Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

تربية الأبناء

Children & Parenting

5818 hadiths

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1184

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ2 بِمَكَّةَ، قَالَ: حدثنا عَلِیُّ بْنُ زِیَادٍ اللَّحْجِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو قُرَّۃَ ، سُفْیَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ عَنْ النَّبِیِّ ، صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اِذَا جَاوَزَ الختان الختان وجب الغسل۔4:32

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " جب شرم گاہیں مل جائں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔"

اِذَا جَاوَزَ الختان الختان وجب الغسل۔4:32 ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← اَبُو قُرَّۃَ سُفْیَانَ ← عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ← الْمُفَضَّلُ1 بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Laughing door · Hadith 1184

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ غُسْلِ الْجُمُعَةِ · حديث 1220

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا [ص:22] يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ، وَعَلَى مَنْ رَاحَ الْغُسْلُ». [1: 18] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «فِي هَذَا الْخَبَرِ إِتْيَانُ الْجُمُعَةِ فَرْضٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ، وَالْعِلَّةُ فِيهِ أَنَّ الِاحْتِلَامَ بُلُوغٌ، فَمَتَى بَلَغَ الصَّبِيُّ وَأَدْرَكَ، بِأَنْ يَأْتِيَ عَلَيْهِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً كَانَ بَالِغًا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُحْتَلِمًا، وَنَظِيرُ هَذَا قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا: {وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ، فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ} [النور: 59] فَأَمَرَ اللَّهُ جَلَّ [ص:23] وَعَلَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ بِالِاسْتِئْذَانِ مَنْ بَلَغَ الْحُلُمَ، إِذِ الْحُلُمُ بُلُوغٌ، وَقَدْ يَبْلُغُ الطِّفْلُ دُونَ أَنْ يَحْتَلِمَ، وَيَكُونُ مُخَاطَبًا بِالِاسْتِئْذَانِ كَمَا يَكُونُ مُخَاطَبًا عِنْدَ الِاحْتِلَامِ بِهِ»

۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "ہر بالغ شخص کو جمعہ کے لئے جانا لازم ہے، اور جو شخص (جمعہ ادا کرنے کے لئے) جائے اس پر غسل کرنا لازم ہے"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ ہر بالغ شخص پر جمعے کی نماز کے لئے آنا فرض ہے اس میں علت یہ ہے کہ احتلام ہونا بالغ ہونے کا نشان ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بچہ بالغ ہوجائے یا عمر کے اعتبار سے پندرہ سال کا ہوجائے، تو وہ بالغ شمار ہوگا۔ اگرچہ اسے احتلام نہ ہوا ہو۔ اس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور جب تمہارے بچے بالغ ہوجائیں، تو وہ اجازت طلب کریں گے جس طرح ان لوگوں نے اجازت لی جن کا ذکر پہلے ہوا ہے"۔ تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اجازت لینے کا حکم اس شخص کو دیا ہے، جو بالغ ہوجاتا ہے کیونکہ یہاں لفظ حلم سے مراد بالغ ہونا ہے اور بعض اوقات بچہ احتلام کے بغیر بالغ ہوجاتا ہے اور وہ اجازت لینے کے حکم کا مخاطب بن جاتا ہے جس طرح کا احتلام کے ہمراہ اس حکم کا مخاطب بنتا ہے۔ اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ جمعہ کے لئے غسل کرنا اسلام کے فطری احکام میں سے ایک ہے

"عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ، وَعَلَى مَنْ رَاحَ الْغُسْلُ". ← النَّبِيِّ ← حَفْصَةَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← [ص:22] يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The Friday Laundering Door · Hadith 1220

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4109

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «إِنَّهُ عَمُّكِ، فَأَذَنِي لَهُ» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةٌ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَنْ يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے رضاعی چچا آئے انہوں نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے انہیں اس وقت تک اجازت دینے سے انکار کر دیا جب تک میں نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت نہیں کرتی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ تشریف لائے میں نے آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تمہارے چچا تھے تم نے انہیں اجازت دے دینی تھی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول ﷺ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مجھے مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: رضاعت کے ذریعے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے ،جو ولادت کے ذریعے ثابت ہوتی ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4109

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4111

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ - لِأُخْتِهَا - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ» قَالَتْ: نَعَمْ وَأَحَبُّ مَنْ يُشَارِكُنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ» قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حُدِّثْنَا أَنَّكَ تُنْكِحُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: «ابْنَةُ أَبِي سَلَمَةَ ?» فَقَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: نَعَمْ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي، مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةَ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ: ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ»

سیّدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ابوسفیان کی صاحب زادی سے شادی کر لیجئے انہوں نے اپنی بہن کے بارے میں یہ بات کہی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں میں یہ چاہتی ہوں اس بھلائی میں میری بہن بھی میرے ساتھ شریک ہو۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ جائز نہیں ہے۔ سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ کی قسم ! ہمیں، تو یہ بات بتائی گئی ہے، آپ ابو سلمہ کی صاحب زادی درہ کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: ابو سلمہ کی بیٹی کے ساتھ؟ سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: اگر وہ میری سوتیلی بیٹی نہ ہو تی پھر بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی ، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے مجھے اور ابو سلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے، تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے رشتے میرے سامنے پیش نہ کرو۔

زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ ← ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4111

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5555

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنَعَ وَهَاتِ، وَكَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ»

حضرت مغیرہ بن شعبہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ماؤں کی نا فرمانی ‘ بیٹیوں کو زندہ گاڑنے ‘ دوسرے کا حق ادا نہ کرنے اور ان کا حق مارنے کو تمہاے لئے حرام قرار دیا ہے اور اس نے تین چیزوں کو تمہارے لئے نا پسندیدہ قرار دیا ہے۔ ( فضول ) بحث کرنا ‘ بکثرت ( غیر ضروری ) سوال کرنا ( یا ضرورت کے بغیر) مانگنا اور مال کو ضائع کرنا‘‘۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5555

