Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأنبياء والتاريخ

Prophets & History

4507 hadiths

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 97

97 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَعْبٍ الْوَاسِطِيُّ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 178] قَالَ «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا قُتِلَ فِيهِمُ الْقَتِيلُ عَمْدًا لَمْ يَحِلَّ لَهُمْ إِلَّا الْقَوَدُ , وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الدِّيَةُ , فَأُمِرَ هَذَا أَنْ يَتِّبِعَ بِالْمَعْرُوفِ وَأُمِرَ هَذَا أَنْ يُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ , فَذَلِكُمْ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبَانَ إِلَّا شَرِيكٌ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ

احمد بن کعب الواسطی الحافظ سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ،سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۷۸۔﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [البقرة: 178] ’’اے ایمان والو تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لوآزادکے بدلے آزاد اورغلام کے بدلے غلام اور عورت خط عورت کے بدلے عورت تو جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہو ہو تو بھلائی سے تقاضہ ہو اور اچھی طرح ادا ۔یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت ۔تو اس کے بعد جو زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے ‘‘ (ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا )کے بارے میں فرماتے ہیں : بنی اسرائیل میں قتل عمد (جان بوجھ کر قتل کرنے )کی سزا صرف قصاص تھا (یعنی بدلے میں قاتل کو قتل کیا جاتا تھا ) اور تمہارے لئے دیت بھی جائز کر دی گئی ، مقتول کے ورثاء کو کہا گیا کہ وہ نرمی کا برتاؤ کریں اور قاتل کے وارثوں کو اچھے انداز میں ادائیگی کا حکم دیا گیا ۔یہ تمہارے رب کی جانب سے تمہارے لیے آسانی ہے ۔اس حدیث کو ’’ابان‘‘ سے صرف ’’شریک ‘‘ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’محمد بن ابی نعیم ‘‘منفرد ہیں ۔؎

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← اَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ كَعْبٍ الْوَاسِطِيُّ الْحَافِظُ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 97

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْجِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ جَعْفَرٌ · حديث 337

337 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُنَيْدِ بْنِ دَاوُدَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ لِسُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا سُلَيْمَانُ لَا تُكْثِرِ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ، فَإِنَّ كَثْرَةَ النَّوْمِ بِاللَّيْلِ تَتْرُكُ الْعَبْدَ فَقِيرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ إِلَّا ابْنُهُ يُوسُفُ تَفَرَّدَ بِهِ سُنَيْدٌ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی والدہ محترمہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے فرمایا : اے سلیمان رات کو زیادہ وقت سویا نہ کرو ، کیونکہ رات کے وقت زیادہ سونا قیامت کے دن بندے کو فقیر کر کے چھوڑے گا ۔ اس حدیث کو " محمد بن المنکدر " سے صرف ان کے صاحبزادے یوسف نے روایت کی ہے اور ان سے روایت کرنے میں " سنید " منفرد ہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← يوسف بن محمد بن المنكدر ← أَبِي ← جَعْفَرُ بْنُ سُنَيْدِ بْنِ دَاوُدَ الْمِصِّيصِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 337

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قيس بن أبي حازم عن بلال · حديث 1089

1085 - حدثنا إبراهيم بن أحمد بن عمر الوكيعي حدثني أبي ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا موسى بن عبد الرحمن المسروقي قالا ثنا يحيى بن آدم ثنا مفضل بن مهلهل عن بيان عن قيس بن أبي حازم عن بلال Y أنه رأى رجلا يسيء الصلاة لا يتم ركوعها ولا سجودها فقال : لو مت الآن لمت على غير ملة عيسى عليه السلام

حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز میں غلطی کر رہا تھا ، وہ رکوع اور وسجود مکمل نہیں کر رہا تھا ، میں نے کہا: اگر تو اس حالت میں مر جاتا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین کے علاوہ مرتا۔

لو مت الآن لمت على غير ملة عيسى ← بلال أنه رأى رجلا يسيء الصلاة لا يتم ركوعها ولا سجودها ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← بَيَانٍ ← مُفَضَّلُ بْنُ مُھَلْھِلٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1089

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ وما أسند أبو واقد الليثي سنان بن أبي سنان عن أبي واقد · حديث 3291

3290 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري Y عن سنان بن أبي سنان الدؤلي عن أبي واقد الليثي قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل حنين فمررنا بالسدرة فقال : أي رسول الله اجعل لنا هذه ذات أنواط كما للكفار ذات أنواط - وكان الكفار ينوطون سلاحهم بسدرة ويعكفون حولها - فقال النبي صلى الله عليه و سلم : الله أكبر هذا كما قالت بنو إسرائيل لموسى { اجعل لنا إلها كما لهم آلهة } إنكم ستركبون سنن الذين من قبلكم

حضرت ا بو واقد لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حنین کی طرف نکلے ' ہم ایک بیری کے درخت کے پاس سے گزرے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ہمارے لیے ذات انواط مقرر کریں' جس طرح کافروں کے لیے ذات انواط ہیں' کافر بیری کے درخت پر اسلحہ لٹکاتے ' ذات انواط کے ارد گرد جھکتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ بہت بڑا ہے' یہ تو نے ایسے کیا ہے جس طرح بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: " ہمارے لیے خدا مقرر کریں جس طرح ان کے لیے خدا ہیں" آپ نے فرمایا: عنقریب تم پہلے لوگوں کے طریقہ پر چلو گے۔

