Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

تربية الأبناء

Children & Parenting

5818 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18377

وَكَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ وَمَنْعٍ وَهَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَوَأْدِ الْبَنَاتِ

اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ وَمَنْعٍ وَهَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَوَأْدِ الْبَنَاتِ ← وَكَانَ يَنْهَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18377

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18418

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَقِيلَ وَقَالَ وَمَنْعَ وَهَاتِ وَوَأْدَ الْبَنَاتِ وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل وقال ، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال کرناحرام قرار دیا ہے۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18418

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18421

وَسَمِعْتُهُ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ وَعَنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ وَعَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَمَنْعٍ وَهَاتِ

اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔

وأد البنات وعقوق الأمهات ومنع وهات ← كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ ← قِيلَ ← يَنْهَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18421

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18422

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ وَرَّادٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ مِثْلَ حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَأْدَ الْبَنَاتِ

حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیرتے وقت یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا۔

النَّبِيِّ كَانَ إِذَا سَلَّمَ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← وَرَّادٍ ← عَبْدَةُ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عَلِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18422

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25328

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ الشُّعَبِ الْأَرْبَعِ ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص عورت کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25328

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25551

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25551

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25587

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے)۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25587

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25620

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلَهَا أَخُوهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ فَدَعَتْ بِمَاءٍ قَدْرَ الصَّاعِ فَاغْتَسَلَتْ وَصَبَّتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا

ابو سلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک رضاعی بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے بھائی نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ایک برتن منگوایا جو ایک صاع کے برابر تھا اور غسل کرنے لگیں، انہوں نے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا، (اور اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا)۔

((سَأَلَهَا أَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ← عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25620

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25795

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاغْتَسَلْنَا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ایک مرتبہ میں نے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا تو بعد میں غسل کرلیا۔

وَرَسُولُ اللَّهِ وَاغْتَسَلْنَا ← «إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ فَعَلْتُهُ ← عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25795

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25846

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ يَذْكُرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابهِ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ هِيَ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ سِتْرًا لَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کر دیا ( اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔

عُرْوَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← كَذَا كَانَ فِي كِتَابهِ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ يَذْكُرُهُ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25846

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25932

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَكَأَنَّهُ غَضِبَ فَقَالَتْ إِنَّهُ أَخِي قَالَ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، محسوس ہونے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ چیز ناگوار گذری ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی تحقیق کر لیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہو سکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے)

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ ← الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ← وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبَاهُ ← أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ أَنَّهُ ← بَهْزٌ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25932

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25957

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ قَالَتْ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی"افلح" نے "جو ان کے رضاعی چچا تھے" آیت حجاب کے نزول کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں نا محرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا، اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو۔

عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25957

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25967

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمٍّ لِحَفْصَةَ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ أُدْخِلُ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی کی آواز آئی جو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا تھا، میں نے عرض کے یارسول اللہ! یہ آدمی آپ کے گھر میں جانے کی اجازت مانگ رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا خیال ہے کہ فلاں آدمی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے رضاعی چچا کی طرف تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر فلاں آدمی یعنی میرا رضاعی چچا زندہ ہوتا تو کیا میرے پاس بھی آسکتا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! کیو نکہ رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔

عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25967

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26138

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَنِي عَمِّي مِنْ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ قُلْتُ لَا آذَنُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِيَلِجْ عَلَيْكِ عَمُّكِ قُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی "افلح" نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کر دیا، اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کر دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو ، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔

عَائِشَةَ ← أَبِي ← هِشَامٍ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26138

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26169

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ تَبَنَّى سَالِمًا وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ ابْنَهُ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ فَمَوْلًى وَأَخٌ فِي الدِّينِ فَجَاءَتْ سَهْلَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَيَرَانِي فُضُلًا وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ فَقَالَ أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهِ مِنْ الرَّضَاعَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سالم کو " جو ایک انصاری خاتون کے آزاد کردہ غلام تھے" اپنا منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بنا لیا تھا، زمانہ جاہلیت میں لوگ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے اور اسے وراثت کا حق دار بھی قرار دیتے تھے، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی انہیں ان کے اباؤ و اجداد کی طرف منسوب کر کے بلایا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی ہے اگر تمہیں ان کے باپ کا نام معلوم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور آزاد کردہ غلام ہیں ۔ اس کے بعد لوگ انہیں ان کے باپ کے نام سے پکارنے لگے جس کے باپ کا نام معلوم نہ ہوتا وہ دینی بھائی اور موالی میں شمار ہوتا، اسی پس منظر میں ایک دن حضرت سہلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا، اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے متعلق حکم نازل کر دیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے پانچ گھونٹ اپنا دودھ پلاؤ چنانچہ اس کے بعد سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کے رضاعی بیٹے جیسے بن گئے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26169

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26170

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي مِنْ الرَّضَاعَةِ أَبُو الْجَعْدِ قَالَ رَوْحٌ أَبُو الْجُعَيْدِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ لَهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ فَرَدَدْتُهُ فَقَالَ لِي هِشَامٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ ذَلِكَ قَالَ فَهَلَّا أَذِنْتِ لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ أَوْ يَدُكِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میرے رضاعی چچا ابوالجعد (یا ابوالجعید یا ابوالقعیس) نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کر دیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔

فَهَلَّا أَذِنْتِ لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُکِ أَوْ يَدُکِ ← لِي هِشَامٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ أَخْبَرْتُهُ ذَلِكَ ← لَهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ فَرَدَدْتُهُ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ ← رَوْحٌ أَبُو الْجُعَيْدِ ← اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي مِنْ الرَّضَاعَةِ أَبُو الْجَعْدِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَرَوْحٌ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26170

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16329

وَمَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى وَأَرِيقُوا عَنْهُ دَمًا

لڑکے کی پیدائش پرعقیقہ کیا کرو اس سے آلائیشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف جانور قربان کیا کرو۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16329

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16333

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← هِشَامٌ وَيَزِيدُ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16333

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16334

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← يُونُسَ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16334

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16337

وَقَالَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

اور فرمایا کہ لڑکے کی پیدائش پرعقیقہ کیا کرو اور اس سے آلائشیں دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16337

chevron_left Previous
1…111213…291
Next chevron_right