Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأنبياء والتاريخ

Prophets & History

4507 hadiths

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 712

711 - قال : و نا عبد الرزاق عن معمر عن زيد بن أسلم : أن نبي الله موسى عليه السلام قال : يا رب قد أنعمت علي كثيرا فدلني أن أشكرك كثيرا قال : اذكرني كثيرا فإذا ذكرتني كثيرا فقد شكرتني كثيرا و إذا نسيتني فقد كفرتني

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے عبدالرزاق نے ، ان کو معمر نے ، ان کو زید بن اسلم نے ، یہ کہ اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کیا ، اے میرے رب ، آپ نے مجھ پر کثرت کے ساتھ انعام فرمایا ، مجھے شکر کا طریقہ بھی خود ہی بتایئے تاکہ میں تیرا شکر بھی کثرت کے ساتھ ادا کروں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کثرت کے ساتھ میرا ذکر کیجئے ، جب آپ کثرت کے ساتھ میرا ذکر کریں گے تو آپ میرا شکر کثرت کے ساتھ کریں گے اور جب آپ مجھے بھول جائیں گے یعنی جتنی دیر آپ مجھ سے غافل ہوں گے آپ میری ناشکری کریں گے۔

يَا رَبِّ، قَدْ أَنْعَمْتَ عَلَيَّ كَثِيرًا فَدُلَّنِي أَنْ أَشْكُرَكَ كَثِيرًا ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ،أَنَّ نَبِيَّ اللهِ مُوسَى ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← و،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 712

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 815

814 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار ثنا جعفر بن سليمان ثنا ثابت قال : بلغنا أن داود عليه السلام يقول : أوه قبل الوقوع في النار أوه قبل أن لا تنفع أوه قال : و سمعت ثابتا يقول : ما شرب داود شرابا بعد المغفرة إلا و نصفه ممزوج بدموع عينيه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو حضربن ربان نے ، ان کو سیار نے ، ان کو جعفر بن سلیمان نے ، ان کو ثابت نے ، وہ کہتے ہیں کہ : ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ داؤد علیہ السلام فرماتے تھے ، افسوس ہے آگ میں واقع ہونے سے پہلے ۔ افسوس ہے اس سے پہلے کہ افسوس کوئی فائدہ نہ دے ۔ جعفربن سلیمان کہتے کہ میں نے ثابت سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ داوڈ علیہ السلام نے مغفرت ہو جانے کے بعد جب بھی کوئی پینے کی چیز پی اس میں نصف تو ان کے آنسوہی ملے ہوئے تھے ۔

ما شرب داود شرابا بعد المغفرة إلا و نصفه ممزوج بدموع عينيه ← ثَابِتًا ← و، ← أوه قبل الوقوع في النار أوه قبل أن لا تنفع أوه ← بَلَغَنَا أَنَّ دَاوُد ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 815

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 816

815 - و بإسناده قال : سمعت ثابتا يقول : اتخذ داود عليه السلام سبع حشايا من شعر ثم حشاهن بالرماد ثم بكى حتى أنفذهن بدموع عينيه

اپنی اسناد کے ساتھ جعفر کہتے ہیں کہ میں نے ثابت سے سنا، وہ کہتے تھے حضرت سلیمان علیہ السلام نے ساتھ تکیے یا ساتھ بستر لئے بالوں کے لئے اور انہیں راکھ سے بھر دیا ۔پھر رو پڑے ، یہاں تک کہ آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں نے ان کو بہا دیا ۔

ثَابِتًا ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 816

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 818

817 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا سعيد بن عامر عن هشام بن حسان قال : اتخذ داود عليه السلام فراشا حشوه رماد فاضطجع عليه ذات ليلة قال : فبكى حتى نشف الرماد ما نشف و استنفع الماء تحت جنبه قال : فلما وجد الماء تحت جنبه دخله من ذلك شيء فقال : هذه خطيئة أخرى قال : فخرج إلى الجبل يتعبد فيه حتى كاد يعرى فرجع

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن اسحٰق نے ، ان کو سعید بن عامر نے ، ان کو ھشام بن حسان نے ، وہ کہتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام نے بستر بنا یا جس کے اندر راکھ بھری ہوئی تھی ۔ ایک رات اس پر لیٹے اور رو پڑے ۔ راکھ نے آنسو جذب کئے ، اس کے باوجود پانی کروٹ یعنی ان کے پہلو سے نیچے بہہ گیا۔

هذه خطيئة أخرى ← فلما وجد الماء تحت جنبه دخله من ذلك شيء ← فبكى حتى نشف الرماد ما نشف و استنفع الماء تحت جنبه ← اتخذ داود فراشا حشوه رماد فاضطجع عليه ذات ليلة ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 818

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 834

833 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو بكر العثماني الأخميمي أنا أبو بكر بن أبي موسى قال : سمعت القاسم الجوعي يقول سمعت منبه بن عثمان الخمي يقول : قال آدم عليه السلام : كنا سبيا من سبي الجنة فسبانا إبليس بالخطيئة فليس ينبغي لنا إلا البكاء و الحزن حتى نرجع إلى الدار الذي منها سبينا

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ، ان کو ابو بکر عثمانی خمیمی نے ، ان کو ابو بکر بن ابو موسیٰ نے ، وہ کہتے ہیں میں سنا قاسم جوعی سے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا منیہ بن عثمان خمی سے وہ کہتے تھے کہ آدم علیہ السلام نے فرمایا : ہم لو گ جنت کے قیدیوں میں سے قیدی ہیں ہمیں ابلیس نے غلطی کر وا کر قید کر لیا ہے۔ اب ہمارے لئے رونے اور غم کھانے کے سوا کچھ بھی مناسب نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ ہم اسی گھر کی طرف واپس لو ٹ جائیں جس گھر سے ہمیں قید کیا گیا تھا ۔