أبي واقد الليثي ← سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3291

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ وما أسند أبو واقد الليثي سنان بن أبي سنان عن أبي واقد · حديث 3292

3291 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي عن مالك عن ابن شهاب Y عن سنان بن أبي سنان الدؤلي عن أبي واقد الليثي قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى حنين ونحن حدثاء عهد بكفر وللمشركين سدرة يعكفون عندها وينوطون بها أسلحتهم يقال لها ذات أنواط قال : فمررنا بالسدرة فقلنا : يا رسول الله اجعل لنا ذات أنواط كما لهم ذات أنواط فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الله أكبر إنها السنن قلتم والذي نفسي بيده كما قالت بنو إسرائيل { اجعل لنا إلها كما لهم آلهة } قال : إنكم قوم تجهلون لتركبن سنن من كان قبلكم

حضر ت ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حنین کی جانب نکلے ' ہم زمانہ کفر کے قریب تھے' مشرکوں کے لیے بیری کے درخت تھے' وہ اس کے آگے جھکتے ' ان پر اسلحہ لٹکاتے' اس کو ذات انواط کہا جاتا تھا۔ ہم بیری کےدرخت کے پاس سے گزرے تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ہمارے لیے بھی ذات انواط مقرر کریں جس طرح ان کے لیے ذات انواط ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہت بڑا ہے' یہ طریقہ ہے' تم ایسے کہتے ہو جس طرح بنی اسرائیل نے کہا تھا (وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں میری جات ہے!) " ہمارے لیے خدا مقرر کریں جس طرح ان کےلیے خدا ہیں"۔ آپ نے فرمایا: تم بے علم لوگ ہو' تم پہلے لوگوں کے طریقہ پر چلتے ہو۔

أبي واقد الليثي ← سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3292

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ وما أسند أبو واقد الليثي سنان بن أبي سنان عن أبي واقد · حديث 3293

3292 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا الزهري Y عن سنان بن أبي سنان عن أبي واقد الليثي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما خرج إلى حنين مر بشجرة يقال لها ذات أنواط يعلق المشركون عليها أسلحتهم فقالوا : يا رسول الله اجعل لنا ذات أنواط كما لهم ذات أنواط فقال النبي صلى الله عليه و سلم : الله أكبر هذا كما قالت بنو إسرائيل لموسى { اجعل لنا إلها كما لهم آلهة } لتركبن سنن من كان قبلكم

حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حنین کی طرف نکلے ' ہم ایک بیری کے درخت کے پاس سے گزرے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ہمارے لیے ذات انواط مقرر کریں' جس طرح کافروں کے لیے ذات انواط مقرر کریں' جس طرح کافروں کے لیے ذات انواط ہیں' کافر بیری کے درخت پر اسلحہ لٹکاتے ' ذات انواط کے ارد گرد جھکتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہت بڑا ہے' یہ تو نے ایسے کہا ہے جس طرح بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: "ہمارے لیے خدا مقرر کریں جس طرح ان کے لیے خدا ہیں" آپ نے فرمایا: عنقریب تم پہلے لوگوں کے طریقہ پر چلو گے۔

أبي واقد الليثي ← سنان بن أبي سنان ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3293

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ ما روى الحسن البصري عن جندب بن عبد الله · حديث 1664

1663 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن حميد عن الحسن عن جندب ( ح ) وحدثنا حماد عن عمار بن أبي عمار عن أبي هريرة رضي الله عنه Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( لقي آدم موسى صلى الله عليهما فقال موسى : أنت آدم الذي خلقك الله بيده وأسكنك جنته وأسجد لك ملائكته ثم فعلت ما فعلت فأخرجت ذريتك من الجنة ؟ قال آدم عليه السلام أنت موسى الذي اصطفاك الله برسالته وكلمك وقربك نجيا ؟ قال : نعم فأنا أقدم أم الذكر ؟ قال : بل الذكر ) قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فحج آدم موسى فحج آدم موسى فحج آدم موسى )

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ،حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :حضرت آدم علیہ السلام ،موسی ٰ علیہ السلام سے ملے حضرت موسیٰ نے عرض کی آپ آدم ہیں ! جن کو اللہ نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور جنت میں ٹھہرایا اور آپ کو فرشتوں نے سجدہ کیا ،پھر آ پ نے کیا جو کرنا تھا اور اپنی اولاد کو جنت سے نکالا ؟حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا :آپ وہ موسی ٰ ہیں جن کواللہ نے اپنی رسالت اور کلام اور قرب کے لیے چنا ؟حضرت موسی ٰ نے عرض کی :جی ہاں ! میں پہلے یا ذکر ؟حضرت موسی ٰ نے عرض کی :ذکر (مراد تقدیر)حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :حضرت آدم علیہ السلام ،موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ، ← جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1664

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مسند عبد الله بن مسعود رضي الله عنه · حديث 9784

