Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

تربية الأبناء

Children & Parenting

5818 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16340

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ← هِشَامٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16340

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16343

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ وحَبِيبٌ وَيُونُسُ وَقَتَادَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبُ وَحَبِيبٌ وَيُونُسُ وَقَتَادَةُ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16343

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16346

وَهِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ سَلْمَانَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَنْ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى ← سَلْمَانَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ أَنَّهُ ← مُحَمَّدٍ ← وَهِشَامٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16346

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16347

حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ وَقَتَادَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، وَقَتَادَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16347

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16348

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ وَسَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَرِيقُوا عَنْهُ الدَّمَ وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى قَالَ وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَقُولُ إِنْ لَمْ تَكُنْ إِمَاطَةُ الْأَذَى حَلْقَ الرَّأْسِ فَلَا أَدْرِي مَا هُوَ

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

إِنْ لَمْ تَكُنْ إِمَاطَةُ الْأَذَى حَلْقَ الرَّأْسِ فَلَا أَدْرِي مَا هُوَ ← وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ ← مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَرِيقُوا عَنْهُ الدَّمَ وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى ← النَّبِيِّ ← سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ وَسَعِيدٍ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16348

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16349

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ الدَّمَ وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16349

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26310

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا رَجُلٌ قَالَ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالَتْ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا مَنْ تُرْضِعُونَ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرا رضاعی بھائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی تحقیق کر لیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہو سکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے ( جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے) ۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ ← أَشْعَثَ، ← سُفْيَانَ، ← سُفْيَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26310

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27684

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنِي سِبَاعُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أُمِّ كُرْزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْعَقِيقَةِ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مِثْلَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ

حضرت ام کرز سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔

أُمِّ کُرْزٍ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27684

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26488

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي بِصَوَاحِبِي يَلْعَبْنَ مَعِي

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری سہلیوں کو میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فَكَانَ النَّبِيُّ يَأْتِي بِصَوَاحِبِي يَلْعَبْنَ مَعِي ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26488

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26495

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَأْتِي بِصَوَاحِبِي فَكُنَّ إِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَمِعْنَ مِنْهُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ يَلْعَبْنَ مَعِي

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میری سہیلیاں آجاتیں اور میرے ساتھ کھیل کود میں شریک ہوجاتیں، اور جوں ہی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے ہوئے دیکھتیں تو چھپ جاتیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پھر میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26495

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26588

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَأَطْعَمْتُهَا تَمْرَةً فَشَقَّتْهَا بَيْنَهُمَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی ، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کجھور دی ، اس نے کجھور کے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کر دیا (اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابن حزم ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26588

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22396

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب ایک شرمگاہ دوسری شرمگاہ میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔

إذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ. ← النَّبِيِّ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← رَجُلٌ: ← ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22396

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26709

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ فَأَرْضَعَتْ سَالِمًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو حذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ سالم کو پانچ گھونٹ دودھ پلا دے ، پھر وہ اس رضاعت کی وجہ سے ان کے یہاں چلا جاتا تھا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26709

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26861

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَإِنَّا فُضُلٌ وَإِنَّا كُنَّا نَرَاهُ وَلَدًا وَكَانَ أَبُو حُذَيْفَةَ تَبَنَّاهُ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ وَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَأْمُرُ أَخَوَاتِهَا وَبَنَاتِ أَخَوَاتِهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا وَيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَإِنْ كَانَ كَبِيرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهَا وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ حَتَّى يَرْضَعَ فِي الْمَهْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نَدْرِي لَعَلَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ مِنْ دُونِ النَّاسِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوحذیفہ سے سالم کو " جو ایک انصاری خاتون کے آزاد کردہ غلام تھے " اپنا منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کو بنا لیا تھا، زمانہ جاہلیت میں لوگ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے اور اسے وراثت کا حق دار بھی قرار دیتے تھے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی انہیں ان کی آباؤ اجداد کی طرف منسوب کر کے بلایا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی ہے " ۔ اسی پس منظر میں ایک دن حضرت سہلہ آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا ، اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے متعلق حکم نازل کر دیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے پانچ گھونٹ اپنا دودھ پلادو، چنانچہ اس کے بعد سالم ان کے رضاعی بیٹے جیسے بن گئے، اس وجہ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جس شخص کو " خواہ وہ بڑی عمر کا ہوتا " اپنے گھر آنے کی اجازت دینا مناسب سمجھتیں تو اپنی کسی بہن یا بھانجی سے اسے دودھ پلوا دیتیں اور وہ ان کے یہاں آتا جاتا، لیکن حضرت ام سلمہ اور دیگر ازواجِ مطہرات اس رضاعت سے کسی کو اپنے یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں، اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہتی تھیں کہ ہمیں معلوم نہیں ، ہو سکتا ہے کہ یہ رخصت صرف سالم کے لئے ہو۔

فضل، ← إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا ← كَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ ← أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَمِّہٖ ← ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26861