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5556

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا غُلَامَهُ وَرَّادًا، فَقَالَ: اكْتُبْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، وَعَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَعَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ»

امام شعمی بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ ؓ نے حضرت معاویہؓ نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو خط لکھا ‘ کہ آپ نے مجھے کوئی ایسی حدیث تحریر کر کے بھیج دیں ‘ جو آپ نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی ہو ‘ تو حضرت مغیرہؓ نے اپنے ناوجوان ( سیکر ٹری ) ادا نہ کرنے اور ان کا حق مارنے ‘ فضول بحث تمحیص اور بکثرت سوالات ( یعنی غیر ضروری سوالا ت یا ضرورت کے بغیر مانگنے ) اور مال کو ضائع کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ اما شعمی نے روایت وراد کے حوالے سے حضرت مغیرہؓ سے نقل کی ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ» ← قِيلَ ← مَنْعٍ وَهَاتِ، ← وَأْدِ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، ← رَسُولَ اللَّهِ «يَنْهَى ← اكْتُبْ: إِنِّي ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَدَعَا غُلَامَهُ وَرَّادًا، ← إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ ← الشَّعْبِيِّ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5556

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5602

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ «أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، وَقَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةَ، أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلمہ ؓ نے نبی اکرمﷺ سے پچھنے لگوانے کی اجازت مانگی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ابو طیبہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ سیدہ ام سلمہ ؓ کو پچھنے لگا دے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات بھی بیان کی تھی کہ یہ صاحب سیدہ ام سلمہ ؓ کے رضاعی بھائی تھے یا یہ کوئی ایسے لڑکے تھے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الليثي ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5602

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5838

أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُزْبُرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ رَبَاحًا، وَلَا نَجِيحًا، وَلَا يَسَارًا، وَلَا أَفْلَحَ، إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعٌ، فَلَا تَزِيدُوا عَلَيْهِ» قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ: «يُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ الْعِلَّةُ فِي الزَّجْرِ عَنْ تَسْمِيَةِ الْغِلْمَانِ بِالْأَسَامِي الْأَرْبَعِ الَّتِي ذُكِرَتْ فِي الْخَبَرِ هِيَ أَنَّ الْقَوْمَ كَانَ عَهْدُهُمْ بِالشِّرْكِ قَرِيبًا، وَكَانُوا يُسَمُّونَ الرَّقِيقَ بِهَذِهِ الْأَسَامِيَ، وَيَرَوْنَ الرِّبْحَ مِنْ رَبَاحٍ، وَالنُّجْحَ مِنْ نَجَاحٍ، وَالْيُسْرَ مِنْ يَسَارٍ، وَفَلَاحٍا مِنْ أَفْلَحَ، لَا مِنَ اللَّهِ تَعَالَى جَلَّ وَعَلَا، فَمِنْ أَجْلِ هَذَا نَهَى عَمَّا نَهَى عَنْهُ»

حضرت سمرہ بن جندبؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ تم اپنے غلام کا نام رباح یا نجیح یا یسار یا افلح نہ رکھو ‘‘۔ ( شاید راوی کہتے ہیں : ) یہ چار نام ہیں تم ان میں کوئی اضافہ نہ کرنا۔ شیخ ابو حاتم بیان کرتے ہیں : اس بات کا احتمال موجود ہے ‘ اس روایت میں جو چار نام ذکر کیے گئے ہیں غلاموں کے وہ نام رکھنے کی اس ممانعت کی علت یہ ہو زمانہ شرک کے قریب تھا وہ اپنے غلاموں کے یہ نام رکھا کرتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ رباح نام کے ساتھ فائدہ ہوتا ہے نجاح نام کے ساتھ کامیابی ملتی ہے یسار نام کے ساتھ خوشحالی ملتی ہے اور فلاح کے نام کے ساتھ کامیابی ملتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتی ‘ تو اسی وجہ سے نبی اکرمﷺ نے لوگوں کو یہ نام رکھنے سے منع کر دیا۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← مَنْصُورٌ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُزْبُرَانِيُّ، ← مَكْحُولٌ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5838

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5863

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:174] عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَكُنَّ يَأْتِينِي صَوَاحِبِي، فَكُنَّ إِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَمِعْنَ مِنْهُ، فَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ يَلْعَبْنَ مَعِي

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ‘ میں گڑیا کے ساتھ کھیلا کرتی تھی میری سہیلیاں میرے پاس آ جاتی تھیں جب وہ نبی اکرمﷺ کو دیکھتی تھیں ‘ تو اٹھ کر چلی جاتی تھیں ۔ نبی اکرمﷺ انہیں میرے ساتھ کھیلنے کے لئے میرے طرف بھیج دیتے تھے۔

«كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ، [ص:184] ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Double-sided door · Hadith 5863

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5865

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف لاتے تھے میں اس وقت گڑیا کے ساتھ کھیل رہی ہوتی تھیں۔

«كَانَ النَّبِيُّ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ» ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Double-sided door · Hadith 5865

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5866

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ، وَتَجِيءُ صَوَاحِبِي فَيَلْعَبْنَ مَعِي، فَإِذَا رَأَيْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْنَ مِنْهُ، فَكَانَ يُدْخِلُهُنَّ إِلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : میں گڑیا کے ساتھ کھیل رہی ہوتی تھی میری سہیلیاں آ جاتی تھیں اور میرے ساتھ کھیلتی تھیں جب وہ نبی اکرمﷺ کو دیکھتی تھیں ‘ تو اٹھ کر چلی جاتی تھیں ۔ نبی اکرمﷺ انہیں میرے پاس بھیج دیتے تھے ‘ تو وہ میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Double-sided door · Hadith 5866