منبه بن عثمان الخمي ← القاسم الجوعي ← أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي مُوسَی ← أبو بكر العثماني الأخميمي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 834

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 838

837 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا إبراهيم بن الحارث البغدادي ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا إسرائيل عن أبي يحيى عن مجاهد عن ابن عباس قال : نزل آدم عليه السلام بالحجر الأسود من الجنة يمسح به دموعه و لم يرقا دمع آدم من حين خرج من الجنة حتى رجع إليها

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ، ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ، ان کو ابراہیم بن حارث بغداد ی نے ، ان کو یحییٰ بن بکیر نے ، ان کو اسرائیل نے ، ان کو ابو یحییٰ نے ، ان کو مجاہد نے ، ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام جنت سے حجرا سود سمیت اترے تھے ، اس کے ساتھ اپنے آنسو صاف کر تے تھے اور آدم علیہ السلام کے آنسوخشک نہیں ہوئے تھے جب سے جنت سے نکلے تھے ، یہاں تک کہ واپس جنت میں لوٹ گئے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← أَبِي يَحْيَى، ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 838

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر على من قدر عليهما بما قدر عليه و ما في ترك ذلك من الفساد · حديث 7589

7589 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا سعدان بن نصر نا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة بن الربيع بن عملية نا عبد الله حدثنا : ما سمعنا حديثا هو أحسن منه إلا كتاب الله عز و جل و رواية عن النبي صلى الله عليه و سلم : قال إن بني اسرائيل لما طال عليهم الأمد فقست قلوبهم اخترعوا كتابا من عند أنفسهم استهوته قلوبهم و استحتله ألسنتهم و كان الحق يحول بينهم و بين كثير من شهواتهم حتى نبذوا كتاب الله وراء ظهورهم كأنهم لا يعلمون فقال اعرضوا هذا الكتاب على بني اسرائيل فإن تابعوكم عليه فاتركوهم و إن خالفوكم فاقتلوه قال : لا بل ابعثوا إلى فلان رجل من علمائهم فإن تابعكم لم يختلف عليكم أحد و إن خالفكم فاقتلوه فلن يختلف عليكم أحد بعده فأرسلوا إليه فأخذ ورقة فكتب فيها كتاب الله ثم أدخلها في قرن ثم علقها في عنقه ثم لبس عليها الثياب ثم أتاهم فعرضوا عليه الكتاب فقالوا اتؤمن بهذا فأشار إلى صدره يعني الكتاب الذي في القرن فقال آمنت بهذا و ما لي لا أومن بهذا فخلوا سبيله قال و كان له أصحاب يغشونه فلما حضرته الوفاة أتوه فلما نزعوا ثيابه وجدوا القرن في جوفه الكتاب فقالوا ألا ترون إلى قوله آمنت بهذا و ما لي لا أومن بهذا فإنما عنى بهذا هذا الكتاب الذي في القرن قال فاختلفت بنو إسرائيل على بضع و سبعين فرقة خير مللهم أصحاب ذي القرن قال عبد الله : و إن من بقي منكم سيرى منكرا و بحسب امرئ يرى منكرا لا يستطيع أن يغيره أن يعلم الله من قلبه أنه له كاره

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصبہانی نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو عمارہ بن ربیع بن عملیہ نے ان کو عبد اللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی کہ اس سے خوبصورت حدیث ہم نے نہیں سنی مگر کتاب اللہ ۔ اس کی روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے فرمایا بے شک بنی اسرائیل پر جب مدت دراز ہوگئی تو ان کے دل سخت ہو گئے تھے انہوں نے اپنی طرف سے ایک کتاب گھڑ لی تھی ۔ ان کے دلوں نے اس کو حد سے زیادہ چاہا ان کی زبانوں کو وہ میٹھی لگی ۔ حالانکہ حق گردش کرتا تھا۔ ان کے درمیان اور ان کی بہت بھی شہوات کے درمیان یہاں تک کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو ا پنی پیٹھ کے پیچھے اس طرح پھینک دیا کہ گواس کو وہ جانتے ہی نہیں ہیں ۔ کہا کہ اس کتاب کو بنی اسرائیل پر پیش کرو اگر وہ تمہاری اس کتاب پر موافقت کریں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور اگر وہ تمہاری مخالفت کریں تو ان کوقتل کر دو ۔ کہا کہ نہیں بلکہ اس کوفلاں اپنے عالم کے پاس بھیجو اگر وہ تمہاری موافقت کر لے تو اس کے بعد تمہارے خلاف کوئی بھی اختلاف نہیں کرے گا ، اور اگر وہ عالم اختلاف کر لیتا ہے تو اس کوقتل کر دو اس کے بعد تمہارے خلاف کوئی بھی اختلاف نہیں کرے گا ۔ ( چنانچہ یہ منصوبہ طے ہو گیا۔) لہذا انہوں نے اس کتاب کو اس عالم کے پاس بھیج دیا۔ چنانچہ اس نے ایک کاغذ اٹھایا اور اس میں کتاب اللہ کو لکھا اور اس کو قرن میں ڈالا ( ناقوس ) اور اس کو اپنے گلے میں لٹکایا اور اس کے اوپر کپڑے پہن لئے اس کے بعد وہ ان لوگوں کے پاس آیا۔انہوں نے اس پر کتاب پیش کی ،اور اس سے پوچھا کہ کیا اس کتاب پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا( یعنی وہ کتاب ہے جو قرن میں ہے۔) اور زبان سے اس نے یوں کہا میں اس کتاب پر ایمان لایا ہوں مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس کے ساتھ ایمان نہ لاؤں؟ دل میں نیت اسی اصلی کتاب کی تھی جو قرن و ناقوس میں چھپ ہوئی تھی ان لوگوں نے سمجھا کہ ہماری اس گھڑی ہوئی اور اختراع کی ہوئی ( کتاب کے لئے کہہ رہا ہے ) لہذا انہوں نے اس عالم کو چھوڑ دیا۔ (اس طرح وہ قتل ہونے سے بچ گیا۔) فرمایا کہ اس کے اصحاب واحباب ایسے تھے جو اس کو گھیرے رہتے تھے جب عالم کی وفات ہوگئی اور انہوں نے غسل دینے کے لئے اس کے کپڑے اتارے تو انہوں نے ناقوس کو دیکھا تو اس میں اصلی کتاب تھی ۔ انہوں نے کہا کیا تم نے اس کے قول کو نہیں سمجھا تھا جو انہوں نے کہا تھا کہ میں اس کتاب پر ایمان لایا ہوں ۔ مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس کتاب پر ایمان نہ لاؤں ۔ اس نے تو اس قول سے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں اس کتاب پر ایمان لایا ہوں جو ناقوس میں ہے۔ فرمایا کہ لہذا بنی اسرائیل میں یہیں سے اختلاف پیدا ہوا اور وہ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے ۔ ان سب میں اچھے اور بہتر مذہب والے وہ تھے جو ذالقران تھے یعنی ناقوس والے ۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ بے شک تم لوگوں میں سے جو بھی باقی رہے گا عنقریب منکر اور غلط باتیں دیکھے گا کسی آدمی کی نجات کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ کوئی منکر اور ایسی بری بات دیکھے جس کو بدلنے کی استطاعت نہ رکھتا ہومگر اللہ تعالی ٰاس کے دل کو جانتا ہو کہ وہ اس کو نا پسند کرتا ہے۔

