857 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَاهِيُّ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ لِيَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخٌ مُؤَاخًى، فَقَالَ لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ: يَا يَعْقُوبُ , مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ؟ مَا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرَكَ , فَقَالَ: أَمَّا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي فَالْبُكَاءُ عَلَى يُوسُفَ , وَأَمَّا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى ابْنِي بِنْيَامِينَ , فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ , فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ , وَيَقُولُ لَكَ: أَمَا تَسْتَحِي أَنْ تَشْكُونِي إِلَى غَيْرِي؟ فَقَالَ يَعْقُوبُ: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ , فَقَالَ جِبْرِيلُ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَشْكُو يَا يَعْقُوبُ , ثُمَّ قَالَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَيْ رَبِّ , أَمَا تَرْحَمُ الشَّيْخَ الْكَبِيرَ , أَذْهَبْتَ بَصَرِي , وَقَوَّسْتَ ظَهْرِي , فَارْدُدْ عَلَيَّ رَيْحَانَتِي يُوسُفَ أَشُمُّهُ شَمَّةً قَبْلَ الْمَوْتِ , ثُمَّ اصْنَعْ بِي يَا رَبِّ مَا شِئْتَ , فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ , فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ , وَيَقُولُ لَكَ: أَبْشِرْ , وَلْيَفْرِحْ قَلْبُكَ , فَوَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَوْ كَانَا مَيِّتَيْنِ لَنَشَرْتُهُمَا لَكَ , فَاصْنَعْ طَعَامًا لِلْمَسَاكِينِ؛ فَإِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ الْمَسَاكِينُ , وَتَدْرِي لِمَ أَذْهَبْتُ بَصَرَكَ , وَقَوَّسْتُ ظَهْرَكَ , وَصَنَعَ إِخْوَةُ يُوسُفَ بِيُوسُفَ مَا صَنَعُوا، لِأَنَّكُمْ ذَبَحْتُمْ شَاةً , فَأَتَاكُمْ فُلَانٌ الْمِسْكِينُ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمْ تُطْعِمُوهُ مِنْهَا , وَكَانَ يَعْقُوبُ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَرَادَ الْغِذَاءَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَلَا مَنْ أَرَادَ الغَدَاءَ مِنَ الْمَسَاكِينِ فَلْيَتَغَدَّ مَعَ يَعْقُوبٍ، فَإِذَا كَانَ صَائِمًا أَمَرَ مُنَادِيًا , فَنَادَى أَلَا مَنْ كَانَ صَائِمًا مِنَ الْمَسَاكِينِ فَلْيُفْطِرْ مَعَ يَعْقُوبَ " لَا يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ
ابو حسین محمد بن احمد الباہی البصری سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت یعقوب علیہ السلام کا ایک منہ بولا بھائی تھا انہوں نے ایک دن کہا اے یعقوب آپ کی آنکھوں کی بینائی کس وجہ سے زائل ہوئی اور آپ کی کمر میں جھکا ؤ کس وجہ سے آیا ؟ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا میری بنائی زائل ہونے کی وجہ یوسف علیہ السلام کے بارے میں رونا ہے اور میرے بیٹے یامین کی پریشانی نے میری پشت کو ٹیڑھا کر دیا ۔ فوراً حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ آپ کو اس بات سے حیا نہں آتی کہ آپ میرے سوا اور کسی کے سامنے اپنی شکایت پیش کر رہے ہیں حضرت جبرائیل نے کہا اے یعقوب آپ جو شکایت اللہ کی بارگاہ میں پیش کر رہے ہیں اللہ اس کو بہتر طریقے سے جانتا ہے پھر یعقوب علیہ السلام نے کہا اے میرے رب تو اس بوڑھے پر کیوں رحم نہیں کرتا تو نے میر ی بینائی ختم کر دی میری پشت کو ٹیڑھا کر دیا تو میری خؤشبو یوسف کو میرے پاس بھیج دے کہ میں مرنے سے پہلے اس خوشبو کو سونگھ لوں ۔ اس کے بعد اے میرے رب تو جو چاہے میرے ساتھ معاملہ فرمالے حضرت جبرائیل امین تشریف لائے عرض کیا اے یعقوب اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے آپ کو خوشخبری ہو دل خوش ہو جائے میر ی عزت اور میرے جلال کی مجھے قسم اگر تمہارے یہ بچے مر بھی چکے ہوتے تو میں زندہ کر کے ان کو تمہارے پاس واپس بھیجتا آپ مسکینوں کے لیے کھانا پکائیے کیونکہ مجھے بندوں میں سب سے زیادہ محبت مسکینوں سے ہے اور آپ جانتے ہو کہ میں نے آپ کی بینائی کو زائل کیوں کیا اور یوسف کے بھائیوں نے یوسف کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کیوں کیا ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک مرتبہ تم نے بکری ذبح کی تھی ۔ تمہارے پاس فلاں مسکین آیا تھا وہ روزے دار تھا تم نے اس کو اس بکری میں سے کھانا نہیں دیا تھا ۔ اس کے بعد حضر ت یعقوب علیہ السلام نے یہ دعادت بنا لی کہ جب بھی کھانا کھانے کا ارادہ کرتے تو اعلان کرتے کہ اے لوگو جو بھی مسکین روزے دار ہو وہ یعقوب کے ساتھ آکر افطاری کرے" اس حدیث کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں وہب بن بقیہ منفرد ہیں ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حُصَيْنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّة ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَاهِيُّ الْمِصْرِيُّ،