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6335

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ [ص:244] الْمَرْزُبَانِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ جَهْمِ بْنِ أَبِي جَهْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ حَلِيمَةَ أُمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعْدِيَّةِ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ قَالَتْ: خَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ نَلْتَمِسُ الرُّضَعَاءَ بِمَكَّةَ عَلَى أَتَانٍ لِي قَمْرَاءَ فِي سَنَةٍ شَهْبَاءَ لَمْ تُبْقِ شَيْئًا، وَمَعِي زَوْجِي، وَمَعَنَا شَارِفٌ لَنَا، وَاللَّهِ مَا إِنْ يَبِضُّ عَلَيْنَا بِقَطْرَةٍ مِنْ لَبَنٍ، وَمَعِي صَبِيٌّ لِي إِنْ نَنَامَ لَيْلَتَنَا مِنْ بُكَائِهِ مَا فِي ثَدْيَيَّ مَا يُغْنِيهِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ لَمْ تَبْقَ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا عُرِضَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَأْبَاهُ، وَإِنَّمَا كُنَّا نَرْجُو كَرَامَةَ الرَّضَاعَةِ مِنْ وَالِدِ الْمَوْلُودِ، وَكَانَ يَتِيمًا، وَكُنَّا نَقُولُ: يَتِيمًا مَا عَسَى أَنْ تَصْنَعَ أُمُّهُ بِهِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ صَوَاحِبِي امْرَأَةٌ إِلَّا أَخَذَتْ صَبِيًّا غَيْرِي، فَكَرِهْتُ أَنْ أَرْجِعَ وَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا وَقَدْ أَخَذَ صَوَاحِبِي، فَقُلْتُ لِزَوْجِي: وَاللَّهِ لَأَرْجِعَنَّ إِلَى ذَلِكَ الْيَتِيمِ فَلَآخُذَنَّهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَأَخَذْتُهُ وَرَجَعْتُ إِلَى رَحْلِي، فَقَالَ زَوْجِي: قَدْ أَخَذْتِيهِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ وَاللَّهِ، وَذَاكَ أَنِّي لَمْ أَجِدْ غَيْرَهُ، فَقَالَ: قَدْ أَصَبْتِ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَ فِيهِ خَيْرًا، [ص:245] قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ جَعَلْتُهُ فِي حِجْرِي أَقْبَلَ عَلَيْهِ ثَدْيِي بِمَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّبَنِ، فَشَرِبَ حَتَّى رَوِيَ، وَشَرِبَ أَخُوهُ - يَعْنِي ابْنَهَا - حَتَّى رَوِيَ، وَقَامَ زَوْجِي إِلَى شَارِفِنَا مِنَ اللَّيْلِ، فَإِذَا بِهَا حَافِلٌ فَحَلَبَهَا مِنَ اللَّبَنِ مَا شِئْنَا، وَشَرِبَ حَتَّى رَوِيَ، وَشَرِبْتُ حَتَّى رَوِيتُ، وَبِتْنَا لَيْلَتَنَا تِلْكَ شِبَاعًا رُوَاءً، وَقَدْ نَامَ صِبْيَانُنَا، يَقُولُ أَبُوهُ يَعْنِي زَوْجَهَا: وَاللَّهِ يَا حَلِيمَةُ مَا أُرَاكِ إِلَّا قَدْ أَصَبْتِ نَسَمَةً مُبَارَكَةً، قَدْ نَامَ صَبِيُّنَا، وَرَوِيَ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجْنَا، فَوَاللَّهِ لَخَرَجَتْ أَتَانِي أَمَامَ الرَّكْبِ، حَتَّى إِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ: وَيْحَكِ كُفِّي عَنَّا، أَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَتَانِكِ الَّتِي خَرَجْتِ عَلَيْهَا؟ فَأَقُولُ: بَلَى وَاللَّهِ، وَهِيَ قُدَّامُنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَنَازِلَنَا مِنْ حَاضِرِ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، فَقَدِمْنَا عَلَى أَجْدَبِ أَرْضِ اللَّهِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ حَلِيمَةَ بِيَدِهِ إِنْ كَانُوا لَيُسَرِّحُونَ أَغْنَامَهُمْ إِذَا أَصْبَحُوا، وَيَسْرَحُ رَاعِي غَنَمِي فَتَرُوحُ بِطَانًا لَبَنًا حُفَّلًا، وَتَرُوحُ أَغْنَامُهُمْ جِيَاعًا هَالِكَةً، مَا لَهَا مِنْ لَبَنٍ، قَالَتْ: فَنَشْرَبُ مَا شِئْنَا مِنَ اللَّبَنِ، وَمَا مِنَ الْحَاضِرِ أَحَدٌ يَحْلُبُ قَطْرَةً وَلَا يَجِدُهَا، فَيَقُولُونَ لِرِعَائِهِمْ: وَيْلَكُمْ أَلَا تَسْرَحُونَ حَيْثُ يَسْرَحُ رَاعِي حَلِيمَةَ، فَيَسْرَحُونَ فِي الشِّعْبِ الَّذِي تَسْرَحُ فِيهِ، فَتَرُوحُ أَغْنَامُهُمْ جِيَاعًا مَا بِهَا مِنْ لَبَنٍ، وَتَرُوحُ غَنَمِي لَبَنًا حُفَّلًا، وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشِبُّ فِي الْيَوْمِ شَبَابَ الصَّبِيِّ فِي شَهْرٍ، وَيَشِبُّ فِي الشَّهْرِ [ص:246] شَبَابَ الصَّبِيِّ فِي سَنَةٍ، فَبَلَغَ سَنَةً وَهُوَ غُلَامٌ جَفْرٌ، قَالَتْ: فَقَدِمْنَا عَلَى أُمِّهِ، فَقُلْتُ لَهَا، وَقَالَ لَهَا أَبُوهُ: رُدِّي عَلَيْنَا ابْنِي، فَلْنَرْجِعْ بِهِ، فَإِنَّا نَخْشَى عَلَيْهِ وَبَاءَ مَكَّةَ قَالَتْ: وَنَحْنُ أَضَنُّ شَيْءٍ بِهِ مِمَّا رَأَيْنَا مِنْ بَرَكَتِهِ، قَالَتْ: فَلَمْ نَزَلْ حَتَّى قَالَتِ: ارْجِعَا بِهِ، فَرَجَعْنَا بِهِ، فَمَكَثَ عِنْدَنَا شَهْرَيْنِ، قَالَتْ: فَبَيْنَا هُوَ يَلْعَبُ وَأَخُوهُ يَوْمًا خَلْفَ الْبُيُوتِ يَرْعَيَانِ بَهْمًا لَنَا، إِذْ جَاءَنَا أَخُوهُ يَشْتَدُّ، فَقَالَ لِي وَلِأَبِيهِ: أَدْرِكَا أَخِي الْقُرَشِيَّ، قَدْ جَاءَهُ رَجُلَانِ، فَأَضْجَعَاهُ، وَشَقَّا بَطْنَهُ، فَخَرَجْنَا نَشْتَدُّ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ مُنْتَقِعٌ لَوْنُهُ، فَاعْتَنَقَهُ أَبُوهُ وَاعْتَنَقْتُهُ، ثُمَّ قُلْنَا: مَا لَكَ أَيْ بُنَيَّ؟ قَالَ: «أَتَانِي رَجُلَانِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ، فَأَضْجَعَانِي، ثُمَّ شَقَّا [ص:247] بَطْنِي، فَوَاللَّهِ، مَا أَدْرِي مَا صَنَعَا»، قَالَتْ: فَاحْتَمَلْنَاهُ، وَرَجَعْنَا بِهِ، قَالَتْ: يَقُولُ أَبُوهُ: يَا حَلِيمَةُ مَا أَرَى هَذَا الْغُلَامَ إِلَّا قَدْ أُصِيبَ، فَانْطَلِقِي، فَلْنَرُدَّهُ إِلَى أَهْلِهِ قَبْلَ أَنْ يَظْهَرَ بِهِ مَا نَتَخَوَّفُ، قَالَتْ: فَرَجَعْنَا بِهِ، فَقَالَتْ: مَا يَرُدُّكُمَا بِهِ، فَقَدْ كُنْتُمَا حَرِيصَيْنِ عَلَيْهِ؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، إِلَّا أَنَّا كَفَلْنَاهُ، وَأَدَّيْنَا الْحَقَّ الَّذِي يَجِبُ عَلَيْنَا، ثُمَّ تَخَوَّفْنَا الْأَحْدَاثَ عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَكُونُ فِي أَهْلِهِ، فَقَالَتْ أُمُّهُ: وَاللَّهِ مَا ذَاكَ بِكُمَا، فَأَخْبِرَانِي خَبَرَكُمَا وَخَبَرَهُ، فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ بِنَا حَتَّى أَخْبَرْنَاهَا خَبَرَهُ، قَالَتْ: فَتَخَوَّفْتَمَا عَلَيْهِ، كَلَّا وَاللَّهِ، إِنَّ لِابْنِي هَذَا شَأْنًا، أَلَا أُخْبِرُكُمَا عَنْهُ إِنِّي حَمَلْتُ بِهِ، فَلَمْ أَحْمِلْ حَمْلًا قَطُّ، كَانَ أَخَفَّ عَلَيَّ، وَلَا أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ، ثُمَّ رَأَيْتُ نُورًا كَأَنَّهُ شِهَابٌ خَرَجَ مِنِّي حِينَ وَضَعْتُهُ، أَضَاءَتْ لَهُ أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بِبُصْرَى، ثُمَّ وَضَعْتُهُ، فَمَا وَقَعَ كَمَا يَقَعُ الصِّبْيَانُ، وَقَعَ وَاضِعًا يَدَهُ بِالْأَرْضِ، رَافِعًا رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، دَعَاهُ وَالْحَقَا بِشَأْنِكُمَا. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قَالَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا جَهْمُ بْنُ أَبِي جَهْمٍ نَحْوَهُ، حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ»

