ) حضرت ابو موسی ؓ نے کہا :میں تمہیں اس کے متعلق خبر لا کر دیتا ہوں ۔ وہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے ، انہیں سلام کیا ، پھر عرض کی : میں آ پ سے ایک چیز کے متعلق پو چھنا چاہتا ہوں مگر اس سے شرماتا ہوں ۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: ’’ایسا سوال پوچھتے ہوئے مت شرماؤ جسے تم اپنے جنبے والی ( حقیقی ) ماں سے پو چھ سکتے ہو۔ بے شک میں بھی تمہاری ماں ہوں ۔‘‘کہتے ہیں ، میں نے عرض کی : غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا:تم علم والے ( باخبر اور مسئلے سے واقف ) کے پاس آ ئے ہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جب (مرد ) عورت کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھ گیا اور ختنہ ختنے سے مل گیا تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔‘‘
''حضرت سلیمان بن عامر الضبییؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا، آپ فرما رہے تھے تھے۔''مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے جبکہ قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنا دو صدقے ہیں: ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔''اور آپ ﷺ نے فرما یا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ کھولے تو اسے کھجور سے روز ہ کھولنا چاہیے کیونکہ وہ باعث برکت ہے اور اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطاری کرے کیونکہ وہ بہت پاکیزہ ہے۔''اور آپ ﷺ نے فرمایا: ''بچے کی طرف سے ایک بکرے کو عقیقے میں ذبح کرو۔ اور اس سے گندگی صاف کرو اور اس کی طرف سے (بکرےکا )خون بہاؤ۔(اسے ذبح کرو)۔ ''یہ حدیث جناب عبدالجبارکی ہے۔جبکہ دیگر دو اساتذہ کی روایت میں ہے: ''رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے کھجور کے ساتھ روزہ افطار کرنا چاہیے ۔ اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی کے ساتھ افطار کرلے کیونکہ وہ پاکیزہ ہے۔''دونوں اساتذہ کرام نے صدقہ کرنے اور عقیقہ کرنے کا قصہ ذکر نہیں کیا۔''
"حضرت حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"ہر بالغ شخص کےلیے جمعہ کے لیے جانا ضروری ہے اور جمعہ کےلیے جانے والے شخص پر غسل کرنا واجب ہے ۔ "امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ "ہر بالغ شخص کےلیے جمعہ کےلیے جانا واجب ہے ۔"یہ ان الفاظ میں سےہیں جن کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ جب حکم کسی علت وسبب کی بنیاد پر ہو تو اس کے ساتھ تمثیل وتشبیہ دینا جائز ہوتا ہے ۔ جب تک وہ علت باقی ہو وہ حکم واجب ہوتا ہے ۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے بتایا ہے کہ ہر محتلم ( بالغ ) شخص کےلیے جمعہ کےلیے حاضر ہونا واجب ہے اور احتلام سے مراد بالغ ہونا ہے ۔ لہٰذا جب کوئی شخص بالغ ہوجائے اور اگرچہ اسے احتلام نہ آئے اور وہ کسی او ر علامت سے بالغ ہو جائے تو ایسے ہر بالغ شخص پر جمعہ فرض ہوتا ہے اگرچہ اس کا بالغ ہونا احتلام کے علاوہ کسی اور علامات سے ہی ہو۔ اگرچہ یہ بات ہمارے قاعدے کے خلاف ہے اور تشبیہ وتمثیل میں ہمارے مخالفین کے قاعدے اور اصول کے مطابق ہے ۔ اس کا خیال یہ ہے کہ حکم کسی علت کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ حکم صرف تعبد کے لیے ہوتا ہے ۔ اگر بات ایسے ہی ہو تو وہ شخص جس کی عمر بیس یا تیس سال ہو اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا(اسے احتلام نہ آیا ہو) اور وہ مسلمان عقلمند آزاد شخص ہو وہ شہر میں جمہ کےلیے اذان سنے یا وہ مسجد کے دروازے پر موجود ہو تو اس کےلیے جمعہ کےلیے حاضر ہونا واجب نہیں ہوگا۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے بتایا ہے کہ جمعہ کی حاضری صرف محتلم شخص پر واجب ہے ۔ حالانکہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہیں سالہا سال تک احتلام نہیں ہوتا اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی طرح ہے :(وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْکُمُ الحُلُمَ فَلْیَسْتَأْذِنُوْا کَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِٰھِمْ)"اور جب تم میں سے لڑکے بلوغت کی حد کو پہنچ جائیں تو انہیں چاہیے کہ وہ بھی اسی طرح اجازت مانگیں جس طرح ان سے پہلے ( ان کے بڑے ) اجازت مانگتے رہے ہیں ۔"اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان بچوں کو اجازت لینے کا حکم دیا ہے جنہیں احتلام آجائے اور احتلام کا آنا بالغ ہونے کی دلیل ہے اور اگر تشبیہ اور نظیر ( پر قیاس کرتے ہوئے) حکم لگانا جائز نہ ہوتا تو ایسا شخص جو تیس سال کا ہوجائے اور اسے احتلام نہ آئے تو اس پر اجازت طلب کرنا واجب نہیں ہوگا ۔ اور یہ بات نبی کریمﷺ کی اس حدیث کی طرح ہے :"تین قسم کے افراد سے قلم اٹھالی گئی ہے ( وہ شریعف کے مکلف نہیں ہیں) اس روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: "اور بچے سے حتیٰ کہ اسے احتلام آنے لگے ۔"اور جس شخص کو احتلام نہ آئے اور وہ اس عمر کو پہنچ چکا ہو جس میں انسان بغیر احتلام کے بالغ ہوجاتا ہے تو ایسے شخص سے قلم نہیں اٹھایا گیا ۔ کیونکہ کریم ﷺ کے اس فرمان کا مطلب "یہاں تک کہ وہ احتلام والا ہوجائے" یہ ہے کہ احتلام بلوغت کی دلیل ہے ۔ اس لیےجب بھی بچہ بالغ ہوجائے گا اگرچہ احتلام آئے بغیر ہی ہو، تو اس پر شرعی احکام لاگو ہوں گے اور اس پر قلم جاری ہوگا جیسا کہ احتلام آنے کے بعد جاری ہوتا ہے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حسن رضی اللہ عنہ کی پیدا ہوئے تو میں نے ان کام "حرب "رکھا۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے پوچھا: تم نے میرے بیٹوں کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا :حرب ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ "حسن "ہے ۔ پھر جب حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام "حرب" رکھا دیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا : تم نے میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ۔ وہ "حسین" ہے ۔ پھر جب "محسن " پیدا ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے پوچھا : تم نے میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ "محسن "ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اپنے تینوں بیٹوں کے وہی نام رکھے ہیں جوحضرت ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے رکھے تھے( ان کے نام یہ تھے) شبر، شبیراور مشبر۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
«هُوَ مُحْسِنٌ» ثُمَّ ← «مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟» قُلْتُ: حَرْبًا، ← «هُوَ الْحُسَيْنُ» فَلَمَّا أَنْ وُلِدَ مُحْسِنٌ، ← النبي ما سميت ابني قلت حربا ← هو الحسن فلما ولد الحسين سميته حربا ← لِي النَّبِيُّ «مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟» قُلْتُ: حَرْبًا، ← لما أن ولد الحسن سميته حربا ← عَلِيٍّ، ← هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، ← أَبِيهِ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أبو الحسن علي بن محمد الشيباني بالكوفة
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4783
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4828
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا :حسین رضی اللہ عنہ کے بالوں کا وزن کرکے اس کے برابر چاندہ صدقہ کر دو اور آیا ( دائی ) کو ( کم از کم ) عقیقہ کے جانور کا کھر دے دینا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حسين بن زيد العلوي، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← يحيى بن محمد بن صاعد ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4828
عروہ بیان کرتے ہیں کہ حجرت حبشہ میں حضرت جعفر ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے نکلنے سے پہلے حضرت سہیل بن بیضاء نے ہجر کی ۔ اور قریش میں سے بنی حارث بن فہر کی جانب سے جنگ بدر میں بھی شریک ہوئے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Suhail ibn Bayda, may God be pleased with him · Hadith 6644
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abu Burda Ibn Niyar, may God be pleased with him · Hadith 6653
مصعب بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن حجش کا مذکورہ بالا نسب بیان کیا ہے اور ان کو بدری صحابہ میں شمار کیا ہے ، اس بات کا اضافہ ہے کہ وہ بنو امیہ بن عبد شمس کے حلیف بھی تھے ۔
«وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ ← مصعب بن عبد الله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abdullah ibn Jahsh al-Assad, may God be pleased with him · Hadith 6681
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abdullah ibn Jahsh al-Assad, may God be pleased with him · Hadith 6682