9766 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن قتادة عن الحسن عن عمران بن الحصين عن ابن مسعود قال Y أكثروا الحديث عند رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات ليلة ثم غدونا عليه فقال : عرضت على الأنبياء بأممها فجعل النبي صلى الله عليه و سلم يمر ومعه الثلة والنبي ومعه العصابة والنبي ومعه النفر والنبي وليس معه أحد حتى مر علي موسى عليه السلام معه كبكبة من بني إسرائيل فأعجبوني فقلت : من هؤلاء ؟ فقيل : هذا أخوك موسى ومعه بنو إسرائيل قلت : فأين أمتي ؟ قيل : انظر عن يمينك فنظرت فإذا الظراب قد سد بوجوه الرجال ثم قيل لي : انظر عن يسارك فنظرت فإذا الأفق قد سد بوجوه الرجال ثم قيل لي : أرضيت ؟ قلت : رضيت يا رب رضيت يا رب فقيل لي إن مع هؤلاء سبعين ألفا يدخلون الجنة بغير حساب قال النبي صلى الله عليه و سلم فداء لكم أبي وأمي إن استطعتم أن تكونوا من السبعين ألفا فافعلوا فإن قصرتم فكونوا من أهل الظراب فإن قصرتم فكونا من أهل الأفق فإني قد رأيت ناسا يتهاوشون فقام عكاشة بن محصن الأسدي فقال : ادع لي يا رسول الله أن يجعلني من السبعين فدعا له فقام رجل آخر فقال : ادع الله يا رسول الله أن يجعلني منهم فقال : قد سبقك بها عكاشة قال : ثم تحدثنا فقلنا : من هؤلاء السبعون الألف قوم ولدوا في الإسلام حتى ماتوا فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقال : هم الذين لا يكتوون ولا يسترقون ولا يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون

ایک تیسری سند سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کی ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ: ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9784

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبي أيوب · حديث 4021

4020 - حدثنا سعيد بن عبد الرحمن التستري ثنا حماد بن الحسن بن عنبسة ثنا حجاج بن نصير ثنا شعبة عن عبد الرحمن بن أبي السفر عن الشعبي عن عبد الرحمن بن أبي ليلى Y عن أبي أيوب الأنصاري عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قال لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير كن له كعدل عشر رقاب من ولد إسماعيل عليه السلام

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جس نے " لا الٰہ الا اللہ الیٰ آخرہٖ" پڑھا تو اس کو اولاد اسماعیل میں سے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔

مَنْ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الشَّعْبِيِّ، ← عبد الرحمن بن أبي السفر ← شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ← حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4021

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عبد الملك بن سعيد بن سويد الانصاري عن أبي أسيد مالك بن صعصعة الانصاري · حديث 16267