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27064

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي تَعْنِي شَاهِدًا فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ فَقَالَتْ يَا عُمَرُ زَوِّجْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ مِمَّا أَعْطَيْتُ أَخَوَاتِكِ رَحْيَيْنِ وَجَرَّةً وَمِرْفَقَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا لِيَدْخُلَ بِهَا فَإِذَا رَأَتْهُ أَخَذَتْ زَيْنَبَ ابْنَتَهَا فَجَعَلَتْهَا فِي حِجْرِهَا فَيَنْصَرِفُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلِمَ ذَلِكَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَكَانَ أَخَاهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ فَأَتَاهَا وَقَالَ أَيْنَ هَذِهِ الْمَشْقُوحَةُ الْمَقْبُوحَةُ الَّتِي قَدْ آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِبَصَرِهِ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ فَقَالَ مَا فَعَلَتْ زَنَابُ فَقَالَتْ جَاءَ عَمَّارٌ فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا فَدَخَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهَا إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا تو کوئی ولی یہاں موجود نہیں ہے ، نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا، انہوں نے اپنے بیٹے عمربن ابی سلمہ سے کہا کہ تم نبی علیہ السلام سے میرا نکاح کرا دو چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کو نبی علیہ السلام کے نکاح میں دیدیا۔پھر نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہاری بہنوں (اپنی بیویوں ) کو جو کچھ دیا ہے تمہیں بھی اس سے کم نہیں دوں گا، دوچکیاں ، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اس کے بعد نبی علیہ السلام جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی علیہ السلام کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی علیہ السلام یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی علیہ السلام کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی علیہ السلام تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں ، پھر نبی علیہ السلام نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← ابن عمر بن أبي سلمة ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27064

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27167

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي ابْنَةِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ فَأَفْعَلُ مَاذَا قَالَتْ تَنْكِحُهَا قَالَ وَذَاكَ أَحَبُّ إِلَيْكِ قَالَتْ نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي قَالَ إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي قُلْتُ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي لَمَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کو میری بہن میں کوئی دلچسپی ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا مطلب انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس سے نکاح کرلیں ، نبی علیہ السلام نے پوچھا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں اس لئے اس خیر میں میرے ساتھ جو لوگ شریک ہوسکتے ہیں میرے نزدیک ان میں سے میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے ، نبی علیہ السلام نے فرمایا میرے لئے وہ حلال نہیں ہے ( کیونکہ تم میرے نکاح میں ہو) انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ کے لئے پیغام نکاح بھیجنے والے ہیں نبی علیہ السلام نے فرمایا اگر وہ میرے لئے حلال ہوتی تب بھی میں اس سے نکاح نہ کرتا کیونکہ مجھے اور اس کے باپ(ابوسلمہ) کو بنو ہاشم کی آزاد کردہ باندی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا بہرحال تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔

أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ ← زَيْنَبَ ابنة أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27167

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27196

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نُرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا رَائِينَا

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کی تمام ازواج مطہرات اس بات سے انکار کرتی ہیں کہ بڑی عمر کے کسی آدمی کو دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے اور ایسا کوئی آدمی ان کے پاس آ سکتا ہے، ان سب نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی کہا تھا کہ ہمارے خیال میں یہ رخصت تھی جو نبی علیہ السلام نے صرف سالم کو خصوصیت کے ساتھ دی تھی لہذا اس رضاعت کی بنیاد پر ہمارے پاس کوئی آ سکتا ہے اور نہ ہی ہمیں دیکھ سکتا ہے۔

ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ ← عَقِیلٍ ← لَيْثٌ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27196

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27348

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَكَّارٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي الْمَلِيحِ عَلَى جَنَازَةٍ فَقَالَ أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَلْتَحْسُنْ شَفَاعَتُكُمْ وَلَوْ اخْتَرْتُ رَجُلًا اخْتَرْتُهُ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيطٍ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيطٍ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَكَانَ أَخَاهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ و قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ الْأُمَّةُ أَرْبَعُونَ إِلَى مِائَةٍ فَصَاعِدًا

ابوبکار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ابوالملیح کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے فرمایا کہ صفیں درست کرلو اور اچھے انداز میں اس کی سفارش کرو، اگر میں کسی آدمی کو پسند کرتا تو اس مرنے والے کو پسند کرتا، پھر انہوں نے اپنی سند سے حضرت میمونہ کی یہ روایت سنائی کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جس مسلمان کی نماز جنازہ ایک جماعت پڑھ لے تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے ابوالملیح کہتے ہیں کہ جماعت سے مراد چالیس سے سو تک یا اس سے زیادہ افراد ہوتے ہیں۔

بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ مَيْمُونَةَ وَكَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ← عبد الله بن سليط ← أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، ← أَبِي و ← عبد الله بن سليط ← أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَلْتَحْسُنْ شَفَاعَتُكُمْ وَلَوْ اخْتَرْتُ رَجُلًا اخْتَرْتُهُ ثُمَّ ← صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي الْمَلِيحِ عَلَى جَنَازَةٍ ← أَبِي بَكَّارٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27348

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27913

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ الْخُزَاعِيَّةِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَقِيقَةِ فَقَالَ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ

حضرت ام کرز سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔

الْغُلَامِ شَاتَانِ مُکَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ← النَّبِيِّ فِي الْعَقِيقَةِ فَقَالَ ← أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ الْخُزَاعِيَّةِ ← حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ ← عَطَاءٍ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27913

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27916

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ قُلْتُ لِعَطَاءٍ مَا الْمُكَافَأَتَانِ قَالَ الْمِثْلَانِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ وَالضَّأْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الْمَعْزِ وَذَكَرَ أَنَّهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ إِنَاثِهَا قَالَ وَنُحِبُّ أَنْ يَجْعَلَهُ سَوَادَهَا مِنْهُ

حضرت ام کرز سے مروی ہے کہ میں نے عقیقہ کے متعلق نبی سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔

وَنُحِبُّ أَنْ يَجْعَلَهُ سَوَادَهَا مِنْهُ ← أَنَّهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ إِنَاثِهَا ← حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ وَالضَّأْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الْمَعْزِ ← المثلان ← الْجَارِيَةِ شَاةٌ قُلْتُ لِعَطَاءٍ مَا الْمُكَافَأَتَانِ ← الغلام شَاتَان مُكَافأتَان، ← الْعَقِيقَةِ. ← أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنِ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27916

chevron_left Previous
1…121314…291
Next chevron_right