مَا ← عَبْدُ اللَّهِ ← عمارة بن الربيع بن عملية ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › Hadiths about the necessity of enjoining good and forbidding evil for those who are able to do them by what is estimated for them and the corruption in neglecting that · Hadith 7589

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7668

7668 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد القطان نا أبو إسماعيل السلمي نا أبو صالح عبد الله بن صالح حدثني الليث بن سعد عن إسحاق بن عبد الرحمن عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن داود عليه السلام قال فيه يخاطب ربه عز و جل : يا رب أي عبادك أحب إليك أحبه بحبك قال : يا داود أحب عبادي إلي نقي القلب نقي الكفين لا يأتي إلى أحد سوءا و لا يمشي بالنميمة تزول الجبال و لا يزول و أحبني و أحب من يحبك فكيف أحببك إلى عبادك قال : ذكرهم بآياتي و بلائي و نعمائي يا داود إنه ليس من عبد يعين مظلوما أو يمشي معه في مظلمته إلا أثبت قدميه يوم تزل الأقدام

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو ابواسماعیل سلمی نے ان کو ابو صالح عبد اللہ بن صالح نے ان کولیث بن سعد نے ان کو اسحق بن عبد الرحمن ٰنے ان کو علی بن ابوطلحہ نے ان کو ابن عباس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک داؤدعلیہ السلام ! اپنے رب کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کی : اے میرے رب ! تیرے بندوں میں سے کون سا بندہ تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے داؤد! میرے بندوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین بندہ وہ ہے جس کا دل صاف ہو جس کے ہاتھ صاف ہوں جوکسی کے پاس برے ارادے سے نہیں آتا اور کسی کی غیبت نہیں کرتا ۔ ( وہ اس صفت پر اتنا پکا ہے کہ ) پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل سکتے ہیں مگر وہ اپنی اس فطرت سے نہیں ٹلتا۔ مجھے محبوب رکھتا ہے اور اس کو بھی محبوب رکھتا ہے جو مجھ سے محبت کرتا ہے اور مجھے میرے بندوں میں محبوب بناتا ہے ۔ داؤد علیہ السلام نے کہا اے میرے رب! بے شک تو جانتا کہ میں تجھے محبوب رکھتا ہوں اور اس کو بھی محبوب رکھتا ہوں جو تجھ سے تو محبت کرتا ہے۔ مگر میں تجھے تیرے بندوں کے نزدیک کیسے محبوب بناؤں؟ ۔ فرمایا ان کو تذکیرو وعظ کیجئے میری آیات کے ساتھ میری آزمائش اور میری نعمتوں کے ساتھ ۔اے داؤد! کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جو مظلوم کی مدد کرے یا اس کے ظلم کے وقت اس کے ساتھ چلے مگر میں اس کے قدم جما دوں گا جس دن قدم ڈگمگا جائیں گے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← إسحاق بن عبد الرحمن ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7668

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ حديث جرير العابد في فضل حفظ قلب الأم · حديث 7879