599 - حدثنا علي بن أحمد الأبار ثنا عبد الرحمن بن المبارك العيشي ثنا أبو عوانة عن قتادة عن أنس بن مالك بن صعصعة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد ثنا العباس بن الوليد النرسي ثنا يزيد بن زريع ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس بن مالك بن صعصعة عن النبي صلى الله عليه و سلم ( ح ) وحدثنا عبد العزيز الحرملي أنا يعقوب بن كعب ثنا أبي عن الخليل بن مرة عن قتادة عن أنس عن مالك بن صعصة عن النبي صلى الله عليه و سلم ( ح ) وحدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا أبو حفص عمرو بن علي ثنا أبو داود ثنا هشام الدستوائي عن قتادة عن أنس عن مالك بن صعصعة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( بينا أنا في الحطيم - وربما قال في الحجر - بين النائم واليقظان إذ أتاني آت فشق من النحر من مراق البطن فاستخرج قلبي ثم أتيت بطست من ذهب فغسل بماء زمزم ومليء حكمة وإيمانا وأتيت بدابة دون البغل وفوق الحمار أبيض يقال له البراق يقع خطوه عند أقصى طرفه فحملت عليه فانطلقت أنا وجبريل صلى الله عليه و سلم حتى أتينا سماء الدنيا فاستفتح جبريل صلى الله عليه و سلم فقيل من معك ؟ فقال : محمد قيل وقد أرسل إليه ؟ قال : نعم قالوا مرحبا ولنعم المجيء ما جاء ففتح لنا فدخلنا فأتيت على آدم فسلمت عليه فقال : مرحبا بك من ابن ونبي ثم أتينا السماء الثانية فاستفتح جبريل عليه السلام فقيل من معك ؟ فقال : محمد قيل قد أرسل إليه ؟ قال : نعم قالوا مرحبا به ولنعم المجيء جاء ففتح لنا فأتيت على عيسى ويحيى فسلمت عليهما فقالا مرحبا بك من أخ ونبي ثم أتينا السماء الثالثة فاستفتح جبريل عليه السلام فقيل من معك ؟ قال : محمد قالوا وقد أرسل إليه ؟ قال : نعم قالوا مرحبا به ولنعم المجيء جاء فأتيت على يوسف فسلمت عليه فقال مرحبا بك من أخ ونبي ثم اتينا السماء الرابعة فاستفتح جبريل صلى الله عليه و سلم فقيل من معك ؟ قال : محمد قالوا وقد أرسل إليه ؟ قال : نعم قالوا مرحبا به ولنعم المجيء جاء فأتيت على إدريس فسلمت عليه فقال : مرحبا بك من أخ ونبي ثم أتينا السماء الخامسة فاستفتح جبريل عليه السلام فقيل من معك ؟ قال : محمد صلى الله عليه و سلم قالوا وقد أرسل إليه ؟ قال : نعم قالوا مرحبا به ولنعم المجيء جاء فأتيت على هارون فسلمت عليه فقال : مرحبا بك من أخ ونبي ثم أتينا السماء السادسة فاستفتح جبريل عليه السلام فقيل من معك ؟ قال : محمد قالوا وقد أرسل إليه ؟ قال : نعم قالوا مرحبا به ولنعم المجيء جاء فأتيت على موسى فسلمت عليه فقال : مرحبا بك من أخ ونبي فلما جاوزته بكى فقيل ما يبكيك ؟ فقال : يا رب هذا بعث بعدي يدخل من أمته الجنة أكثر مما يدخل من أمتي ثم أتينا السماء السابعة فاستفتح جبريل صلى الله عليه و سلم فقالوا : من معك ؟ قال : محمد قالوا أوقد أرسل إليه ؟ قال : نعم قالوا : مرحبا به ولنعم المجي جاء فأتيت على إبراهيم فسلمت عليه فقال : مرحبا بك من ابن ونبي ثم رفعت لنا سدرة المنتهى فسألت جبريل عليه السلام فقال : هذه سدرة المنتهى وإذا نبقها كالقلال وإذا ورقها كأذن الفيلة ورأيت في أصلها أربعة أنهار نهران ظاهران ونهران باطنان فسألت جبريل عليه السلام فقال : أما الباطنان فنهران في الجنة وأما الظاهران فالنيل والفرات ثم رفع لنا البيت المعمور فسألت جبريل عليه السلام فقال : هذا البيت المعمور يدخله كل يوم سبعون ألف ملك ثم لا يعودون إليه آخر ما عليهم وفرضت علي خمسون صلاة فانطلقت حتى أتيت على موسى عليه السلام فقال : ما صنعت ؟ فقالت فرضت علي خمسون صلاة قال : إني أعلم بالناس منك فقد عالجت بني اسرائيل أشد المعالجة وإن أمتك لن تطيق ذلك فارجع إلى ربك فاسأله أن يخفف عنك فرجعت فسألته أن يخفف عني فجعلها أربعين صلاة فأتيت على موسى عليه السلام فقال : ما صنعت ؟ قلت : جعلها أربعين قال : إني أعلم بالناس منك وقد عالجت بني اسرائيل أشد المعالجة وإن أمتك لن تطيق ذلك فارجع إلى ربك فسله أن يخفف عنك فرجعت فسألت ربي فخخف عني عشرا فأتيت على موسى فقال : ما صنعت ؟ فقلت جعلها ثلاثين قال : إني أعلم بالناس منك وقد عالجت بني إسرائيل أشد المعالجة وإن أمتك لن تطيق ذلك فارجع إلى ربك فسله أن يخفف عنك فرجعت فسألته أن يخففها عني فجعلها عشرين فأتيت على موسى فقال : ما صنعت ؟ فقلت جعلها عشرين قال : إني أعلم بالناس منك وقد عالجت بني إسرائيل أشد المعالجة وإن أمتك لن تطيق ذلك فارجع إلى ربك فسله أن يخفف عنك فرجعت إلى ربي فسألته أن يخفف عني فجعلها خمس عشرة فأتيت على موسى فقال : ما صنعت ؟ قلت جعلها خمس عشرة قال : إني أعلم بالناس منك وقد عالجت بني إسرائيل أشد المعالجة وإن أمتك لن تطيق ذلك فارجع إلى ربك فسله أن يخفف عنك فرجعت إلى ربي فسألته أن يخفف عني فجعلها عشرا فأتيت على موسى فقال : ما صنعت ؟ قلت : جعلها عشرا قال : أني أعلم بالناس منك وقد عالجت بني اسرائيل أشد المعالجة وإن امتك لن تطيق ذلك فارجع إلى ربك فسله أن يخفف عنك فرجعت إلى ربي فسألته أن يخفف عني فوضع عني خمسا فأتيت على موسى فقال : ما صنعت ؟ فقلت حط عني خمسا قال : إني أعلم بالناس منك وقد عالجت بني إسرائيل أشد المعالجة وإن أمتك لن تطيق ذلك فارجع إلى ربك فسله أن يخفف عنك قلت : قد استحييت كم أرجع إلى ربي قد رضيت وسلمت فنودي إني قد أمضيت فريضتي وخففت عن عبادي وأجزى سنة عشر أمثالها