عبداللہ بن جعفر سیدہ حلیمہ سعدیہ ؓ کا یہ بیان نقل کرتےہیں جو نبی اکرمﷺ کی رضاعی ماں تھیں ۔ وہ بیان کرتی ہیں: میں بنو سعد بن بکر کی کچھ خواتین کے ہمراہ مکہ آئی تاکہ دودھ پلانے کے لیے کوئی بچہ حاصل کروں میں اپنی گدھی پر سوار ہو کر آئی تھی جو کہ قحط سالی کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو چکی تھی۔ میرے ساتھ میرا شاہر بھی تھا۔ ہمارے ساتھ ہماری ایک اونٹنی بھی تھی اللہ کی قسم ! اس دودھ بہت کم نکلتا تھا۔میرے ساتھ میرا چھوٹا سا بچہ بھی تھا۔ اس کے رونے کی وجہ سے ہم رات کو سو نہیں پاتے تھے کیونکہ میرے سینے میں اتنا دودھ نہیں تھا جو اس کی کیفیت کرسکے جب ہم لوگ مکہ آئے تو ہم میں سے عورت کو پیش کی گئی کہ وہ نبی اکرمﷺ کو دودھ پلانے کے لئے لےجانے ،لیکن کسی بھی عورت نے اسے قبول نہیں کیا کیونکہ خواتین کو یہ لالچ ہوتا تھا کہ دودھ پلانے کا معاوضہ بچے کے باپ سے وصول کریں گی اور نبی اکرمﷺ یتیم تھے ہم لوگ یہ کہا کرتےتھے۔کسی یتیم کے بارے میں اس کی ماں کیا کر سکتی ہے۔ میرے ساتھ آنے والی خواتین میں سے ہر ایک نے کوئی نہ کوئی بچہ گود میں لے لیا۔ مجھے یہ بات پسند نہیں تھی کہ میں ایسی حالت میں واپس جاؤں کہ مجھے کوئی بچہ نہ ملا ہو جب کہ میری ساتھی خواتین بچہ لے چکی ہوں ۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا اللہ کی قسم! میں اس یتیم بچے کو لے کر چلی جاؤں گی ہم اسے ضرور حاصل کریں گے ۔ میں نبی اکرمﷺ کے گھر آئی میں نے آپ کو حاصل کر لیا ۔میں اپنی رہائش جگہ پر واپس آئی ، تو میرے شوہر نے کہا:تم نے اسے حاصل کر لیا ہے ۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں ۔ اللہ کی قسم ! اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان کے علاوہ اور کوئی بچہ نہیں ملا۔ شوہر نے کہا: تم نے ٹھیک کیا ہے ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں ہمارے لئے کوئی بھلائی رکھ دے ۔ سیدہ حلیمہ ؓ بیان کرتی ہیں :اللہ کی قسم ! نبی اکرمﷺ میری گود میں تھے کہ اسی دوران میری چھاتی میں اللہ تعالیٰ نے اتنا دودھ پیدا کر دیا کہ نبی اکرمﷺ نے اسے پیا اور سیر ہو کر پیا ۔ آپ کے رضاعی بھائی نے بھی اسے پی لیا یعنی سیدہ حلیمہ ؓ کے بیٹے نے بھی اسے پی لیا ،یہاں تک کہ وہ بھی سیر ہوگیا۔رات کے وقت میرا شوہر ہماری اونٹنی کے پاس گیا ،تو اس کا بھی دودھ اترا ہوا تھا۔ میرے شوہر نے اس کا انتا دودھ لیا جتنا ہم چاہتے تھے۔ اس نے پیا اور سیر ہو کر پیا میں نے بھی پیا اور سیر ہو گئی ۔ اس رات ہم نے پیٹ بھر کر اور سیر ہو کر رات گزاری ۔ ہمارے بچے بھی سوتے رہے۔ بچے کے باپ یعنی سیدہ حلیمہ کے شوہر نے کہا:اللہ کی قسم! اے حلیمہ میرا یہ خیال ہےکہ تمہیں ایک مبارک وجود ملا ہے ۔ہمارے بچے آرام سے سو رہے ہیں اور وہ سیر ہیں ۔ سیدہ حلیمہ بیان کرتی ہیں :پھر ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے اللہ کی قسم ! میری گدھی سب سے زیادہ آگے چل رہی تھی،یہاں تک کہ میرے ساتھی یہ کہتے تھے کہ تمہارا ستیاناس ہو تم اس کو آرام سے لے کر چلو کیا یہ تمہاری وہی کدھی نہیں ہے،جس پر سوار ہو کر تم آئی تھی،تو میں جواب دیتی جی ہاں اللہ کی قسم! (وہی ہے) ،لیکن وہ بد ستور آگے چلتی رہی،یہان تک کہ ہم بنو سعد بن بکر کے علاقے میں اپنے گھر آگئے۔ ہم ایک ایسی جگہ پر آئے تھے جو سب سے زیاد خشک تھی۔ا س ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں حلیمہ کی جان ہے دوسرے لوگ صبح کے وقت اپنی بکریوں کو چرانے کے لئے بھیج ویتے تھے اور میری بکریوں کا چرواہا بھی میری بکریاں لے جاتا تھا،تومیری بکریاں جب شام آتی تھیں ،تو دودھ سے بھری ہوئی تھیں جبکہ ان کی بکریاں جب واپس آتی تھیں ،توبھوکی ہوتی تھیں ۔ ہلاکت کے قریب ہوتی تھیں ان میں دودھ بھی نہیں ہوتا تھا ۔ سیدہ حلیمہ بیان کرتی ہیں ۔ ہم جتنا چاہتے تھے دودھ پی لیتے تھےجبکہ باقی قبیلے میں کسی کو ایک قطرہ بھی دودھ دوہنے کے لئے اور پینے کے لئے نہیں ملتا تھا،تو وہ لوگ اپنے چرواہوں سے یہ کہتے تھے تمہارا ستیاناس ہو کیا تم اپنی بکریاں اس جگہ نہیں چراتے جہاں حلیمہ کا چرواہا چراتا ہے، پھر وہ لوگ بھی اپنی بکریاں اسی گھاٹی میں چراتےتھے ،جس میں میری بکریاں چرتی تھیں ،لیکن اس کے باوجود ان کی بکریاں بھو کی آتی تھیں ۔ ان میں دودھ نہیں ہوتا تھا، جبکہ میری بکریاں دودھ سے بھری ہوئی آتی تھیں۔ نبی اکرمﷺ کی نشونما ایک دن میں اتنی ہورہی تھی جتنی کسی عام بچے کی ایک مہینے میں ہوتی ہے اور آپ کی نشونما ایک ماہ میں اتنی ہوگئی ،جتنی کسی بچے کی ایک سال میں ہوتی ہے، جب آپ کی عمر ایک سال ہوئی ،تو آپ بھر پور صحت مند لگتے تھے۔ سیدہ حلیمہ ؓبیان کرتی ہیں : پھر ہم لوگ نبی اکرمﷺ کی والدہ کی خدمت میں آئے ۔ میں نے ان سے یہ درخواست کی اور میرے شوہر نے بھی ان سے یہ درخواست کی کہ آپ اس بچے کو ہمیں دیدیں تا کہ ہم اسے واپس لے جائیں کیونکہ ہمیں اس کے بارے میں اندیشہ ہے کہ یہ مکہ میں وباء کا شکار نہ ہو جائے ۔ سیدہ حلیمہ ؓ بیان کرتی ہیں : ہم نے نبی اکرمﷺ کی جو برکت دیکھی تھی ۔ ہمیں اس کا لالچ تھا ، تو ہم مسلسل ان کے ساتھ بات چیت کرتےرہے، یہاں تک کہ انہوں نے یہ فرمایا:تم اسے ساتھ لے جاؤ ۔ہم نبی اکرمﷺ کو ساتھ لےکر واپس آگئے نبی اکرمﷺ دو ماہ ہمارے پاس ٹھہرے رہے۔ ایک مرتبہ آپ اپنے بھائی کے ساتھ گھروں کے پیچھے کھیل رہے تھے وہ دونوں ہماری بکری کے بچے کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔اسی دوران نبی اکرمﷺ کا رضاعی بھائی تیزی سے دوڑتا ہوا ہمارے پاس آیا اور مجھ سےاور اپنے والد سے بولا میرے قریشی بھائی کے پاس جائیں ۔ اس کے پاس دو آدمی آئے ہیں انہوں نے اسے لٹادیا ہے اور اس کا پیٹ چیر دیاہے۔ (سیدہ حلیمہ ؓبیان کرتی ہیں ) ہم لوگ دوڑتے ہوئے نبی اکرمﷺ کے پاس آئے، تو آپ کھڑے ہوئے تھے ۔ آپ کے چہرے کی رنگت تبدیل تھی۔آپ کے والد نے آپ کو گلے سے لگا لیا ۔ میں نے بھی آپ کو گلے سے لگا لیا پھر ہم نے دریافت کیا: اے میرے بیٹے تمہیں کیا ہوا ہے ۔ آپ نے بتایا میرے پاس دو آدمی آئے ۔انہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھے لٹا لیا پھر انہوں نے میرے پیٹ کو چیر دیا ۔ اللہ کی قسم! مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ انہوں نے کیا کیا سیدہ حلیمہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ ہم نے آپ کو گود میں اٹھا لیا اور آپ کو لے کر واپس آگے سیدہ حلیمہؓ بیان کرتی ہیں ۔ آپ کے رضاعی والد نے کہا :اے حلیمہ مجھے لگتا ہے اس لڑکے کے ساتھ کوئی نہ کوئی خاص معاملہ ہے تم چلو ہم اس کے گھر والوں کے سپرد کر آتےہیں ۔ اس سے پہلے کہ اس کی طرف سے کوئی ایسی صورت حال سامنے آئے جس کا ہمیں اندیشہ ہے سیدہ حلیمہ ؓبیان کرتی ہیں ۔ ہم آپ کو لے کر واپس آئے ، تو سیدہ آمنہ ؓ نے دریافت کیا تم لوگ اسے واپس لے کر کیوں آگئے ہو تم ، تو اسے اپنے پاس رکھنا چاہ رہے تھے۔ سیدہ حلیمہ ؓبیان کرتی ہیں ۔میں نے عرض کی :جی نہیں اللہ کی قسم! ہم اس کی کفالت کرلی ہےاور ہمارے ذمے جو حق لازم تھا وہہم نے ادا کردیا ہے پھر ہمیں اس کے بعد کسی مشکل پیش آنے کا اندیشہ ہوا (تو ہم نے یہ سوچا کہ یہ اپنے گھر میں ہی ٹھیک رہے گا ۔)سیدہ آمنہ ؓنے کہا :اس کےساتھ کیامعاملہ پیش آیا ہے۔ اللہ کی قسم! !تم دونوں مجھے بتاؤ ۔سیدہ آمنہ ؓ مسلسل ہمارے ساتھ اصرار کرتی رہیں ، یہاں تک کہ ہم نے بڑے اصل واقعہ بتادیا۔ سیدہ آمنہ ؓ نے دریافت کیا :کیا تمہیں اس کے بارے میں خوف ہے۔ ہرگز نہیں میرے اس بیٹے کی بڑی شان ہوگی میں تمہیں اس بارے میں بتاتی ہوں جب پھر اس کا حمل ہوا، تو مجھے حمل کی کوئی پریشانی محسوس نہیں ہوئی ۔ یہ میرے لئے انتہائی آسان اور زیادہ برکت والی صورت حال تھی ، پھر مجھے ایک نور دکھائی دیا جو انتہائی چمکدار تھا ، جب میں نے اسے جنم دیا ، تو وہ نور میرے اندرسے نکلا اور اس نورکی وجہ سے بصری میں موجود اونٹوں کی گردنیں میرے سامنے روشن ہوگئی (یعنی مجھے نظر آنے لگی ) پھر میں نے اسے جنم دیا، تویہ اس طرح باہر نہیں آیا جس طرح عام طور پر بچے باہر آتےہیں بلکہ جب یہ باہر آیا، تو اس نے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور دعا مانگی ،تو تم (اس واقعہ کو ) اپنے والے واقعے کے ساتھ ملا کر دیکھ لو۔ (امام ابن حبانؒفرماتے ہیں :) وہب بن جریر نے اپنی ساتھ یہ روایت نقل کی ہے اور عبداللہ بن محمد نے بھی یہ روایت اپنی سند کے ساتھ نقل کی ہے۔

