Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

تربية الأبناء

Children & Parenting

5818 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27917

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ يُعَقُّ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنْ الْأُنْثَى وَاحِدَةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ أَذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا

حضرت ام کرز سے مروی ہے کہ میں نے عقیقہ کے متعلق نبی سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جانور مذکر ہو یا مونث۔

الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنْ الْأُنْثَى وَاحِدَةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ أَذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا ← الْعَقِيقَةِ فَقَالَ يُعَقُّ ← أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27917

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27918

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَذَكَرَهُ

حضرت ام کرز سے مروی ہے کہ میں نے عقیقہ کے متعلق نبی سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جانور مذکر ہو یا مونث۔

الْعَقِيقَةِ فَذَكَرَهُ ← أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ ← مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ عَمْرٍو ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27918

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27957

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي ابْنَةَ أَبِي سُفْيَانَ فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ قَالَتْ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ لِي فَقُلْتُ فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهَا لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ وَأَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ

حضرت ام سلمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کو میری بہن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے؟ نبی نے فرمایا کیا مطلب؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس سے نکاح کر لیں نبی نے پوچھا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ! میں آپ کی اکیلی بیوی تو نہیں ہوں ، اس لئے خیر میں میرے ساتھ جو لوگ شریک ہو سکتے ہیں میرے نزدیک ان میں سے میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے، نبی نے فرمایا میرے لئے وہ حلال نہیں ہے ( کیونکہ تم میرے نکاح میں ہو) انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ کے لئے پیغام نکاح بھیجنے والے ہیں ، نبی نے فرمایا اگر وہ میرے لئے حلال ہوتی تب بھی میں اس سے نکاح نہ کرتا مجھے اور اس کے باپ (ابو سلمہ) کو بنو ہاشم کی آزاد کردہ باندی " ثوبیہ " نے دودھ پلایا تھا، بہرحال ! تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَمِّہٖ ← ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27957

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 28134

حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْعَجْلَانِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَقِيقَةُ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔

الْغُلَامِ شَاتَانِ مُکَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ← الْعَقِيقَةِ. ← النَّبِيِّ ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← مُجَاهِدٍ ← ثابت بن العجلان ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 28134

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20343

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ وَبَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ وَيُدَمَّى وَيُسَمَّى فِيهِ وَيُحْلَقُ قَالَ يَزِيدُ رَأْسُهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی رکھا ہوا ہے، لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو، اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔

يَزِيدُ رَأْسُهُ ← بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ وَيُدَمَّى وَيُسَمَّى فِيهِ وَيُحْلَقُ ← كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← سَعِيدٌ وَبَهْزٌ ← سَعِيدٌ وَيَزِيدُ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20343

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20395

قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ

اور نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی لکھا ہوا ہے، لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو، اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20395

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20401

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ رَهِينٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھاجائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20401

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20451

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُمَاطُ عَنْهُ الْأَذَى وَيُسَمَّى

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھاجائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔

كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُمَاطُ عَنْهُ الْأَذَى وَيُسَمَّى ← سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ كَانَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20451

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20456

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20456

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20457

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَيُسَمَّى قَالَ هَمَّامٌ فِي حَدِيثِهِ وَرَاجَعْنَاهُ وَيُدَمَّى قَالَ هَمَّامٌ فَكَانَ قَتَادَةُ يَصِفُ الدَّمَ فَيَقُولُ إِذَا ذَبَحَ الْعَقِيقَةَ تُؤْخَذُ صُوفَةٌ فَتُسْتَقْبَلُ أَوْدَاجُ الذَّبِيحَةِ ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى إِذَا سَالَ غُسِلَ رَأْسُهُ ثُمَّ حُلِقَ بَعْدُ

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مراد ہے البتہ اس میں راوی حدیث قتادہ نے جانور ذبح کرنے کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے کہ اون یا روئی کا ٹکڑا لے کر ذبح شدہ جانور کی رگوں کے سامنے کھڑا ہو پھر اس بچے کے سر پر رکھ دیا جائے جب وہ خون بہنے لگے تو اس کا سر دھو کر پھر اس کے بال مونڈ دیئے جائیں۔