حضرت مالک بن صعصعہ سے چار مختلف سندوں سے مروی ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: اسی دوران کہ میں حطیم کعبہ میں( سو رہا ) تھا۔ کبھی کہا: حجر اسود کے پاس سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت میں جب آنے والا آیا اس سینے سے پیٹ کے ناف تک شق کیا میرا دل نکالا پھر سونے کا تھال لایا گیا آب زمزم سے اسے دھویا گیا اُسے حکمت ( دانائی) و ایمان سے بھر دیا گیا خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی سواری لائی گئی بالکل سفید جس کا نام براق تھا اس کا پاؤں وہاں پڑےا جہاں اس کی نگاہ پڑتی تھی۔ مجھے ( بڑے اعزاز و اکرام سے ) اس پر سوار کیا گیا۔ پس میںاور حضرت جبریل علیہا لسلام چلے یہاں تک کہ آسمان دنیا پر آئے ۔ جبریل علیہا لسلام نے دروازہ کھلوانا چاہا کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت محمدﷺ! کہا گیا: ان کو بلوایا گیا؟( یا خود آئے ہیں؟) انہوں نے جواب دیا: ہاں! ( بلوای اگیا ہے ) انہوں نے عرض کی : خوش آمدید! ان کا آنا کیا ہی اچھا ہے ۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا پس ہم داخل ہوئے ۔ پس میں حضرت آدمی علیہ السلام کے پاس آیا ان پر میں نے سلام کیا اُنہوں نے کہا: آپ کو مرحبا ہو! یعنی بیٹے اور نبی کو۔ پھر ہم دوسرے آسمان پر ائے پس حضرت جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا تو کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا: حضرت محمد ﷺ! کہا گیا: ان کی طرف پیغام بھیجا گیا؟ کہا : ہاں! کہا انہیں خوش آمدید! وہ آ ئے ان کا آنا کتنا اچھا ہے پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا۔ پس میں نے ان دونوں پر سلام کیا انہوں نے کہا: آپ کو خوش آمدید! آپ بھائی اور نبی ہیں۔ پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوانے کی اپیل کی کہا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے ؟ کہا: حضرت محمد ﷺ۔ کہا: کیا ان کی طرف کسی کو بھیجا گیاتھا؟ کہا : ہاں! کہا: خوش آمدید ! ان کا آنا بہت مبارک ہے ۔ پس میں حضر ت یوسف علیہ ا لسلام کے پاس آیا میں نے ان پر سلام کیا اُنہوں نے کہا: آپ کو خوش آمدید ! آپ بھائی اور نبی ہیں۔ پھر ہم چوتھے آسمان پر آئے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھوالنے کی درخواست کی پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا: حضرت محمد ﷺ ۔ کہا : کیا ان کو آنے کیلئے پیغام گیا؟ کہا : ہاں ! انہوں نے کہا: ان کو خوش آمدید ! ان کا آنا بہت ہی اچھا ہے ۔ فرماتے ہیں: پس میں حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس آیا ان پر سلام کیا ۔ انہوں نے کہا۔ آپ کو خوش آمدید ! آپ بھائی اور نبی ہیں۔ پھر پانچویں آسمان پر آئے پس حضرت جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی تو کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا : حضرت محمد ﷺ ۔ انہوں نے کہا: ان کو بلایا گیا ہے ؟ کہا : ہاں! انہوں نے کہا: ان کو خوش آمدید! ان کا آنا بہت مبارک ہے۔ پس میں حضرت ہارون علیہ السلام کے پاس آیا میں نے ان پر سلام کیا اُنہوں نے جواب دیا: آپ کو مرحبا! آپ بھائی اور نبی ہیں۔ پھر ہم چھٹے آسمان پر آئے حضرت جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کو کہا تو پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا: حضرت محمد ﷺ۔ کہا: ان کو بلایا گیا ہے ؟ کہا : ہاں ! انہوں نے کہا : آپ کا آنا بہت اچھا ہے ۔ پس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ک کے پاس آیا ان پر سلام کیا انہوں نے کہا: آپ کو خؤش آمدید ! آپ بھائی اور نبی ہیں۔ پس جب میں ان سے آگے گزر ا تو وہ رو پڑے۔ ان سے کہا گیا: آپ کیوں روئے ؟ انہوں نے کہا: اے میرے رب ! اس نبی کو میرے بعد بھیجا گیا ا کی اُمت میری اُمت سے زیادہ جنت میں داخؒ ہو گی ۔ پھر ہم ساتویں آسمان پر آئے حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: دروازہ کھولو! پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا : حضرت محمد ﷺ۔ انہوں نے کہا: کیا ان کی طرف قاصد بھیجا گیا؟ کہا : ہاں! انہوں نے کہا: ان کو خوش آمدید کہتے ہیں ان کا آنا کتنا ہی مبارک ہے ۔ پس میں حضرت ابراہیم علی السلام کے پاس آیا۔ میں نے ان پر سلام کیا انہوں نے کہا: آپ بیٹے اور نبی کو خوش آمدید !پھر ہمارے لیے سدرۃ المنتہی کو بلند کیا گیا میں نے جبریل علیہ السلام سوال کیا؟ کہا: یہ سدرۃ المنتہی ہے ۔ اچانک میری نگاہ پڑی تو اس کے بیر لوٹوں کی مانند تھے اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے میں نے اس کی جڑ مین دیکھا کہ چار نہریں ہیں دو نہریں ظاہر اور دو نہریں باطن ہیں۔ میں نے حضرت جبریل علیہ السلام سے پوچھا گ تو انہوں نے کہا: بہر حال دو باطن نہریں جنت میں ہیں لیکن دو ظاہری نہروں میں سے ایک نیل اور دوسری فرات ہے پھر ہمارے لیے بیت المعمور اُٹھایا گیا میں نے حضرت جبریل علیہ السلام سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: یہ بیت المعمور ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں پھر ان کو بودارہ اس مین داخل ہونا نصیب نہیں ہوتا۔ پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں پس میں چل کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اُنہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ کہا: میں لوگوں کا آپ سے زیادہ تجربہ رکھتا ہوں مجھے بنی اسرائیل پر بہت سخت تجربہ ہوا بے شک آپ کی اُمت اس کی ہر گز طاقت نہیں رکھے گی آپ اپے رب کی بارگاہ میں دوبارہ حاضری دیں اور تخفیف کا سوال کرین۔ پس میں واپس ہوا میں نے اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کی کم کر دے ! پس اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور چالیس کر دیں۔ پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا انہوں نے کہا: کیا بنا؟ میں نے کہا: چالیس ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا: مجھے آپ سے زیادہ لوگوں کی عاات کا مشاہدہ ہے میں نے بنی اسرائیل پر بہت تجربات کیے کی آپ کی اُمت ہر گز اس کی بھی طاقت نہ رکھے گی آپ اپنے رب کی بارگاہ مین جائیں اور مزید کم کرنے کا سوال کرین ۔ پس میں ؤاپس آیا تو میں نے اپنے رب سے درخواست کی تو اللہ نے مجھ سے دس کم کر دیں۔ پس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: تیس ہو گئیں۔ کہا: مں نے آپ سےز یادہ لوگوں کو دیکھا ہے مجھے بنی اسرائیل کے حوالے س شدید قسم کے تجربات ہوئے آپ کی اُمت اس کی بھی طاقت نہیں رکھے گ آپ اپنے رب کے پاس کا جائین اور مزید تخفیف کا سوال کریں۔ میں واپس آیا اور میں نے کہا: مجھ سے کم فرما دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بیس کر دیں پس میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اُنہوں نے کہا: آپ کیا کر کے آئے؟ میں نے کہا : اللہ ے بیس کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا : میں آپ کی نسبت لوگوں کے مزاج سے زیادہ واقف ہوں مین نے بنی اسرائیل کو بہت دیکھا ہے آپ کی اُمت ہر گز اس کی طاقت نہ رکھے گی پس آپ اپنےرب کے پاس جائیں اور نمازیں کم کروائیں ۔ میںو اپس ہوا اور میں نے عرض کی : مجھ سے تخفیف کی جائے ! پس اللہ تعالیٰ نے پندرہ کر دیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اُنہوں نے کہا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: اللہ نے پندرہ کر دی ہیں۔ اُنہوں نے کہا: مجھے آپ سے زیادہ لوگوں میں رہنے کا موقعہ ملا ہے میں نے بنی اسرائیل کے حوالے سے تجربات حاصل کرنے کی حد کر دی ہے آپ کی اُمت ہر گز اس کی طاقت نہیں رکھے گی آپ واپس اپنے رب کے پاس جائیں اور اللہ سے نمازیں کم کرنے کی استد عا کرین۔ پس میں اپنے رب کی طرف لوٹا اور میں نے اللہ سے درخواست کی کہ مجھ سے مزید کم کی جائیں ۔ پس اللہ نے دس کر دیں پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کہا: آپ کیا کر کے آئے ؟ میں نے کہا: اللہ نے دس کر دی ہیں کہا: بے شک میں نے آپ کی نسبت لوگوں میں زیادہ زندگی گزاری ہے بنی اسرائیل کے حؤالے سے مجھے کثیر تجربات ہوئے آپ ایک بار پھر اپنے رب کی بارگاہ میں جائیں اور اپنے رب سے نمازیں کم کروائیں ۔ پس میں پھر اپنے رب کی طر ف واپس آیا اور میں نے اپنے رب سے کمی کی اپیل کی تو اللہ نے جھ سے پانچ نمازین اُٹھا دیں ۔ پس میں موسیٰ علیہ السلام کے پا س آیا کیا صورت نبی ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پانچ نمازیں اور گرا دی ہیں؟ انہوں نے کہا: میں آپ کی نسبت لوگوں کی عادات کو زیادہ دیکھ چکا ہوں بنی اسرائیل پر مجھےڈھیروں تجربات ہوئے آپ کی اُمت ہر گز طاقت نہ رکھے گی آپ ایک بار پھر جا کر کمی کا سوال کریں۔ میں نے کہا: مجے حیاء آتی ہے کہ میں کتنی بار اپنے رب کی طرف جاؤں میں راضی ہوں میں نے مانا۔ پس نداء آئی : تحقیق میں نے فریضہ پکا کر دیا اپنے بندوں سے کمی کر دی اور نیکی کی جزاء دس گنادوں گا۔

مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ← وحدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ← النبي صلى الله عليه و سلم ← مالك بن صعصة ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← الخليل بن مرة ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ کَعْبٍ ← وحدثنا عبد العزيز الحرملي ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أنس بن مالك بن صعصعة ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أنس بن مالك بن صعصعة ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ الْعَيْشِيُّ ← علي بن أحمد الأبار

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16267

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن معاوية · حديث 16408

740 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن أنه رأى معاوية يخطب على المنبر وفي يده قصة من الشعر قال فسمعته يقول Y أين علماؤكم يا أهل المدينة سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى عن مثل هذا وقال : ( إنما عذبت بنو إسرائيل حين اتخذت هذه نساؤهم )

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ کے منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں بالوں کا گھچا تھا آپ نے فرمایا: تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ اے مدینہ والوں! میں نے حضور ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے جس وقت ان کی عورتوں نے ایسے کیا۔

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16408

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن معاوية · حديث 16409

741 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن ابن جريج حدثني ابن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن أنه سمع معاوية بن أبي سفيان وفي يده قصة من شعر يقول Y شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى عن مثل هذا ويقول : ( إنما عذبت بنو إسرائيل حين اتخذت نساؤهم هذه )

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ کے منبر پرخطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں بالوں کا گھچا تھا آپ نے فرمایا: تمہارے علماء کہاں ہیں؟ اے مدینہ والو! میں نے حضورﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے عذاب کا شکار ہوئے جس وقت ان کی عورتوں نے ایسے کیا۔