حضرت مخمر بن حیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں کئی کئی مہینے پانی والے علاقے سے بہت دور رہتا ہوں جبکہ میری بیوی میرے ہمراہ ہوتی ہے ، کیا میں اس سے ہمبستری کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔ اگرچہ تم 60 سال پانی سے دور رہو ۔ ( تب بھی ہمبستری کر سکتے ہو اور غسل کے لئے تیمم کر لیا کرو ) اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج مطہرات کا بیان ہوگا۔ ( جس کے ضمن میں درج ذیل موضوع زیر بحث آئیں گے ) ٭ قبل اسلام کتنی اور کون کون سی ازواج تھیں اور بعد اسلام کتنی اور کون کون تھیں؟ ، ٭ کنواری کتنی اور کون کون سی تھیں اور دوسری شادی والی کتنی اور کون کون سی تھیں؟ ، ٭ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج کی کل تعداد کتنی تھی ؟ ، ٭ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج مطہرات کے اسماء گرامی کیا کیا تھے ؟ ، ٭ کس کس زوجہ کے بطن سے کتنی اولادیں ہوئیں ؟ ، ٭ کن کن ازواج سے مدینہ منورہ میں شادی ہوئی اور کن کن سے دیگر علاقوں میں ہوئی ؟ ، ٭ قریش خاندان سے کتنی ازواج کا تعلق تھا ؟ ، قریس کے حلیف قبائل سے کتنی ازواج کا تعلق تھا ؟ ، ٭ دیگر عرب سے تعلق رکھنے والی کون کون سی ازواج تھیں ؟ ، ٭ بنی اسرائیل میں سے کون کون تھیں ؟ ، ٭ عرب کنیزوں میں سے کون تھیں ؟ ، ٭ کون کون سے عورتیں ایسی ہیں جا کو پیغام نکاح تو بھیجا تھا مگر نکاح کی نوبت نہیں آئی ؟ ، ٭ ان ازواج کے ساتھ نکاح کے اوقات کیا کیا تھے ؟ ، ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ظاہری وصال تک آپ کے ساتھ کون کون رہیں ؟ ، ٭ عجمی کنیزوں میں سے کون کون تھیں ؟ ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Mukhmar ibn Haydah, their third brother, may God be pleased with him · Hadith 6709
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہیں کوئی مصیبت آئے تو یوں دعا مانگو : " ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی جانب ہمیں لوٹ کر جانا ہے، اے اللہ میں اپنی مصیبت کا معاملہ تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں تو مجھے اس میں اجر عطا فرما " ام المومنین فرماتی ہیں (اس دعا میں اس سے آگے یہ الفاظ ہیں ، یا اللہ ! مجھے اس کا اچھا بدل عطا فرما، چنانچہ )میں جب اگلے لفظ بولنے گئی تو میں سوچتی کہ ابوسلمہ سے بہتر مجھے کونسا شو ہر مل سکتا ہے لیکن میں یہ دعاسلسل مانگتی رہی ، حتیٰ کہ جب میری عدت پوری ہوگئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام نکاح بھیجا، میں نے انکار کر دیا، پھر حضرت عمر نے پیغام بھیجا، میں نے ان کو بھی انکار کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیغام نکاح دے کر ایک خاتون کو بطورنمائندہ بھیجا، ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالی کے رسول کو خوش آمدید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سفیر کوبھی خوش آمدید۔ (پھر اس خاتون سے کہا ) تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو. میرا سلام کہنا اور آپ کو بتا دینا کہ مجھ میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے اور میں بہت زیادہ غیرت مند بھی ہوں ۔ اور یہ کہ میرے قریبی رشتہ داروں میں کوئی بھی اس وقت میرے پاس نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جواباً پیغام بھیجا کہ بچوں کے معاملہ میں الله تعالی تیرے بچوں کو تیرے لئے سلامت رکھے (میری طرف سے اس بات کی پرواہ نہ کرو ) اور جہاں تک غیرت کا معاملہ ہے تو میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالی تمہاری اس کیفیت میں نرمی عطافرمائے ۔ اور جہاں تک اولیاء کا ہے تو تمہارے جتنے بھی اولیاء ہیں چاہے یہاں حاضر ہیں یا غائب ہیں سب کو راضی کرنا میری ذمہ داری ہے۔ ام المومنین نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے عمر جاؤ اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ میرا نکاح کر دو، ان کے بیٹے نے ان کا نکاح رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کر دیا ۔ اور ان سے کہا: میں نے جتنا سامان تمہاری فلاں بہن کو دیا تھا اتنا ہی آپ کوبھی دونگا، اس میں کچھ بھی کمی نہیں کروں گا۔ چنانچہ دو مٹکے، دوچکیاں اور ایک تکیہ جس میں لیف بکھرا ہوا تھا ان کو جہیز میں دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے پاس تشریف لاتے تھے۔ ان ایام میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی " زینب" دودھ پیتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب بھی تشریف لاتے توام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی بیٹی زینب کو گود میں لٹا کر دودھ پلانے لگ جاتی تھیں۔ آپ فرماتی ہیں: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بہت نرم مزاج اور حیا دار تھے، آپ غصہ کئے بغیر واپس تشریف لے جاتے تھے، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی ہیں ، وہ معاملہ سمجھ گئے ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو حضرت عمار بن یاسر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کی گود سے زینب کو چھین لیا اور کہا: اس گندی بچی کو چھوڑ دوتو نے اس کے سبب رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تکلیف دی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لے آئے ، آپ نے حجرے کے چاروں طرف نظر دوڑائی اور پوچھا: زینب کہاں ہے؟ کیا بات ہے آج زینب نظرنہیں آرہی ؟ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: عمار آیا تھا وہ اس کو اپنے ساتھ لے گیا، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی اس بیوی کے ساتھ سلسلہ ازدواج شروع کیا۔ اور ان سے فرمایا: اگرتم چاہوتو میں ساتوں دن تمہارے پاس آیا کروں اور اس صورت میں دیگر ) ازواج کے پاس بھی ساتوں دن جایا کروں گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ابن عمر بن ابی سلمہ کہتے ہیں: اس حدیث میں حماد بن سلمہ نے جس راوی کا نام ذکر نہیں کیا ہے، ایک اور محدث نے ان کا نام ذکر کر دیا ہے۔ وہ " سعید بن عمر بن ابی سلمہ" ہیں ۔
أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← ابن عمر بن أبي سلمة ← حماد بن سلمة أنبأ ثابت ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6759
حضرت عروہ بیان کرتے ہیں : حبشہ کی جانب پہلی ہجرت میں حضرت جعفر اور ان کے ساتھیوں کے ہجرت کرنے سے پہلے حج عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو ہمراہ لے کر ہجرت کی تھی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ruqyah, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6847
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4877
حضرت ا م بکر بنت المسور بن مخرمہ اپنے اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ بنت وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، اپنے چچا اہیب بن عبد مناف بن زہرہ کی پرورش میں تھیں، حضرت عبدالمطلب بن ہاشم اپنے بیٹے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد گرامی حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنے ساتھ لائے اور ان کے ساتھ حضرت آمنہ بن وہب کا نکاح کر دیا اور اسی مجلد میں حضرت عبدالمطلب نے خود نکاح ہالہ بنت اہیب بن عبد مناف بن زہرہ کے ساتھ کر لیا، یہی (ہالہ بنت عبد اہیب) حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ محترمہ ہیں۔ حضرت حمزہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقریباً ہم عمر ہی ہیں۔ اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی ہیں۔
أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4877
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ هَذِهِ أَحَادِيثُ تَرَكَهَا فِي الْإِمْلَاءِ · حديث 4892
حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شمار کیا ہے، آپ 54 سا ل کی عمر میں جنگ احد میں شہید ہوئے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › These are the hadiths he left in dictation · Hadith 4892
حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شرکت کرنے والوں میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حلیف حضرت ابو مرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام بھی ذکر کیا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the muraqab of Abu Merthad Al-Ghanawi Kanaz Bin Al-Husayn Al-Adawi · Hadith 4970
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Jabbar Ibn Sakhr, may God be pleased with him, one of the Badrists · Hadith 4982
حضرت عروہ نے بنی عدی میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت ثعلبہ بن عنمہ بن عدی رضی اللہ عنہ کا نام بھی ذکر کیا ہے۔آپ جنگ خندق میں شہید ہوئے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the tracts of Athlabah bin Anamah al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 5020
ابن اسحاق نے بنی زریق بن عامر ، پھر بنی عجلان میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت رافع بن مالک بن عجلان زرقی رضی اللہ عنہ کا نام بھی ذکر کیا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Niqab Rifa` ibn Malik al-Zarqa, may God be pleased with him · Hadith 5022
حضرت عروہ نے بنی زریق کے انصاریوں میں سے بیعت عقبہ میں شریک ہونے والوں میں حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک بن عجلان بن زرقی رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی کیا ہے ۔ یہ مبلغ تھے۔ اور ان بدری صحابہ میں بھی ان کا ذکر کیا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Rifa’a ibn Rafa’a al-Zarqa al-Zarqa, may God be pleased with him · Hadith 5026
حضرت عروہ نے انصار کے قبیلہ بنی ساعدہ بن کعب بن کعب بن خزرج میں سے جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت سعد بن عبادہ بن ولیم بن حارثہ بن عبیدہ بن خزیمہ کا نام ذکر کیا ہہے۔، یہ اسلام کے مبلغ تھے، یہ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5095