هَمَّامٌ فَكَانَ قَتَادَةُ يَصِفُ الدَّمَ ← هَمَّامٌ فِي حَدِيثِهِ وَرَاجَعْنَاهُ وَيُدَمَّى ← وَيُسَمَّى ← النَّبِيِّ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20457

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20520

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ لِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ وَيُدَمَّى

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی رکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔

كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ لِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ وَيُدَمَّى ← سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ كَانَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20520

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23522

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ وَقَالَ مَنْ وُلِدَ لَهُ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے) کو پسند نہیں کرتا گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہئے تو اسے ایسا کر لینا چاہئے۔

أَبِيهِ ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23522

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24043

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ وَلَكِنْ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَلَيْهِ أَوْ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے ) کو پسند نہیں کرتا، گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہے تو اسے ایسا کر لینا چاہئے۔

الْعَقِيقَةِ. ← سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← رجل من قومه ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24043

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24044

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَسُئِلَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ وَلَكِنْ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنَّ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے ) کو پسند نہیں کرتا، گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہے تو اسے ایسا کر لینا چاہئے۔

الْعَقِيقَةِ. ← شَهِدْتُ النَّبِيَّ بِعَرَفَةَ فَسُئِلَ ← عَمِّهِ أَنَّهُ ← أَبِيهِ أَوْ ← رَجُلٌ: ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24044

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24556

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَأَعْطَيْتُهَا تَمْرَةً فَشَقَّتْهَا بَيْنَهُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کرکے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کردیا (اور خود کچھ نہ کھایا (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24556

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2939

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وهب، قال:حدثنا يونس، عن بن شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَيْهَا امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْتَطْعِمُ، قَالَتْ: فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي إِلَّا تَمْرَةً وَاحِدَةً، فأعطيتها إياها فأخذتها فشقها بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَتْ: ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ كُنَّ لَهُ سترا من النار" 1. [2:1]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون ان کے ہاں آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں اس عورت نے کھانے کے لیے کچھ مانگا سیّد ہ عائشہ ر ضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرے پاس اسے صرف ایک کھجور ملی وہ میں نے اسے دے دی اس نے اس کھجور کو لیا اور اسے دوحصوں میں تقسیم کر کے اپنی بیٹیوں کو دے دیا اس نے خود کچھ نہیں کھایا پھر وہ اٹھی اور چلی گئی نبی اکرم ﷺ میرے ہا ں تشریف لائے میں نے آپ کو اس عورت کے بارے میں بتیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو ان بیٹیوں کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کیا جائے اور وہ شخص ان کےساتھ اچھا سلوک کرے، تو یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وهب، قال: ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2939