مِثْلِ هَذَا وَيَقُولُ: «إِنَّمَا عُذِّبَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَتْ نِسَاؤُهُمْ هَذِهِ» ← شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى ← مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنْ شَعْرٍ ← حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16409

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن معاوية · حديث 16410

742 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي عن مالك ( ح ) وحدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن يوسف أنا مالك ( ح ) وحدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا عبد الله بن عبد الحكم ثنا مالك عن ابن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن أنه سمع معاوية بن أبي سفيان Y عام حج وهو على المنبر وتناول قصة من شعر كانت في يد حرسي وهو يقول : يا أهل المدينة أين علماؤكم ؟ سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى عن مثل هذه ويقول : ( إنما هلكت بنو إسرائيل حين اتخذ هذه نساؤهم ) واللفظ لحديث القعنبي

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حج کے سال حضور ﷺ کے منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں بالوں کا گھچا تھا آپ نے فرمایا: تمہارے علماء کہاں ہیں؟ اے مدینہ والو! میں نے حضور ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے جس وقت ان کی عورتوں نے ایسے کیا۔ اور یہ الفاظ حضرت قعبنی کے ہیں۔

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16410

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن معاوية · حديث 16411

743 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا محمد بن بشر التنيسي ثنا الأوزاعي حدثني الزهري حدثني حميد بن عبد الرحمن أنه سمع معاوية بن أبي سفيان وبيده قصة من شعر يقول Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى عن مثل هذه ويقول : ( إنما هلكت بنو إسرائيل حين اتخذها نساؤهم )

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حج کے سال حضور ﷺ کے منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں بالوں کا گھچا تھا آپ نے فرمایا: تمہارے علماء کہاں ہیں؟ اے مدینہ والو! میں نے حضور ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے جس وقت ان کی عورتوں نے ایسے کیا۔

مثل هذه ويقول إنما هلكت بنو إسرائيل حين اتخذها نساؤهم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى ← معاوية بن أبي سفيان وبيده قصة من شعر ← حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہُ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← محمد بن بشر التنيسي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16411

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن معاوية · حديث 16412

744 - حدثنا هارون بن كامل المصري ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني يونس عن ابن شهاب حدثني حميد بن عبد الرحمن أنه سمع معاوية بن أبي سفيان يخطب على المنبر بالمدينة يقول Y أين علماؤكم يا أهل المدينة سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى عن مثل هذه القصة يقول : ( إنما هلكت بنو إسرائيل حين اتخذها نساؤهم )

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حج کے سال حضور ﷺ کے منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں بالوں کا گھچا تھا آپ نے فرمایا: تمہارے علماء کہاں ہیں؟ اے مدینہ والو! میں نے حضور ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے جس وقت ان کی عورتوں نے ایسے کیا۔

إنما هلكت بنو إسرائيل حين اتخذها نساؤهم ← مثل هذه القصة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى ← أين علماؤكم يا أهل المدينة ← معاوية بن أبي سفيان يخطب على المنبر بالمدينة ← حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16412

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن معاوية · حديث 16413

745 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرح و أحمد بن حماد بن زغبة قالا ثنا سعيد بن عفير أنا يحيى بن أيوب عن ابن الهاد عن عبد الوهاب عن ابن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن قال : سمعت معاوية بن أبي سفيان وفي يده قصة من شعر يقول Y سمعت النبي صلى الله عليه و سلم ينهى عن مثل هذا ويقول : ( إنما عذبت بنو إسرائيل حين اتخذت مثل هذه نساؤهم )

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حج کے سال حضور ﷺ کے منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں بالوں کا گھچا تھا آپ نے فرمایا: تمہارے علماء کہاں ہیں؟ اے مدینہ والو! میں نے حضور ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا تم لوگ اسی وجہ سے عذاب کا شکار ہوئے جس وقت ان کی عورتوں نے ایسے کیا۔

مثل هذا ويقول إنما عذبت بنو إسرائيل حين اتخذت مثل هذه نساؤهم ← النبي صلى الله عليه و سلم ينهى ← مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنْ شَعْرٍ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← ابْنِ الْھَادِ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← أبو الزنباع روح بن الفرح و أحمد بن حماد بن زغبة

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16413

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن معاوية · حديث 16414

746 - حدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية ثنا خالد عن عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن أنه سمع معاوية بن أبي سفيان مع رجل فقال Y إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى عن مثل هذا ويقول : ( إنما هلكت بنو إسرائيل حين اتخذت هذه نساؤهم )

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک آدمی کے ساتھ سنا آپ نے فرمایا: میں نے حضور ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے جس وقت ان کی عورتوں نے ایسے کیا۔

مثل هذا ويقول إنما هلكت بنو إسرائيل حين اتخذت هذه نساؤهم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى ← معاوية بن أبي سفيان مع رجل فقال إني ← حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہُ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16414

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن معاوية · حديث 16415

747 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا القعنبي ثنا سفيان عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن قال Y قدم معاوية المدينة فقال : أين علماؤكم وأخرج كبة من شعر من كمه فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى عن هذا وقال : ( إنما هلك بنو إسرائيل حين اتخذ نساؤهم مثل هذا )