7879 - أخبرنا أبو الخير جامع بن أحمد الوكيل المحمد أبادي من أصل سماعه نا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أبادي نا عثمان بن سعيد الدارمي نا موسى بن إسماعيل نا جرير بن حازم قال : سمعت محمد بن سيرين عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم يتكلم في المهد إلا ثلاثة عيسى بن مريم قال وكان في بني إسرائيل رجل يقال له جريج و كان عابدا فابتنى صومعة فجعل يصلي فيها فأتته أمه فقالت : يا جريج فقال : يا رب أمي و صلاتي فأقبل على صلاته فانصرفت ثم جاءته يوما آخر ففعل مثل ذلك ثم جاءته يوما ثالثا ففعل مثل ذلك فقالت له أمه : اللهم لا تمته حتى يرى أو ينظر في وجوه المومسات قال : فذكر يوما بنو إسرائيل جريجا و فضله فقالت بغي من بغايا بني إسرائيل : إن شئتم لأفتننه لكم فقالوا قد شئنا فانطلقت فعرضت لجريج فلم يلتفت إليها فأتت راعيا كان يأوي إلى صومعة جريج بغنمه فأمكنته من نفسها فحملت فولدت غلاما فقالت : هو من جريج فأتاه بنو إسرائيل فضربوه و شتموه و هدموا صومعته فقال : ما شأنكم ؟ فقالوا : زنيت بهذه البغي و ولدت غلاما قال : فأين الغلام قال : فجيء به فقام وصلى و دعا ثم انصرف إلى الغلام فطعنه بإصبعه في صدره و قال : يا غلام من أبوك قال : أبي الراعي قال : فوثب الناس إليه فجعلوا يقبلونه و قالوا نبني صومعتك من ذهب ؟ قال : لا حاجة لي في ذلك ابنوها كما كانت من قبل و بينا امرأة جالسة و في حجرها ابن لها ترضعه إذ مر بها راكب ذو شارة فقالت : اللهم اجعل ابني مثل هذا فترك ثديها ثم أقبل على الراكب فنظر إليه فقال : اللهم لا تجعلني مثل هذا ثم أقبل على ثديها يمصه قال أبو هريرة : فكأني أنظر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يحكي مصه و وضعه إصبعه في فيه فجعل يمصها ثم مر بأمة معها الناس تضرب فقالت : اللهم لا تجعل ابني مثل هذا فترك ثديها و نظر إليها و قال : اللهم اجعلني مثلها فعند ذلك تراجما الحديث فقالت : حلقي أي بني كر بي الراكب ذو شارة فقلت : اللهم اجعل ابني مثل هذا فقلت : اللهم لا تجعلني مثله ثم مر بهذه الأمة فقالت : اللهم لا تجعل ابني مثل هذه الأمة فقلت : اللهم اجعلني مثلها فقال : يا أمتاه إن الراكب الذي مر بك جبار فدعوت الله أن يجعلني مثله فقلت اللهم لا تجعلني مثله و هذه يقولون سرقت و لم تسرق و زنت و لم تزن و هي تقول حسبي الله رواه البخاري عن مسلم بن إبراهيم عن جرير بن حازم و رواه مسلم في زهير بن حرب عن يزيد بن هارون عن جرير