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2949

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الحجاج السامي وأخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ يَزِيدُ: أَخْبَرَنَا وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عن بن عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَأَنَا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا" فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُهَا فَجَعَلْتُ كُلَّمَا بَلَغْتُ: "أَبْدَلَنِي خَيْرًا مِنْهَا" قُلْتُ فِي نَفْسِي: وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ يَخْطُبُهَا فَلَمْ تَزَوَّجْهُ ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهَا عُمَرُ يَخْطُبُهَا فَلَمْ تَزَوَّجْهُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا1 رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ قَالَتْ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى وَأَنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: "ارْجِعْ إِلَيْهَا فَقُلْ لَهَا أَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى فَأُسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ غَيْرَتَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ فَتُكْفَينَ صِبْيَانَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنَّهُ لَيْسَ أحد من أوليائك شاهد فليس من أوليائك شاهد ولا غائب یَکْرَہُ ذٰلکَ ،فَقَالَتْ لِابْنِھَا : یَا عُمَرُ ، قُمْ فَزَوِّجْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَزَوَّجَہُ ، فَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَاْتِیھَا لِیَدْخُلَ بِھَا ، فَاِذَا رَاَتْہُ اَخَذَتِ ابْنَتَھَا زَیْنَبَ ، فَجَعَلْتُھَا فِیْ ھِجْرِھَا ، فَیَنْقَلِبُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَعَلِمَ بِذٰلِکَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ ،وَکَانَ اَخَاھَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ ، فَجَاءَ اِلَیْھَا ، فَقَالَ : یْنَ ھٰذِہِ الْمَقُبُوحَۃُ الَّتِی قَدْ آذَیْتِ بِھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاَخَذَھَا فَذَھَبَ بِھَا ، فَجَاءَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ عَلَیْھَا فَجَعَلَ یَضْرِبُ بَبَصَرِہٖ فِیْ جَوَانِبِ الْبَیْنتِ ، وَقَالَ : مَا فَعَلَتْ زَیْنَبُ ؟ قَالَتْ : جَاءَ عَمَّارٌ فَاَخَذَھَا فَذَھَبَ بِھَا ، فَبَنٰی بِھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : اِنِّیْ لَا اَنْقُصُکِ مِمَّا اَعْطَیْتُ فُلَانَۃَ رَحَائَیْنِ ، وَجَرَّتَیْنِ ، وَمِرْفَقَۃً حَشْوُھَا لِیْفٌ ، وَقَالَ : اِنْ سَبَّعْتُ لَکِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِی۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : لَفْظُ الْاِسْنَادِ لِاِبْرَاھِیْمَ الْحَجَّاجِ ، وَالْمَتْنُ لِیَزِیدَ بْنِ ھَارُوْنَ

سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے کوئی مصیبت لاحق ہو وہ یہ دعا پڑھ لے۔ " بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اے اللہ ! میں اپنی مصیبت کے ثواب کی امید تیری بارگاہ میں رکھتی ہوں، تو مجھے اس کا اجر عطا کرنا اور اس (فوت شدہ چیز) کی جگہ مجھے بہتر بدل عطا کر دینا۔" سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہہ کا انتقال ہوا میں نے یہ دعا پڑھ لی اور میں نے یہی کہا کہ، تو مجھے اس سے بہتر عطا کرنا پھر میں نے سوچا حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے؟ جب اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہما کی عدت گزر گئی ، تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ کے ساتھ شادی نہیں کی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کے ساتھ بھی شادی نہیں کی پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ کو اپنے پیغام کے ہمراہ ان کی طرف بھیجا، تو انہوں نے عرض کی: آپ اللہ کے رسول ﷺ کو بتا دیں میں ایک غصے والی عورت ہوں اور میں مصیبت کا شکار عورت ہوں (یعنی بیوہ ہو چکی ہوں) میرے اولیاء میں سے کوئی یہاں موجود نہیں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئے انہوں نے آپ ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: تم اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو جہاں تک تمہارے یہ کہنے کاتعلق ہے کہ میں ایک غصے والی عورت ہوں، تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کروں گا کہ وہ تمہارا غصہ ختم کر دے ، جہاں تک تمہارے یہ کہنے کا تعلق ہے کہ تم مصیبت کا شکار عورت ہو (یعنی بیوہ ہو چکی ہو) ، تو تمہارے بچے تمہارے لیے کفایت کر جائیں گے اور جہاں تک تمہارے یہ کہنے کاتعلق ہے کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی یہاں موجود نہیں ہے،تو تمہارے موجود یا غیر موجود اولیاء میں سے کوئی بھی اس کو ناپسند کرے گا، تو سیّدہ اُمّ سلمہ ارضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے سے کہا : اے عمر ! تم اٹھو اور اللہ کے رسول کے ساتھ (میری) شادی کر دو، تو انہوں نے ان کی شادی کروا دی نبی اکرم ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے، تا کہ ان کے ہاں رات بسر کریں جب سیّدہ اُمّ نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو انہوں نے اپنی بیٹی زینب کو پکڑا اور اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، تو نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لے گئے اس بات کی اطلاع حضرت عمار بن یا سر رضی الہہ عنہہ کو ملی جو ان کے رضائی بھائی تھے، تو وہ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بولے: وہ لڑکی کہاں ہے، جس کی وجہ سے تم نے اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف پہنچائی ہے؟ پھر انہوں نے اس بچی کو لیا اوراپنے ساتھ لے گئے پھر نبی اکرمﷺ تشریف لائے آپ ﷺ نے گھر کے کناروں میں نظر ڈالی اور دریافت کیا: تم نے زینب کے ساتھ کیا کیا ہے، تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: حضرت عمار رضی اللہ عنہہ آئے تھے انہوں نے اس بچی کو پکڑا اور اپنے ساتھ لے گئے، تو نبی اکرم ﷺ نے سّیدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہما کے ہاح رات بسر کی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے فلاں( زوجہ کو ) جو کچھ دیا ہے اس میں تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کروں گا دو چکیاں ہیں دو تھیلے ہیں اور ایک گا جس میں پتے بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر میں سات دن تمہارے پاس رہوں گا، تو دوسری ازواج کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں) سند کے الفاظ ابراہیم بن حجاج کے نقل کردہ ہیں اور متن کے الفاظ یزید بن ہارون کے نقل کر دہ ہیں۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← بن عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: ← يَزِيدُ: ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الحجاج السامي وأخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2949