حَلِيمَةَ أُمِّ رَسُولِ اللَّهِ السَّعْدِيَّةِ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← جَهْمُ بْنُ أَبِي جَهْمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6335

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الرَّضَاعِ · حديث 4223

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ [ص:37] عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يُحَرِّمُ مِنَ الْوِلَادَةِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: رضاعت کے ذریعے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے، جو ولادت کے ذریعے ثابت ہوتی ہے۔

عَائِشَةَ ← [ص:37] عُرْوَةَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Breastfeeding Book · Hadith 4223

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5308

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا عَقُّوا عَنِ الصَّبِيِّ خَضَبُوا قُطْنَةً بِدَمِ الْعَقِيقَةِ، فَإِذَا حَلَقُوا رَأْسَ الصَّبِيِّ وَضَعُوهَا عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوا مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقًا»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : زمانہ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ جب لوگ بچے کا عقیقہ کرتے تھے ‘ تو عقیقے کے خون کے ہمراہ روئی کو گیلا کرتے تھے اور جب وہ بچے کا سرمونڈتے تھے ‘ تو روئی کو بچے کو سر پر رکھ دیتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم خون کی جگہ خلوق ( مخصوص قسم کی خوشبو ) لگایا کرو۔

النَّبِيُّ «اجْعَلُوا مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقًا» ← الصَّبِيِّ خَضَبُوا قُطْنَةً بِدَمِ الْعَقِيقَةِ، فَإِذَا حَلَقُوا رَأْسَ الصَّبِيِّ وَضَعُوهَا عَلَى رَأْسِهِ، ← كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا عَقُّوا ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5308

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5310

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْعَقِيقَةِ فَأَخْبَرَتْنَا أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ»

یوسف بن ماہک بیان کرتے ہیں : ہم سیدہ حفصہ بنت عبد الرحمٰن ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے ا ن سے عقیقے کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے بتایا : سیدہ عائشہؓ نے انہیں یہ بات بتائی ہے: نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی : لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ( عقیقے میں قربان کی جائے گی)

الْعَقِيقَةِ فَأَخْبَرَتْنَا أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا ← دَخَلْنَا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَسَأَلْنَاهَا ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5310

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5313

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ، عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيِّينَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْعَقِيقَةِ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ» فَقُلْتُ لَهُ، يَعْنِي عَطَاءً: مَا الْمُكَافِئَتَانِ؟ قَالَ: مِثْلَانِ ذُكْرَانُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْهِ [ص:130] مِنْ إِنَاثِهِمَا

سیدہ اّم بنو کرزؓ بیان کرتی ہیں :میں نے نبی اکرمﷺ کو عقیقہ کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہو گی۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ان سے یعنی عطا سے دریافت کیا برابر کی ہونے سے مراد کیا ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے : وہ دونوں ایک جیسی ہوں تاہم وہ بکرے ہوں ‘ تو یہ میرے نزدیک بکریوں کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ ہوں گے۔

مِثْلَانِ ذُكْرَانُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْهِ [ص:130] مِنْ إِنَاثِهِمَا ← الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ» فَقُلْتُ لَهُ، يَعْنِي عَطَاءً: مَا الْمُكَافِئَتَانِ؟ ← فِي الْعَقِيقَةِ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيِّينَ، ← حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5313

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5479

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ [ص:292] عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظَافِرِ، وَالِاسْتِحْدَادُ وَالْخِتَانُ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ پانچ چیزیں فطرت میں شامل ہیں مونچھیں چھوٹی کرنا غلطیوں کے بال صاف کرنا ناخن تراشنا زیر ناف بال صاف کرنا اور ختنہ کرنا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرًا، ← مُعْتَمِرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ [ص:292] عَبْدِ الْأَعْلَى، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5479

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5481

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: تَقْلِيمُ الْأَظَافِرِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَالْخِتَانُ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ فطرت پانچ چیزیں ہیں ناخن تراشنا مونچھیں چھوٹی کرنا زیر ناف بال صاف کرنا ختنہ کرنا اور بغلوں کے بال صاف کرنا‘‘۔

«الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: تَقْلِيمُ الْأَظَافِرِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَالْخِتَانُ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5481

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5482

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ [ص:294] يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرت ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ پانچ چیزیں فطرت ہیں ختنہ کرنا زیر ناف بال صاف کرنا بغلوں کےک بال صاف کرنا مونچھیں چھوٹی کرنا ناخن تراشنا‘‘۔

«خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ [ص:294] يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5482

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 208

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَا وَرَجُلَانِ: رَجُلٌ مِنَّا وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَحْسَبُ فَبَعَثَهُمَا وَجْهًا، وَقَالَ: إِنَّكُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ ثُمَّ خَرَجَ، فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَسَّحَ بِهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَرَأَ الْقُرْآنَ قِرَاءَةً فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ. فَقَالَ عَلِيٌّ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي الْخَلَاءَ فَيَقْضِي الْحَاجَةَ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَأْكُلُ مَعَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَلَا يَحْجُبُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ، لَيْسَ الْجَنَابَةَ. أَوْ إِلَّا الْجَنَابَةُ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ شُعْبَةُ: هَذَا ثُلُثُ رَأْسِ مَالِي. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ كُنْتُ بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ أَنَّ بَيْنَ الْمَكْرُوهِ وَبَيْنَ الْمُحَرَّمِ فُرْقَانَا. وَاسْتَدْلَلْتُ عَلَى الْفَرْقِ بَيْنَهُمَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا، وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ ثَلَاثًا. كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنْعٍ وَهَاتِ". فَفَرَّقَ بَيْنَ الْمَكْرُوهِ، وَبَيْنَ الْمُحَرَّمِ بِقَوْلِهِ فِي خَبَرِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ: "كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ". قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا كَرِهَ ذَلِكَ إِذِ الذِّكْرُ عَلَى طُهْرٍ أَفْضَلُ، لَا أَنَّ (1) ذِكْرَ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ مُحَرَّمٌ. إِذِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ كَانَ يُقْرَأُ الْقُرْآنَ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ، وَالْقُرْآنُ أَفْضَلُ الذِّكْرِ. وقد كان النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ، عَلَى مَا رُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -. وَقَدُ يَجُوزُ أَنْ تَكُونَ كَرَاهَتُهُ لِذِكْرِ اللَّهِ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ، ذِكْرُ اللَّهِ الَّذِي هُوَ فَرْضٌ عَلَى الْمَرْءِ دُونَ مَا هُوَ مُتَطَوَّعٌ بِهِ. فَإِذَا كَانَ ذِكْرُ اللَّهِ فَرْضًا لَمْ يُؤَدِّ الْفَرْضَ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ حَتَّى يَتَطَهَّرَ، ثُمَّ يُؤَدِّي ذَلِكَ الْفَرْضَ عَلَى طَهَارَةٍ. لِأَنَّ رَدَّ السَّلَامِ فَرْضٌ عِنْدَ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ، فَلَمْ يَرُدّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -وَهُوَ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ حَتَّى تَطَهَّرَ ثُمَّ رَدَّ السَّلَامَ. فَأَمَّا مَا [كَانَ] الْمَرْءُ مُتَطَوِّعًا (2) بِهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَلَوْ تَرَكَهُ فِي حَالَةٍ هُوَ فِيهَا غَيْرُ طَاهِرٍ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ إِعَادَتُهُ، فَلَهُ أَنْ يَذْكُرَ اللَّهَ مُتَطَوِّعًا بِالذِّكْرِ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُتَطَهِّرٍ.