ہمیں خبر دی ابوالخیر جامع بن احمد الوکیل محمد آبادی نے اپنے اصل سماع سے ان کو ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو جریر بن حازم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنامحمد بن سیرین سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :نہیں کلام کیا تھا جھولے میں مگر تین افراد نے ایک تو عیسیٰ علیہ السلام نے ۔اور دوسرا فر د جریج تھا۔ یہ بنی اسرائیل کا ایک عابد تھا اس نے ایک اپنا عبادت خانہ بنایا تھا اس میں عبادت کرتارہتا تھا ایک دن وہ نماز پڑھار ہاتھا ،اس کی ماں آئی اس نے جریج کو آواز دی اس نے سوچا اللہ میں نماز میں ہوں اور میری ماں بھی بلا رہی ہے مگر وہ نماز کی طرف متوجہ ر ہاو ہ لوٹ کر چلی گئی پھر وہ دوسرے دن آئی اس نے دوسرے دن بھی ایسے ہی کیا اس کے بعد وہ تیسرے دن آئی اس نے پھر ایسے کیا۔ (اب اس کی ماں کو غصہ آیا تو اس نے اس کو بد دعا دے دی )اے اللہ جریج کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک یہ بدکار عورت کا منہ نہ دیکھ لے۔ فرماتے ہیں کہ ایک دن بنی اسرائیلی جریج کی بزرگی کا ذکر کر ر ہے تھے کہ ان کی طوائفوں میں سے ایک طوائف نے کہا اگر تم لوگ چاہوتو میں اس کو فتنے میں واقع کر سکتی ہوں تمہارے لئے ۔ان لوگوں نے کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں (کہ کوئی تماشہ بنے )وہ چلی گئی اور وہ جریج کے درپے ہوئی مگر اس نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی چنانچہ وہ اس چرواہے کے پاس گئی جو اس کےگرجے کی چھاؤں میں اپنی بکریاں بیٹھا تا تھا اس نے اس چرواہے کو اپنے اوپر قدرت دی اس کے ساتھ برائی کی اور اس سے حاملہ ہوکر لڑ کا جنا اورلوگوں سے کہا کہ یہ جریج کا ہے ۔ بنی اسرائیلی اس کے پاس آ گئے اور آ کر اس کو مارا پیٹا گالی گلوچ کی اور اس کا عبادت خانہ توڑ دیا۔ اس نے پوچھا کہ بات کیا ہے؟ مجھے کیوں مارتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ تم نے اس طوائف کے ساتھ زنا کیا تھا اور اس نے یہ بچہ جنا ہے۔ جریج نے پوچھا کہ لڑ کا کہاں پر ہے؟ فرمایا: کہ اس بچے کولا یا گیا۔ جریج نے کھڑے ہوکر نماز پڑھی اور اللہ سے دعا کی ( کہ اے اللہ! یہ ناحق الزام گناہ جو مجھ پر آ گیا ہے تو ہی اس سے میری صفائی دے )دعا کے بعد اس بچے کے پاس آ کر اس بچے کو اپنی انگلی کے ساتھ اس کے سینے میں کچوکا دیا۔اور کہا کہ اے لڑ کے بتا تیرا باپ کون ہے؟ ( اللہ کی قدرت سے بچہ بول اٹھا )کہ میراباپ چرواہا ہے۔ فرمایا: کہ لوگ پھر تو اس پر کود پڑے اس کو چومنا شروع کر دیا۔ اور کہنے لگے کہ ہم تمہارا گر جاسونے کا بنوادیتے ہیں۔اس عابد نے کہا کہ نہیں مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بس تم ویسا بنوادو جیسے تھا۔ اور تیسرافر دبھی ایک بچہ تھا ایک عورت اس کو اپنی گود میں لئے بیٹھی تھی اس کو دودھ پلارہی تھی اچا نک اس کے پاس سے ایک خوبصورت سوارسواری پر گذرا۔ وہ عورت کہنے لگی اے اللہ ! تو میرے اس بیٹے کو بھی اس سوار جیسا بنادے۔ بچے نے یہ بات سنی تو ماں کا دودھ چھوڑ کر سوار کو دیکھنے لگا اس کو دیکھ کر کہا اے اللہ تو مجھے ایسانہ بنانا۔ اس کے بعد وہ اپنی ماں کا دودھ چوسنے لگا ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ ر ہاہوں جو اس بچے کے دودھ چوسنے کی نقل کر ر ہے تھے اپنی انگلی اپنے منہ میں رکھ کر چوس کر دیکھائی ۔ اس کے بعد وہ عورت اس بچے کو لئے گذررہی تھی اچا نک ایک ایسی لونڈی کے پاس سے گذری جس کو لوگ مار پیٹ رہے تھے۔ بچے کی ماں نے دیکھا تو کہنے لگی اے اللہ !میرے بیٹے کو ایسا نہ بنانا چنانچہ اس بچے نے پھر دودھ چھوڑ کر اس عورت کی طرف دیکھا اور کہنے لگا اے اللہ ! مجھے اس عورت جیسا بنانا ۔ پھر اس وقت ماں بیٹے میں اس بات پر مذاکرہ ہوا۔ خاتون نے کہا بیٹے میرے قریب سے خوبصورت جوان سوار گذرا میں نے کہا اللہ !میرے بیٹے کو ایسا بنانا تو تم نے کہا اے اللہ ! مجھے ایسا نہ بنانا ۔ پھر اس لونڈی کے پاس گذر ہوا تو میں نے کہا کہ میرے بیٹے کو ایسا نہ بنانا تو تم نے کہا اللہ ! مجھے اس جیسا بنانا ۔ اب بچے نے کہا اے میری ماں ! وہ سوار جو تیرے پاس سے گذرا تھا وہ سرکش ظالم تھا ۔ اور تم نے یہ دعادی کہ اللہ تو اس کو بھی ویسا بنا دے اس لئے میں نے کہا تھا اللہ مجھے ایسا نہ بنا۔ (اور باقی رہا اس لونڈی کا مسئلہ )تو یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ تم نے چوری کی ہے زنا کیا ہے حالانکہ اس نے نہ چوری کی ہے نہ ہی زنا کیا ہے۔ اور وہ کہہ رہی ہے حسبی اللہ۔ مجھے اللہ کافی ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے مسلم بن ابراہیم سے اس نے جریر بن حازم سے ۔ اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے زہیر بن حرب اس نے یزید بن ہارون سے اس نے جریر سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ← أبو الخير جامع بن أحمد الوكيل المحمد أبادي من أصل سماعه

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Jarir Al-Abed hadith about the merit of preserving the mother's heart · Hadith 7879

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11039

11039 - أخبرنا القاضي أبو عمر محمد بن الحسين أنا أحمد بن محمود بن خرزاد الكازروني بالأهواز ثنا إبراهيم بن شريك ثنا أحمد بن الفضل ثنا أحمد بن ونس ثنا زهير ثنا أبو إسحاق عن عبد الرحمن بن إبزي قال : كان داود عليه السلام يقول : كن لليتيم كالأب الرحيم و اعلم أنك كما تزرع كذلك تحصد و إن المرأة الصالحة لبعلها كالملك المتوج بالتاج المحوض بالذهب و اعلم أن المرأة السوء لبعلها كالحمل الثقيل على ظهر الشيخ الضعيف و اعلم أن خطبة الأحمق في نادي القوم كالمغني عند رأس الميت و تعوذ بالله من صاحب إذا ذكرت لم يعنك و إذا نسيت لم يذكرك و ما أقبح الفقر بعد الغنى و أقبح من ذلك الضلالة بعد الهدى

ہمیں خبر دی قاضی ابو عمر محمد بن حسین نے ان کو خبر دی احمد بن محمد دین خرزاد کازرونی نے مقام اہواز میں ان کو ابراہیم بن شریک نے ان کو احمد بن فضل نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو زبیر نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عبدالرحمنٰ بن ابزی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام فرماتے تھے۔ یتیم کے لئے بمنزلہ اس کے شفیق باپ کے ہو جائیے۔ اور یقین جانیئے کہ آپ جیسا بوئیں گے ویسی ہی کاٹیں گے۔ اور بے شک نیک عورت اپنے شوہر کے لئے اس بادشاہ کی طرح ہے جس نے سنہری پانی چڑھایا ہوا تاج پہن رکھا ہو۔ اور یقین جانئے کہ گندی عورت اپنے شوہر کے لئے بوڑھے اور ضعیف آدمی کی پیٹھ پر بھاری بوجھ کی مثل ہے۔ اور یقین جانئے کہ احمق آدمی کو خطبہ دینا اور نصیحت کرنا قوم میں ایسے ہے جیسے میت کے سرھانے گانا گانے والا اور آپ اللہ کی پناہ مانگے ایسے ساتھی کے بارے میں جب آپ کو یاد ہو تو آپ کی مدد نہ کرے اور جب آپ بھول جائیں تو آپ کو یاد نہ دلائے ۔کہیں فقر قبیح ہوتا ہے غنی کے بعد اور اس سے زیادہ قبیح گمراہی ہوتی ہے ہدایت کے بعد ۔