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ صِلَۃِ الرَّحِمِ وَقَطْعِھَا · حديث 447

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلَّافُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنْ عَالَ ابنتين أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى يَبِنَّ أَوْ يَمُوتَ عَنْهُنَّ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كهاتين وأشار بأصبعه الوسطى والتي تليها" 1. 1 إسناده صحيح على شرط الشيخين، إبراهيم بن الحسن العلاف- وهو الباهلي- ثقة. المقدمي: هو محمد بن أبي بكر. وأخرجه أحمد 3/147، 148 عن يونس، عن حماد بن زيد، بهذا الإسناد. وأخرجه ابن أبي شيبة 8/551 عن أبي معاوية، عن الأعمش، عن الرقاشي، عن أنس. وأخرج أبو يعلى في "مسنده" 170/1 من طريق شيبان، حدثنا محمد بن زياد البرجمي، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: " من كن له ثلاث بنات أو ثلاث أخوات، فاتقى الله فيهن، وأقام عليهن، كان معي في الجنة هكذا" وأومأ بالسباحه والوسطى. ومحمد بن زياد البرجمي وثقه ابن حبان وابن عدي، وباقي رجاله رجال الشيخين. وأخرج ابن أبي شيبة 8/552، ومسلم "2631" في البر والصلة: باب فضل الإحسان إلى البنات، والترمذي "1914" في البر والصلة: باب ما جاء في النفقة على البنات والأخوات، والبغوي في "شرح السنُّة" "1682"، والحاكم في "المستدرك" 4/177 من طريق محمد بن عبد العزيز الراسبي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "من عال جاريتين حتى تبلغا جاء يوم القيامة أنا وهو هكذا" وضم أصبعيه ووقع عند ابن أبي شيبة والترمذي والحاكم والبغوي: عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أنس، قال الترمذي: والصحيح هو عبيد الله بن أبي بكر بن أنس. قلت: أبو بكر بن عبيد الله بن أنس، مجهول، ومع أنه هو الذي وقع عند الحاكم فقد صحح إسناده، ووافقه الذهبي، وأما عبيد الله بن أبي بكر بن أنس، فثقة أخرج حديثه الجماعة. وأورده الهيثمي بنحوه في "مجمع الزوائد" 8/157، وقال: رواه الطبراني في "الأوسط" بإسنادين، ورجال أحدهما رجال صحيح. ذِكْرُ الْمُدَّةِ الَّتِي بِصُحْبَتِهِ إِيَّاهُنَّ يُعْطَى هَذَا الْأَجْرَ لَهُ بِهَا [447] أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلَّافُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنْ عَالَ ابنتين أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى يَبِنَّ أَوْ يَمُوتَ عَنْهُنَّ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كهاتين وأشار بأصبعه الوسطى والتي تليها" 1. 1 إسناده صحيح على شرط الشيخين، إبراهيم بن الحسن العلاف- وهو الباهلي- ثقة. المقدمي: هو محمد بن أبي بكر. وأخرجه أحمد 3/147، 148 عن يونس، عن حماد بن زيد، بهذا الإسناد. وأخرجه ابن أبي شيبة 8/551 عن أبي معاوية، عن الأعمش، عن الرقاشي، عن أنس. وأخرج أبو يعلى في "مسنده" 170/1 من طريق شيبان، حدثنا محمد بن زياد البرجمي، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: " من كن له ثلاث بنات أو ثلاث أخوات، فاتقى الله فيهن، وأقام عليهن، كان معي في الجنة هكذا" وأومأ بالسباحه والوسطى. ومحمد بن زياد البرجمي وثقه ابن حبان وابن عدي، وباقي رجاله رجال الشيخين. وأخرج ابن أبي شيبة 8/552، ومسلم "2631" في البر والصلة: باب فضل الإحسان إلى البنات، والترمذي "1914" في البر والصلة: باب ما جاء في النفقة على البنات والأخوات، والبغوي في "شرح السنُّة" "1682"، والحاكم في "المستدرك" 4/177 من طريق محمد بن عبد العزيز الراسبي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "من عال جاريتين حتى تبلغا جاء يوم القيامة أنا وهو هكذا" وضم أصبعيه ووقع عند ابن أبي شيبة والترمذي والحاكم والبغوي: عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أنس، قال الترمذي: والصحيح هو عبيد الله بن أبي بكر بن أنس. قلت: أبو بكر بن عبيد الله بن أنس، مجهول، ومع أنه هو الذي وقع عند الحاكم فقد صحح إسناده، ووافقه الذهبي، وأما عبيد الله بن أبي بكر بن أنس، فثقة أخرج حديثه الجماعة. وأورده الهيثمي بنحوه في "مجمع الزوائد" 8/157، وقال: رواه الطبراني في "الأوسط" بإسنادين، ورجال أحدهما رجال صحيح.