’’حضرت عمر و بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن سلمہ کو سنا ، انہوں نے فرمایا:میں اور دودوسرے افراد حضرات علی ؓ کےپاس گئے ، ایک آ دمی ہم سے ( یعنی ہمارے قبیلے کافرد ) اور ایک بنی اسد سے تھا۔میرا خیال ہے کہ انہوں نےان دونوں کو ایل سمت (علاقے کا عامل یاگورنر بنا کر) بھیجا اور فرمایا ’’ تم دونوں خوب صحت مند اور طاقتور ہو لہذا اپنے فرض کو خوب اچھی طرح انجام دینا ۔ پھر آپ بیت الخلاءمیں داخل ہوئے پھر ( قضائے حاجت سے فارغ ہو کر باہر ) نکلے،پھر ایک چلو پانی لیا اور ( اپنے ہاتھو ں کو ) دھویا ، پھر ( ہمارے پاس )آ ئے ، اور قرآن مجید کی کچھ تلاوت کی ، تو ہم نے اسے ناپسند کیا،توحضرت علی ؓ نے فرمایا : ’’ رسو ل اللہ ﷺ بیت الخلاء میں داخل ہو کر قضائے حاجت کیا کرتے تھے ،پھر باہر تشریف لاتے تو ہمارے سا تھی روٹی اور گوشت کھاتے اور قرآن مجید کی تلا وت کرتے اور جنابت کے سوا کوئی چیز بھی آپ کو قرآن کی تلا وت سے نہیں روکتی تھی ۔ ‘‘ امام ابو بکر ؒ نے یہ حدیث امام شعبہ سے بھی روایت کی ہے ۔ امام شعبہ فرماتے ہیں : یہ حدیث میرے اصل مال (یعنی علم ) کا تہائی حصہ ہے ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : میں کتاب البیوع میں بیان کر چکا ہوں کہ مکروہ اور احرام کے درمیان فرق ہے۔ میں نے ان دونوں میں فرق کے لیے نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان سے دلیل لی ہے ’’ان اللہ کرہ لکم ثلاثا و حرم علیکم ثلاثا ۔۔۔۔‘‘ اللہ تعالی نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے اور تین چیزوں کو تم پر حرام قرار دیا ہے ۔ تمہارے لیے قیل و قال (بے مقصد گفتگو )، کثرت سوال اور مال ضائع کرنے کو مکروہ اور ناپسند کیا ہے ۔ ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور بخل ولا لچ کو تم پر حرام قرار دیا ہے ۔آپ نے مہاجربن قنفذ کی حدیث میں اپنے اس فرمان سے مکروہ اور حرام میں فرق کیا ہے ۔ ’’کر ھت ان اذکر اللہ علی طھر‘‘میں نے بغیر طہارت کے اللہ تعالی کا ذکر کرنے کو ناپسند کیا ۔‘‘یہ ممکن ہے کہ آپ نے اسے اس لیے ناپسند کیاہو کہ طہارت کی حالت میں اللہ تعالی کا ذکر کرنا افضل ہے ۔اس لیے نہیں کہ بغیر طہارت ذکر کرنا حرام ہے ، کیو نکہ نبی اکر م ﷺ بغیر طہارت کے قرآن مجید پڑھا کرتے تھے اور قرآن مجید کی تلا وت افضل ترین ذکر ہے ، اور نبی اکرم ﷺ ہر حالت میں اللہ تعالی کا ذکر کیا کرتے تھے ، جیسا کہ ہمیں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بیان کی گئی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بغیرو ضو کے آپ کا ذکر کو مکروہ سمجھنا اس لیے ہو کہ اس ذکر سے مراد وہ ذ کر ہو جو مسلمان پرنفل کی بجائے فرض ہوتا ہے ۔ اور جو ذکر الہی فرض ہو وہ بغیر طہارت کے ادا نہیں ہوتا ۔ بلکہ اسے طہارت حاصل کر کے ہی ادا کرنا چاہیے ۔ کیونکہ اکثر علمائےکرام کے نزدیک سلام کاجواب دینا فرض ہے ، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے بغیر طہارت کے سلام کا جواب نہیں دیا تھا حتی کہ آ پ نے طہارت حاصل کر کے سلام کا جواب دیا۔ لیکن اگر کوئی شخص نفلی ذکر کر رہا ہو اور ناپاکی کی حالت میں اسے ترک کر دیتا ہے تو اس پر اس ذکر کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہے ۔ لہذا اس کے نفلی ذکر کرنا جائز ہے اگر چہ وہ پاک ( با وضو ) نہ ہو ۔‘‘

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 208

chevron_left Previous
1…141516…291
Next chevron_right