كَانَ دَاوُدُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرٍ ← أحمد بن ونس ← أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَرِيكٍ ← أحمد بن محمود بن خرزاد الكازروني بالأهواز ← القاضي أبو عمر محمد بن الحسين

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11039

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11040

11040 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصغاني ثنا إسحاق الدبري ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن إبزي أو ابن أبي ليلى قال : قال نبي الله داود عليه السلام : كن لليتيم كالأب الرحيم ثم ذكر الباقي غير أنه قال في الحمال : كالملك المتوج و قال الشيخ الكبير و زاد و لا تعد أخاك ثم لا تنجز له فإنه يورث بينك و بينه عداوة و ما أحسن العلم بعد الجهل و ما أقبح الفقر بعد الغنى و ما أقبح الضلالة بعد الهدى

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفانی نے ان کو اسحاق دلبری نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو مغمر نے ابی اسحاق سے اس نے عبدالرحمن ٰابن ابزی سے یا ابن ابی لیلی ٰسے کہا: اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا یتیم نے، کے شفیق باپ کی طرح ہو جائیے پھر بقیہ حدیث ذکر کی سوائے اس کے کہ حمال کے بارے میں کہا کالملک المتوج شیخ کبیر نے کیا اور یہ اضافہ کیا کہ تو اپنے بھائی کے ساتھ وعدہ خلافی نہ کر اس لئے کہ یہ آپس کی دشمنی پیدا کرتا ہے اور جہالت کے بعد علم کیا ہی اچھا ہے اور مالداری کے بعد تنگدستی کتنی بری ہے اور ہدایت کے بعد گمراہی کتنی بری ہے۔

في الحمال كالملك المتوج و ← الباقي غير أنه ← نبي الله داود كن لليتيم كالأب الرحيم ثم ← عبد الرحمن بن إبزي أو ابن أبي ليلى ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ، ← أبو عبد الله الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11040

شعب الإيمان · السادس و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 11118

11118 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا جريج ثنا أبو إسحاق عن عمرو عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم قال : تعجل موسى عليه السلام إلى ربه فقال الله عز و جل : { ما أعجلك عن قومك يا موسى * قال هم أولاء على أثري وعجلت إليك رب لترضى } قال : فرأى في ظل العرش رجلا فعجب له فقال : من هذا يا رب قال : لا أحدثك من هو و لكن سأخبركم بثلاث فيه كان لا يحسد الناس على ما أتاهم الله من فضله و لا يحق ما لديه و لا يمشي بالنميمة

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو جریج نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو عمرو نے ایک آدمی سے اصحاب رسول میں سے وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کی طرف عجلت کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ما اعجلك عن قومک یا موسیٰ۔ قال هم اولاء علىٰ اثرى و عجلت الیک رب لترضی ۔اے موسیٰ کس چیز نے تجھے جلدی کی تھی تیری قوم سے انہوں نے کہا وہ لوگ یہ ہیں میرے پیچھے اور میں نے تیری طرف جلدی کی ہے اے میرے رب تاکہ تو راضی ہو جائے۔ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرش کے سائے تلے ایک آدمی کو دیکھا تو آپ کو حیرانی ہوئی اس نے پوچھا کہ اے میرے رب یہ کون ہے؟ اللہ تعالی ٰنے فرمایا کہ میں تمہیں یہ تو نہیں بتاؤں گا کہ یہ کون ہے مگر یہ بتا دوں گا کہ اس میں تین صفتیں تھیں ۔ یہ لوگوں کے ساتھ حسد نہیں کرتا تھا اس چیز پر ان کو اللہ نے جو اپنا فضل دیا ہوتا۔ اور جو اس کے پاس ہوتا اپنے آپ کو اکیلا اس کا حق دار نہیں سمجھتا تھا۔ اور چغل خوری نہیں کرتا تھا۔

من هذا يا رب ← فرأى في ظل العرش رجلا فعجب له ← هم أولاء على أثري وعجلت إليك رب لترضى ← قَوْمِكَ يَا مُوسَى ← الله عز و جل ما أعجلك ← تعجل موسى إلى ربه ← رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← عَمْرٍو، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← جُرَيْجٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-sixth of the people of faith › Season · Hadith 11118

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9614

9615 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أحمد بن محمد بن جعفر الجوزي نا ابن أبي الدنيا نا محمد بن عبد الله بن المبارك نا أبو أسامة نا محمد بن عمرو نا أبو سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كان أول من ضيف الضيف إبراهيم عليه السلام

ہمیں خبر د ی ابو الحسین بن بشران نے ان کو احمد بن جعفر جوزی نے ان کو ابن ابو الدنیا نےان کو محمد بن عبداللہ بن مبارک نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابو ہریرہ سے اس نے رسول اللہﷺ سے آپ نے فرمایا کہ پہلا شخص جس نے مہمان کو ضیافت دی وہ ابراہیم علیہ السلام تھے۔

كان أول من ضيف الضيف إبراهيم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُوزِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › Separate the assignment of the guest when he is able to · Hadith 9614

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9618

9619 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار و أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز قالا : نا سعدان بن نصر نا وكيع نا طلحة بن عمرو عن عطاء قال : كان إبراهيم عليه السلام خليل الله إذا أراد أن يتغدى طلب من يتغدى معه ميلا في ميل فقال عطاء : أحب الطعام إلى الله عز و جل ما كثرت فيه الأيدي هذا هو المحفوظ موقوف على عطاء و قد