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے آپ نے فرمایا: تمہارے علماء کہاں ہیں؟ اور اپنی آستین سے ایک بالوں کا گھچا نکالا میں نے حضور ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے منع فرماتے ہوئے سنا تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے جس وقت ان کی عورتوں نے ایسے کیا۔

ھَذَا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى ← أين علماؤكم وأخرج كبة من شعر من كمه ← قدم معاوية المدينة ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16415

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ عبد الله بن عمرو بن عثمان بن عفان عن رافع · حديث 4327

4326 - حدثنا المقدام بن داود المصري ثنا عبد الله بن عبد الحكم ( ح ) وحدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي قالا ثنا بكر بن مضر عن ابن الهاد عن أبي بكر بن حزم عن عبد الله بن عمرو بن عثمان Y عن رافع بن خديج أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم وذكر مكة فقال : إن إبراهيم عليه السلام حرم مكة وإني أحرم ما بين لابتيها يريد المدينة

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا ، آپ نے مکہ کا ذکر کیا،فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نےمکہ کو حرم قرار دیا اورمیں مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان کو حرم قرار دے رہا ہوں۔

مَكَّةَ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، ← ابْنِ الْھَادِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4327

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ 433 - رافع بن عمير · حديث 4478

4477 - حدثنا محمد بن الحسن بن قتيبة العسقلاني ثنا محمد بن أيوب بن سويد حدثني أبي ثنا إبراهيم بن أبي عبلة عن أبي الزاهرية عن رافع بن عمير قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال الله عز و جل لداود عليه السلام : ابن لي بيتا في الأرض فبنى داود بيتا لنفسه قبل البيت الذي أمر به فأوحى الله عز و جل إليه : يا داود نصبت بيتك قبل بيتي قال : يا رب هكذا قلت فيما قضيت : من ملك استأثر ثم أخذ في بناء المساجد فلما تم السور سقط ثلثاه فشكا ذلك إلى الله عز و جل فأوحى الله عز و جل إليه أنه لا يصلح أن تبني لي بيتا قال : أي رب ولم ؟ قال : لما جرت على يديك من الدماء قال : أي رب أو لم يكن هواك ومحبتك ؟ قال : بلى ولكنهم عبادي وأنا أرحمهم فشق ذلك عليه فأوحى الله إليه : لا تحزن فإني سأقضي بناءه على يدي ابنك سليمان فلما مات داود أخذ سليمان في بنائه فلما تم قرب القرابين وذبح الذبائح وجمع بني إسرائيل فأوحى الله عز و جل إليه : قد أرى سرورا ببنيان بيتي فسلني أعطك قال : أسألك ثلاث خصال حكما يصادف حكمك وملكا لا ينبغي لأحد من بعدي ومن أتى هذا البيت لا يريد إلا الصلاة فيه خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما اثنتين فقد أعطيهما وأنا أرجو أن يكون قد أعطي الثالثة

حضرت رافع بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے حضرت داؤد علیہ السلام سے فرمایا: زمین میں میرے لیے گھر بناؤ! حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے لیے گھر بنایا، اس گھر کے بنانے سے پہلے جس کا حکم دیا گیا، اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی: اے داؤد ! آپ نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا ہے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کی: اے رب ! تو نے اسی طرح فرمایا: جس کا فیصلہ فرما چکا ، جو بادشاہ بنا اس نے ہر چیز کو اپنے ساتھ کیا،پھر آپ مسجد بنانے لگے، جب دیواریں مکمل ہوئیں تو اس کا ایک تہائی گر گی۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے رب سے شکایت کی تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی: آپ میرا گھر نہیں بنا سکتے ہیں ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کی : اے رب! کیوں؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: آپ کے ہاتھ سے خون جاری ہوا ہے ؟ حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کی: اے رب ! کیا وہ تیری خواہش اور محبت میں نہیں تھا؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: کیوں نہیں ! لیکن وہ میرے بندے ہیں اور میں اپنے بندوں پرزیادہ رحم کرنے والا ہوں۔ یہ بات حضرت داؤد علیہ السلام پر دشوار گزری، اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی کہ آپ پریشان نہ ہوں ، کیونکہ میں تیرے بیٹے سلیمان کے ہاتھوں اس کے بننے کا فیصلہ کروں گا۔ پس جب حضرت داؤد علیہ السلام کا وصال ہوا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے بنانا شروع کیا، پس جب کام مکمل ہوا تو آپ نے مصاحبین کے قریب کیا، جانور ذبح کیے اور بنی اسرائیل کو جمع کیا، اللہ عزوئجل نے ان کی طرف وحی کی کہ تم نے میرا گھر بنا کر مجھے خوش کیا، مجھ سے مانگو! میں تمہیں دوں گا! حضرت سلیمان علیہ السلام نے تین باتیں مانگیں ،اپنے حکموں کے موافق فیصلے کی صلاحیت خاص بادشاہی دی جانے کی جو میرے بعد کسی کے لیے نہ ہو اور جو اس گھر میں نماز کے لیے آئے اس کے گناہ اس طرح معاف ہوں جس طرح آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: دو تو ان کو دی گئی تھیں، میرا یقین ہے کہ تیسری بھی دی گئی تھی۔

رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4478

chevron_left Previous
1…232425…226
Next chevron_right