حضرت انس بن مالک ؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’جو شخص دو بیٹیوں ‘ یا تین بیٹیوں ‘ یا دو بہنوں ‘ یا تین بہنوں کی کفالت کرے‘ یہاں تک وہ شادی شدہ ہو جائیں ‘ یا وہ شخص انہیں چھوڑ کر ( ان کی کفالت کے دوران ہی ) انتقال کر جائے‘ تو میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح ہوں گے نبی اکرمﷺ نے اپنی درمیانی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی ) ‘‘ روایت کے یہ الفاظ ابراہیم بن حسن علاف کے نقل کردہ ہیں۔ (امام ابن حبان فرماتےہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرما ن : ’’میں اور وہ جنت میں ان دو کی طرح ہوں گے‘‘۔ اس سے مراد داخل ہونے اور سبقت لے جانے کے حوالے سے ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بیٹیوں ‘ یا دو بہنوں کی کفالت کرنے والا شخص جنت میں اس مرتبے پر فائز ہو گا‘ جو نبی اکرمﷺ کا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← الْمُقَدَّمِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلَّافُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The door of joining the womb, and cutting it off · Hadith 447

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1176

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَعَلْتُ أَنَا وَرَسُولُ الله، صلى الله عليه وسلم، فاغتسلنا1. 57:3

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : جب شرم گاہ شرم گاہ سے مل جائے تو وضو لازم ہو جاتا ہے۔ میں اور نبی اکرم ﷺ اس طرح کیا کرتے تھے اور پھر غسل کرتے تھے۔

وَرَسُولُ الله، فاغتسلنا1. ← إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَعَلْتُ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Laughing door · Hadith 1176

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1177

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ، فقد وجب الغسل" 1. 43:3

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ، جب شرم گاہ شرم گاہ سے مل جاتی ہے، تو غسل لازم ہو جاتا ہے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Laughing door · Hadith 1177

chevron_left Previous
1…131415…291
Next chevron_right