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے او ر ابو جعفر محمد بن عمر و رزاز نے وہ دونوں کہتے ہیں ان کو خبر دی ہے سعدان بن نصر نے ان کو وکیع نے ان کو طلحہ بن عمرو نے ان کو عطا نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ تھے جب وہ صبح ناشتہ کرنا چاہتے تھے تو پہلے ایسای بندہ تلاش کرتے تھے جو ان کے ساتھ ناشتہ کرے وہ مہمان تلاش کرنے کے لئے میلوں دور چلے جاتے تھے ۔ حضرت عطا فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین کھانا وہ ہوتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ ہاتھ استعمال ہوں کھانے کے لئے ۔ یہی محفوظ ہے جو عطاء پر موقوف ہے۔

عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← وَكِيعٌ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إسماعيل بن محمد الصفار و أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › Separate the assignment of the guest when he is able to · Hadith 9618

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9636

9637 - قال : و نا ابن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين نا محمد بن عبيد عن الأعمش عن خيثمة قال : كان عيسى عليه السلام إذا دعا أصحابه قام عليهم ثم قال : هكذا اصنعوا بالقراء

کہا کہ ان کو خبر دی ابن ابو الدنیا نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو محمد بن عبید نے اعمش سے اس نے خثیمہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب اپنے احباب کو بلاتے تھے ؟ ان کی خدمت کے لئے خود کھڑے ہو جاتے تھے ۔ پھر اعمش نے کہا کہ تم لوگ قراء کے ساتھ یہی کچھ کیا کرو۔

هكذا اصنعوا بالقراء ← كان عيسى إذا دعا أصحابه قام عليهم ثم ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › Separate the assignment of the guest when he is able to · Hadith 9636

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9793

9793 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاد نا محمد بن أحمد العودي نا موسى بن إسماعيل نا أبو هلال عن قتادة قال : ابتلي أيوب عليه السلام سبع سنين يلقى على كناسة بيت المقدس

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو محمد بن احمد عودی نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو ابو ہلال نے قتادہ سے وہ کہتے ہیں حضرت ایوب علیہ السلام سات سال تک آزمائے گئے وہ بیت المقدس کے کناسہ اور کوڑے کرکٹ کی جگہ پر ڈال دیئے گئے تھے۔

ابتلي أيوب سبع سنين يلقى على كناسة بيت المقدس ← قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعُودِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9793

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9853

9853 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا منصور محمد بن أحمد الصوفي يقول : سمعت حمش المزكي يقول سمعت أحمد بن أبي الحواري يقول : سمعت أبا سليمان يقول : مر موسى عليه السلام على رجل في متعبد له ثم مر به بعد ذلك و قد مزقت السباع لحمه فرأس ملقى و فخذ ملقى و كبد ملقي فقال موسى : يا رب عبدك كان يطيعك فابتليته بهذا فأوحى الله عز و جل إليه يا موسى إنه سالني درجة لم يبلغها بعمله فابتليته بهذا لأبلغه بذلك الدرجة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اس نے سنا ابو منصور محمد بن احمد صوفی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حمش مزکی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن ابو الحواری سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو سلیمان سے وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا ایک آدمی پر ایک مرتبہ گزر ہوا اس کے عبادت خانے میں۔ پھر کچھ عرصے بعد اس کے پاس سے گزر ہوا تو کیا دیکھا کہ اسکو درندوں نے پھاڑ دیا ہے سر کہیں پڑا ہے تو ران کہیں پڑی ہے اور جگر کہیں پڑا ہے تو گوشت کہیں موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے میرے رب یہ تیرا بندہ تیری اطاعت کرتا تھا۔ آپ نے اس کو اس حالت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو وحی کی اے موسیٰ اس نے مجھ سے ایک ایسا مقام مانگا تھا جس مقام تک وہ اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا تھا۔ لہٰذا میں نے اس کو اس مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے تاکہ میں اس کو اس کے بدلے میں اس مقام تک پہنچا دوں۔

أَبَا سُلَيْمَانَ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← حمش المزكي ← أبا منصور محمد بن أحمد الصوفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9853

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9955

9955 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا عبد الله محمد بن أحمد بن بطة الأصفهاني نا إبراهيم بن نائلة الأصفهاني نا أحمد بن أبي الحواري نا عبد العزيز بن عمر قال : أوحى الله إلى داود عليه السلام : يا داود إذا رأيت لي طالبا فكن له خادما يا داود اصبر على المؤونة تأتيك المعونة

ہمیں خبر دی ابوعبیداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن احمد بن بطہ اصفہانی نے ان کو ابراہیم بن نائلہ اصفہانی نے ان کو احمد بن ابو الجوازی نے ان کو عبدالعزیز بن عمر نے وہ کہتے ہیں اللہ نے داؤد علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی اے داؤد جب کسی کو میرا اطالب پاؤ تو تم اس کے خادم بن جاؤ اے داؤد تکلیف و مشقت پر صبر کیجئے تیرے پاس اعانت و مدد خود بخود پہنچے گی۔

عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَايِلَةَ الْأَصْفَهَانِيُّ، ← عبد الله محمد بن أحمد بن بطة الأصفهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9955

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 857

857 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَاهِيُّ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ لِيَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخٌ مُؤَاخًى، فَقَالَ لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ: يَا يَعْقُوبُ , مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ؟ مَا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرَكَ , فَقَالَ: أَمَّا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي فَالْبُكَاءُ عَلَى يُوسُفَ , وَأَمَّا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى ابْنِي بِنْيَامِينَ , فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ , فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ , وَيَقُولُ لَكَ: أَمَا تَسْتَحِي أَنْ تَشْكُونِي إِلَى غَيْرِي؟ فَقَالَ يَعْقُوبُ: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ , فَقَالَ جِبْرِيلُ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَشْكُو يَا يَعْقُوبُ , ثُمَّ قَالَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَيْ رَبِّ , أَمَا تَرْحَمُ الشَّيْخَ الْكَبِيرَ , أَذْهَبْتَ بَصَرِي , وَقَوَّسْتَ ظَهْرِي , فَارْدُدْ عَلَيَّ رَيْحَانَتِي يُوسُفَ أَشُمُّهُ شَمَّةً قَبْلَ الْمَوْتِ , ثُمَّ اصْنَعْ بِي يَا رَبِّ مَا شِئْتَ , فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ , فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ , وَيَقُولُ لَكَ: أَبْشِرْ , وَلْيَفْرِحْ قَلْبُكَ , فَوَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَوْ كَانَا مَيِّتَيْنِ لَنَشَرْتُهُمَا لَكَ , فَاصْنَعْ طَعَامًا لِلْمَسَاكِينِ؛ فَإِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ الْمَسَاكِينُ , وَتَدْرِي لِمَ أَذْهَبْتُ بَصَرَكَ , وَقَوَّسْتُ ظَهْرَكَ , وَصَنَعَ إِخْوَةُ يُوسُفَ بِيُوسُفَ مَا صَنَعُوا، لِأَنَّكُمْ ذَبَحْتُمْ شَاةً , فَأَتَاكُمْ فُلَانٌ الْمِسْكِينُ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمْ تُطْعِمُوهُ مِنْهَا , وَكَانَ يَعْقُوبُ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَرَادَ الْغِذَاءَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَلَا مَنْ أَرَادَ الغَدَاءَ مِنَ الْمَسَاكِينِ فَلْيَتَغَدَّ مَعَ يَعْقُوبٍ، فَإِذَا كَانَ صَائِمًا أَمَرَ مُنَادِيًا , فَنَادَى أَلَا مَنْ كَانَ صَائِمًا مِنَ الْمَسَاكِينِ فَلْيُفْطِرْ مَعَ يَعْقُوبَ " لَا يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ

ابو حسین محمد بن احمد الباہی البصری سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت یعقوب علیہ السلام کا ایک منہ بولا بھائی تھا انہوں نے ایک دن کہا اے یعقوب آپ کی آنکھوں کی بینائی کس وجہ سے زائل ہوئی اور آپ کی کمر میں جھکا ؤ کس وجہ سے آیا ؟ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا میری بنائی زائل ہونے کی وجہ یوسف علیہ السلام کے بارے میں رونا ہے اور میرے بیٹے یامین کی پریشانی نے میری پشت کو ٹیڑھا کر دیا ۔ فوراً حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ آپ کو اس بات سے حیا نہں آتی کہ آپ میرے سوا اور کسی کے سامنے اپنی شکایت پیش کر رہے ہیں حضرت جبرائیل نے کہا اے یعقوب آپ جو شکایت اللہ کی بارگاہ میں پیش کر رہے ہیں اللہ اس کو بہتر طریقے سے جانتا ہے پھر یعقوب علیہ السلام نے کہا اے میرے رب تو اس بوڑھے پر کیوں رحم نہیں کرتا تو نے میر ی بینائی ختم کر دی میری پشت کو ٹیڑھا کر دیا تو میری خؤشبو یوسف کو میرے پاس بھیج دے کہ میں مرنے سے پہلے اس خوشبو کو سونگھ لوں ۔ اس کے بعد اے میرے رب تو جو چاہے میرے ساتھ معاملہ فرمالے حضرت جبرائیل امین تشریف لائے عرض کیا اے یعقوب اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے آپ کو خوشخبری ہو دل خوش ہو جائے میر ی عزت اور میرے جلال کی مجھے قسم اگر تمہارے یہ بچے مر بھی چکے ہوتے تو میں زندہ کر کے ان کو تمہارے پاس واپس بھیجتا آپ مسکینوں کے لیے کھانا پکائیے کیونکہ مجھے بندوں میں سب سے زیادہ محبت مسکینوں سے ہے اور آپ جانتے ہو کہ میں نے آپ کی بینائی کو زائل کیوں کیا اور یوسف کے بھائیوں نے یوسف کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کیوں کیا ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک مرتبہ تم نے بکری ذبح کی تھی ۔ تمہارے پاس فلاں مسکین آیا تھا وہ روزے دار تھا تم نے اس کو اس بکری میں سے کھانا نہیں دیا تھا ۔ اس کے بعد حضر ت یعقوب علیہ السلام نے یہ دعادت بنا لی کہ جب بھی کھانا کھانے کا ارادہ کرتے تو اعلان کرتے کہ اے لوگو جو بھی مسکین روزے دار ہو وہ یعقوب کے ساتھ آکر افطاری کرے" اس حدیث کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں وہب بن بقیہ منفرد ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حُصَيْنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّة ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَاهِيُّ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 857

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 17

17 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَطِيرٍ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ كَسْبِ يَدِهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا الْوَلِيدُ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ

احمد بن مطیر ابو جعفر الرملی القاضی سے مروی حدیث، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے ۔اس حدیث کو اوزاعی سے صرف ’’ولید ‘‘ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’ابن ابی السری ‘‘منفرد ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَطِيرٍ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ الْقَاضِي،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17

chevron_left Previous
1…222324…226
Next chevron_right